Thursday, November 26, 2015

برصغیرمذہبی انتہا پسندی کے سائے میں








برصغیرمذہبی انتہا پسندی کے سائے میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس حقیقت سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں کہ دنیا بھر میں اکیسویں صدی کے آغاز سے اَن دیکھی عالمی طاقتوں نے ایک نیا منظر نامہ لکھنا شروع کیا ہے جس کے ابھی ابتدائی باب لکھے جا رہے ہیں ۔ ہم اس لحاظ سے بیسویں صدی کو بعد از جنگِ عظیم دوئم ایک ایسے دور سے منسوب کرتے ہیں، جہاں انسانیت اپنے بام عروج پر پہنچی۔ وہیں سائینس کی ترقی و ترویج میں دنیا بھر کا انسان جس تیزی سے پہیہ کے دور سے نکل کر مکینیکل دور میں داخل ہوا اور پھر الیکٹرونک دور سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہوتے ہوئے اس نے تسخیرِ کائنات میں ایسے ایسے علم بلند کئے کہ انسانی ذہن دنگ رہ گیا۔ 
اس سے پہلے چونکہ فکری و علمی سطح پر انقلابِ فرانس اور انقلابِ روس اور پھر کہیں بہت پہلے سولہویں صدی کی اولین دھائیوں میں مارٹن لوتھر کی مذہبی روایات سے رو گردانی، کے ڈانڈے بہر طور ان نظریات سے متصادم نہ تھے جو کسی بھی انسانی حقیقت کو اسکے علاقائی، لسانی اور ثقافتی جوہر سے الگ کر کے دیکھے جاتے ہوں،۔ بین ہی دنیا بھر کے ادبی حلقوں میں ان نظریات اور انکے فکری پہلوؤں پر اس طرح مباحث ہوئی کہ گلوبل ادب کارل مارکس کی داس کپیٹل سے ، سارتر کے وجودیت کے فلسفے تک، کامیو کے ایگزسٹلزم سے لیکر جیکس لیکَن(سٹرکچریلزم) اور جیکس دریدا ( پوسٹ سٹرکچریلزم) تک کے ان نظریات کو ہمیشہ دنیا بھر میں نہ صرف ادبی نقطہ نظر سے مقبولیت ملی بلکہ یہ عالمی نظریات ایشیا سے لیکر دوردراز لاطینی امریکہ تک پہنچے اور اینلاٹنمنٹ کی ابتدا ہوئی۔ انسان جاگ گیا اور اس سے کہیں زیادہ اُن ادباٗ و شعرا پر اثرات آئے جو طلسماتی یا جادوئی دنیا کی فیٹاسی میں مبتلا ادب تخلیق کر رہے تھے۔ ہمارے ہاں یہ روایت حقیقت نگاری کے جد امجد منشی پریم چند کی دیہی اور شہری مسائل پر مبنی تحریروں سے اپنے قدموں پر کھڑی ہوئی۔ جسے بعد میں ایک بڑے قافلے نے پروان چڑھایا۔ گو اس سارے کھیل میں مغرب میں فوکو اور ہمارے ہاں سبھاش چندر بوس بھی آئے لیکن انہیں پزیرائی نہیں ملی۔ 
لیکن اس بحث میں الجھے بغیر کہ کہاں کس نے انسان پرستی کی کونسی کڑی کو ملایا یا اسے زنجیر سے الگ کیا ، یہ دیکھنا زیادہ اہم ہے کہ عمرانی و سماجی و ثقافتی ارتقائی مدارج طے کرتے ہوئے نئے نظریات سے مزیں ہمارے ہاں ایشیا میں اور خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں عالمی ادب اور اس کے اثرات کہاں کہاں تک پہنچے۔ انسانی زندگی میں جہاں ادب اسکی حقیقی تصویر دکھاتا ہے وہیں ایک خاص نہج پر معاشرے کے اندر پنپنے والی برائیوں کو ایک ایسے آئینہ کے ذریعے معکوس بھی کرتا ہے جسے ہم ادب پارے کہتے ہیں جس کے سیاسی ، عمرانی و ثقافتی اثرات معاشرے پر بالعموم ، اور سماجی زندگی میں بالخصوص نظر آتے ہیں۔
اب اس سارے تقویمی اور ارتقائی سماجی و معاشرتی مدارج کو اگر کوئی عمل سبوتاژ کرتا ہے تو وہ مذہب کی اَن دیکھی وہ روایات ہیں جو صرف ایک خاص طبقے نے حقیقی و فطری تقاضوں سے کشید تو کیاتھا لیکن رفتہ رفتہ ان قانون پاروں اور صحیفوں کو فلسفہ اور منطق سے دور رکھے جانے پر ، اور کسی بھی سوال کو کسی درجہ پر پیدا نہ ہو دینے کے عمل سے دور رکھے جانے پر وہ کسی بند جوہڑ کے کائی زدہ پانی کی طرح بدبو دار ، ناقابل استعمال اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن جاتے ہیں۔
یہی وجہ تھی کہ مارٹن لوتھر نے اپنی تحریروں اور تقریوں سے سولہویں صدی میں بڑھتی ہوئی انسان دشمن کیتھولک فرقہ کی پاپائیت کو ایک حد تک پابند و سلاسل کیا۔ لیکن بیسیویں صدی میں مغرب نے کیمونزم کے خطرے سے نبٹنے کے لئے جنگِ عظیم اول و دوئم میں مسلمانوں کو جو عرصہ دراز سے ملوکیت کی ریشہ دوانیوں کی وجہ کسی حد تک مذہب سے بیزاری کی طرف مائل تھے کہ انہیں کیمونزم کے خلاف جہاد کا نعرہ دیکر کھڑا کر دیا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ علم و عمل سے دوری کے باعث ایشیائی ثقافت کا اکثریتی مسلمان حصہ اس جہادی تنظیموں کا دلدادہ ہو گیا کیونکہ یہاں انہیں شکم پروری کی فکر نہ تھی اور جدو جہد سے عاری ایک ایسی سہل زندگی کا نقشہ نظر آتا تھا جو بعد از حیات ایک نئی خوبصورت زندگی کا سندیسہ بھی لاتا ہے۔ اکیسویں صدی کے اوائل میں جب یہ جہادی تنظیمیں دنیا بھر کے انسانوں کے لئے ایک عذاب بن کر اتریں تو عالمی طاقتوں نے انہیں روکنا چاہا لیکن خاطر خواہ حتمی کامیابی کی امید پر جنگ ابھی جاری ہے۔
اسی اثنا میں مڈل ایسٹ ، وسطی ایشیا اور جنوب مغربی ایشیا میں ہوتی ہوئی اس جنگ میں اب ایک بڑا حصہ ڈالنے کے لئے ہندوستان کی ہندو آبادی جو تقسیم پاک و ہند کے بعد کسی حد تک سیاسی بالیدگی اور عمرانی و سماجی شعور سے بازیافت ہو رہی تھی ، کو میدان میں لانے کا ایک قبیح عمل شروع کر دیا گیا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ انسانی ذہن کی پیداوار مذہبی روایات ۔۔۔ جی ہاں میں ان ثقافتی روایات کی بات کر رہا ہوں جو اس وقت کے سماج میں رائج تھیں کو مذہبی نام دے دیا گیا جو اب ایک بند جوہڑ میں کھڑے پانی کی طرح انسانی حیات کے لئے سمّ قاتل بن چکی ہیں۔ جبکہ خود مذہب ان روایات سے رو گردانی کرتا ہوا اپنے سماج کو ، اپنے پیرو کاروں کو ایک نئی زندگی کا آفاقی پیغام دیتا ہے۔ یہی کام عیسائیت کرتی ہے ۔ ایسا ہی آج سے چودہ سو سال پہلے اسلام نے کیا اور ہندو اور بدھ مت بھی ہزاروں سال سے اس اصول پر روئے زمین پر انسانی زندگی کا حصہ بنا۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ عالمی منظر نامہ میں ہم جس جمہوریت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہہ رہے ہیں اور عالمی طور پر منوا نے کی سعی کر رہے ہیں کیا موجودہ انتہاپسندی کی لہر سے بچا پائیں گے؟ میرا آج کا جواب اسی سوال کے اطراف میں گھومتا ہے۔ 
