Friday, December 30, 2016

مسلم لیگ (ن) کی پلی بارگین، مفاہمت والے، اور ٹوبہ ٹیک سنگھ

مفاہمت ختم، سبق سکھا دیں گے! 
میاں صاحب مودی کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں تو کشمیریوں پر کیا گزرتی ہوگی؟
ہم نے کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کی!
ایسا نہیں ہو سکتا کہ ملک تباہ ہو جائے اور میں خاموش رہوں
(آصف علی زرداری شریک چیئرمین پیپلز پارٹی)
یہ وہ جلی سرخیاں ہیں جو ملک کے سب سے بڑے اخبار نے اپنی ۲۸ دسمبر ۲۰۱۶.ء کی اشاعت میں لگائیں۔ بظاہر ان خبروں میں جس دکھ اور درد کی لہر ہے وہ قوم کا سرمایہ ہونا چاہئے۔ لیکن ایسا کیوں نہیں ہوپاتا؟ کیوں کہ ہم ابھی تک ان سیاسی نعروں سے نہیں نکل سکے؟ مسٹر زرداری خود اختیارکردہ جلا وطنی ختم کر کے وطن واپس آ چکے ہیں؛ اور ۲۷ دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی نویں برسی پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے روایتی سیاسی نعروں پر اکتفا کیا ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کی واپسی بہر صورت ایک اچھا اقدام ہے جس سے جمہوری روایات کو جن سنگین خطرات کا سامنا تھا اورہے، سے نہ صرف نجات ملنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، بلکہ خود زرداری کی متوقع گرفتاری کو پارلیمنٹ کا مضبوط سہارا مل جائے گا۔ پیپلز پارٹی نے چار مطالبات کی جو مانگ نون لیگ کو دے رکھی ہے اس پر بلاول گزشتہ کئی ایک ہفتوں سے سیاسی جلسوں میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کا کام کر رہے تھے لیکن عوامی سطح پر شنوائی نہیں ہوئی؟
شنیدن ہے کہ عمران خان کی سولو فلائیٹ بنام پانامہ لیکس پر حکمرانوں پر خوف کے جو گہرے سائے منڈلا رہے تھے اور کئی ایک محاذوں پر شکست ہونے کے خطرات کے پیشِ نظر نون لیگ نے بظاہر اپنے حریف پیپلز پارٹی کے اعلیٰ ایوانوں میں میثاقِ جمہوریت کی دہائی دی تھی۔ جس پر پیپلز پارٹی نے بھی فوری مفادات کے حصول کے پیشِ نظر چار مطالبات سامنے رکھ دیئے تھے۔ یہ وہ لمحات تھے جہاں بیک وقت کئی ایک نتائج سامنے آنے کی صورت بھی تھی۔
پی ٹی آئی کی بدقسمتی کہ فوج اور عدالتِ عظمیٰ کے چیفس آگے پیچھے اپنی ملازمت مدت پوری ہونے پر خوف کی اَن دیکھی فضا کو ہوا میں تحلیل کر گئے۔ ایسا ہوتے ہی حکمران غیر مرئی خوف سے نکل آئے۔ عمران خان کی وقتی خاموشی ( عدالت کی اگلی پیشی ) تک پیپلز پارٹی نے حکمرانوں کو اقتدار کی سولو فلائٹ سے روکنے کے لئے اپنے شریک چیرمین کی جلاوطنی کو خیر آباد کہتے ہوئے میدان میں آنے کا عندیہ دیا۔
یہاں مسّلہ یہ تھا کہ ایشوز کیا ہونگے؟ کیا مہنگائی پر عوام اٹھیں گے؟ کیا سماجی ومعاشرتی بے انصافی پر قوم کھڑی ہو سکتی ہے؟ کیا حکومت کے خلاف پانامہ اور دیگر کرپشن کیسز پر شور مچانے سے انقلاب آ سکتا ہے؟ (یہاں انقلاب سے مراد پیپلز پارٹی کی حکومت ہے)۔ ایسا کچھ نہیں تھا۔ یہ وہ ایشوز ہیں جس کا حل اب اس سماج کی سرکردہ اکائیوں کے ساتھ ساتھ لوگوں نے انفرادی طور پر خود ہی ڈھونڈ لیاہے۔
اب معاشی ضروریات کے تحت عوامی نچلی اور درمیانی سطح تک کرپشن کوئی معانی نہیں رکھتی۔ جرائم کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار، سٹریٹ کرائم اس بات کی غمازی کرتے ہیں۔ انتہائی شریف اور باکردار لوگ بھی اپنی معاشی ضروریات کو جیسے تیسے نیم کرپشن، مٹھائی کے نام پر (آپ اسے بے ایمانی اور جھوٹ کہہ سکتے ہیں) اور ٹیکس چوری سہولیات دینے کے وعدے وعید و انفرادی چوری سے حل کر لیتے ہیں۔
رہاسماجی انصاف، تو وہ اب اس معاشرے میں بے معنی ہو گیا ہے۔ عام آدمی نے صورتِ حال سے سمجھوتا کرتے ہوئے یا تو خود انتقام لینا شروع کر دیا ہے یا پھر صبر سے کام لیتے ہوئے کسی مناسب موقع پر مخالف کو زِک یا نقصان پہنچانے کا تہیہ کر لیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق روزانہ پاکستان بھر میں اندازا دس افراد خودکشی کرتے ہیں۔ عام متوسط طبقے نے عدالتوں میں جانا چھوڑ دیا ہے۔ ہاں البتہ اعلیٰ مالی و کارپوریٹ مفادات کے لئے بڑی عدالتیں حاضر ہیں جہاں پیسے کی ریل پیل سے وکلاء حضرات ، کلائنٹ دونوں خوش ہیں۔ باقی رہا پانامہ اور دیگر کرپشن، عوام نے ایک نفسیاتی سطح پر اس خیال کو تجسیم کر دیا ہے کہ جب انہیں وقت ملے گا وہ بھی ایسا ہی کریں گے۔ جب سماجی صورتِ حال اس نہج پر ہو تو کھوکھلے سیاسی نعرے کوئی معانی نہیں رکھتے۔
یہ بد عنوانی ، بد نظمی اور سماجی سطح پر انارکی کی پہلی منزل ہے جو عمومی طور پر سماج میں سرائیت کرتے ہوئے اسے ایک معاشرے میں بدلتی ہے جہاں نفیساتی سطح بے حس اور غیر انسانی اخلاقیات سے گریز معاشرہ جنم لیتا ہے۔ عمرانی علوم اور عالمی سیاسی رحجانات کے ماہرین اس بات پر متفق ہو رہے ہیں کہ دنیا کے کئی ایک نئے ممالک میں ابتدائی انارکی کی صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے جہاں اصولِ عمرانیات کے تحت حکومتیں اپنے وجود کی موجودگی میں فیل ہو چکی ہیں۔ ان میں لاطینی امریکہ کے ممالک ایشیا کے کئی ایک ممالک جن میں برما، ہندوستان ، پاکستان، فلپائن اور مڈل ایسٹ کے کچھ خلیجی ممالک ( جو فی الحال اپنی نیم سنجیدہ معاشی مستحکم قیادت کی وجہ سے محفوظ ہیں) اور یورپی ممالک میں ترکی شامل ہیں۔ انارکی میں مبتلا دوسری سٹیج میں مغربی، مشرقی اور وسطی افریقہ کے کئی ایک ممالک بشمول سومالیہ، لیبیا، شام ، عراق ، فلسطین، افغانستان وغیرہ شامل ہیں جہاں سماجی زندگی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور لاکھوں کی تعداد میں بوجہ جنگ و جدل، اور جانی و مالی عدم تحفظ لوگ ملک چھوڑ کر دربدر ہوچکے ہیں۔
پاکستان کا ایک بڑا سنجیدہ اور مخلص دانشور طبقہ ان گہرے اندیشوں سے اٹی فضا میں بگولوں کی طرح اڑتی ہوئی دھول اور ٹاپوں کی آواز سن رہا ہے، جہاں مملکت خداداد میں انارکی کی دوسری سٹیج کے برپا ہونے کی امکانات نظر آ رہے ہیں ۔ایسے میں اگر فوری طور پر ملکی ،سیاسی و حکومتی سطح پر راست اقدامات نہیں کئے گئے تو خارجہ پالیسی کی ناکامی، عالمی تنہائی ، پڑوسیوں کی چیرہ دستیوں اور معاشی انتظام و انصرام میں لئے گئے بے کار قرضوں کی واپسی اور مملک کے ٹینجیبل اثاثوں کو عالمی اداروں کے پاس رہن کر دینے سے ہم کسی بھی عالمی تادیبی کاروائی سے نہ بچ سکیں گے اور انارکی اس حد تک پھیل جائے گی جہاں سے ریاست کی واپسی ناممکن ہو جائے گی۔ ہماری سرزمین کا طرہ امتیاز ہے کہ ہم فارغ وقت میں لہو رونے اور رلانے میں یدطولٰی رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے عام انسانی فہم و ادراک کی چیزیں بھی ہماری قیادت کو نظر نہیں آتیں۔
سی پیک میں چین کی سرمایہ کاری اور روس کی شرکت کی خواہش ہماری جغرافیائی حدود میں نئے امکانات پر روشنی ڈالتی ہے۔ وقت آ چکا ہے کہ سیاسی پارٹیاں کئی ایک دھائیوں سے اٹھنے والی بدبودار اور بوسیدہ مفاہمت یا مخالفت سمیت سیاسی شعبدہ بازیوں سے باہر نکلے۔ (جس کا امکان ابھی نہیں )۔ حقیقی ایشوز پر ایماندارانہ طرزِ فکر کے ساتھ اپنے تھنک ٹینک بٹھائے، عوامی سطح پر اندرون ملک سیاسی امکانات کا جائزہ لے۔نون لیگ اگر یہ سمجھتی ہے کہ زرداری کی آمد سے وہ پلی بارگین کی پوزیشن میں آ جائے گی تو ان کے فکری و سیاسی توازن پر افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔
منافقت ، جھوٹ اور سچ کو چھپانے کی طرزِ معاشرت گزشتہ کئی دھائیوں سے ہماری قومی جڑیں کھوکھلی کر چکی ہے۔ راقم کو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ حکمرانوں سے لے کر نچلے طبقے کی عوام تک سب ان اخلاقی برائیوں میں ملوث ہیں، جس نے سماج کے حقیقی چہرے کو مسخ کر رکھا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر ہماری بات پر کوئی یقین نہیں کرتا۔ معاشرے کا چہرہ دیکھنے کے لئے حالیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا واقع چشم کُشا ہے۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً دو کروڑ سے زائد خواتین و حضرات شراب نوشی کرتے ہیں۔ جن میں ہر طبقہ فکر کے لوگ بشمول مذہبی زعماء بھی شامل ہیں ، جو اندازاً دس سے گیارہ فیصد آبادی ہے۔ جبکہ اقلیتیں موجودہ آبادی کا صرف تین فیصد ہیں۔ ان اعداد و شمار کو عالمی میڈیا بھی پرکھ چکا ہے، وال سٹریٹ جرنل کے ٹوبہ ٹیک سنگھ واقع پر طویل مضمون نے پاکستان کے گٹر سے ڈھکنا اٹھا دیا ہے۔ جس سے پوری دنیا میں پاکستان کی منافقت اور جھوٹ پر مبنی سماج کا اصلی چہرہ سامنے آیا ہے۔
ایسی صورت میں اصلی شراب پر پابندی کو ختم کرکے اس سارے معاملہ کو بجائے مذہبی قالین کے نیچے دبا دیا جائے، کسی نئے ریگولیٹری و معاشی ادارے کے حوالے کر دینے سے کم از کم دو پہلوؤں پر مثبت نتائج سامنے آئیں گے ایک تو یقینی طور پر ٹیکسیشن کا عمل فروغ پائے گا۔ غیر ملکی انفرادی ٹورزم کی ابتدا ہوگی اور دوسرے سماجی طور پر جو ہے جیسا ہے کی بنیاد رکھ دی جائے گی۔ اس عمل کے تحت درست اعداد و شمار، درست ملکی تاریخ، تعلیمی نظام کی تشکیلِ نو بھی ممکن ہے لیکن ایسا کون کرے گا؟ کیا موجودہ یا متوقع سیاسی قیادت سماجی سطح پر یہ انقلابی قدم اٹھا سکتی ہے یہ آج کا ملین ڈالر سوال ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, August 30, 2016

