۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس حقیقت سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں کہ دنیا بھر میں اکیسویں صدی کے آغاز سے اَن دیکھی عالمی طاقتوں نے ایک نیا منظر نامہ لکھنا شروع کیا ہے جس کے ابھی ابتدائی باب لکھے جا رہے ہیں ۔ ہم اس لحاظ سے بیسویں صدی کو بعد از جنگِ عظیم دوئم ایک ایسے دور سے منسوب کرتے ہیں، جہاں انسانیت اپنے بام عروج پر پہنچی۔ وہیں سائینس کی ترقی و ترویج میں دنیا بھر کا انسان جس تیزی سے پہیہ کے دور سے نکل کر مکینیکل دور میں داخل ہوا اور پھر الیکٹرونک دور سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہوتے ہوئے اس نے تسخیرِ کائنات میں ایسے ایسے علم بلند کئے کہ انسانی ذہن دنگ رہ گیا۔
اس سے پہلے چونکہ فکری و علمی سطح پر انقلابِ فرانس اور انقلابِ روس اور پھر کہیں بہت پہلے سولہویں صدی کی اولین دھائیوں میں مارٹن لوتھر کی مذہبی روایات سے رو گردانی، کے ڈانڈے بہر طور ان نظریات سے متصادم نہ تھے جو کسی بھی انسانی حقیقت کو اسکے علاقائی، لسانی اور ثقافتی جوہر سے الگ کر کے دیکھے جاتے ہوں،۔ بین ہی دنیا بھر کے ادبی حلقوں میں ان نظریات اور انکے فکری پہلوؤں پر اس طرح مباحث ہوئی کہ گلوبل ادب کارل مارکس کی داس کپیٹل سے ، سارتر کے وجودیت کے فلسفے تک، کامیو کے ایگزسٹلزم سے لیکر جیکس لیکَن(سٹرکچریلزم) اور جیکس دریدا ( پوسٹ سٹرکچریلزم) تک کے ان نظریات کو ہمیشہ دنیا بھر میں نہ صرف ادبی نقطہ نظر سے مقبولیت ملی بلکہ یہ عالمی نظریات ایشیا سے لیکر دوردراز لاطینی امریکہ تک پہنچے اور اینلاٹنمنٹ کی ابتدا ہوئی۔ انسان جاگ گیا اور اس سے کہیں زیادہ اُن ادباٗ و شعرا پر اثرات آئے جو طلسماتی یا جادوئی دنیا کی فیٹاسی میں مبتلا ادب تخلیق کر رہے تھے۔ ہمارے ہاں یہ روایت حقیقت نگاری کے جد امجد منشی پریم چند کی دیہی اور شہری مسائل پر مبنی تحریروں سے اپنے قدموں پر کھڑی ہوئی۔ جسے بعد میں ایک بڑے قافلے نے پروان چڑھایا۔ گو اس سارے کھیل میں مغرب میں فوکو اور ہمارے ہاں سبھاش چندر بوس بھی آئے لیکن انہیں پزیرائی نہیں ملی۔
لیکن اس بحث میں الجھے بغیر کہ کہاں کس نے انسان پرستی کی کونسی کڑی کو ملایا یا اسے زنجیر سے الگ کیا ، یہ دیکھنا زیادہ اہم ہے کہ عمرانی و سماجی و ثقافتی ارتقائی مدارج طے کرتے ہوئے نئے نظریات سے مزیں ہمارے ہاں ایشیا میں اور خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں عالمی ادب اور اس کے اثرات کہاں کہاں تک پہنچے۔ انسانی زندگی میں جہاں ادب اسکی حقیقی تصویر دکھاتا ہے وہیں ایک خاص نہج پر معاشرے کے اندر پنپنے والی برائیوں کو ایک ایسے آئینہ کے ذریعے معکوس بھی کرتا ہے جسے ہم ادب پارے کہتے ہیں جس کے سیاسی ، عمرانی و ثقافتی اثرات معاشرے پر بالعموم ، اور سماجی زندگی میں بالخصوص نظر آتے ہیں۔