کیا یہ ممکن ہو پائے گا کہ ایک سو بیس کروڑ کی آبادی کا ملک جس کی اقلیتیں بھی دنیا کے نقشے پر ابھرنے والے کئی ایک ملکوں سے بڑی ہیں ، اپنی سلامتی و پرامن حیات کی ضمانت اس ملک سے لے پائیں گی جس کی اساس میں آزادی کا ترنگہ اقلیتوں کے ساتھ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ ’ سب سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ جیسا ترانہ اقبال نے لکھ کر ہندوستان کو ایک ایسا تحفہ دیا کہ آج بھی ہندوستان ایک عظیم سلطنت نظر آتی ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ بڑھتی ہوئی جنونی انتہاپسندی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ایک سروے کے مطابق گذشتہ سال ۲۰۱۴ میں ہندو انتہاپسندوں نے تقریباً آٹھ سو سے زائد پر تشدد واقعات کی شروعات کی اور سینکڑوں انسانی جانوں کے لہو سے زمین کو رنگ دیا۔ عقیدے کی بنیاد پر اختلاف ہو جانے پر قتل جیسا انسانیت سوز سلوک کسی مذہب کی اساس میں نہیں۔
اس طرح گزشتہ ایک دھائی سے پاکستان میں کئی ایک مذہبی تحاریک نے اندون اور بیرونِ ملک ہزاروں انسانوں کا خو ن بہا دیا ہے ۔ گو پاکستان میں عسکری قیادت اب چند برسوں سے اس عفریت سے نبٹنے کے لئے پوری طرح کو شش کر رہی ہے اور ایک بڑے حصہ پر جہاں غیر ملکیوں کے کیمپ پوری طرح براجمان تھے انہیں مار بھگایا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں ابھی ہمسایہ ملکوں سے جس میں وسطی ایشیا، افغانستان و دیگر ممالک ہیں، وہ متوقع تعاون سامنے نہیں آرہا ہے جس کی بنیاد پر پاکستان اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ 
تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان میں اقلیتیوں کی قربانیوں کا ہندوستان کے عالمی تناظر میں بڑا مقام ہے۔ ہندوستان میں باوجود کہ مسلمانوں کی معاشی و سماجی زبوں حالی ، عیسائیت کی امن پسندی و دیگر اقلیتی عوام جس میں خاص طور پر جنوب میں رہنے والے کئی ایک مسلم فرقے اور عیسائی اور شمال میں رہنے والے سکھ بھارت کی معاشی و سماجی و تمدنی زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں ا ور اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ سیکولرزم کے نظریات تلے سب ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کر رہے تھے۔ مجھے یاد ہے آج بھی اکثریتی سٹیٹس میں گائے کا ذبیحہ قانونی طور پر ممنوع ہے اور یہ قانون ۱۹۵۵ سے لاگو ہے ۔ لیکن آج دانستہ اس ایشو کو اٹھایا جا رہا ہے۔ دلتوں کی بستیاں صرف اس بنیاد پر تہ تیغ کی جا رہی ہیں کہ وہ معاشی طور پر اور روائتی ہندو مت کے مطابق شودر اور نیچ ذات ہیں۔ انہیں انسانوں کی فہرست سے نکالا جا رہا ہے۔کیا ایسا ممکن ہے کہ چالیس کروڑ سے زائد دلت معاشرے کا حصہ نہ رہیں ۔
اس ضمن میں ہندوستانی ہوم منسٹر سوشیل کمار شندے نے بی۔جے۔پی اور آر ایس ایس پر براہِ راست انتہاپسندی کے الزامات بھی لگائے ہیں ۔ گو انہوں نے بعد ازاں حکومتی سطح پر دباؤ پڑنے سے اس بیان کو ٹوئسٹ دے دیا یہی وجہ ہے کہ اب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ ایک عام ہندو بھی اس انتہا پسند برہمناچاری سوچ سے بیزار نظر آتا ہے، ایشور کا متلاشی ہونا الگ بات ہے اور اس تلاش میں برہمو سماج کی بنیاد رکھنا الگ بات ہے۔ اسے ہندو دانشور بھی دیکھ و سوچ رہا ہے اور اسکی مزاحمت کر رہا ہے۔ اب تک اس انتہاپسندی کے رویوں کے خلاف ایک احتجاج کی صورت میں اب تک حکومتی سطح پر ادیبوں و شعرا کو دئے گئے چالیس سے زیادہ ادبی و حکومتی ایوارڈ صرف اس احتجاج کی نذر کر دئیے ہیں اور اس میں اردو ، بنگالی و دیگر زبانوں کے ادیب و شاعر اور دانشور شامل ہیں۔ معروف افسانہ نگار جی ایس بھلر نے اپنا ایوارڈ واپس کرتے ہوئے کہا وہ ایسا ان انتہا پسندوں قوتوں کے خلاف بطور احتجاج کر رہے ہیں جو ادب اور ثقافت کو گہنا رہے ہیں۔ اسکا واضع مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کی اکثریتی آبادی جو ان اقلیتیوں کی تعداد کا تعین بھی کرتی ہے اور لبرل و متوازن خیالات کے حامل ہندو آبادی کا احاطہ بھی کرتی ہے اس احتجاج میں ایک ساتھ کھڑی ہے۔ 
معاملات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ کئی ایک فلمی دنیا کے کئی ایک بڑے ہندو ہدایت کاروں مہیش بھٹ وغیرہ اور مسلمان اداکاروں نے جس میں عامر خان ، شاہ رخ خان وغیرہ شامل ہیں اس احتجاج میں بھرپور حصہ لیا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہندوستان کی پہچان ہیں۔ 
یہی وجہ ہے کہ آج عالمی طور پر ہندوستان بھی اس اٹھتی ہوئی انتہاپسندی کے حوالے سے یک و تنہا کھڑا نظر آتا ہے کہ جہاں پوری دنیا انتہاپسندوں سے جنگ میں نبردآزما ہے ، ۔ عالمی قوتیں جہاں مڈل ایسٹ پاکستان و افغانستان میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش میں ہیں تو کیا آنے والے دنوں میں ہندوستان بچ پائے گا ، اس سوال کا جواب ابھی انتہا پسند ہندو سیاسی نیتاؤں کے پاس نہیں ہے کیونکہ انہیں یک طرفہ مفادات کا بہتا ہوا چشمہ تو نظر آ رہا ہے لیکن اس سے آگے کی گہری کھائیاں انکی وسعتِ نظر سے دور ہیں جس میں وہ ایک سو بیس کروڑ انسانوں کو دھکیل رہے ہیں۔ 
آج سے صرف ایک دھائی پہلے لگائے جانا والا اِنکریڈیبل انڈیا اور شائیننگ انڈیا کا نعرہ کیا صرف حکومتی پروپیگنڈا تھا ۔ یہ طے کرنا بھی انہی سیاسی نیتاؤں کے ہاتھ میں ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس آرٹیکل کی تیاری میں مندرجہ ذیل عالمی میڈیا ، اخبارات و جرائد سے مدد لی گئی ہے۔
الف۔ بی۔بی۔سی یونائٹڈ کنگڈم
ب۔ روزنامہ جنگ لاہور، کراچی پاکستان
ج۔وال سٹریٹ جرنل ۔ نیویارک امریکہ
د۔ انٹرنیشل خبررساں ایجنسی ۔ آئی۔ این۔ پی پاکستان۔
ڈ۔ این ڈی ٹی وی انڈیا۔
نعیم بیگ
۲۴ نومبر ۲۰۱۵ لاہور پاکستان۔
جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ

Wednesday, November 25, 2015

تم نسیم سید ہو کہ نسیمِ سحر ہو














 خیر پورسندھ کی مہکتی فضاؤں میں ادبی چمن کے وہ خمیدہ کمر پیڑ اب بھی اُس کومل سی نازک نسیم کو ننھے اور معصوم شعر کہتے چشمِ تصور میں دیکھتے ہونگے۔ وہ جانتے تھے کہ الہ آباد سے چلا یہ قافلہ شعر و ادب کے قلبِ مضطر میں ڈھل چکا ہے اور نسیم سید شعر و ادب کی دنیا میں ایک نام پیدا کرنے جا رہی ہیں۔ ان کا ادبی قد جتنا بلند ہے اتنا ہی پھلوں سے لدّی اس شجر کی ٹہنیاں ہر خاص و عام تک محبت و خلوص کا پیغام بہم پہنچا رہی ہیں اور یہی ادب و انسانیت کی معراج ہے۔ دھیمے سروں میں لکھنا انکا مزاج ہے ۔
 میں اسے یوں کہوں گا کہ شاعری فنِ لطیف ہے۔ اکتساب و ریاضت کی مشاطگی اس کی بار آوری میں کچھ زیادہ کارگر نہیں ہوتی۔ اسی لئے شاعری کو عطیہ الہی یا کارِ الہامی سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن شاعری کو الہام یا آمد کا نام دینے کا یہ مطلب نہیں کہ اسکا رخ زمین سے بے نیاز رہتا ہے۔ فرمان فتح پوری کہتے ہیں ’’اچھی اور سچی شاعری آسمانی ہو کر بھی ہمیشہ زمینی رہتی ہے۔ زمین ہی سے اسکا انکھوا پھوٹتا ہے وہیں پروان چڑھتا ہے اور وہیں برگ و بار لاتا ہے۔ ‘‘
نسیم سید کی شاعری اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہے۔ انکی نظمیں جہاں دکھ اور درد سے مو سوم ہوتی ہیں وہیں انسان کے باطنی رموزِ بیاں کو آشکار کرتی ہیں۔ انکی شاعری میں رومانیت ، ذات کے دکھ ، وطن کی مٹی سے محبت اورانسان دوستی نمایاں ہے۔
 انکے ہاں موضوعات تازہ آہنگ اور زبان کے نئے نئے پیرائے انکی سماجی ، ذاتی ، حسیاتی اور جمالیاتی تجربوں کی تازہ کاری سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔
 نسیم سید شعری تہذیب کی ایک نئی دنیا دریافت کرتی ہیں۔ میرے خیال میں انہوں نے پیش پا دور افتادہ راہوں سے گریز کر کے اپنے لئے ایک نیا جادہِ سخن تراشا ہے۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 برستے رنگ
 اور بھیگتے یہ سبزپیرہن
 غزالِ دشت جاں دلاں !
یہ کیسا اہتمام ہے؟
 کنار چشمِ نم جو سجا ہے
 کوئی خواب ہے
 کہ خواب کا سیراب ہے۔؟
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 مجھے یہ بھی کہنے دیجیئے کہ نسیم سید کی فکری اساس میں یہ منظر نامے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔
 انکی نثری تحریریں ، افسانے اور مضامین کسی آدرش کے زیرِ اثر بنائی ہوئی جنت کا اہتمام نہیں کرتیں اور نہ ہی انہوں نے حقیقی زندگی کو کسی سراب یا روحانی طلسم کدے میں رکھ کر دیکھا۔ انہیں غالباً ان سہاروں کی ضرورت بھی نا تھی اس لئے کہ حقیقت کا فریب ہی اتنا جاذبِ نظر ہوتا ہے کہ کسی اور سمت دیکھنے ہی نہیں دیتا۔
 میں اجازت چاہنے سے پہلے اس مختصر اور سنجیدہ اظہاریہ کو خیر باد کہتا ہوں اور نسیم سید کی پاکستان آمد کو خوش آئیند دیکھتا ہوں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کتنے عرصے کے بعد تشریف لائی ہیں اور دوبارہ انکی آمد کب متوقع ہے لیکن ’’ ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پہ رونق ‘‘ کے مصداق پاکستان کی شعر و ادب کی دنیا کا ایک اپنا الگ رنگ ہے۔ یہاں جملہ سامعین و حاضرین شائستہِ ادب ، نستعلیق ، باذوق بے حد و حساب سخن فہم ہیں۔ انہیں آج تک کسی گھٹیا شعر کی داد دیتے ہوئے اور شریف آدمی کی ہوٹنگ کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ہاں اگر کوئی مجھ جیسا نثر نگار یا فکشن نگار خراب افسانہ یا مضمون پڑھ کر جانے لگے تو زیادہ تالیاں بجاتے ہیں۔
 جب یہ معلوم ہوا کہ اس تقریبِ رونمائی میں مجھے بھی حاضرین سے دو منٹ کا خطاب کرنا ہے تو سچ پوچھیئے میری جان نکل گئی۔ مجھ جیسے انجیو پلاسٹی شدہ دل رکھنے والے جانتے ہونگے کہ جان کیونکر اور کب نکلتی ہے۔
 مشاق احمد یوسفی صاحب کہیں لکھتے ہیں انکی زبانی ہی سن لیجیئے۔۔۔ ’’ چنانچہ جب سٹیج پر آیا تو قدم پھونک پھونک کر رکھا۔ کہاں تو داد و تحسین کی طلب و تمنا ایسی کہ اگر دو تین فقروں پر تالیاں نہ بجیں تو نہ صرف منہ اتر جاتا ہے بلکہ خود بھی سٹیج سے اترنے کو جی چاہتا ہے۔ اور اللہ اللہ۔۔۔ اب یہ عالم کہ ہر ہر فقرے پر دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں کوئی درینہ دوست تازہ دشمنی کی بنیاد پر رخصتی تالی نہ بجا دے۔‘‘
سو اب رخصتی تالی بجنے سے پہلے ہی اجازت دیجیئے۔
 شکریہ۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 بتقریب کتاب رونمائی لاہور کیفے ٹیریا ۔
 نسیم سید
 از نعیم بیگ لاہور پاکستان۔ جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ
 مورخہ ۱۳ دسمبر ۲۰۱۴ ،