نعیم بیگ کی افسانوی دنیا از دیپک بدکی(اردو ادب کے معروف محقق و نقاد ، افسانہ نگار غازی آباد انڈیا )


نعیم بیگ کی افسانوی دنیا

چند روز پہلے پاکستان کے معروف افسانہ نگار نعیم بیگ نے اپنے دو افسانوں کے مجموعے، ’یو ڈیم سالا‘ اور ’پیچھا کرتی آوازیں ‘ اپنی تمامتر محبتوں کے ساتھ بھیج دیں ۔ کتابوں پر سرسری نظر جو ڈالی تو پھر چھوڑنے کو جی نہیں چاہا اور اس طرح دونوں کتابوں کو پڑھ کر ہی دم لیا۔ ان کے علاوہ انھوں نے اپنی مرتبہ کتاب ’نئی صدی کے افسانے ‘ (حصہ اول ) اور انگریزی میں دہشت گردی کے تناظر میں لکھا ہوا ناول ’کوگن پلان ‘ (Kogon Plan)بھی عنایت کی ہیں مگر ان کے بارے میں یہاں پر اپنے تاثرات درج کرنے کا محل نہیں ہے ۔ کوگن پلان سے پہلے ان کا ایک اور انگریزی ناول ’ٹرپنگ سول ‘ ۲۰۱۰ء میں شائع ہوچکا ہے ۔ ۲۰۰۸ء تا ۲۰۱۱ء تک وہ انگریزی رسالے ’ٹیکنو بز‘ (Techno biz) سے منسلک رہے ۔ تصانیف کے بارے میں بات کرنے سے پہلے کچھ نعیم بیگ کے بارے میں بتاتا چلوں ۔ موصوف اقبال کی دھرتی لاہور میں ،جو نہ صرف علم و ثقافت کی آماج گاہ ہے بلکہ تاریخی و سیاسی اہمیت بھی رکھتی ہے،مارچ ۱۹۵۲ء میں پیدا ہوئے ، گوجرانوالہ اورلاہور میں تعلیم پانے کے بعد بلوچستان یونیورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ ۱۹۷۵ء میں بنک میں ملازم ہوگئے اور وہیں پر وائس پریذیڈنٹ و ڈپٹی جنرل منیجر کے عہدے سے ریٹائر منٹ لے لی اور پھر منیجمنٹ اور فائنانس کنسلٹنسی کرنے لگے ۔علاوہ ازیں ان کا تخلیقی شعور ان کو ادب کی طرف راغب کرتا رہا جس کا ثمران کی یہ گراں بہا تخلیقات ہیں ۔ تاریخ ، ثقافت ، علم فنون اور فلسفہ میں ان کی دلچسپی ان کے تخلیقی شعور کو مہمیز کرتی رہی ہے ۔نعیم بیگ بچپن ہی سے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے رہے، پہلے والد اور پھر اپنی ملازمت کے باعث پاکستان کے طول و عرض کو ناپ لیا ، افریقہ کے پسماندہ علاقوں کو دیکھا ، یورپ کے انٹلکچول ماحول سے آشنا ہوئے اور پھر خلیجی ممالک میں پیٹرو ڈالروں کی بارش کا نظارہ کر تے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مشاہدہ بہت وسیع ہے ۔
نعیم بیگ کی تخلیقی زندگی کا آغاز ۲۰۰۹ء میں اخبار جنگ لاہور میں چھپے افسانہ ’ آخری لمحہ ‘ سے ہوا۔اپنی افسانوی زندگی کے آغاز کے بارے میں خود ہی فرماتے ہیں کہ ’’ اپنے پہلے افسانے کا انجام اور آخری چند لائنیں اگر میں یہ کہوں کہ میں نے نہیں لکھیں بلکہ میرے لاشعور نے اسے قلم کی نوک سے اُگل دیا تو سچ مانیے کہ یہ سچ ہے اور یوں میرے افسانوں کی دنیا آباد ہوئی۔‘‘مشہور جاسوسی ناول نگار ابن صفی کو بچپن میں خوب پڑھتے رہے جس کا اثر ان کی کئی کہانیوں میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔
نعیم بیگ پر جدیدیت کا اثر کہیں کہیں پر نظر آتا ہے جیسے افسانہ ’آگہی‘ تاہم ترقی پسندی ان کی رگ رگ میں سمائی ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں مقصدیت صاف جھلکتی ہے ۔ بعض اوقات یہ عینیت پسندی کی حد وں کو چھو جاتی ہے ۔ ان کا سماجی و سیاسی شعور پختہ اور دقیقہ رس ہے ۔ وہ اپنے ارد گرد زندگی کو دیکھتے ہیں اور پھر کسوٹی پر اسے پرکھتے ہیں۔ ان کے یہاں ’عالمی معیشت کا جبر‘ اور ’ہجرت کا دکھ‘ صاف طور پر نمایاں ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ انسانی ہجرت کی وجہ کبھی تقسیم ملک بنی اور کبھی مسلسل بھوک اور بے روزگاری جس کے سبب غریب ممالک سے لوگ نئے سبزہ زاروں کی جانب جوق در جوق نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔ بقول افسانہ نگار:
’’ انسان کا المیہ ایک ہی جیسا رہا ۔ صرف ظلم اپنی شکلیں بدل بدل کر لاکھوں انسانوں کو مسلسل ہجرت پر مجبور کر رہا تھا۔
کبھی وطنیت اور کبھی دھرم و مذہب کا نام لیا گیا اور اپنی جھوٹی انا ، لیکن اندر کی بورژوائی غلیظ نظام اپنی جڑیں مضبوط کرتا
رہا ۔ ‘‘
افسانوں کا مجموعہ ’ یو ڈیم سالا‘ اکتوبر ۲۰۱۳ء میں شائع ہواجس میں ۱۸ ؍ افسانے شامل ہیں ۔مجموعے کا پہلا افسانہ ’یو ڈیم سالا‘ مالی تنگدستی سے مجبور تارکین وطن اجیروں کا خلیجی آجروں کے پاس روزگار تلاشنا، فاقہ کشی کرنا اور تحت الانسانی حالات میں زندگی بسر کرنا منعکس کیا گیا ہے ۔’ آخری لمحہ ‘ میں ایک طوائف موت کو گلے لگاتی ہے جب اس کا عاشق دولت کی لالچ میں اسے دھوکا دیتا ہے مگر عاشق کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیتی ہے جبکہ بالے دلال کو، جو اس کو دل سے چاہتا ہے ، اپنے نزعی بیان میں سریحاً بچاتی ہے ۔’آگہی ‘ میں جدید اسلوب اپنایا گیا ہے جس میں ایک استادجب حقیقت سے روبرو ہوتا ہے تو اس کو اپنے خون پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور اس کے خواب ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں ۔افسانہ ’ستار بھائی ‘ دہشت گردی پر لکھا گیا فکر انگیز افسانہ ہے جس میں لالچ میں آکر اخبار کا ہاکر ستار بھائی پہلے تو بچوں کے سکول میں بم رکھنے کے لیے راضی ہوتا ہے مگر ضمیر کے کچوکنے پر واپس آکر اسی گیراج کو اڑا دیتا ہے جس کے مالک نے یہ کام سونپا ہوتا ہے۔ ’فطرت‘ کہانی ہے ایک ہوس پرست ریٹائرڈ بزرگ کی جو نفسیاتی معالجۂ قدر شناسی (apreciation therapy) کے طلسم میں آکر اپنی نوکرانی کو زیر کرنے کا موقع کھو دیتا ہے ۔ افسانہ ’اپنی مٹی ‘ میں امبرین نکلتی تو ہے اپنے خاوندکے قاتل کو مارنے کے لیے لیکن جب قتالہ کی روداد خاص کر پولیس کی زیادتیوں کے بارے میں سنتی ہے تو غصے کو تھوک کر اسے گلے لگاتی ہے ، اس کو اپنا بیٹا سونپتی ہے اور اس کی بیٹی کو ڈاکٹری کی تعلیم دینے کا وعدہ کرتی ہے ۔افسانہ ’پیلا اسکول ‘ میں افسانہ نگار نے نہ صرف جدید تکنالوجی کو تعلیم کا جزو بنانے کی حمایت کی ہے بلکہ یہ باور کرایا ہے کہ اگر اسکول احاطے میں آندھی کے وقت کسی کے پاس موبائیل ہوتا تو اتنا جان و مال کا نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔مزید انھوں نے اسکولوں میں معلمی تشدد کے خلاف بھی اشارہ کیا ہے ۔’ریزہ چین ‘ کہانی ہے ایک فقیر صفت رابن ہڈ کی جو ایک امیر کو بنک سے نکلتے وقت اللہ کے نام پر پچاس ہزار روپئے غریبوں میں بانٹنے کے لیے چھین لیتا ہے ۔افسانہ’محبت آشنا‘ میں ایک سٹرگلر (struggler) معاشی تنگدستی کے سبب اپنی محبوبہ کو نہیں پاسکتا ہے مگر مرتے دم اس کے نام کروڑوں کی جائیداد چھوڑ جاتا ہے ۔افسانہ’ راج دوت‘ میں اکرام الدین قید سے تو چھوٹ جاتا ہے مگر اپنی کھوئی ہوئی ماں کی ممتا اور بھوک سے پھر بھی نڈھال رہتا ہے ۔ ’خوشی ‘ میں موجودہ معاشرے کی بے اعتنائیوں کا حوالہ دیا گیا ہے کہ کبھی کبھی جرائم پیشہ، وہ چاہے عورت ہی کیوں نہ ہو، بھیس بدل کر ہمدردی کے خواستگار بن جاتے ہیں اور پھر آپ کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ایسی ہی ایک مشہور ہندی کہانی ’ہار کی جیت ‘ بچپن میں پڑھی تھی جس نے ذہن پر مستقل چھاپ چھوڑ رکھی ہے ۔ ’مارشل لاء‘ جذباتیت سے بھر پور ایک لکچرر کے دل کی بھڑاس ہے جو مارشل لاء کے خلاف آواز تو اٹھاتا ہے مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتاہے ؟’جلتے فرشتے ‘ جذباتی افسانہ ہے جس میں ایک استانی معصوم بچوں کو جلتا دیکھ کر اپنی جان پر کھیل کر ان کو بچانے کی کوشش کرتی ہے ۔مذکورہ افسانوں کے علاوہ ’کوئل کا خط‘ ، ’بجلی اور شاہ جی‘،’ بم،بم‘ اور’ الٹی گنگا ‘کے عنوان سے چار دلچسپ انشائیے بھی شامل ہیں ۔
افسانہ نگار کا دوسرا مجموعہ ’ پیچھا کرتی آوازیں ‘ ۲۰۱۶ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں بھی ۱۸؍ افسانے شامل ہیں ۔ پہلے مجموعے میں جہاں افسانہ نگار کی جہاں گردی اپنے نقش مرتسم کر تی ہے وہیں دوسرے مجموعے میں انسانی بہیمیت ، درندگی اورسماجی و سیاسی عفریت ان کے ذہن میں چیخ و پکار بن کر ابھرتی ہے ۔چنانچہ فرماتے ہیں :
’’ انھی حقیقتوں کا ادراک کرتے ہوئے خاکسار نے نفرت ساز فیکٹریوں اور ان کے عقائد و نظریات کے آگے اپنے
قلم سے پل باندھنے کی کوشش کی ہے ۔ اپنے افسانوں سے منافرت کے مقابلے میں محبت و آشتی ، حقیقی جمہوری
قدروں سے آشنا ، اپنے زمینی تناظرے سے جڑے المیوں اور مسائل کو زبان دی ہے ۔‘‘
پہلا افسانہ ’لکڑی کی دیوار ‘ بہت ہی اثر انگیز اور جذباتی افسانہ ہے جس میں ایک چرچ کے فادر کے سامنے ایک آدمی اعتراف کرتا ہے کہ اس کے کہنے پر اس کی محبوبہ نے شادی سے پہلے ہی اس کا بچہ پیدا کرکے خود کشی کی اور وہ اب سماجی جبر کے تحت اس بچے کو پالتا ہے مگر اسے بیٹا نہیں کہہ پاتا۔ پادری جب یہ اعتراف سنتا ہے، پشیماں ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے سامنے جو آدمی بول رہا ہوتا ہے ، خود اس کا بیٹا ہوتا ہے جو ایسے ہی حالات میں پیدا ہوا تھا مگر وہ اب تک اس حقیقت سے لاعلم ہے ۔ ’باونڈری لائن ‘ سعادت حسن منٹو کی کہانی ’ٹیٹوال کا کتا ‘ سے تحریک پاکر لکھا گیا افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ اس میں ایک کتیا انسان دشمنی اور تناؤ کا شکار ہوجاتی ہے جب کہ اس کے دو پِلّے بچ جاتے ہیں ۔ اس فضول کی خونریزی کو دیکھ کر دونوں طرف کے سپاہی آپس میں پلّوں کو بانٹ کر ان کو پالتے ہیں اور خود بھی امن بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ افسانہ جہاں تخیل کی اُپج ہے وہیں واقعیت سے بہت دور ہے۔افسانہ ’تسخیر ‘ بہت ہی استدلالی اور عقلیت پسند افسانہ ہے جس میں ایک ڈاکٹر کی مریض کو بچانے کی آخر دم تک کوشش ہے جو اس فقرے میں مضمر ہے:
