Sunday, November 15, 2015

حسین مجروح کے تازہ شعری مجموعے ’’ آواز ‘‘ کا ایک اجمالی جائزہ







حسین مجروح کے تازہ شعری مجموعے ’’ آواز ‘‘ کا ایک اجمالی جائزہ
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 سقراط نے کہیں کہا تھا کہ ’’اگر اس دنیا کے بعد کوئی اور دنیا ہے تو میری روح اسے دیکھنے کے لئے بے تاب ہے کیونکہ دریافت اور جستجو سے بڑھ کر کوئی اور مسرت نہیں ، اور اگر موت ابدی نیند کا نام ہے تو اس سے زیادہ سکون بخش نعمت اور کیا ہو سکتی ہے۔‘‘ 
لیکن یہاں حسین مجروح ابدی نیند سے کہیں زیادہ اس ابدی آواز کو اپنے شعری شعور میں بلند کرتے ہیں جوحیاتِ جاوداں کے روپ میں تہذیبی رشتوں کی دریافت اور انسانی شعور کے لئے آفاقی جستجو سے پیوست ہے۔ 
 حسین مجروح کی یہی ’’ آواز ‘‘ انکے شعری اسلوب و معنویت کی آگہی کی تازہ دمّی سے مزیں ایک خوشگوار تجربہ ہے۔ 
 مجموعہ کے ابتدا میں کوکتی ہوئی مدھر آواز قاری کو کس طرح اپنے سماجی و تہذیبی شعری شعور کی آگہی سے روشناس کراتی ہے اس کا اظہار ذرا ان کے اپنے الفاظ میں ہی سن لیجیئے ۔
’’ پہچانا ! یہ میں ہوں حسین مجروح، ہنر کی حرمت کا طلب گار، آپ کے لطف کا امیدوار۔
 یادش بخیر ’’کشید ‘‘ کو روشنائی کا پیرہن کرتے سمے آپ سے کچھ گفتگو رہی تھی، یہی کوئی چودہ برس پہلے، آپ سے کیا پردہ مشرقی شعریات کو چودہ کا سِن بہت لبھاتا ہے، اور اس اتفاق کو اشتیاق کی کس پوٹلی میں باندھیے گا کہ ’’ کشید‘‘ کو آواز ہونے میں بھی یہی عرصہ لگا۔ پلٹ کر دیکھتا ہوں کہ سخن کی بے توفیقی سے چہرا دھواں ہوتا ہے، کبھی آنکھ بے آب ، خود کو ملامت کرتا ہوں کہ اس بے اعتباری کے آئنہ خانہ میں حاضری کی کیا ضرورت تھی، پلکوں میں سوئیاں کچھ دیر اور چھبی رہتیں ، کلیجے میں لہو مزید جمنے دیا ہوتا، ایسا بھی نہیں کہ یہ دلاری دودھ کے دانت جھڑتے ہی مایوں بیٹھا دی گئی ہو لیکن طبیعت کی تمازت کا کیا کروں جو پتھر کے برادے میں بھی کنول تلاشنے کی مدعی ہے۔‘‘
اب آپ دیکھ لیجیئے کہ حسین مجروح کا ادبی و علمی و فکری شعورکس قدر الہامی طور پر انسانی اعمال کا پوری طرح جائزہ لیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ آج کی جگمگاتی زندگی کی حقیقت کے پیچھے سچائی کا مخفی پہلو کون سا ہے؟
 یہیں سے انکے مجموعے کی پہلی آواز مدھر موسیقی کی طرح انسانی کانوں میں رس گھولتی ہے اور الفاظ حرمت کے ان جاوِداں لمحات میں ساکت ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔

 نیند کی ٹہنی پر
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 سارے خواب کہاں پھلتے ہیں
 اکثر خواب تو
 کچی نیند کی ٹہنی پر ہی مر جاتے ہیں
 باقی ماندہ
 تعبیروں کے پھانسی گھاٹ
 اتر جاتے ہیں۔
 تھوڑے سے جو بچ رہتے ہیں
 دنیا کی ناشکری آنکھ میں
 تازہ جگنو بھر جاتے ہیں 
 لیکن دنیا،
 پیتل پر سونے کا رنگ چڑھاتی دنیا!!
خوابوں سے گھبرا جاتی ہے
 جگنو بیچ کے کھا جاتی ہے۔

 حسین مجروح کی شاعری ، نظمیں ، غزلیات سیاسی و سماجی شعور کے کسی فارمولے میں مقید نہیں، جہاں وہ ماضی کی تہذیبی ، لسانی اور ادبی ورثہ سے آگاہ ہیں وہیں مستقبل کا انسان ان کی شعری جستجو کے امکانات کو جذب کرتا ہے اور اپنے لسانی لب و لہجہ اور سماجی تشکیل پر غور کرتا ہے۔ مجھے ان کے ہاں لفظوں کی تراکیب ، مصروں کی ساخت، اظہار کا نیا پن اور علامتوں کی نئی تشریحات کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ ملتا ہے۔ انکی تازہ کاوش ’’ آواز ‘‘ کے لئے بہت سی نیک تمنائیں۔ 

 نعیم بیگ لاہور پاکستان
 جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ
 ۱۵ نومبر ۲۰۱۵

No comments:

Post a Comment