اردو افسانہ ’’ جہاز کب آئیں گے ‘‘ از نعیم بیگ













جہاز کب آئیں گے...
..................................
پلوَشہ  ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی۔ شاید وہ کوئی خواب دیکھ رہی تھی‘ جیسے پہاڑوں کے دامن میں شفاف چشمے سے بہتے پانی میں ہاتھ ڈالے اُس کی ٹھنڈک سے محظوظ ہو رہی ہو کہ اُوپر سے اچانک پتھر لڑھکنے لگ جائیں۔ دراصل اُسے دھماکے کی آوازنے گہری نیند سے جگا دیا تھا۔ اُس نے چاروں طرف دیکھا ۔ خاموش کھلے آسمان سے چھنتی ستاروں کی ملگجی روشنی میں‘ پانچ سالہ نور اَور چھ سالہ سجاد خان اُس کے دائیں پہلو میں نیند میں مدہوش پڑے تھے اَور بائیں جانب زریں گل، گٹھڑی بنے‘ اُس کے کولھے سے ُ جڑی سو رہی تھی ۔ 
جگہ کی قلت نے اُسے ساری رات ٹریکٹر ٹرالی کی اَندرونی دیوار سے ٹیک لگائے رکھنے پر مجبور کر دیا تھا اَور وہ کل شام سے یونہی بیٹھی رہی تھی؛ مگر نہ جانے رات کے کس پہر اُس کی آنکھ لگ گئی‘ اَور اَب صبح ہونے والی تھی۔ اُس نے ایک انگڑائی لی اَور کمر کے تناؤ کو کم کرنے کے لیے پہلو بدلا۔ اُس نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری ۔۔۔ پیاس اَوربھوک کے مارے اُس کی انتڑیاں سکڑ رہی تھیں لیکن قافلے والوں کے برعکس اُس کا حوصلہ بلند تھا۔ کل شام سے پورے قافلے کا کھانے پینے کا سامان قریب قریب ختم ہو ُ چکا تھا، صرف پانی باقی بچا تھا جسے بچوں کے لیے مختص کر دیا گیا تھا۔ 
وہ گزرے وقت کو یاد کرنے لگی۔ چار۴ دِ ن پہلے جب قافلہ گاؤں سے روانہ ہوا تھا ، کسی کو اَندازہ نہیں تھا کہ سفر میں اِتنا وقت لگ جائے گا۔ جنگ شروع ہوئے کئی ماہ گزر چکے تھے اَور آس پاس کا پورا علاقہ باغیوں کے ِ حصار میں تھا ۔ گو فوج نے اُنھیں یہاں سے بھگادیا تھا لیکن اُن کی خفیہ موجودگی کی وجہ سے ا ہل علاقہ کو نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا تاکہ ملکی فوج اُن کا مکمل قلع قمع کر سکے۔
روانگی کے وقت دوپہر سر پر آ چکی تھی‘ اِس لیے اُن کا سفر شروع نہ ہو سکا تھا ۔ چمک دار‘ تیکھی اَور چبھنے والی پہاڑی دُھوپ میں پلوا شاہ نے اپنے دونوں ّ بچوں کے َ سر ڈھانپ رکھے تھے جو ٹرالی پر بیٹھے چاروں طرف ُ یوں دیکھ رہے تھے جیسے کسی میلے کا ِ ّ حصہ ہوں۔ اُن کے ساتھ کچھ اَور ّ بچے بھی اپنی ماؤں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ٹریکٹر کا مالک اَور ڈرائیور کہیں َ پرے‘ نئے مسافروں سے ُ منہ ‘مانگا کرایہ ہتھیانے میں مصروف تھے۔ آس پاس کے سینکڑوں لوگ نقل مکانی کے خواہش َ مند تھے۔ ہر خاندان ایک ہی قافلے میں شرکت کا خواہاں تھا۔ سواری کی کمی نے ایک ہڑبونگ مچا رکھا تھا۔ کرایے ناقا ِ بل برداشت تھے۔ ہر شخص سواری ُ چھٹ جانے کے خوف میں مبتلا تھا کہ فوج کی طرف سے آج علاقہ چھوڑنے کی وارننگ کا آخری دِ ن تھا۔ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ بمباری مقررہ وقت سے پہلے ہی شروع ہو جائے۔ سو ہر شخص زادِ راہ کا بندوبست کرنے کی بھاگ َ دوڑ میں مصروف تھا جس میں کافی پریشانیوں کا سامنا تھا کیونکہ ہفتوں سے گاؤں اَور آس پاس کے علاقوں میں اَشیائے خوردونوش کی کمی واقع ہو چکی تھی۔ باغیوں کی وجہ سے راستے مسدود تھے۔۔۔ صرف ایک راستہ ُ کھلا تھا جو ملک کے دُوسرے حصوں سے منسلک تھا۔ 
دُور فضا میں کہیں کہیں اُڑتے ہیلی کاپٹر یا کبھی جیٹ طیارے نظر آتے تو ّ بچوں کا شور اُن ّ طیاروں کی طرف دیکھتے ہوئے بڑھ جاتا۔ ُ یوں محسوس ہوتا کہ جانے انجانے میں سبھی لوگ آسمانوں پر اُڑتے اِن پرندوں سے اپنی خوشیاں اَور امن کی اُمید یں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ پلوا شاہ نے ساتھ کھڑی دُوسری ٹرالی کی طرف دیکھا جس میں اُس کا بوڑھا سسر بیٹھا نمناک آنکھوں سے بار بار اپنے پوتے کی طرف دیکھ رہاتھا۔ گھر سے نکلتے ہوئے بھی بڑے خان نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالا تھا لیکن اُسے معلوم تھا کہ سفر اُن کا مقدر ہے۔ گزشتہ تیس۳۰ سال سے اُن کے گاؤں کا امن رُوٹھ ُ چکا تھا۔۔۔ کبھی افغانستان سے مہاجر آ جاتے اَور کبھی اُنھیں باغیوں سے نبردآزما ہونا پڑتا۔ بڑے خان نے اپنی جوانی کے ایام سے یہاں لڑائی جھگڑے ہی دیکھے تھے۔ جانان اُس کا اِکلوتا بیٹا تھا جو باغیوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ ابھی اُس کا ُ وہ زخم نہیں بھرا تھا کہ اُس کے دو۲ بھائیوں کو قتل کر دیا گیا۔ اَب ُ وہ اِس بڑھاپے میں بھی اکیلا کھیتی باڑی کر کے ُ بہو اَور بچوں کے لیے رِ زق پیدا کرتا تھا ۔
ٹریکٹر کا مالک آخری سواریوں کو لیے واپس آ گیا تھا اَور مسافروں کو ٹرالی میں بٹھانے لگا تھا۔ یہ ٹرالی صرف خواتین اَور بچوں کے لیے مختص تھی ۔ َ مرد ،دُوسری ٹرالی میں الگ بیٹھے تھے۔ نئے آنے والوں میں چار خواتین‘ چند چھوٹے بڑے بچے ،مرغیاں ‘ پرندے اَور کچھ بکریاں بھی شامل تھیں۔ ّ ستر ا ّ سی عورتوں، َ مردوں ، ّ بچوں اَور چرندوں پرندوں پر مشتمل یہ چھوٹا سا آخری قافلہ اَب روانگی کے لیے تیار تھا جبکہ کئی ایک قافلے صبح کے وقت نکل چکے تھے۔ جانے والے اُس وقت تک پیچھے ُ مڑ ُ مڑ کر اپنے ہنستے بستے گاؤں کو دیکھتے رہے جب تک کہ وہ اُن کی نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا۔۔۔ نہ جانے وہ کن بھیانک ویرانوں کی طرف جا رہے تھے! 
پلوَشہ   نےچادر میں لپٹی ، کچھ برقع پوش خواتین کی طرف غور سے دیکھا تو اُسے لگا کہ یہ لوگ اُن کے گاؤں سے نہیں تھے۔ برسوں سے مسلسل جنگ کی صورتِ حال میں علاقائی اَقدار‘ اَور اِنسان دوستی کے جذبات عنقا ہو چکے تھے۔ آج وقت کی لگام صرف روپے پیسے کے ہاتھ میں آ چکی تھی اَور اپنوں بیگانوں کی شناخت اِسی کسوٹی پر منحصر تھی۔ لیکن اس بکھرے ہوئے ماحول اَورچہروں پر مایوسی کے گہرے سایوں تلے‘ وہ معصوم‘ خوبصورت‘ کھلکھلاتی ہوئی لڑکی اُسے عجیب سی لگی جو دُنیا و مافیہا سے بے خبر بات بے بات پر ہنس رہی تھی۔ اُس نے پھول دار قمیص کے نیچے ایک ڈھیلا ڈھالا چولا پہن رکھا تھا‘ پاؤں میں ٹوٹی ہوئی چپل تھی؛ َ سر پر چادر تو تھی لیکن اُس کے بار بار مسلسل حرکت میں رہنے کی وجہ سے دونوں ّ پلو اَپنی جگہ سے سرک جاتے اَور َ سر کے ننگا ہو جانے سے ہلکے براؤن بال شانوں سے نیچے ڈھلکے نظر آتے جس پرایک عورت اُسے دوبارہ ڈھانپ دیتی۔ اُس کی ُ عمر یہی کوئی بارہ تیرہ برس رہی ہوگی ۔۔۔ ُ وہ بار بار اَپنا َ سر کھجا رہی تھی۔ 
   پلوَشہ نے ٹریکٹر کے حرکت میں آتے ہی اُسے تجسس سے دیکھا ۔ اپنے گھروں کو چھوڑتے ہوئے اِس قدر اَذ ّ یت ناک ماحول میں اُس کا ہنسنا اُسے خلافِ معمول لگا ۔ اُس نے آنکھوں سے اِشارہ کیا کہ ُ وہ اُس کے پاس آ جائے ۔ ُ وہ کھڑی ہوئی تو اُسے اَندازہ ہوا کہ وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکے گی۔۔۔ ُ وہ بیٹھ گئی اَور پنجوں کے بل رینگتے ہوئے پلوا شاہ کے پاس پہنچ گئی ۔
جہاز کب آئیں گے؟ 
اُس نے معصومیت سے پلوا شاہ سے پوچھا۔
جہاز۔۔۔ کون سے جہاز ؟
  پلوَشہ