’’ ہمارے پاس بات کرنے کے لیے دو کسوٹیاں ہر وقت حاضر ہیں ۔ ایک منطق اور عقلی دلائل ۔ دوسرے یقین کی آخری
حد تک ایمان ۔ دونوں کے حوالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کو اختیار کے ساتھ علم کی وسعت کی تہہ در تہہ تسخیر کی
اجازت ہے ، چاہے اس میں قدرت کے وہ اصول بھی آشکار ہوجائیں جن سے ہمارے موجودہ مذہبی تہذیب کے
ٹھیکیداروں نے اپنے تئیں منع فرما رکھا ہے ۔ کیا اس ممانعت کی کہیں ....کسی جگہ نشاندہی ہے کیا ؟..... مجھے معلوم ہے
کہ کہیں نہیں ہے ...آپ چاہے کسی بھی فہم و ادراک پہ مبنی فلسفہ یا مذہبی عقائد کی بنیاد پر کوئی کتاب سامنے لے آئیں یہ
لکھا نہیں ملے گا۔ جستجو اور تسخیر کی واضح علامتیں اور ہدایات ہیں ۔ ‘‘
’ڈیپار چر لاؤنج‘ ایک اور فکر انگیز افسانہ ہے جو ایک جانب انسانی خواہشوں اور آرزوؤں کی حدیں کھینچنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف مشرقی سسٹم پر طنز کرتا ہے جہاں وقت کی پابندی کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا۔ ’ہوُک ‘ایک پڑھی لکھی ڈاکٹر لڑکی کی فرمانبرداری کی داستان ہے جو اس کو بہت بھاری پڑتی ہے ۔’آہٹ‘ میں شادی کے لیے والدہ کی ناقابل قبول شرطیں بیان کی گئی ہیں ۔ ’چھتّا‘ ایک گھر کے افراد کی شہادت کی کہانی ہے کہ کمانڈر کو مجبوراً خانو کو اپنے ماں کی دیکھ بھال کے لیے فوج سے رخصت کرنا پڑتا ہے ۔’زرد پتّے ‘ ایک کال گرل کی کہانی ہے جس کی مجبوریوں کی داستاں سن کر راوی اس کی ہوٹل بل چکتا کرتا ہے ۔’حلف‘ ایک کیس میں پھنسی مجرمہ کی کہانی ہے جو اپنا جرم قبول تو کرتی ہے مگر اس کا بھولا بچھڑا عاشق سارا الزام اپنے سر پر لیتا ہے ۔ یہ افسانہ کم ہندوستانی فلموں کی مانند میلو ڈرامہ زیادہ لگتا ہے ۔ مجموعے کا حاصل افسانہ ’جہاز کب آئیں گے ‘ مسلسل دہشت گردی اور سرکاری جبر و استبداد کے باعث ہجرت پر مجبور ہوئے لوگوں کی کہانی ہے جس میں بھوک سے نڈھال ایک معصوم، یتیم اور ناقص نمو ذہن لڑکی کو جہاز کا انتظار رہتا ہے کیونکہ اس نے سنا ہے کہ جہاز آسمان سے کھانے کے لیے خوراک کے پیکٹ پھینکتے ہیں ۔’ خط استوا‘ مخلصی موت euthanasia) ( پر مبنی کہانی ہے ۔دہشت گردی کے تناظر میں لکھا گیا افسانہ’ آخری معرکہ ‘ میں ایک ایریا کمانڈر اپنے ہی بھائی کو موت کے گھاٹ اتارنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ’پیچھا کرتی ہوئی آوازیں ‘ زخم خوردہ عورت کی نفسیات کو اجاگر کرتا ہے۔ افسانہ’نیا سماج‘ میں افسانہ نگار نے تبلیغی انداز اپنا کر ترقی کے تاریک پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے ۔’گھاؤ‘ میں ایک شہری لڑکی گاؤں کے معصوم وکیل کو اپنے جال میں پھنساتی ہے ۔ ’جنگل کی گرفت‘ پر اسرار کہانی ہے جبکہ ’سائے کے پیچھے‘ نفسیاتی اور اسراری کہانی ہے جس میں ایک عورت تنہائی کے سبب اپنی ذہنی توازن کھو بیٹھتی ہے ۔آخری افسانہ’اپنے’’ مہین‘‘ خان‘ ایک خود پسند شیخی باز شاعر کی روداد ہے ۔
مذکورہ بالا افسانوں کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ افسانہ نگار کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ عمیق ہے ۔ ان کے یہاں موضوعات کی بوقلمونی نظر آتی ہے اور وہ حقیقت پسندی کے بہت قریب ہیں ۔ نعیم بیگ نہ صرف ذات کی باتیں کرتے ہیں بلکہ سماج پر اکثر انگلیاں اٹھاتے ہیں ۔ انھوں نے موجودہ معاشرے کو کھنگالاہے اور اس کی بدعنوانیوں سے نبرد آزما ہیں ۔ افسانہ نگار جہاں ایک جانب عشق و محبت ، ہوس پرستی ، خود غرضی ، جرائم ، اور انسانی ہمدردی پر اپنا قلم اٹھاتے ہیں وہیں دوسری جانب دہشت گردی ، پولیس کی زیادتیوں، فوجی استبداد، معاشی تنگدستی ، ذہنی انخلا (Brian drain) ،سائنسی سوچ و فکر ، قدامت پرستی اور موڈرن سائنسی معلومات کے تصادم اور انسانیت کے تقاضوں کو اپنے افسانوں کا موضوع بناتے ہیں۔ دہشت گردی پر لکھا ہوا افسانہ ’ستار بھائی‘ موجودہ دور کا المیہ بن کر سامنے آتاہے ۔جیسا کہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں ان کے کئی افسانوں میں ابنِ صفی کی چھاپ ملتی ہے ۔
نعیم بیگ کے ہاں منظر نگاری کی بہت اچھی مثالیں ملتی ہیں وہ چاہے دبئی کے پام ڈیرہ بیچ پر ڈھلتے سورج کا سماں ہو یا چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن ’آبِ گم ‘ کا بیاں ہو یا پھر پیلے سکول کا خستگی کی روداد ہو۔ کئی افسانوں کی شروعات انھوں نے منظر نگاری ہی سے کی ہے جیسے باونڈری لائن، ہُوک ، چھتّا ، زرد پتّے،حلف،خطِ استوا، البتہ کہیں کہیں براہ راست مکالمے سے بھی افسانے کی ابتدا کی ہے جیسے تسخیر ، آہٹ۔ جہاں تک کردار نگاری کا سوال ہے ان نے چند کردار قاری کے ذہن پر نقش ہو جاتے ہیں جیسے مشتری بائی، بالے ، بلوچ خان ،ڈاکٹر امبر، بدرالدین وغیرہ۔ ان کی کردار نگاری کے بارے میں ڈاکٹر افشاں ملک دوسرے مجموعے میں مشمول مضمون ’ذات کی تلاش‘ میں فرماتی ہیں :
’’ ان کے افسانوں کے کرداروں میں آج کا وہ انسان نظر آتا ہے جو حقیقت کی سنگلاخ زمین پر کھڑا ہے ، جس کے مسائل
ختم نہیں ہوئے بلکہ بدل گئے ہیں ۔ ان کا کردار تلاش معاش میں ہجرت کے کرب جھیلتا ہے ، رشتوں کے درک جانے
کے دکھ اٹھاتا ہے ۔ کبھی ذات کی تلاش میں سرگرداں تو کبھی بھیڑ میں تنہا ہوجانے کا احساس ، کبھی تنہائی کے شور سے خوفزدہ
ہوجانا تو کبھی نا آسودہ فطری خواہشوں کے جبر سہنا اس کا مقدر ہے ۔‘‘
نعیم بیگ نے بیانیہ کا خوب استعمال کیا ہے اور بوجھل علامتوں اور استعاروں سے گریز کیا ہے ۔ان کی زبان سلیس اور شگفتہ ہے البتہ انگریزی الفاظ کا کثرت سے استعمال ہوا ہے حالانکہ ان الفاظ کے متبادل اردو میں موجود ہیں جیسے کلائنٹ( گراہک )، ٹرانزیکشن ( لین دین)۔ عام قارئین کے لیے یہ مشکلیں پیدا کر تا ہے ۔ کتاب کی کمپوزنگ میں چند غلطیاں در آئی ہیں ۔کچھ الفاظ کا املا غلط ہے یا پھر لفظ ہی غلط استعمال ہوا ہے ، مثلاً انجیسڈ(؟)،بیب (بیپ) ،پسٹل (پستول) وغیرہ۔
دونوں مجموعوں میں سے قابل غور چند اقتباسات ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:
*’’تنہائی اگر اپنے ساتھ مواقع لائے تو انسان اندر سے بے چین ہوکر فطری تقاضے پورے کرنے کو ایک تئیں عین
عبادت سمجھ بیٹھتا ہے اور پھر نئے راستے پر چل نکلتا ہے ۔‘‘( فطرت)
*’’ دیکھو ہمارا کام اپنے علم کی طاقت پر انسان کو آخری لمحہ تک زندہ رکھنا ہوتا ہے ۔‘‘ (تسخیر )
*’’ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ اب اس علاقے کے کئی ایک حکومتی محکمے اپنی روایتی نالائقی اور لالچ کی وجہ
سے دہشت گردتحریک کی در پردہ حمایت کر رہے تھے۔ ‘‘(چھتّا)
*’’انسان موت کو سامنے دیکھ کر بھی زندگی کی دعا کرتا ہے ۔‘‘(خطِ استوا)
*’’ہم سب کی زندگی نئی تہذیب کے ساتھ بندھ کر مشینی اندازمیں ڈھل چکی ہے ۔ فطرت سے دوری نے ہمیں اپنے
آپ سے بھی دور کر دیا ہے ۔ مشینوں کے ساتھ زندگی گزارنے میں یہی ایک مسئلہ ہے کہ انسان خود بھی اسی ذہن کا
عادی ہوجاتا ہے اور روبوٹ کی طرح زندگی گزارنا شروع کر دیتا ہے ۔‘‘ (نیا سماج)
نعیم بیگ کی مرتبہ کتاب ’نئی صدی کے افسانے ‘ ان کی ادارتی صلاحیتوں کا پتہ دیتی ہے ۔ پروگریسیو اردو رائٹرس گلڈ کی جانب سے شائع شدہ یہ کتاب موجودہ دور کے افسانوی منظر نامے کا بولتا ہوا کارنامہ ہے ۔ مجھے اس کتاب کے تعارفی ابواب نعیم بیگ کا ’نئی صدی اور اس کے تقاضے ‘ اور فرخ ندیم کا ’ نئی صدی کی افسانوی ثقافت ‘ بہت ہی پسند آئے کیونکہ ان میں نہ صرف موجودہ دور کا افسانوی تناظر پیش کیا گیا ہے بلکہ چنندہ افسانوں کا مختصراً جائزہ بھی لیا گیاہے ۔ مجموعے کے اکثر و بیشتر افسانے بہت ہی فکر انگیز ہیں ۔ یہاں میں ترقی پسندی کے بارے میں چند تاثرات پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ بیسویں صدی کے اوائل سے ہم ترقی پسندی کی آڑ میں غربت اور بے روزگاری کا رونا روتے آئے ہیں ، سرمایہ دارانہ نظام کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے رہیں ہیں جب کہ بیشتر ترقی پسند قلم کار سرمائے کی دھوپ کو اوڑھ کر ترقیاں کرتے رہے اور اپنا مستقبل محفوظ کرتے رہے ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ غر بت کی اصل وجہ کو ہم بیان کرنے سے کتراتے ہیں ۔ ایک غریب کنبہ بچہ پیدا کرنے کی مشین بن چکا ہے ، کچھ جرائم کی نذر ہوجاتے ہیں اور کچھ دہشت گردی کی بھٹّی کا ایندھن بن جاتے ہیں ۔ اس بارے میں کوئی قلم نہیں اٹھاتا ہے کیونکہ اس میں سستی شہرت نہیں ملتی ۔ عوام کے لیے کنبہ کی حد بندی، سائنسی تعلیم ،صحت و تندرستی کا خیال اور اپنے ماحول کی حفاظت کرنا اشد ضروری ہے تب ہی اس زمین سے غربت اور جرائم کم ہو سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ اس پس منظر میں موجودہ ترقی پسندوں کو اپنے دروں کو کھنگالنا پڑے گا اور اپنے سوچ 
و فکر کو نئی راہ پر ڈالنا پڑے گا۔
*****
Deepak Budki, A-102, S G Impression, Sector 4-B, Vasundhra, Ghaziabad(India) 201012. Mob