اب اس سارے تقویمی اور ارتقائی سماجی و معاشرتی مدارج کو اگر کوئی عمل سبوتاژ کرتا ہے تو وہ مذہب کی اَن دیکھی وہ روایات ہیں جو صرف ایک خاص طبقے نے حقیقی و فطری تقاضوں سے کشید تو کیاتھا لیکن رفتہ رفتہ ان قانون پاروں اور صحیفوں کو فلسفہ اور منطق سے دور رکھے جانے پر ، اور کسی بھی سوال کو کسی درجہ پر پیدا نہ ہو دینے کے عمل سے دور رکھے جانے پر وہ کسی بند جوہڑ کے کائی زدہ پانی کی طرح بدبو دار ، ناقابل استعمال اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن جاتے ہیں۔
یہی وجہ تھی کہ مارٹن لوتھر نے اپنی تحریروں اور تقریوں سے سولہویں صدی میں بڑھتی ہوئی انسان دشمن کیتھولک فرقہ کی پاپائیت کو ایک حد تک پابند و سلاسل کیا۔ لیکن بیسیویں صدی میں مغرب نے کیمونزم کے خطرے سے نبٹنے کے لئے جنگِ عظیم اول و دوئم میں مسلمانوں کو جو عرصہ دراز سے ملوکیت کی ریشہ دوانیوں کی وجہ کسی حد تک مذہب سے بیزاری کی طرف مائل تھے کہ انہیں کیمونزم کے خلاف جہاد کا نعرہ دیکر کھڑا کر دیا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ علم و عمل سے دوری کے باعث ایشیائی ثقافت کا اکثریتی مسلمان حصہ اس جہادی تنظیموں کا دلدادہ ہو گیا کیونکہ یہاں انہیں شکم پروری کی فکر نہ تھی اور جدو جہد سے عاری ایک ایسی سہل زندگی کا نقشہ نظر آتا تھا جو بعد از حیات ایک نئی خوبصورت زندگی کا سندیسہ بھی لاتا ہے۔ اکیسویں صدی کے اوائل میں جب یہ جہادی تنظیمیں دنیا بھر کے انسانوں کے لئے ایک عذاب بن کر اتریں تو عالمی طاقتوں نے انہیں روکنا چاہا لیکن خاطر خواہ حتمی کامیابی کی امید پر جنگ ابھی جاری ہے۔
اسی اثنا میں مڈل ایسٹ ، وسطی ایشیا اور جنوب مغربی ایشیا میں ہوتی ہوئی اس جنگ میں اب ایک بڑا حصہ ڈالنے کے لئے ہندوستان کی ہندو آبادی جو تقسیم پاک و ہند کے بعد کسی حد تک سیاسی بالیدگی اور عمرانی و سماجی شعور سے بازیافت ہو رہی تھی ، کو میدان میں لانے کا ایک قبیح عمل شروع کر دیا گیا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ انسانی ذہن کی پیداوار مذہبی روایات ۔۔۔ جی ہاں میں ان ثقافتی روایات کی بات کر رہا ہوں جو اس وقت کے سماج میں رائج تھیں کو مذہبی نام دے دیا گیا جو اب ایک بند جوہڑ میں کھڑے پانی کی طرح انسانی حیات کے لئے سمّ قاتل بن چکی ہیں۔ جبکہ خود مذہب ان روایات سے رو گردانی کرتا ہوا اپنے سماج کو ، اپنے پیرو کاروں کو ایک نئی زندگی کا آفاقی پیغام دیتا ہے۔ یہی کام عیسائیت کرتی ہے ۔ ایسا ہی آج سے چودہ سو سال پہلے اسلام نے کیا اور ہندو اور بدھ مت بھی ہزاروں سال سے اس اصول پر روئے زمین پر انسانی زندگی کا حصہ بنا۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ عالمی منظر نامہ میں ہم جس جمہوریت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہہ رہے ہیں اور عالمی طور پر منوا نے کی سعی کر رہے ہیں کیا موجودہ انتہاپسندی کی لہر سے بچا پائیں گے؟ میرا آج کا جواب اسی سوال کے اطراف میں گھومتا ہے۔