حیرت زدہ ہو گئی ۔ 
وہی جو دشمنوں کو مارتے ہیں۔۔۔ ڈَز ۔۔۔ ڈَز۔۔۔ ایسے!
اُس نے ہاتھ کے اِشارے سے باقاعدہ نشانہ لیا تو    پلوَشہ   کو کچھ عجیب سا لگا۔
اَستا سہ َ نم دِ ی؟
     پلوَشہ نے پشتو بولتے ہوئے اُس کا نام ُ پوچھا ۔
زریں گل ۔۔۔ ہاہاہا ۔۔۔ 
اُس نے جواب دیتے ہوئے قہقہہ لگایا جو جذبات سے عاری تھا: 
گولڈن فلاور ۔ ُ یو نو‘ آئی ایم گولڈن فلاور ! گاؤں میں زریں گل اَور شہر میں سنہری پھول۔۔۔ ہاہاہا ۔۔۔ میرے کتنے نام ہیں!
پھر اُس نے سر کجھاتے ہوئے زور زور سے ہنسنا شروع کر دیا۔
   پلوَشہ  کو مزید حیرت ہوئی کہ اُس کا اِنگلش بولنے کا لہجہ غیر ملکی سا تھا۔ اُس نے محسوس کیا کہ اُس کی دماغی حالت غیر متوازن تھی یا اُس کی ذہنی سطح ُ عمر کی مناسبت سے کم تھی ۔۔۔ اُس کا تجسس بڑھ چکا تھا!
کیا تم پڑھتی ہو؟ 
نو ۔۔۔
لمحہ بھر کے توقف کے بعد بولی :
یس ‘ بلیو فائیو! 
سر کھجاتے ہوئے شاید اُسے اپنا سکول یاد آ گیا تھا۔ 
     پلوَشہ نے ساتھ بیٹھی ایک عورت سے ُ پوچھا : 
کیا تم اِسے جانتی ہو؟ 
عورت نےپلوَشہ  کو سرخ کپڑوں میں ملبوس‘ ذرا دُور بیٹھی ایک درمیانی ُ عمر کی عورت کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے ایک لمبی کہانی سنائی: 
وہ اِس کی پھوپھی ہے۔ اِس کا باپ جو مڈل ایسٹ میں کام کرتا تھا‘ ساتھ والے گاؤں اچوزئی سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس نے ایک لبنانی عورت سے شادی کر لی تھی جس سے یہ ّ بچی َ پیدا ہوئی۔ یہ پیدائشی َ طور پر ذہنی کمزوری کی شکار ہے ۔دو۲ سال پہلے میاں بیوی اِس ّ بچی کے ساتھ یہاں آئے تھے کہ یک دم حالات بگڑ گئے۔ دہشت گردوں کے حملے میں بیسیوں لوگ مارے گئے جن میں زریں گل کے والدین اَور خاندان کے بیشتر لوگ بھی شامل تھے۔ اُس خاندان میں سے صرف یہی ایک ّ بچی اَور اُس کی پھوپھی بچے تھے۔
جہاز کب آئیں گے؟
زریں گل نے پلوَشہ     کو دوبارہ مخاطب ِ کیا۔۔۔ وہ مسلسل اَپنا َ سر کھجا رہی تھی۔
رازی۔۔۔ زر۔۔۔ر ازی ! 
       پلوَشہ  نے اُسے ٹالتے ہوئے پشتو میں جواب دیا کہ جہاز جلد آئیں گے ‘ جس پر اُس نے ایک بار پھر قہقہہ لگایا۔ اُس کے رُخ پر خوشی کے ایسے آثار اُبھر آئے جو کسی ا ّ لھڑ مٹیار کے چہرے پر اُس وقت نمایاں ہوتے ہیں جب وہ کسی محبوب ترین ہستی کے اِنتظار میں ہو۔ 
مشرق کی سمت کئی ایک گھنٹوں کی َ مسافت کے بعد عورتوں کا ٹریکٹر ایک جگہ اچانک رُک گیاتھا۔۔۔ اِنجن میں کوئی خرابی پیدا ہوگئی تھی جسے ٹریکٹر کے مالک سمیت کئی ایک َ مرد دُوسرے ٹریکٹر سے نیچے اُترکر درست کرنے کی فکر میں تھے۔۔۔ ہر شخص اپنی ہانک رہا تھا مگر ٹریکٹر کی درستی کے آثار مفقود تھے۔ مغرب کے بلند و بالا پہاڑ اَب اُن سے میلوں دُور َ رہ گئے تھے جبکہ مشرق کی جانب دُور دُور تک میدانی علاقہ شروع ہو ُ چکا تھا ۔ اُن کی آ ِ خری منزل حکومت کا نقل مکانی کرنے والوں کے لیے قائم شدہ ُ وہ کیمپ تھا‘ جو چند روز پہلے ُ وجود میں آیا تھا۔ 
تین دِ ن تک ٹریکٹر مرمت نہ ہو سکا ۔ نتیجہً قافلے والوں کا کھانے پینے کا سامان بالکل ختم ہو گیاتھا ۔ اُنھیں سات آٹھ گھنٹوں میں منزل پر پہنچ جانا تھا مگر اَب تک پچھتر۷۵ گھنٹے گزر چکے تھے اَور منزل ابھی دِ ن بھر کی َ مسافت پرتھی۔ َ پیدل چلنا مشکل تھا۔ ریڈیو سے اُنھیں جنگ کی اِطلاعات ملتی رہتی تھیں اَور ُ وہ اِس خوف میں بھی مبتلا تھے کہ راستے ہی میں کہیں لقمۂ اجل نہ بن جائیں۔ناچار‘کچھ نوجوانوں نے ٹرالیاں کھینچ کر نزدیکی پیڑوں کے سایے میں کھڑی کر دِ یں۔۔۔ اَب یہی جگہ اُن کے لیے عارضی کیمپ بن چکی تھی۔
سورج نے چہرہ دِ کھا کر پلوا شاہ کے خیالات کا سلسلہ منقطع کر دیا۔ اُس نے ّ پلو سے چہرے کا پسینہ صاف ِ کیا اَور چاروں طرف دیکھا۔ صبح کے آثار نمودار ہو تے ہی گرمی جوبن پر آ چکی تھی اگرچہ سورج ابھی بہت اُوپر نہیں آیا تھا ۔ٹرالیوں کا بسیرا چھوڑ کر اَب پورا قافلہ نیچے اُتر آیا تھا اَور بیشتر لوگ چادریں وغیرہ زمین پربچھا کر کیمپنگ کر چکے تھے۔ ُ سورج کے نکلتے ہی لوگوں نے اپنی اپنی پوٹلیوں میں سے کھانے پینے کا بچا کھچا سامان نکال کر بچوں کو کو ِ کھلا دیا ۔ صرف ایک گھرانے کے پاس گیس سلنڈر چولھا تھا جس پر ُ پورا قافلہ چائے بنانے کے لیے اُمنڈ پڑا تھا۔ 
بچوں نے کسی ایک جگہ پر زمین ہموار کر کے اپنے کھیلنے کا سامان پیدا کر لیا تھا۔ لیکن زریں گل کا ٹھکانا     پلوَشہ     اَور اُس کے ّ بچوں کے پاس تھا جن سے اُس کی چار۴ دِ ن کی دوستی صدیوں کی رِ فاقت میں بدل چکی تھی ۔ اُس کی خواہش ہوتی کہ سارا دِ ن نور کو گود میں اُٹھائے گھومتی رہے۔