 +919868271199 PIN-

Saturday, August 13, 2016

دیدبان ، ایک لمحہِ موج خیز


دیدبان ، ایک لمحہِ موج خیز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمیں کے ٹوٹے ہوئے آخری کنارے تک
میں اُس کے ساتھ چلوں گا نئے ستارے تک (بیرم غوری)

سوشل میڈیا ،فیس بک اور انٹرنیٹ کی دنیا بھی عجیب و غریب اور محیر العقول ہے ، معاشرتی شعور میں جہاں وقت کے نئے تقاضوں نے نِت نئے ابواب لکھے، وہیں انسانی نفسیات میں ایک نمایاں تبدیلی آئی۔ سوشل انیمل ہونے کے ناتے کراس بارڈر، ہر نسل و رنگ کے انسان پھولوں کی کلیاں اٹھائے امن و محبت کی نئی تہذیبی و تمدنی آشنائی کا سبب بنے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں سانجھے کا سودا ہوا۔ اطلاعات لمحہ بہ لمحہ ترسیل ہوئیں ۔ عالمگیری سطح پر نئے فکری افق دریافت ہوئے ، موضوعات پُر اثر اور متنوع ہوئے۔ سیٹلائٹ نے زمینی اور کائناتی مخفی گوشوں کو یک جا کر دیا۔ یہ ایک ایسا انقلاب تھا جس نے دنیا بھر میں امن و محبت کے پیغام کو جس تیزی کے ساتھ مہمیز دی وہ ناقابلِ تسخیر نئے عالمی معاشرے کی ابتداء ثابت ہوا۔
ایسے میں ادب ا ور نئے نظریات کی جو فلسفیانہ تشریحات بیسویں صدی میں یورپ سے اٹھیں وہ لمحوں میں تقسیم ہوتی تیسری دنیا کے مملکتوں کے باسیوں تک آن پہنچیں۔ اردو برصغیر کی ایک مکمل تہذیب ہونے کے سبب اپنے اندر اس قدر وسعت اور جہان آباد رکھتی ہے کہ اس نے جہاں عالمی ادبی اور فلسفیانہ نظریات کو اپنے اندر سمویا، وہیں فکری سطح پر اِن سرگوشیوں کو بھی جگہ دی جو ادب میں فنِ لطیف کا درجہ رکھتی تھیں۔ یوں اردو ادب میں نئی نسل نے ترقی پسندی کے رحجانات سے آگے بڑھ کر جدید رحجانات سے مزیں امکانات کا جائزہ لیا ، اور اپنی تخلیقات مین نئے تجربات سے قاری کو آشنا کیا ۔ایسے میں ایک مثبت کام یہ ہوا کہ انٹرنیٹ پر اردو ادب کے بلاگز اور ادبی فورمز نے ان نوجوانوں کو پرنٹ میڈیا سے ہٹ کر نئی دنیا آباد کرتے ہوئے نئی پہچان دی۔
اردو زبان اپنے مزاج میں جہاں فارسی ، عربی اور ہندی کے حسین امتزاج کا مُرقّع ہے، وہیں اسکی نشونما میں ترقی پسندی اور جدیدیت نے نئے خون کو انجیکٹ کیا، نئے امکانات کا دریچہ وا کیا،رجعت پسندی کو بزورِ قلم پرے دھکیلتے ہوئے دیگر عالمی زبانوں کے ادب کی آمد کو اپنی ارتقائی جسامت کا جزولاینفک بنایا۔ ایسے میں اکسیویں صدی کے ابتداء ہی سے پرنٹ میڈیا میں اردو ادبی جرائد اپنے حصے کی شمع جلاتے رہے۔ تاہم انٹرنیٹ کی دنیا میں سوشل میڈیا ہی واحد سہارا بنا۔ اس سے پہلے آن لائن کئی ایک بلاگ وجود میں آئے جس میں’ ریختہ‘ سرِ فہرست ہے تاہم اب چند برسوں سے فیس بک پر کچھ ادبی فورمز کے سجے چمنستان میںیہ خود رُو بلاگز اردو ادب کی خدمت میں درپیش مسائل کا ادراک تو رکھتے تھے لیکن رفتہ رفتہ صرف نئے لکھنے والوں کی بے جاء حوصلہ افزائی میں یک طرفہ کردار ادا کرنے لگے۔جس سے نئے لکھنے والوں کی ایک بڑی اکثریت خودنمائی و نرگسیت کا شکار اور تنقید سے بالاتر ہوکر جمالیاتی اور ادبی لطافت سے قدرے دور ہو گئی۔ چنانچہ ان ادبی جرائد و فورمز اور بیسیوں آن لائن بلاگز کی کہکشاں میں ابھرتے ہوئے عالمی ادبی و ثقافتی رحجانات اپنی نئی دنیا بسانے کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے اپنی تعبیر کی تلاش میں رہے۔
ایسے میں انٹرنیٹ کی دنیا میں کسی ایسے آن لائن جریدے کی اشد ضرورت تھی جو صنفی طور پر نثر کو فوقیت دے اور تنقید کے میدان میں نئے امکانات اور رحجانات کی دنیا آباد کرے۔ تب ’’ دیدبان ‘‘ کے جنم لینے کی نوید آئی۔ سوشل اور پرنٹ میڈیا پر جانی پہچانی والی تین معروف ادیباؤں ڈاکٹر نسترن فتیحی ( علی گڑھ انڈیا)، سبین علی ( جدہ سعودی عریبیہ) اور سلمیٰ جیلانی ( نیوزی لینڈ ) راقم کی دلی مبارک باد کی مستحق ہیں جنہوں نے انٹرنیٹ کے ناگفتہ بہ ادبی حالات میں اردو ادب کی ترقی و ترویج کا بیڑا اٹھایا اور دیدبان کے راستے نہ صرف نئے ادباٗ و شعرا کو جگہ دی بلکہ اساتذہ کے ملفوظات اور تخلیقی محرکات کو قارئین تک پہچانے کی مشترکہ کوشش کو کامیاب بنایا۔ متذکرہ بالا تینوں خواتین کا عالمی ادب ، اردو ادب اور تنقید میں پہلے ہی کافی کام عالمی قارئین سامنے آ چکا ہے، لہذا یقین واثق ہے کہ انکی علمی و فکری جستجو ’ دیدبان‘ کے آنے والے شماروں میں نئی جہات کو منظر ائے گی۔ ۔ خاصے کی بات یہ ہے کہ تینوں خواتین اپنے الگ الگ فطری رحجانات میں یونیک حیثیت کی مالکہ ہیں، نسترن فتیحی کا میدان اگر تنقید ہے ( انکی حالیہ تنقیدی کتاب نے ’ ایکو فیمینزم ‘ نے عالمی شہرت پائی ہے) تو سبین علی تخلیق کے میدان میں ’ کتن والی ‘ جیسے معرکۃ الآراء افسانے کو جنم دے چکی ہیں۔ سلمیٰ جیلانی گو اپنے تخلیقی جوہر میں یکتا ہے لیکن راقم کے ذاتی خیال میں وہ ترجمہ جیسی مشکل اور ٹیکنیکل صنف میں نمایاں کامیابی کے حامل عالمی کام نہ صرف کر چکی ہیں بلکہ مزید کریں گی۔
گواب تک ’ دیدبان‘ کا پہلا شمارہ اپنے پورے ادبی حسن کے ساتھ جلوہ گر ہے تاہم راقم سمیت قارئین اس آن لائن بلاگ ( جریدے) کی عمودی اور افقی سطح کو آسمانِ اردو ادب پر کہیں بلند دیکھنے کے متمنی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ
لاہور پاکستان مورخہ ۱۲۔ اگست ۲۰۱۶ء

Tuesday, June 14, 2016

مقدس سلطنت

مقدس سلطنت






(تین ایکٹ شارٹ پلے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایکٹ۔۱
پردہ اٹھتا ہے۔
( دارلحکومت میں بادشاہ کا موتی محل اور معمول کی درباری شام )
جگمگ کرتے وسیع و عریض ہال کے چکنے اور چمکدار فرش پر ایرانی و ترکی ریشمی سلکی قالین بچھے ہوئے ہیں ۔ سامنے ایک بڑے خوبصورت اسٹیج پر مخملی کرسی نما تخت پر بادشاہ گاؤ تکیے پر نیم دراز فروکش ہے۔ بادشاہ کے تخت کے پس منظر میں جنگی و فطری مناظر میں جنگی جانوروں کی بڑی بڑی قدآور تصاویر نظر آ رہی ہیں ۔ جس میں شیر ، گھوڑے اور گائے نمایاں ہیں ۔ شیر اور گائے کی گردنوں میں پھولوں کے ہار ڈالے ہوئے ہیں ۔
بادشاہ کے عین پیچھے دائیں اور بائیں بڑے بڑے گلدان پھولوں سے سجے بہار کی آمد کی نوید دے رہے ہیں۔ سامنے مستطیل تپائی پر مختلف انواع کے پھولوں کے گلدستے سجے ہوئے ہیں ۔ان کے ساتھ ہی خشک میوے اور مشروبات رکھے ہیں۔ اسکے دونوں اطراف میں (یو شیپ) مخملی کرسیوں پر وزیر اور اربابِ اختیارِ مملکت اور سرکاری افسران بیٹھے ہیں۔ دربار میں کاروبارِ سلطنت و مملکت پر گفتگو ہو رہی ہے۔
دربان اندر آکر کورنش بجا لاتے ہوئے بادشاہ سے مخاطب ہوتا ہے۔ ’’ ظلِ سبحانی صحافی باریابی کی اجازت چاہتا ہے۔‘‘
’’ پیش ہو۔ ‘‘ بادشاہ خوشدلی سے ہاتھ اٹھا کر اجازت دیتا ہے ۔
’’خوب۔۔۔ بہت خوب ۔۔۔ظلِ سبحانی کا اقبال بلند ہو۔‘‘ تالیاں بجاتے ہوئے منہ چڑھا صحافی دربار میں حاضر ہوتے ہوئے بادشاہ کے سامنے تین بار کورنش بجا لاتا ہے۔
صحافی: ’’ یہ رہی وہ شاندار اور الوہی مہا ذہانت جو سچائی کے پردوں کو چاک کرتی ہے ۔‘‘ وہ بادشاہ کی مدح سرائی کرتا ہے ، اور آداب بجا لاتے ہوئے مسلسل ہاتھ سر تک لے جاتا ہے۔
(حالانکہ صحافی بادشاہ کی کہی ہوئی کوئی بات بھی سن نہ پایا تھا ، جو اِ س نے چند لمحے پہلے کہی تھی)
میڈیا وزیر : ’’لیکن۔۔۔ میرے ساتھیو !یہ یاد رکھو۔ میرا کہا ہوا ہمیشہ درست ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ میں ظلِ سبحانی کے حکم پر عوام کو انہی کے کہے لفظوں سے متاثر کرتا ہوں ۔‘‘
یہ کہتے ہوئے وزیرِ میڈیا بادشاہ کے سامنے کورنش بجا لاتے ہوئے احتجاج کے انداز میں صحافی کو دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ اوپر اٹھا لیتا ہے۔
بادشاہ سر کی جنبش سے تائید کرتا ہے۔ درباری حیران ہیں کہ تائید کس کی ہوئی ہے۔
اسی اثنا میں اقوامِ متحدہ میں بادشاہ کی طرف سے مقرر کردہ دراز قد سفیر قدموں تک سبز گاؤں پہنے اور سر پر اپنی ٹوپی میں مور کا ایک پر لگائے بادشاہ کی طرف ڈانس کرنے کے انداز میں قدم بڑھاتا ہوا نپی تلی آواز میں کہتا ہے۔
’’ مائی لارڈ شپ ۔۔۔ (کورنش بجا لاتے ہوئے ) میرے آقا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس وقت سلطنت میں لمبی داڑھی اور ٹخنوں سے اوپر شلوار اٹھائے دشمن اپنے چہروں پر نقاب اوڑھے ایک بھیانک جال بچھا رہے ہیں۔ پوری دنیا اس کی دھائی دے رہی ہے۔‘‘
بادشاہ : (دربار کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ کو حرکت میں لاتے ہوئے پوچھتا ہے ) کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ لوگ کون ہیں ۔ کیا ہم نے انکی سرپرستی کبھی کی؟
دربار خاموش رہتا ہے۔ ایک منہ چڑھا قصیدہ خوان کسی طرف سے نکلتا ہے اور کورنش بجا لاتے ہوئے کہتا ہے۔۔۔۔
’’میرے آقا! حضور فیضِ گنجور! آپ شہنشاہِ فیضانِ صحبت ہیں۔ آپکے عوامی اور انسانی خدمات کے چشمے جو یہاں پھوٹ رہے ہیں وہ ان سے نہ صرف خائف ہیں بلکہ جو عزت و احترام آپکو عوام میں مل رہا ہے وہ اس سے معاشی و سیاسی اندیشوں میں مبتلاہیں۔اسی لئے انہوں نے اب سرحدی جھڑپیں شروع کر دی ہیں اور شہروں میں سما رہے ہیں۔ تاکہ اپنے عقائد کے بل بوتے پر وہ لوگوں کو گمراہ کر سکیں۔ ‘‘