کیا یہ ممکن ہو پائے گا کہ ایک سو بیس کروڑ کی آبادی کا ملک جس کی اقلیتیں بھی دنیا کے نقشے پر ابھرنے والے کئی ایک ملکوں سے بڑی ہیں ، اپنی سلامتی و پرامن حیات کی ضمانت اس ملک سے لے پائیں گی جس کی اساس میں آزادی کا ترنگہ اقلیتوں کے ساتھ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ ’ سب سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ جیسا ترانہ اقبال نے لکھ کر ہندوستان کو ایک ایسا تحفہ دیا کہ آج بھی ہندوستان ایک عظیم سلطنت نظر آتی ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ بڑھتی ہوئی جنونی انتہاپسندی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ایک سروے کے مطابق گذشتہ سال ۲۰۱۴ میں ہندو انتہاپسندوں نے تقریباً آٹھ سو سے زائد پر تشدد واقعات کی شروعات کی اور سینکڑوں انسانی جانوں کے لہو سے زمین کو رنگ دیا۔ عقیدے کی بنیاد پر اختلاف ہو جانے پر قتل جیسا انسانیت سوز سلوک کسی مذہب کی اساس میں نہیں۔
اس طرح گزشتہ ایک دھائی سے پاکستان میں کئی ایک مذہبی تحاریک نے اندون اور بیرونِ ملک ہزاروں انسانوں کا خو ن بہا دیا ہے ۔ گو پاکستان میں عسکری قیادت اب چند برسوں سے اس عفریت سے نبٹنے کے لئے پوری طرح کو شش کر رہی ہے اور ایک بڑے حصہ پر جہاں غیر ملکیوں کے کیمپ پوری طرح براجمان تھے انہیں مار بھگایا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں ابھی ہمسایہ ملکوں سے جس میں وسطی ایشیا، افغانستان و دیگر ممالک ہیں، وہ متوقع تعاون سامنے نہیں آرہا ہے جس کی بنیاد پر پاکستان اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔
تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان میں اقلیتیوں کی قربانیوں کا ہندوستان کے عالمی تناظر میں بڑا مقام ہے۔ ہندوستان میں باوجود کہ مسلمانوں کی معاشی و سماجی زبوں حالی ، عیسائیت کی امن پسندی و دیگر اقلیتی عوام جس میں خاص طور پر جنوب میں رہنے والے کئی ایک مسلم فرقے اور عیسائی اور شمال میں رہنے والے سکھ بھارت کی معاشی و سماجی و تمدنی زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں ا ور اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ سیکولرزم کے نظریات تلے سب ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کر رہے تھے۔ مجھے یاد ہے آج بھی اکثریتی سٹیٹس میں گائے کا ذبیحہ قانونی طور پر ممنوع ہے اور یہ قانون ۱۹۵۵ سے لاگو ہے ۔ لیکن آج دانستہ اس ایشو کو اٹھایا جا رہا ہے۔ دلتوں کی بستیاں صرف اس بنیاد پر تہ تیغ کی جا رہی ہیں کہ وہ معاشی طور پر اور روائتی ہندو مت کے مطابق شودر اور نیچ ذات ہیں۔ انہیں انسانوں کی فہرست سے نکالا جا رہا ہے۔کیا ایسا ممکن ہے کہ چالیس کروڑ سے زائد دلت معاشرے کا حصہ نہ رہیں ۔