بابا ‘ ٹریکٹر کب ٹھیک ہوگا؟ آج تو ہمارے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہیں!
       پلوَشہ نے ُ سسر کو اَپنی طرف آتے دیکھ کر سوال کر دیا۔
اِس بوتل میں دُودھ ہے۔۔۔
اُس نے پپسی کی ایک ُ پرانی بوتل واسکٹ کی جیب میں سے نکال کر پلوا شاہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: 
آدھا آدھا دُودھ دونوں ّ بچوں کو پِلا دینا۔ شاید آج کوئی سبیل نکل آئے!
بڑے خان کی نظر قریب کھڑی زریں گل پر پڑی جو بوتل کی طرف للچائی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
    پلوَشہ  نے زریں گل کی طرف دیکھا تو اُس کی آنکھیں بھر آئیں :
بڑی صبر والی ّ بچی ہے‘ کل سے صرف پانی پر ہے ۔ کیامجال کہ اِس نے ایک دفعہ بھی ُ بھوک کی شکایت کی ہو! کل کسی نے اِسے ایک سیب دیا تو اِس نے ُ وہ بھی نور کو ِ کھلا دیا ۔
  پلوَشہ  نے بڑے خان کی طرف دیکھا جو پہلے ہی اپنی آنکھوں میں ٹمٹماتے ستارے سجائے کھڑے تھے:
اچھا تمھارے لیے بھی کچھ ڈھونڈ کر لاتا ہوں۔۔۔ 
اُس نے زریں گل کے ِ سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:
اَب تو کھانے پینے کا سامان کسی کے پاس نہیں۔ اگر تھوڑا بہت بچا بھی ہے تو لوگوں نے اپنے لیے چھپا لیا ہے۔
بابا۔۔۔ میں ٹریکٹر ٹھیک کر ُ دوں؟
زریں گل نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔
ہاں کر دو ۔۔۔!
بڑے خان نے یاس بھرے لہجے میں جواب دیا۔
بابا۔۔۔ جہاز کب آئیں گے؟
اُس نے اچھلتے ہوئے ُ پوچھا۔
آخر تمھیں جہازوں سے کیا دِ لچسپی ہے ؟
خان بابا نے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
بابا ‘ سکول میں میری مس نے کہا تھا کہ جہاں کھانا نہیں ہوتا‘ وہاں جہاز کھانا دیتے ہیں!
اومیرے خدایا ۔۔۔ اَب میں اِسے کیا سمجھاؤں! 
خان بابا نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
بابا ۔۔۔مجھے سمجھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ میں آئی ڈی پیز ہوں!
زریں گل نے قہقہہ لگایا۔
یہ تمھیں کس نے بتایا ہے؟ بڑے خان نے متعجب ہو کر اسے پوچھا
’’کل وہاں ایک انکل کہہ رہے تھے کہ ہم سب آئی ڈی پیز ہیں۔‘‘ 
اُس نے دُور کھڑے چند نوجوانوں کی طرف اِشارہ کیا ۔ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ’’ ہم تو اِس ملک میں پہلے دِ ن سے ہی آئی ڈی پیز ہیں۔‘‘ 
یہ کہہ کر وہ بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے بھاگ گئی۔ 
********************************************************************
ممتاز افسانہ نگار‘ناول نگار اور دانشور نعیم بیگ مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ان کے والد سرکاری ملازم تھے جس کے سبب ابتدائی تعلیم مختلف شہروں میں حاصل کی۔میٹرک پبلک ہائی سکول گوجرانوالہ سے کیا۔گوجرانوالہ اور لاہور کے کالجوں میں زیرتعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔۱۹۷۵ء میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا اور ملک کے دوردرازعلاقوں میں خدمات سرانجام دیں۔بالآخر لاہور سے سینئر وائس پریذیڈنٹ اورجنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزار‘ا جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزوقتی لکھاری کے طور پر مختلف اخبارات اور جرائدمیں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔۲۰۰۹ء میں انہوں نے پہلا افسانہ ’’آخری لمحہ‘‘ کے نام سے لکھا۔ ۲۰۱۰ء میں ان کاپہلا انگریزی ناول’’ ٹرپنگ سول ‘‘ منظر عام پر آیا۔اس کے بعد ان کے افسانے تواتر سے مختلف ادبی رسالوں میں چھپنے لگے۔۲۰۱۳ء میں اردو میں پہلا افسانوی مجموعہ ’’ یو ڈیم سالا‘‘ بک ایج پبلشر لاہور نے شائع کیا۔ان کا دوسرا انگریزی ناول’’ کوگن پلان‘‘ بھی اکتوبر۲۰۱۳ء میں سامنے آیاہے‘جو دہشت گردی کے تناظرمیں لکھا گیاہے۔ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ زیرطبع ہے۔ نعیم بیگ کے ناولوں اور افسانوں میں انسانی زندگی اور اس سے جڑی حقیقتیں اور خواب فن کارانہ چابک دستی سے لفظوں کا روپ دھارتے ہیں اور ان کی رواں تحریر اور دلکش اسلوب قاری کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیتاہے۔جب وہ عام انسانوں کے دکھ درد اور آلام بیان کرتے ہیں توحساس قاری کا دل ان کے دردمند دل کے ساتھ ایک ہی آہنگ میں دھڑکتاہے ۔ان کا افسانہ ’’جہاز کب آئیں گے‘‘ پڑھئے اور دل تھام لیجئے۔(مدیر فسانہ گو۔۔خاقان ساجد)