یہ سن کربادشاہ اپنے سنہرے اور گداز تخت سے اٹھتا ہے اور اپنے دربار میں چاروں طرف گہری نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس نے شاہی لباس پہنا ہوتا ہے جس میں اسکے تمام فوجی میڈل بھی سینے پر آویزاں ہوتے ہیں۔ گلے میں سُچے موتیوں کی مالائیں اور سر پر سنہرا تاج پہنا ہوتا ہے۔
ٓایک کونے سے اونچی آواز آتی ہے ۔۔۔’’ سب کھڑے ہو جائیں۔‘‘
سارا دربار حکم بجا لاتے ہوئے کھڑا ہو جاتا ہے۔ بادشاہ کے کھڑے ہوتے ہی دربار میں چاروں طرف چھت سے لٹکے سنہری روشنیوں کے فانوس جل اٹھتے ہیں۔ دیواروں پر لٹکی بڑی بڑی تصویروں پر سرخ سپاٹ لائٹ روشن ہو جاتی ہیں۔ جس سے ان تصویروں میں دوڑتے ہوئے گھڑ سوار غیر محسوس طریقے سے آگے بڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور پورے دربار میں گھوڑوں کی ہنہنانے کی مدہم آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔
بادشاہ اپنی گرجدار آواز میں پورے دربار سے مخاطب ہوتا ہے۔
’’ میرے ہم وطنواور ساتھیو ۔۔۔ میں آپ سب کے جذبات و احساسات کو سمجھتا ہوں چونکہ آپ ریاست کے ساتھ ساتھ ، اسکے عوام اور میرے ساتھ وفادار ہیں ۔ مجھے آپ سب پر فخر ہے ۔‘‘
’’لیکن آپ کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جب میں ایک دفعہ کھڑا ہو جاؤں تو پھر ساری قوم کا میرے پیچھے متحد ہوکرکھڑا ہونا لازم ہے ۔ ‘‘
’’ میں اپنی تلوار کی قسم کھا کر کہتا ہوں ( وہ اپنے دائیں جانب دیوار پر لٹکی تلوار کو دیکھتا ہے)۔ اسکا ایک ہاتھ اپنے بغلی ہولسٹر پر ہوتا ہے۔ میں کسی دوسرے ملک ، یا انکے ایجنٹوں کو اپنے ملکی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے سکتا اور نہ ہی کسی ملک کو اپنی سرحدوں کے اندر داخل ہونے کی اجازت دونگا۔‘‘
’’ خدا ئے برتر و اعلیٰ کی مقدس خواہش ہے اس آڑے وقت میں ریاست کو بچانے کے لئے مملکت کے لوگ قربانی دیں اور میں آج اس معزز ایوان اور دربار میں بڑے فخر سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ یہ لازوال قربانی اس ملک کے ذی شان شاہی خاندان اور ارباب اختیار و اقتدار سے شروع ہو گی۔‘‘
تالیوں ، شوخ سیٹیوں اور زندہ باد کے نعروں کے شور میں ہز ہائی نس کنگ ماجن اپنے چغہ کو سنبھالتے ہوئے چبوترے سے نیچے اترتا ہے۔
بادشاہ کے نیچے آجانے سے چاروں طرف سر جھک رہے ہوتے ہیں، تائیدی نظروں سے بادشاہ کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ ظلِ سبحانی
ہلکے قدموں سے اپنے وزراء اور سرکاری افسروں سے فرداً فرداً مصافحہ کرتا ہے ۔ کچھ لوگ کنگ ماجن کے ہاتھ چومتے ہیں جو اس تاریخی اعلان سننے کے واسطے یہاں جمع ہوئے تھے۔
کنگ ماجن ہاتھ کے اشارے سے سبھی مہمانوں کو دربار کے ایک کونے میں لگے ایشیائی، یورپی اور کانٹی ننٹل ڈشز سے سجے شاندار بھاپ اٹھتے بوفے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس اثنا میں شاہی ویٹر ہاتھ میں طشتریاں لئے مہمانوں میں مختلف انواع کے مشروب تقسیم کرنے لگتے ہیں۔
پردہ گرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایکٹ۔۲
پردہ اٹھتا ہے۔
دارلحکومت کی ایک گلی میں بوسیدہ مکان میں شام کا ایک منظر۔ کمرے میں ایک پرانا سا لکڑی کا پلنگ ہے جس کے قریب ایک کرسی اور میز دھرا ہے۔ دیوار پر کچھ کپڑے ٹنگے ہیں اور میز پر کمپیوٹر اور چند کتابیں پڑی ہوئی ہیں اور اسی کے ساتھ ہی ایک پرانے اونی قالین پر ایک بوڑھا شخص کتاب ہاتھ میں لیے بیٹھا ہے۔ کمرے میں ایک طرف شکسپیئرکے مقبرے کی تصویر اور دوسری طرف سقراط کی زہر کا پیالہ تھامے ہاتھ سے بنی پینٹنگ ٹنگی ہوئی ہیں۔ یہی اس کمرے کا کل اثاثہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ ارے کیا کوئی میری آواز سنتا ہے؟ میں کب سے پکار رہا ہوں مجھے ایک کپ چائے چاہیے۔۔۔‘‘
بڑی ہوئی شیو، میلے سے کپڑوں میں ملبوس پینسٹھ سالہ بوڑھا پروفیسر اپنے پیٹ کے درد کو اند ر کی طرف دباتے ہوئے چلاتا ہے۔وہ کاٹھ کباڑ جیسے کمرے میں کتابوں کے مٹی سے اٹے ڈھیر کے جھرمٹ اور ملگجی سی روشنی میں فرش پر پرانے اونی قالین پر بیٹھا کچھ پڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اتنے میں ایک عورت اپنے لرزتے ہوئے ہاتھ میں چائے کا کپ لئے نمودار ہوتی ہے۔ اسکا چہرہ دھویں سے کالا ہو رہا ہے۔
’’اب کوئی تماری آواز نہیں سنے گا۔ میرے آقا ۔۔۔ مائی لارڈ شپ! نہ اس گھر میں نہ کوئی باہر ۔۔۔‘‘
’’ سچائی کی تلاش میں تم اپنی زمین سے رشتے توڑ چکے ہو ۔ سچ یہ ہے کہ کوئی تمیں سچا نہیں سمجھتا۔ انہیں تم پر یقین نہیں رہا۔‘‘
’’ تماری سچ کی جھونپڑی کے گرد انہوں نے منافقت اور جھوٹ کے بلند و بالا محل کھڑے کر لئے ہیں۔ اب یہ کٹیا ان محلات کی اوٹ میں چھپ چکی ہے۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ تمارے خیالات پورے سماج کو گندہ کرتے ہیں، انتشار پھیلاتے ہیں۔‘‘
’’ مائی ڈئیر پروفیسر۔۔۔ یہ جان جاؤ کہ تم انکے عزائم میں رخنہ ہو۔‘‘ بوڑھی عورت ایک قہقہہ لگاتی ہے۔
’’چونکہ تم قریب الموت ہو ۔۔۔ اس لئے انہوں نے تمیں نظر انداز کر دیا ہے۔‘‘
وہ چائے کا کپ اس کے نزدیک تپائی پر رکھ دیتی ہے۔
’’ یہ رہی تماری چائے۔۔۔ اور یہ آخری کپ ہے۔ گھر میں سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ مجھ میں اب ہمت نہیں رہی کہ میں اس بڑھاپے میں سارا دن دھوپ میں قطار میں کھڑے رہوں اور اپنے حصے کا راشن حاصل کر سکوں۔ ایک لیٹر دودھ ایک کلو چینی اور ایک ڈبل روٹی کے علاوہ وہ دیتے ہی کیا ہیں؟ اس بار آٹا اور چاول بھی منع کر دئیے تھے۔ ‘‘
’’ وہ کہتے ہیں ۔۔۔ قربانی دو ۔۔۔ ملک کے لئے۔ ریاست کے لئے ۔۔۔ اس آزادی کے لئے جو تمیں حاصل ہے۔۔۔ ‘‘
’’ آزادی؟ ۔۔۔ کیسی آزادی ؟؟؟
منافقت اور جھوٹ کی سربلندی، بھوک میں تڑپنے کی آزادی؟؟؟
وہ یہ کہتی ہوئی ، بڑبڑاتی ہوئی کمرے سے نکل جاتی ہے۔ بوڑھا پروفیسر خاموش نظروں سے اسے باہر جاتا دیکھتا ہے ۔
کمرے میں گہری خاموشی چھا جاتی ہے اس پِن ڈراپ سائلنس میں اچانک ارسطو کی زہر پیتے ہوئے تصویر اچانک نیچے گر جاتی ہے اسکے فریم کا شیشہ فرش پر کرچی کرچی ہو کر پھیل جاتا ہے۔
پردہ گرتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایکٹ ۔۳
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پردہ اٹھتا ہے
منظر ۔۔۔۔
چند دنوں بعد، بادشاہ کا دربار ہمیشہ کی ویسے ہی سجا ہوا ہے ، وہی ہال ، وہی لوگ، وہی سٹیج ، امورِ سلطنت پر گرما گرم گفتگو ہو رہی ہے ۔
پورا دربار خاموش ہے۔ ظلِ سبحانی جوش اور غصہ میں وزیروں، سرکاری افسرو ں اور درباریوں سے مخاطب ہیں۔
’’ کوئی دلیل ، کوئی مزاحمت نہیں ۔۔۔ میں صرف حکم کی تعمیل چاہتا ہوں۔‘‘
وہ بائیں جانب کھڑے سپہ سالار کی جانب خوشمگین نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ تم سمجھتے ہو، میں کیا کہہ رہا ہوں؟ ‘‘
سپہ سالار کورنش بجا لاتے ہوئے عرض کرتا ہے ۔۔۔ ’’ حضور والا ۔۔۔ مائی لارڈ شپ۔ میں پوری طرح سمجھتا ہوں لیکن میرے فوجی جوان بھوکے پیٹ نہیں لڑ سکتے۔ ان کے پاس اسلحہ کی بھی کمی ہے اور سب سے بڑی بات انہیں لڑنے کے لئے کوئی ٹھوس وجہ چاہیے۔ ‘‘
بادشاہ : کیا کہا ٹھوس وجہ؟ کیا اب تک ہم دشمنوں سے بلاوجہ لڑ رہے تھے؟ ‘‘ بادشاہ نے قہر آلود نظروں سے سارے دربار کی طرف دیکھا۔ ( چاروں طرف کھسر پھسر اور سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں)
سپہ سالار اپنے موٹے ہاتھ سے اپنے گال کو خجالت سے کھجلاتا ہے
ایک کونے سے آواز بلند ہوتی ہے ۔۔۔’’ خاموش ۔۔۔ نگاہ روبرو ، ہمہ تن بگوش، ظلِ سبحانی جلوہ افروز ہیں۔‘‘
سپہ سالار ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے کورنش بجا لاتا ہے اور کہتا ہے۔
’’ جہاں پناہ کا اقبال بلند ہو۔ ہمارا خیال ہے کہ ہمیں اب فیصلہ کر لینا چاہیے کہ ہم عقیدوں پر سجدہ کریں گے ، پرانی دوستیاں نبھائیں گے یا نئے عالمی منظر میں اپنی محلوں کی حفاظت کریں گے۔ہمیں یکبارگی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم دوست ہیں کہ دشمن۔ ‘‘
بادشاہ یکلخت چاروں طرف متلاشی نگاہوں سے دیکھتا ہے اور گرجتا ہے۔
’’ وزیرِ قانون کہاں ہے؟ ‘‘
بائیں جانب لوگوں میں حرکت ہوتی ہے اور ایک موٹا سا ٹھگنے قد کا شخص آگے بڑھ کر بادشاہ کو کورنش بجا لاتے ہوئے مخاطب ہوتا ہے۔
’’ میرے آقا۔ مائی لارڈ شپ ۔۔۔ یہ غلام یہاں حاضر ہے۔ ‘‘ وزیرِ قانون کی تھرتھراتی ہوئی آواز آتی ہے۔
’’ فوری طور پر پوری ریاست میں نیا قانون لاگو کردو ۔ تمام ریاست میں آج سے عوام کے بنیادی و انسانی حقوق ختم کئے جاتے ہیں۔ صرف ان لوگوں کو استثنا ہے جو اس وقت یہاں دربار میں موجود ہیں۔‘‘
’’ ملک کی تمام جیلوں سے سب قیدی رہا کر دئیے جائیں اگر وہ مملکت کو یقین دھانی کروادیں کہ ہر قیدی اپنے ذرائع سے دس فوجیوں کو کھانا اور اسلحہ فراہم کرے گا۔ کوئی انصاف کی کچہری نہیں لگے گی۔ ہم اپنے دشمنوں کو شکست دینا چاہتے ہیں ۔۔۔ ہم اپنی کاز سے وابستہ رہیں گے ہر قیمت پر۔۔۔ اور ہماری کاز ہے’ انسان کی آزادی‘۔ ‘‘
وہ معنیٰ خیز مسکراہٹ سے درباریوں کی طرف دیکھتا ہے۔
لونگ لیو دی کنگ اور بادشاہ زندہ باد کے نعروں سے پورا دربار گونج اٹھتا ہے ۔ لوگوں کے چہرے خوشی سے تمتما اٹھتے ہیں۔ دربار کے تمام سنہرے فانوس جل اٹھتے ہیں اور دیواروں پر گھڑ سوار حرکت میں آ جاتے ہیں۔
اتنے میں کچھ لوگ بڑھ کر دیواروں پر لٹکی شیروں اور گائیوں کی تصویروں کے گلے میں پڑے پھولوں کے ہار نوچ لیتے ہیں۔
سب لوگ آگے بڑھ کر جہاں پناہ کا ہاتھ چومنا چاہتے ہیں لیکن بادشاہ اپنی دائیں جانب سے سٹیج پر نمودار ہونے والی اپنی نئی نویلی دلہن ملکہ عالیہ کی طرف مسکراتے ہوئے تفاخرانہ نظروں سے دیکھتا ہے۔ وہ آگے بڑھ کر دھیرے سے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے ۔
پھر دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے درباریوں کو ہال کے ایک کونے میں سجے گرما گرم بوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے’ لانگ لیو دی کنگ‘ اور ’لانگ لیو دی کوئین‘ کے شور میں دربار سے نکل جاتے ہیں۔
پردہ گرتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ ۱۲ جون ۲۰۱۶ لاہور پاکستان جملہ حقوق محفوظ