اس ضمن میں ہندوستانی ہوم منسٹر سوشیل کمار شندے نے بی۔جے۔پی اور آر ایس ایس پر براہِ راست انتہاپسندی کے الزامات بھی لگائے ہیں ۔ گو انہوں نے بعد ازاں حکومتی سطح پر دباؤ پڑنے سے اس بیان کو ٹوئسٹ دے دیا یہی وجہ ہے کہ اب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ ایک عام ہندو بھی اس انتہا پسند برہمناچاری سوچ سے بیزار نظر آتا ہے، ایشور کا متلاشی ہونا الگ بات ہے اور اس تلاش میں برہمو سماج کی بنیاد رکھنا الگ بات ہے۔ اسے ہندو دانشور بھی دیکھ و سوچ رہا ہے اور اسکی مزاحمت کر رہا ہے۔ اب تک اس انتہاپسندی کے رویوں کے خلاف ایک احتجاج کی صورت میں اب تک حکومتی سطح پر ادیبوں و شعرا کو دئے گئے چالیس سے زیادہ ادبی و حکومتی ایوارڈ صرف اس احتجاج کی نذر کر دئیے ہیں اور اس میں اردو ، بنگالی و دیگر زبانوں کے ادیب و شاعر اور دانشور شامل ہیں۔ معروف افسانہ نگار جی ایس بھلر نے اپنا ایوارڈ واپس کرتے ہوئے کہا وہ ایسا ان انتہا پسندوں قوتوں کے خلاف بطور احتجاج کر رہے ہیں جو ادب اور ثقافت کو گہنا رہے ہیں۔ اسکا واضع مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کی اکثریتی آبادی جو ان اقلیتیوں کی تعداد کا تعین بھی کرتی ہے اور لبرل و متوازن خیالات کے حامل ہندو آبادی کا احاطہ بھی کرتی ہے اس احتجاج میں ایک ساتھ کھڑی ہے۔
معاملات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ کئی ایک فلمی دنیا کے کئی ایک بڑے ہندو ہدایت کاروں مہیش بھٹ وغیرہ اور مسلمان اداکاروں نے جس میں عامر خان ، شاہ رخ خان وغیرہ شامل ہیں اس احتجاج میں بھرپور حصہ لیا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہندوستان کی پہچان ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج عالمی طور پر ہندوستان بھی اس اٹھتی ہوئی انتہاپسندی کے حوالے سے یک و تنہا کھڑا نظر آتا ہے کہ جہاں پوری دنیا انتہاپسندوں سے جنگ میں نبردآزما ہے ، ۔ عالمی قوتیں جہاں مڈل ایسٹ پاکستان و افغانستان میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش میں ہیں تو کیا آنے والے دنوں میں ہندوستان بچ پائے گا ، اس سوال کا جواب ابھی انتہا پسند ہندو سیاسی نیتاؤں کے پاس نہیں ہے کیونکہ انہیں یک طرفہ مفادات کا بہتا ہوا چشمہ تو نظر آ رہا ہے لیکن اس سے آگے کی گہری کھائیاں انکی وسعتِ نظر سے دور ہیں جس میں وہ ایک سو بیس کروڑ انسانوں کو دھکیل رہے ہیں۔
آج سے صرف ایک دھائی پہلے لگائے جانا والا اِنکریڈیبل انڈیا اور شائیننگ انڈیا کا نعرہ کیا صرف حکومتی پروپیگنڈا تھا ۔ یہ طے کرنا بھی انہی سیاسی نیتاؤں کے ہاتھ میں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس آرٹیکل کی تیاری میں مندرجہ ذیل عالمی میڈیا ، اخبارات و جرائد سے مدد لی گئی ہے۔
الف۔ بی۔بی۔سی یونائٹڈ کنگڈم
ب۔ روزنامہ جنگ لاہور، کراچی پاکستان
ج۔وال سٹریٹ جرنل ۔ نیویارک امریکہ
د۔ انٹرنیشل خبررساں ایجنسی ۔ آئی۔ این۔ پی پاکستان۔
ڈ۔ این ڈی ٹی وی انڈیا۔
نعیم بیگ
۲۴ نومبر ۲۰۱۵ لاہور پاکستان۔
جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ

No comments:
Post a Comment