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ 
اردو افسانہ ’’ جہاز کب آئیں گے ‘‘ از نعیم بیگ لاہور پاکستان 


 — 

افسانہ برائے تنقید و تبصرہ.....خطِ استوا



خطِ استوا


کمرے کو روشن کرتی سورج کی آخری کرن بھی آہستگی سے کھڑکی کی اوٹ میں معدوم ہو چکی تھی تاہم شام کے دھندلکے ابھی کچھ دور تھے اور دھوپ کو ابھی لان میں مزید رہنا تھا البتہ کمرے میں اندھیرا چھا چکا تھا۔ فریسہ نے جب کمرے کے اندر قدم رکھا تو مجھے اسکے قدموں کی چاپ سے محسوس ہو گیا کہ وہ شام کی چائے لائی ہے۔ اس نے اندر داخل ہوتے ہی بٹن دبا کر کمرے کی لائٹ جلائی جس سے کمرے میں ملگجی روشنی چاروں طرف پھیل گئی ۔ میں نے بستر پر لیٹے لیٹے ہی آہستہ سے آنکھیں کھول دیں۔ اس نے میرے بیڈ کے ساتھ رکھی تپائی پر چائے کی پیالی رکھی اور پائنی پر بیٹھ کر میری دائیں کلائی پر انگلیاں رکھ دیں۔
 چند سیکنڈز کے بعد اسکے چہرے پر ایک ویران سی مُسکراہٹ ابھری۔ وہ کہہ رہی تھی کہ اب بخار ہلکا ہو چکا ہے۔ میں نے جواباً اپنے ہاتھ کو جنبش دی اور اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔ دونوں طرف خاموش نگاہوں میں کئی ایک سوال تھے۔ گزرے وقت کے کئی ایک جواب تھے۔ فریسہ نے آنکھیں جھکا لیں اور دیر تک کمرے کا سناٹا نامعلوم آوازوں سے ہم آہنگ ہو کر کسی ایسے انجانے راگ کو الاپ رہا تھا جو دھیرے دھیرے روح میں اترتا جا رہا تھا ۔میں جانتا تھا کہ وہ زیادہ دیر تک میرے پاس نہیں رکے گی ۔ پھر بھی گذشتہ کئی ایک دنوں سے وہ اپنا فرض جس جانفشانی سے نباہ رہی تھی وہ ناقابلِ یقین تھا۔ اس کے رویہ میں تبدیلی نے مجھے خود بھی حیران کر دیا تھا۔ کیا وہ میرے دل کی آواز سن چکی تھی؟ 
گزشتہ سال سے فالج کے اٹیک نے مجھے تقریباً اپاہج کر دیا تھا۔ بائیں حصے کے مفلوج ہو جانے سے میرا چلنا پھرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ اگرچہ میرے بیٹے جواد نے ایک کل وقتی نرس لگا رکھی ؂تھی لیکن وہ اکثر و بیشتر غائب رہتی ۔ حواجاتِ ضروریہ اور دیگر معاملات میں ضرورت پڑنے پر فریسہ طوعاً کرہاً میری مدد توکر دیا کرتی لیکن اسکا اپنا ایک الگ انداز تھا ۔ دو ہفتے پہلے جب مجھے ہارٹ اٹیک ہوا توبڑی مشکل سے میں بچ پایا ۔ ڈاکٹرز کہہ رہے تھے کہ اب دوائیں کچھ کام نہیں کر رہی ہیں۔ میں شائید دوسرا اٹیک برداشت نہ کرسکوں ۔ لیکن دوسرا اٹیک کب آئے گا کوئی نہیں جانتا تھااور انتظار سے مجھے نفرت تھی ۔ انتظار کی جان لیوا اور کھٹن دکھ درد بھوگنا میرے لئے موت سے بدتر تھا۔ 
اب جس شخص کا آدھا جسم ایک سال سے مفلوج ہو اور وہ زندگی کی تمام تر حرکت سے محروم ہو چکا ہو ۔ حال ہی میں اسے ہارٹ اٹیک ہوا ہو جس میں بڑی مشکل سے اسکی جان بخشی ہوئی ہو ۔ جس کے پھیپڑے پہلے ہی سگریٹ نوشی سے ناکارہ ہو چکے ہوں تو ڈاکٹرز اس مریض کو اب کہاں تک ٹھیک کریں گے۔ زندگی کا کھٹن راستہ جس طرح میں نے تنہا کاٹا تھا اس کی گواہی تو صرف میرا دل ہی دے سکتا تھا لیکن وہ تو خود زخمی حالت میں نصف حصے پر دھڑک رہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ میں کئی ایک ہفتوں سے تقریباً روز ہی جواد کو اپنی آنکھوں سے کچھ پیغام دینے کی کوشش کر رہا تھا لیکن مجھے پتہ تھا یہ جان جوکھوں کا کام ہے۔ صرف بڑے دل والے ہی ایسا کر سکتے ہیں لیکن میں تن دہی سے ان دنوں یہی کام کر رہا تھا۔ ایک طرف میری ہمت دن بہ دن جواب دی رہی تھی تو دوسری طرف میری ثابت قدمی مجھے آگے بڑھا رہی تھی۔ میں نے تو اپنی آنکھوں کے راستے اپنا دل چیر کر اُس کے سامنے رکھ دیا تھا اور مجھے یقین تھا کہ کچھ دنوں سے وہ میرا پیغام سمجھ رہا ہے۔ اُسکی آنکھوں میں اداسی کے سائے مجھے یقین کی منزلوں تک لے جا رہے تھے۔ میں سمجھ رہا تھا کہ میری زندگی کا سفر عین انہی راستوں پر لکھا ہے جن پر ابا چلے تھے۔ ۔ میں اب سمجھا تھا کہ ایسا کیونکر ہوا تھا۔ آج سے ٹھیک بائیس سال پہلے جب ابا بسترِ علالت پر تھے توآخری سفر سے پہلے ان کی کچھ ایسی ہی حالت تھی۔ 
میں ہر روز آفس سے گھر کے لئے نکلنے سے پہلے اماں سے بات کرتا تھا اور پھر اپنے ساتھ ڈاکٹر کو اپنی گاڑی میں بیٹھا لاتا تھا۔ گو ڈاکٹر اپنا کام دلجمعی سے کرتے تھے لیکن ابا کی حالت دن بہ دن بگڑتی جاتی تھی اور پھر ان کی آنکھوں میں ان جھلملاتے موتیوں کو میں بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ انسان موت کو سامنے دیکھ کر بھی زندگی کی دعا کرتا ہے سبھی یہی کرتے ہیں لیکن ابا تو بہت پہلے سے دنیا کو چھوڑ چکے تھے۔ اماں سے انکی لڑائیاں گو اب بند ہو چکی تھیں لیکن دل کے آئینے پر آئے باریک بال دور نہ ہو سکے تھے۔ اور اب بیماری میں انکی دل کی خواہش مجھ تک پہنچ رہی تھی۔ وہ زندگی بھر انتظار کے جبر و استبداد کا شکار رہے تھے اب شائید انکے زخموں میں زہر پھیل چکا تھا۔ میں جب کبھی ان کے پاس سامنے کرسی پر بیٹھتا تو اشارہ کر کے مجھے کہتے کہ میری قریب پلنگ کی پائنی پر بیٹھ جاؤ اور پھر آہستگی سے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی خواہش کا اظہار کر دیتے۔ ان کے لبوں سے تو کچھ نہ سمجھا جا سکتا تھالیکن ان کی آنکھیں مجھے پورا پیغام دے دیتیں۔ لیکن میں ایسے کیونکر کر سکتا تھا۔ 
میرے اندر خوف کی ایک لہر سی دوڑ جاتی۔ مضبوط اور تنومند جسم و جاں کے باوجود میں اندر سے یوں نچڑ جاتا جیسے کسی نے دونوں ہاتھوں سے مجھے مروڑ کر دہرا کر دیا ہو۔ میرے آنسو نکل پڑتے لیکن ابا کو میں کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔ ہر روز جب بھی میں شام کو انکے کمرے میں جاتا تو وہ انہیں نظروں سے مجھے دیکھتے۔ اپنے پاس بٹھاتے اور پھر نگاہوں سے وہی پیغام دہرا دیتے۔ 
پھر ایک تاریک رات انکی درد بھری آہوں سے اماں ساری رات جاگتی رہیں اور صبح اٹھ کر مجھے بتایا کہ تمارے ابا ساری رات درد اور تکلیف میں رہے ہیں۔ آج ڈاکٹر کو ساتھ ضرور لیتے آنا۔ میں شام کو جب واپس آیا تو میرے ساتھ انکے وہی پرانے معالج تھے جو انہیں ایک سال بھرسے دیکھ رہے تھے ۔ انہوں نے ابا کووقفہ وقفہ سے تین امجکشن لگانے تھے اور تسلی دی کہ وہ جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔ آخری انجکشن لگاتے ہوئے ڈاکٹر نے ہمت بندھاتے ہوئے ابا سے کہا بس اب گھبرایئے نہیں یہ آخری انجکشن ہے۔ تو خلافِ معمول ابا گزشتہ ایک سال میں پہلی دفعہ مسکرا اٹھے اور ڈاکٹر سے کہا ہاں آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ یہ یقیناً آخری انجکشن ہے اور پھر میری طرف عاجزانہ نظروں سے دیکھا۔
میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے پر امیدوں کا ایک گھنا جھنڈ اُگ چکا ہے۔ جو دکھ اور درد میں نے آج ان کی آنکھوں میں دیکھا وہ پہلے کبھی نہ تھا۔ ڈاکٹر واپس جاچکا تھا ۔ میں ابا کے پاس ہی بیٹھا رہا۔ ابا نے اس بیماری اور لاغرپن میں بھی اس زور سے میری کلائی پکڑی کہ میں ان سے چھڑا لینے کی ہمت نہ کر سکا ۔ انکی آنکھوں سے عاجزی کے موتی جب دوبارہ انکے گالوں پر پھیل گئے تو میں اپنے آپ کو روک نہ سکا۔ میں نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ میرے ہوتے ہوئے شکست ابا کا مقدر نہیں بن سکتی۔ میں آج ابا کو فتح یاب دیکھوں گا۔ جب میں نے انکے پاس پڑی دواؤں کی الماری کی طرف ہاتھ بڑھایا تو انکی خوشی دیدنی تھی۔ ان کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرتے موتی میں نے اپنے ہاتھوں میں لے لئے۔ ابا میری جان تھے یہ میں کیا کرہا ہوں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہاتھا۔ میں نے ان کے بوڑھے اور مرجھائے ہوئے رخسار اپنے ہاتھوں میں لے لئے اور بڑھ کر انکا ماتھا چوم لیا۔
ابا۔۔۔ ابا۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔ میرا یہ کہنا تھا کہ انہوں نے مجھے پرے دھکیل دیا انکے چہرے پر کرب و ابتلا کے سایے لہرا گئے اور غصہ سے انکے کانوں کی لوئیں سرخ ہو گئیں ۔۔۔ میں ڈر سا گیا ۔ اپنے باپ کے لئے میرا سارا پیار امنڈ کر میرے ہاتھوں میں اتر آیا میں نے آگے بڑھ کر الماری کھولی اور چھوٹی سی شیشی سے کئی ایک گولیاں نکال کر انکے منہ میں ڈال دیں اور قریب پڑے پانی کے گلاس کو انکے منہ سے لگا دیا۔

کل جواد نے مجھے اپنی آنکھوں سے عندیہ دیا تھا کہ وہ شام کو میرے پاس آئے گا تو میرے دل کی دھڑکن سن لے گا۔ میرا بیٹا ہے نا ! سو اب میں اس کے انتظار میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر چشمِ تصور میں جھانک رہا ہوں ۔ لان میں کھِلے رنگ برنگے پھول اور ان کی خوشبو ، بہار کی ترنگ میں اڑتی ہوئی تتلیاں اور امرود کے پیڑ کی اونچی شاخ پر بیٹھی چہچہاتی کوئل اپنی مدھر آواز میں مجھے بلا رہی ہے اور میں ہوں کہ اپنے جواد کا شدت سے انتطار کر رہاہوں ۔ 
فریسہ کئی ایک بار میرے کمرے سے گذر کر جا چکی ہے۔ اسے شائیبہ تک نہیں کہ کل کی صبح ہم دونوں کے لئے کتنی خوشگوار ہوگی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ
نومبر ۲۰۱۴ لاہور پاکستان
جملہ حقوق بحق مصنف محفوط۔
 — 