Thursday, May 26, 2016

سعادت حسن منٹو ، حقیقت کیا ہے؟



سعادت حسن منٹو ، حقیقت کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو ادب میں جہاں سعادت حسن منٹو ہمیشہ سے اپنی اچھوتی اور متنازع فیہ حیثیت کے ساتھ زندہ رہا ، وہیں بعد از موت بھی اسکے فن پارے اختلافی آراٗ پر مبنی ا دبی گفتگو کا محور رہے ہیں۔ لیکن یہ بات مشترکہ طور پر طے ہو رہی کہ منٹو ایک لاجواب کہانی کار تھا ۔ وہ اپنے عہد سے جڑا ایسا فنکار تھا جسے کسی نظریے ،تحریک یا ادبی اجتماع کی ضرورت نہ تھی۔ فطری طور پر آزاد پیدا ہو نے کے بعد سماجی زنجیروں میں بندھا جانا اسے پسند نہ تھا۔ اِسی لئے وہ ممکنہ حد تک ذہنی و لسانی سطح پر نہ صرف شخصی طو ر پر آزاد تھا بلکہ اپنی فکر میں آزاد منش ادیب تھا۔ اسکے موضوعات اسکی عصری زندگی سے اٹھائے گئے سوالات تھے اور اسکا اظہار بھی زندگی کے انہی بیباک اصولوں پر تجسیم کیا گیا جنہیں سماج کے روایتی ٹیبوز نے سمیٹ رکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان ادب پاروں میں اظہار و بیان کی دلکشی و چاشنی کے ساتھ ساتھ حقائق کی تلخیاں اور کسیلا پن بھی شامل ہے۔ اُن سچائیوں کو ، جن کا تعلق انسانی زندگی اور اس سے جڑے بے حس و سنگدل سماج سے ہے ، وہ نہ صرف آشکار کرتا ہے بلکہ ایک نفسیاتی معالج کی طرح اس پر نشتر بھی چلاتا ہے۔ معروف رائٹر و نقاد ڈاکٹر شفیق جالندھری پنجاب یونیورسٹی اپنے مختصر مضمون ’’منٹو ۔۔۔ افسانے اور سچائیاں‘‘ میں لکھتے ہیں(۱)
’’وہ ایک ایسا معالج ہے جو صرف کھٹی میٹھی گولیوں سے ہی علاج نہیں کرتا، ضرورت محسوس ہو نے پر نہایت بے تکلفی سے آپریشن بھی شروع کر دیتا ہے۔ اس کا آپریشن کچھ اِس انداز کا ہے کہ اس کے اچانک ہو جانے پر مریض حیران سے رہ جاتے ہیں۔ ذہنی طور پر آپریشن کے لئے پہلے سے آمادہ نہ ہونے کی بِنا پر بعض اوقات وہ گھبرا اور سٹپٹا بھی جاتے ہیں۔ ایسا اِس وقت ہوتا ہے جب منٹو جنس کے مسائل کو سامنے لاتا ہے۔ جنس کے متعلق اکثر لوگ بے حد شرمیلے ہوتے ہیں، بعض شرم کی بجائے احتیاط کو پیشِ نظر رکھتے ہیں ، کچھ لوگ کھُلے ڈلے ہوتے ہیں اور بعض فحش گوئی کو اپنا لیتے ہیں۔ منٹو ایک کھُلا ڈلا انسان ہے جس پر فحاشی کا الزام لگتا ہے۔‘‘
شاید یہی بات تھی کہ مخصوص مغربی ادبی حلقوں میں سعادت حسن منٹو کے افسانوں ، مضامین اور تحاریر کی ادبی اہمیت عام طور پر ایک ایسے رائٹر کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں اس کا اکثر کام طوائف کے کوٹھے تک محدود سمجھا گیا ہے۔ اسے جنسیات و غیر متنوع موضوعات کا لکھاری کہا جانے لگا۔ جس کے پاس موضوعاتی تنوع بہت کم ہے ۔ لیکن ایشین سٹڈیز سنٹر ، مشی گن سٹیٹ یو نیو رسٹی، امریکہ کی پروفیسر لیسلے ۔اے۔ فلیمنگ اپنے ایک طویل مقالے میں ’’ این اَدر لونلی وائس ‘‘ جو سعادت حسن منٹو کے اردو کام پر لکھا گیا تھا، میں کہتی ہیں۔(۲)
’’ایسا نہیں ہے ۔ مغرب نے ابھی سعادت حسن منٹو پر کام ہی کب کیا ہے۔ وہ ایک سطحی سوچ کے حامل نقادوں کی تاثراتی رائے سے یہ اخذ کر رہے ہیں ۔ پروفیسر لیسلے کا کہنا ہے کہ منٹو کے عہد میں اور بعد از منٹو ، جو مصنفین اور نقاد ( زیادہ ترمارکسٹ نظریات سے وابستہ) اردو ادب میں مقبولِ عام کے طور پر پہچانے جاتے تھے انہوں سے بہت کچھ گڈمڈ کر دیا اور بحیثیت نقاد اپنے فرائض سے پہلو تہی برتی ہے۔ بجائے اسکے کہ وہ منٹو کے مکمل کام کی طرف توجہ دیتے ،جس میں تیئس افسانوی (شارٹ سٹوریز) مجموعے، ایک ناولٹ ، پانچ ریڈیو پلے ، ایک مکمل ڈرامہ، تین مضامین کے مجموعے، دو خاکوں کے مجموعے اور وہ تمام کام جو مغربی ادب سے ترجمہ کیا گیا کو پورے کا پورا د یکھا جانا از حد ضروری تھا۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ نقادوں سے یہ غلطی ہوئی انہوں نے سلیکٹڈ کام کو منتخب کیا اور اسی پر اپنی ادبی رائے کا اظہار کیا۔ اس ذاتی طور پر منتخب کئے گے کام میں نقادوں نے صرف ایسے کام کو ہی منتخب کیا جو سنسیشنل تھا ، جنسی مسائل پر لکھا گیا تھا اور حقیقی ادب سے اسکی جڑت نسبتاً کمزور تھی اور وہ ترقی پسند ( مارکسٹ نظریات) سے لگاؤ نہیں رکھتا تھا جو حکمرانوں اور عوام کے درمیان سماجی و معاشی تعلق کو کہیں زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ ان سب کا خیال تھا کہ منٹو نے ان ترقی پسند نظریات کو اپنے ادبی کام میں مہمیز نہیں دی جیسا کہ اس عہد میں ہو رہا تھا۔
ایسا لکھنے سے پہلے ڈاکٹر فلیمنگ نے منٹو کے تمام کام کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے یہ بھی دیکھا کہ منٹو ایک ایسے رائٹر کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے بالخصوص اپنے افسانوں (شارٹ سٹوریز) میں تنوع کو بے اختیار برتا ہے۔ وہ اپنی نظر سے زندگی کے ان حقیقی مسائل کو اس گہرائی میں جاکر دیکھتا ہے جہاں سماج کا مشترکہ ذہن بھی نہ پہنچا ہو۔‘‘
اپنی اس رائے کو سامنے لاتے ہوئے کارلو کوپالا لکھتا ہے ’’ کہ یہ سب کچھ کہنے سے پہلے ڈاکٹر فلیمنگ منشی پریم چند (ڈی۔ ۱۹۳۶) سے لیکر اب تک عمومی طور پر سارے اردو ادب اور اردو شارٹ سٹوریز کا بالخصوص ، بغور جائزہ لیتی ہیں ۔ انکا کہنا ہے کہ منٹو کے کام کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے میں نے فرینک۔ او کارنر کے لکھے ہوئے ملتے جلتے مضمون ’’ دی لونلی وائس ‘‘ سے متاثر ہو کر استفادہ کیا ہے جہاں انہوں نے افسانوی ادب اور ناول کے درمیان ایک ایسے پُل کو تلاش کیا تھا، جس میں ہمہ جہت سے نکل کر صرف ایک مرکزی کردار کو متن میں متوازی سطح پر اٹھایا جاتا ہے اور اسی کے مسائل کو سماج کے ان دیکھے ،مخفی المیوں سے جوڑ دیاجاتا ہے، لیکن بین ہی وہ متن اپنی تہ میں علامتی سطح پر ہمہ جہت مسائل کو ایڈریس کرتا ہے ۔ ڈاکٹر فلیمنگ کا یہ بھی خیال ہے کہ فرق صرف یہ ہے کہ فرینک او کارنر ایک انتہائی تہذیب یافتہ سوسائٹی کے سولائزڈ افراد کو اپنی کہانیوں میں لاتا ہے جبکہ منٹو مبینہ طور پر تہذیب یافتہ سوسائٹی کی انتہائی نچلی سطح پر جا کر ایس افراد کو اپنے کردار چنتا ہے جو اپنی سماجی حیثیت میں کوئی مقام ہی نہیں رکھتے بلکہ بادیِ النظر میں سماج کی نفرتوں کا شکا ر ہیں اور یہیں سے ان افراد کی تنہائیوں کا دور شروع ہوتا ہے جس کے بعد ازاں منفی نتائج پوری سوسائٹی پر نظر آتے ہیں۔ ‘‘
یہ وہی بات ہے کہ جو میں پہلے اپنے کسی مختصر مضمون میں منٹو کے بارے میں لکھ چکا ہوں کہ منٹو انہی متذکرہ مبینہ نفرت آلود افراد کر کیریکٹرائز کرتے ہوئے تحت الشعور اور لاشعور کی ان سفلی خواہشات اور انکے محرکات کو ہمارے شعوری علم کے دائرے میں کھینچ لانے کی کوشش کرتا ہے، جنہیں ہم بالعموم ’’ ضمیر ‘‘ کے دبیز پردوں میں ڈھانپ کر رکھتے ہیں۔
منٹو کے ممتاز اور مقبول عام افسانوں پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور مزید بھی لکھا جائے گاکیونکہ میرا ذاتی خیال ہے کہ منٹو پر لکھنے کے لئے اسی پایہ کے نقاد کا میسر ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے بیشتر نقادوں کی رائے بہرحال ادبی نقطہ نظر سے استدلال کے جھولے میں ڈولتی نظر بھی آتی ہے لیکن حسن عسکری بڑی سچائی سے ’سیاہ حاشئے‘ کی’’حاشیہ آرائی ‘‘ میں منٹو پر بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ (۳)
’’پچھلے دس سال میں نئے ادب کی تحریک نے اردو افسانوی ادب میں گرانقدر اضافے کئے ہیں، لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اکثر و بیشتر نئے افسانوں کی محرک تخلیق کی اندرونی لگن نہیں تھی بلکہ خارجی حالات اور واقعات ، خواہ انکا تعلق خود مصنف کی ذات سے ہو یا ماحول سے۔ ممکن ہے کہ یہ بہت حد تک اس رائج الوقت عقیدے کے ماتحت ہوا ہو کہ محض خارجی ماحول کو بدل دینے سے انسانوں کی داخلی زندگی کو بدلا جا سکتا ہے ‘‘
حسن عسکری جیسے جئید نقا د اسی مضمون میں چل کر آگے کہتے ہیں ۔۔۔۔
’’ برصغیرِ ہندوستان کے یہ فسادات ایسی پیچیدہ چیز ہیں، اور صدیوں کی تاریخ سے، صدیوں آگے کے مستقبل سے، اس بری طرح الجھے ہوئے ہیں کہ ان کے متعلق یوں آسانی سے اچھے برے کا فتویٰ نہیں دیا جا سکتا، کم از کم ایک معقول ادیب کو یہ زیب نہین دیتا کہ وہ ایسے ہوش اڑا دینے والے واقعات کے متعلق سیاسی لوگوں کی سطح پر اتر کر فیصلے کرنے لگے۔ منٹو نے اپنے افسانوں میں وہی کیا ہے جو ایک ایماندار (سیاسی معنوں میں ایماندار نہیں بلکہ ادیب کی حیثیت سے ایماندار) اور حقیقی ادیب کو ان حالات میں اور ایسے واقعات کے اتنے تھوڑے عرصے بعد لکھتے ہوئے کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے نے نیک و بد کے سوال ہی کو خارج از امکان قرار دے دیا ہے۔ انکا نقطہِ نظر نہ سیاسی ہے، نہ عمرانی نہ اخلاقی بلکہ صرف ادبی اور تخلیقی۔ منٹو نے صرف یہ دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ ظالم یا مظلوم کی شخصیت کے مختلف تقاضوں اور ظالمانہ فعل کا کیا تعلق ہے۔ ظلم کرنے کی خواہش کے علاوہ ظالم کے اندر اور کون کون سے میلانات کار فرما ہیں، انسانی دماغ میں ظلم کتنی جگہ گھیرتا ہے اور زندگی کی دوسری دلچسپیاں باقی رہتی ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔ ‘‘
یہ وہ اہم سولات ہیں جو منٹو اپنی تحاریر میں اٹھاتا ہے۔ اس نے نہ تو رحم کے جذبات ابھارے ہیں نہ ہی غصے کے یا نفرت کے وہ وہی جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جو فطری طور پر انسان کے اندر پنہاں ہے۔ آئیے ان سوالات کے جواب ہم انکے سیاہ حاشئے میں شامل مختصر افسانوں سے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو انہوں نے پاکستان کی سرزمین پر تقسیمِ ہند کے فوراً بعد لکھے۔ (۴)
سیاہ حاشیہ ( ۱۹۴۸) میں اپنے مختصر افسانے’’ اشتراکیت‘‘ میں اشتراکیت کی حقیقی روح سے رو گردانی کرتے ہوئے منٹو اشتراکیت کے نام پر صرف روٹی کمانے والوں کو لٹیرے کے روپ میں دیکھتا ہے ۔
اس طرح ’تعاون ‘ عنوان کے تحت وہ لوٹ مار کے ایک گروہ کو علامتی انداز سے کتے سے بھِڑا دیتا ہے۔
’ تقسیم ‘ میں وہ مال غنیمت میں سے ظالم برآمد کروا کردوسرے ظالموں کو جہنم واصل کرا دیتا ہے ۔
’ اصلاح ‘ میں مرد کے مخصوص اعضا کے حوالے سے ایک ایسی عجیب و غریب صورت پیدا کرتا ہے کہ اعتقاد سے زیادہ اصلاح کا معنوی پہلو غلطی دور کرنے کی کوشش کو علامتی بنا دیتا ہے ۔
اسی طرح’ حیوانیت‘ ، ’کھاد‘ ، ’کسرِنفسی‘ اور دیگر افسانچوں میں منٹو نے تقسیم ہند پر اپنے فنکار قلم سے ہندو مسلم فسادات ، لوٹ مار اور قتل وغارت کو جس مہارت سے پینٹ کیا ہے وہی حقیقی طور پر ایک ادیب کا کردار ہے۔ منٹو نے انسان کو نہ ظالم بنایا نہ مظلوم، غیر معمولی حالات میں اس نے انسانی فطرت کے ان تمام پہلوؤں کو ادیبانہ مہارت و بصیرت سے قاری پر منکشف کر دیا اور اشارہ کرکے خود خاموش ہوگیا۔ دوسرے لفظوں میں انسان اپنی انسانی فطرت میں نہ تو فرشتہ بن سکتا ہے نہ ہی شیطان۔ وہ کتنا ہی غیر معمولی بننے کی کوشش کیوں نہ کرے زندگی کی حقیقت اور فطری تقاضے اسے معمولی معاملات میں گھسیٹ لاتے ہیں ۔
متذکرہ بالا اجمالی جائزہ منٹو کے پورے کام کا احاطہ نہیں کرتا، میں اپنے تعیں سمجھتا ہوں کہ منٹو کے جملہ افسانوں، مضامین ،خاکوں ڈراموں و دیگر تحاریر وغیرہ پر ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔
انہی بنیادوں پر مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ منٹو ایک عظیم فنکار تھا اور اپنے عہد سے جڑ کر اس نے اردو ادب کی جو نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں وہ بلاشبہ بے حد سراہے جانے کے قابل ہیں۔ مقبولیت تو اس نے اپنی زندگی میں ہی پا لی تھی لیکن اسکا بلند و بالا عالمی ادبی مقام آنے والے دنوں میں حقیقی منصب و رتبے کامتقاضی ہوگا جو دنیائے ادب کے نقادوں کو انہیں دینا ہوگا کیونکہ منٹو اسی منصب کے قابل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نعیم بیگ
لاہور پاکستان ۳۱ مارچ ۲۰۱۶
جملہ حقوق بحقِ مصنف محفوظ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات
۱۔دیپاچہ از ڈاکٹر شفیق جالندھری ’’منٹو کے یادگار افسانے ‘‘ نگارشات پبلشرز ۱۹۹۹
۲۔ مقالہ پروفیسر ڈاکٹر لیسلے اے فلیمنگ ۔ ’ ’ این ادر لونلی وائس‘‘ ریویو از کارلو کوپالا ازجرنل فار ساوتھ ایشین لٹریچر
ایشین سٹڈیز سنٹر ، مشی گن یونیورسٹی امریکہ
۳۔ حاشیہ آرائی از محمد حسن عسکری دیپاچہ ’ سیاہ حاشئے‘ از سعادت حسن منٹو ۱۹۴۸ از سنگ میل پبلیکیشنز ’ منٹو نما‘ ایڈیشن ۲۰۰۸
۴۔ سیاہ حاشئے از سعادت حسن منٹو سنگِ میل پبلیکیشنز منٹو نما ایڈیشن ۲۰۰۸

Sunday, May 8, 2016

شمال کی جنگ (اردو افسانہ)