Tuesday, November 24, 2015

حسین مجروح کی نظم ’’ خواب میں دیکھا ہوا دن ‘‘ پر ایک تنقیدی جائزہ












خواب میں دیکھا ہوا دن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( گوہر کے نام )
کاش ایسا ہو
کبھی رات کو جلدی سوئیں
صبح اٹھیں
تو زمین پر
کسی موہوم بشارت کی طرح
اک نیا دن ہو
جسے خوف نہ ہو مرنے کا
جس کی چاہت بھری کرنوں کی سُپرداری میں
فاختاؤں کو کوئی ڈر نہ رہے، ڈرنے کا
جس کی خوشبوئی ہوئی آنکھوں کے نذرانے میں
گھر کھُلے چھوڑ کے جائیں میرے جانے والے
جز محبت نہ خریداری ہو بازاروں میں
دھوپ مامور ہو خود اپنی نگرانی پر
جبکہ تنہائی حفاظت پر ہو سنّاٹے کی
خواب ، امید کی توفیق سے بڑھ سکتا ہے
اور نیا دن تو کسی وقت بھی چڑھ سکتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیسن مجروح
میرزاغالب نے اپنی ایک غزل میں کہا۔۔۔۔
’’دل کو نیازِ حسرت دیدار کر چکے
دیکھا تو ہم میں طاقتِ دیدار ہی نہیں
ملنا ترا اگر نہیں آسان تو سہل ہے
دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں‘‘
اب دیکھیئے حسین مجروح کیا کہتے ہیں
’’ جبر و قدر کے کھٹ راگ سے قطع نظر، شاعری کھنڈر کی دیوار نہیں ہوتی کہ فقط گر پڑنے کے خوف سے منظر ہو کر رہ جائے، اسے تو پوری زندگی سے معاملہ ہوتا ہے یعنی وہ جسے ہم بسر کرتے ہیں اور وہ جو ہمیں گذارتی ہے۔ وقت اور کائنات کی تقویم تو شاعری کا اسمِ آعظم ہے ۔۔۔۔‘‘
یوں تو حسین مجروح کی ’’آواز‘‘ کی گونج پورے مجموعہ میں بازگشت کے طرح بار بار آکر قاری کے کانوں سےمانوس سی سرگوشیاں کرتی ہے اور اصرار کرتی ہے کہ جن نئے احساسات و تحیرات کے بیان کو شعری کاوش کے روپ میں ڈھالا گیا ہے اس کی جستجو اور دریافت ہی انسانی شعور کا پہلا قدم ہے ۔
حسین مجروح ایک بڑا شاعر ہے جو فرسودہ ، استعمال شدہ ’’ کلیشے‘‘ سے اپنے آپ کو بچاتا ہے اور اپنے فکر و خیال ، لفظوں کے حسنِ جمال ، بچھڑنے کے ملال اور کہکشاؤں کے جلال میں بھی سچ کی کسوٹی کا منظر نامہ پیش کرتا ہے۔
میں بھلا کس طرح حسین مجروح کی آواز کی اس گُنگناہٹ و غنائیت جو پوری طرح آس و زندگی سے لبریز ہے، رد کردوں کہ وہ صدیوں سے گونجتی ہوئی کھنکتی آوازوں کے سحر سے آشنا ہے اور کائنات میں پھیلی ہوئی مسحور کن جمالیاتی لطافت کا بھی جائزہ لیتا ہے ۔
’’جز محبت نہ خریداری ہو بازاروں میں
دھوپ مامور ہو خود اپنی نگرانی پر
جبکہ تنہائی حفاظت پر ہو سنّاٹے کی
خواب ، امید کی توفیق سے بڑھ سکتا ہے
اور نیا دن تو کسی وقت بھی چڑھ سکتا ہے‘‘
انسانی خمیر میں گندھا ہوا رومانوی اور جمالیاتی رنگ حسین مجروح کے مصرعوں کی شان بن جاتا ہے اور امید و آس کا ایسا منظر نامہ کھولتا ہے جہاں روشنی جگمگاتی ہوئی آپ کو نئے احساس سے روشناس کرتی ہے۔ ’خواب میں دیکھا ہوا دن‘ اسی احساس کا نام ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ
لاہور پاکستان۔
۲۴ نومبر ۲۰۱۵

Sunday, November 15, 2015

حسین مجروح کے تازہ شعری مجموعے ’’ آواز ‘‘ کا ایک اجمالی جائزہ







حسین مجروح کے تازہ شعری مجموعے ’’ آواز ‘‘ کا ایک اجمالی جائزہ
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 سقراط نے کہیں کہا تھا کہ ’’اگر اس دنیا کے بعد کوئی اور دنیا ہے تو میری روح اسے دیکھنے کے لئے بے تاب ہے کیونکہ دریافت اور جستجو سے بڑھ کر کوئی اور مسرت نہیں ، اور اگر موت ابدی نیند کا نام ہے تو اس سے زیادہ سکون بخش نعمت اور کیا ہو سکتی ہے۔‘‘ 
لیکن یہاں حسین مجروح ابدی نیند سے کہیں زیادہ اس ابدی آواز کو اپنے شعری شعور میں بلند کرتے ہیں جوحیاتِ جاوداں کے روپ میں تہذیبی رشتوں کی دریافت اور انسانی شعور کے لئے آفاقی جستجو سے پیوست ہے۔ 
 حسین مجروح کی یہی ’’ آواز ‘‘ انکے شعری اسلوب و معنویت کی آگہی کی تازہ دمّی سے مزیں ایک خوشگوار تجربہ ہے۔ 
 مجموعہ کے ابتدا میں کوکتی ہوئی مدھر آواز قاری کو کس طرح اپنے سماجی و تہذیبی شعری شعور کی آگہی سے روشناس کراتی ہے اس کا اظہار ذرا ان کے اپنے الفاظ میں ہی سن لیجیئے ۔
’’ پہچانا ! یہ میں ہوں حسین مجروح، ہنر کی حرمت کا طلب گار، آپ کے لطف کا امیدوار۔
 یادش بخیر ’’کشید ‘‘ کو روشنائی کا پیرہن کرتے سمے آپ سے کچھ گفتگو رہی تھی، یہی کوئی چودہ برس پہلے، آپ سے کیا پردہ مشرقی شعریات کو چودہ کا سِن بہت لبھاتا ہے، اور اس اتفاق کو اشتیاق کی کس پوٹلی میں باندھیے گا کہ ’’ کشید‘‘ کو آواز ہونے میں بھی یہی عرصہ لگا۔ پلٹ کر دیکھتا ہوں کہ سخن کی بے توفیقی سے چہرا دھواں ہوتا ہے، کبھی آنکھ بے آب ، خود کو ملامت کرتا ہوں کہ اس بے اعتباری کے آئنہ خانہ میں حاضری کی کیا ضرورت تھی، پلکوں میں سوئیاں کچھ دیر اور چھبی رہتیں ، کلیجے میں لہو مزید جمنے دیا ہوتا، ایسا بھی نہیں کہ یہ دلاری دودھ کے دانت جھڑتے ہی مایوں بیٹھا دی گئی ہو لیکن طبیعت کی تمازت کا کیا کروں جو پتھر کے برادے میں بھی کنول تلاشنے کی مدعی ہے۔‘‘
اب آپ دیکھ لیجیئے کہ حسین مجروح کا ادبی و علمی و فکری شعورکس قدر الہامی طور پر انسانی اعمال کا پوری طرح جائزہ لیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ آج کی جگمگاتی زندگی کی حقیقت کے پیچھے سچائی کا مخفی پہلو کون سا ہے؟
 یہیں سے انکے مجموعے کی پہلی آواز مدھر موسیقی کی طرح انسانی کانوں میں رس گھولتی ہے اور الفاظ حرمت کے ان جاوِداں لمحات میں ساکت ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔

 نیند کی ٹہنی پر
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 سارے خواب کہاں پھلتے ہیں
 اکثر خواب تو
 کچی نیند کی ٹہنی پر ہی مر جاتے ہیں
 باقی ماندہ
 تعبیروں کے پھانسی گھاٹ
 اتر جاتے ہیں۔
 تھوڑے سے جو بچ رہتے ہیں
 دنیا کی ناشکری آنکھ میں
 تازہ جگنو بھر جاتے ہیں 
 لیکن دنیا،
 پیتل پر سونے کا رنگ چڑھاتی دنیا!!
خوابوں سے گھبرا جاتی ہے
 جگنو بیچ کے کھا جاتی ہے۔

 حسین مجروح کی شاعری ، نظمیں ، غزلیات سیاسی و سماجی شعور کے کسی فارمولے میں مقید نہیں، جہاں وہ ماضی کی تہذیبی ، لسانی اور ادبی ورثہ سے آگاہ ہیں وہیں مستقبل کا انسان ان کی شعری جستجو کے امکانات کو جذب کرتا ہے اور اپنے لسانی لب و لہجہ اور سماجی تشکیل پر غور کرتا ہے۔ مجھے ان کے ہاں لفظوں کی تراکیب ، مصروں کی ساخت، اظہار کا نیا پن اور علامتوں کی نئی تشریحات کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ ملتا ہے۔ انکی تازہ کاوش ’’ آواز ‘‘ کے لئے بہت سی نیک تمنائیں۔ 

 نعیم بیگ لاہور پاکستان
 جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ
 ۱۵ نومبر ۲۰۱۵