شمال کی جنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ڈئیرمارتھا ۔۔۔
 مجھے امید ہے کہ میرے خطوط تم تک پہنچ رہے ہونگے۔ دراصل جس شخص کو میں یہ خطوط پوسٹ کرنے کو دیتا ہوں وہ ایک نادار بنسری نواز پٹھان لڑکا ہے۔ اس کی ٹانگ دو برس پہلے بم شیل لگنے سے کٹ گئی تھی۔ اب یہاں چھوٹے موٹے کام کر کے گزارہ کرتا ہے۔ بنسری بجانا اسکا شوق ہے اور تمیں یاد ہوگا جب میں یہاں آنے کا قصد کر رہا تھا تو مجھے ایک بنسری چاہیے تھی۔ وہ بنسری میں نے اسی لڑکے کو دینی تھی۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ وہ اس دن کتنا خوش تھا جب میں نے اسے سنہرے تانبے کی بنسری دی تھی تو کتنی دیر تک اس بنسری کو دیکھتا رہا۔ جب میں نے اسے بجانے کو کہا تو اس نے اپنی پرنم پلکیں اوپر اٹھائیں اور کہا ، ابھی نہیں۔۔۔ میں اسکی بات سن کر خاموش ہو گیا تھا لیکن جب اگلے دن شام کووہ ایک دھن تیار کر کے مجھے سنانے آیا تو یقین کرو میں حیرت زدہ رہ گیا ۔ وہ محبت کی وہی اداس دھن تھی۔۔۔ جس کے سُر دل کے تاروں کو چھیڑتے ہوئے پہلے ہی میری روح میں اتر چکے تھے۔ 
 جانتی ہو وہ دھُن کونسی تھی ؟تم نے بھی یہ دھن سنی ہوئی ہے، وہی سیمفونی والی۔۔ ۔’ وہن آئی ایم لیڈ اِن ارتھ‘‘ ۔۔۔۔’جب مجھے زمین کے اندر لِٹا دیا گیا‘ ۔۔۔
 یاد آیا تمیں ،ہم نے یہ دھُن براڈوے میں ایک ساتھ سنی تھی اور تم رو پڑی تھی اور کئی دنوں تک روتی رہی تھی ۔ مجھے تمیں چپ کرانے کے لئے ایک بار پھر براڈوے لیجانا پڑا اس بارگی ہم نے کامیڈی شو دیکھا تھا۔
 یہ اداس دھن سن کر میں نے اسے پوچھا۔ یہ دھن تم نے کہاں سے سیکھی تو اس نے بتایا’’ ایک مغربی عورت کو یہاں قید کر لیا گیا تھا جو دو سال یہاں رہی تھی اور میری خدمات اسکے سپرد تھیں ۔ میں اسکے متفرق کام کرتا تھا اُسی نے مجھے یہ دھن سیکھائی تھی میں نے سنا تھا کہ وہ بعد میں مسلمان ہو گئی تھی۔‘‘ 
میں سمجھ گیا تھا وہ وَان ریڈلِی کی بات کر رہا ہے۔ 
 ۔۔۔۔ اوہ میں خط بند کرتا ہوں ۔۔۔ کوئی آ رہا ہے! 
تمار ا اپنا ٹِم 
 مقام نامعلوم مورخہ ستمبر ۲۰۱۵
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
 ڈیئر مارتھا۔۔۔
 صبح بخیر۔۔۔ کیا تمیں کل رات نیند آئی تھی؟
 میں تو رات بھر جاگتا رہا ہوں۔ اب یہ نہ پوچھنا ،کیوں؟ 
 ہاں،میں تم سے پوچھنا بھول جاتا ہوں کہ جو آرپائن کے پرپل ایمپرر پودے میں نے گزشتہ سال گھر کے پچھلے صحن میں لگائے تھے کیا انہوں نے اس موسم خزاں میں پھول دئیے تھے کہ نہیں۔ بس تم وہیں سے اونچی آواز میں بتا دینا تماری آواز مجھ تک پہنچ جائے گی۔ 
 آجکل یہاں کچھ عجیب سی صورتِ حال ہے ۔ کئی ایک دنوں سے یہاں بم باری رکی ہوئی تھی لیکن کل رات سے پھر شروع ہو گئی ہے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہاں مقامی باغیوں کو مزید کمک اور نفری مل گئی ہے اس بار وہ یہاں فوج کو سخت جواب دیں گے۔ لیکن میرے لئے عجیب بات تو یہ ہے کہ یہاں باغیوں میں ہر نسل اور ہر ملک کا آدمی ہے۔ تم تو جانتی ہی ہو ۔ انکا ایک ہی مطالبہ ہے کہ مغرب یہاں سے نکل جائے کیونکہ انہیں اپنے مذہب کے پرچار کے لئے زمین اور آزادی چاہیے تاکہ یہ پوری دنیا کی نسل انسانی کو سدھار سکیں۔ ۔۔۔ کتنی بودی وجہ ہے نا! خیر یہ سب سیاسی باتیں ہیں وہ تو سب کچھ میں ’ آج کی ڈائری‘ میں اخبار کو بھیج چکا ہوں ۔ 
 مجھے کبھی کبھار یہاں بالکل ایسے لگتا ہے جیسے دنیا بھر کے لوگ اس علاقے میں کچھ اور کرنا چاہتے ہیں اور وہ کیا ہے مجھے معلوم نہیں ہو سکا؟
 تم صحیح کہتی تھی میں غبی اور کند ذہن صحافی ہوں۔۔۔ مجھے پھول بیچنے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ 
 یہی دیکھ لو ایک سال کی مدت میں میر ا یہاں صرف ایک ہی دوست بناہے وہی بنسری نواز لڑکا ۔ ہاں مجھے یہ بتانا تو بھول ہی گیا کہ وہ لڑکا کل آیا تھا کہہ رہا تھا، راستے بند ہوتے جارہے ہیں، جنوب سے کوئی نیا گروہ بھی یہاں اسلامی مملکت کی داغ بیل ڈالنے کے لئے آچکا ہے۔ اگر تمیں نکلنا ہے تو ابھی نکل لو ورنہ چند روز تک یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہولناکی چاروں طرف پھیل چکی ہے۔ بھلا کوئی اس سے پوچھے جنگ سے زیادہ ہولناکی اور کیا ہوگی، کئی ایک دھائیوں سے یہاں پوری ایک نسل لڑ کر مر چکی ہے۔ اور پھر اس کے بعد اگلی نسل لڑتی رہی ہے ۔ اب تیسری نسل یہ جنگ لڑ رہی ہے۔ پچھلی نسل نے یہی جنگ پہلے اسی فوج کے ساتھ مل کر لڑ ی تھی اب ان کے خلاف لڑ رہی ہے۔ ایسا تو نہیں کہ اگلی بار یہ دونوں مل کر کسی اور کے خلاف لڑ پڑیں۔
 ویسے مجھے ہمسایہ ملکوں کے بڑے شہروں سے بھی کچھ خبریں پہنچتی ہیں ، چونکہ وہ میرا علاقہ نہیں لہذا ان خبروں کو میں رپورٹ نہیں کرتا۔ اپنے دوسرے ساتھیوں کو کام کرنے دیتا ہوں، وہ کہتے ہیں سب مذاہب ناکام ہو چکے ہیں، اسی لئے یہ لوگ مذاہب کو زندہ رکھنے کے واسطے اس میں شدت لارہے ہیں، ان انتہا پسندوں نے اس خطے کے کو اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ اب آخری جنگ شاید گھر گھر ہو ۔ بلکہ تقریباً ہو ہی رہی ہے۔ یہ سب لوگ آخر کیا چاہتے ہیں؟ ناکامی انکا مقدر کیوں بن رہی ہے؟
 اچھا خط بند کرتا ہوں ۔۔۔ بنسری نواز آنے والا ہے ہم نے کہیں جانا تھا۔
 خدا حافظ تمارا ٹم۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 میری جان مارتھا۔۔۔
 کل رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ، کہ میں کسی بڑے تاریک غار کے اندر ہوں اور چاروں طرف اژدھے اپنے سر اٹھا کر مجھے دیکھ رہے ہیں، اسکا بھلا کیا مطلب ہوا؟ میں تو یہاں بالکل ٹھیک ہوں بس اب باہر نکلنا کم ہو گیا ہے علاقہ میں جنگ کی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی ہیں، مقامی لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے بڑے شہروں میں تباہی مچا رکھی ہے بچوں ، بڑوں عورتوں کو بلاتمیز و تفریق قتل کر رہے ہیں ، لیکن پھر بھی انکے ساتھ لوگوں کی ہمدردیاں بڑھ رہی ہیں ۔ مجھے تو صرف یہی نظر آتا ہے صرف مذہب کی بنیاد پر یہاں زندگی گزارنے کی ایک سعی لا حاصل ہے۔ کیا یہ لوگ اپنے معاشی وسائل کو یوں حل ہوتا دیکھ رہے ہیں ۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ چند صدیاں پیچھے جاکر ان کے لوگ آج کی زندگی گزار سکیں گے۔ وقت کا پہیہ الٹا کیسے چل سکتا ہے۔۔ فطرت کا اصول تو یہ نہیں ۔ 
 مارتھا تم بھی کہو گی کہ میں کیا اول فول بک رہا ہوں ۔ اچھا تم ایک کام کرنا ، چرچ جا کر میرے لئے خداوند سے دعا کرنا۔ مجھے ان انسانوں سے محبت ہوتی جا رہی ہے جو خود زندگی سے نفرت کر رہے ہیں ، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ایک ساتھ مکمل خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں مختلف سمتوں سے ؟ 
 مارتھا مجھے تم بہت یاد آ رہی ہو میں کئی ایک دنوں سے بنسری نواز سے بنسری بجانا سیکھ رہا ہوں ۔ کل میں نے وہی دُھن بجائی تھی۔۔۔۔
’’ وہن آئی ایم لیڈاِن ارتھ ۔۔۔۔ ‘‘
یقین کرو مجھے ایسے لگا کہ میں واقعی دفن ہو رہا ہوں ۔۔۔ کیا تمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم دونوں اب نہیں مل سکیں گے۔
’ جب میں زمین کے اندر لٹا دیا گیا۔۔۔
 کیا میرے سب اعمال دھُل جائیں گے ۔۔۔
 اچھا اب خط لکھنا بند کرتا ہوں، اس وقت بم باری ہمارے گھروں پر ہی ہو رہی ہے ۔ گھڑی بھر کی بات ہے۔۔۔اب میں اپنے آپ کو کائنات کی آزاد فضا کے حوالے کرتا ہوں ، بس تم تیار رہو ، ہم ایک ساتھ پھر براڈوے ضرور جائیں گے۔
 تمارا اپنا اور صرف اپنا ٹم
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 عالمی صفحہ’’ اخبار دارالحکومت ‘‘ مورخہ ۵ اپریل ۲۰۳۲ ء
 مختصر خبر( نامہ نگار )یہ خطوط شمالی علاقوں میں پہاڑوں کے دامن میں بسے ایک گاؤں کے پرانے تباہ شدہ ڈھیر سے برآمد ہوئے ہیں جو مکتوب الیہ تک نہ پہنچ سکے تھے ۔ ان خطوط کی صحافیانہ تحقیقات جاری ہیں۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 نعیم بیگ
  8 May 2016لاہور پاکستان 
 حقوق بحق مصنف محفوظ



Friday, April 29, 2016

متوقع ناول سے ایک اقتباس مصنف نعیم بیگ


نعیم بیگ کے  متوقع ناول سے ایک اقتباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ڈاکٹر صاحب وضع دارشخص تھے لیکن ایمپرئیل ذہنیت اور ارسٹوکریٹک طبیعت رکھتے تھے ۔۔۔ جی ہاں ان کا رہن سہن بالکل ابھی تک نوابوں کی طرح ہی تھا ۔ کلینک جاتے تو ہمیشہ سوٹ میں ملبوس ہوتے ، ٹائی اور سولا ہیٹ ۔ تقریبات میں شیروانی اور سفید پاجامہ ، گھر میں وہ ہمیشہ کُرتا، پاجامہ پہنتے۔ میں کبھی کبھار خالہ کو تنہائی میں کہہ دیتا کہ انہیں یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی وہیں نواب آف رامپور کے پاس ہی چھوڑ آتیں یہاں تو گھر بھر میں سب پر رعب جھاڑتے پھرتے ہیں تو وہ مسکرا اٹھتی اور کہتی ، تماری اماں سے پوچھتی ہوں انہوں نے ایسا کیوں کیا؟
اس کی شاید ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہمارے گھر میں اماں کی حیثیت نمایاں  تھی اور انہی کا حکم چلتا تھا اور نرم مزاج ہونے کے ناتے ہمیں ممکنہ حد تک تحریر و تقریر کی آزادی تھی ، کسی حد تک بچوں کے ناز نخرے بھی اٹھائے جاتے تھے لیکن خالہ کے ہاں صورتِ حال یکسر مختلف تھی ۔ ایک تو خالو ڈاکٹر تھے یہی بڑی وجہ تھی کہ اس زمانے میں دور دور تک کسی ڈاکٹر کا موجود ہونا قابل فخر ہوتا تھا ، پھر نوابی صحبت نے انہیں بھی آدھا پونا نواب تو بنا ہی دیا تھا۔ سو گھر میں جب موجود ہوتے تو یوں لگتا جیسے کوئی دیو پھر گیا ہے۔ جنگل کی سی خاموشی میں صرف دو معصوم خواتین ایک خالہ اور دوسری انکی بیٹی نگہت ایک دوسرے سے سرگوشیوں میں باتیں کرتیں۔
 مجھے تو خیر سے چند روزہ مہمان اور گھر میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے بالکل بولنے کا حکم نہیں تھا۔ مجھ پر صرف حکم چلایا جا سکتا تھا اور سچ پوچھئے، وہ سبھی چلاتے تھے۔ میں خاموش طبع قسم کا لڑکا تھا ، بڑوں کو جواب دینا سرشت میں ہی نہ تھا، کچھ جواب بھی دینا ہوتا تو تصورِ میں جواب دیتا، حکم ملتے ہی بھاگ کر کبھی دہی لینے جاتا اور بالائی راستے میں ہی کھا آتا ، کبھی نگہت کوئی چیز لینے نزدیکی دوکان پر بھجواتیں تو بقیہ پیسوں میں سے میں اپنے لئے خود ہی کوئی چیز بطور عوضانہ تکمیلِ حکم خرید لاتا، وہ مسکراتی اور میرے گال پر چٹکی بھر لیتی۔ چونکہ اسکا کوئی چھوٹا بھائی نہ تھا لہذا میری نگہت کے ساتھ چاندنی تھی اور اسکی میرے ساتھ ، کیونکہ اسکے وہ تمام ذاتی اور خفیہ راز جو بھُٹہ صاحب ( نگہت اپنے منگیتر کو بُھٹہ صاحب ہی کہتی تھی) کے حوالے سے تھے، صرف میں ہی جانتا تھا ، عشقیہ خطوط سے لیکر تحائف  تک  کے تبادلے میرے ذریعے ہی ہوا کرتے تھے۔ 
 ہاں البتہ ڈاکٹر صاحب کی بات اور تھی وہ بڑے تھے بلکہ عمر میں تو ابا سے بھی بڑے تھے سو میرے لئے قابلِ احترام۔ ان کا حکم تھا کہ اتوار والے دن صبح شکار کے لئے جانا ہے ۔ میں تڑکے تیار ہو کر بیٹھ جاتا اور جب انکی کڑک دار آواز پڑتی ہم دونوں گھر سے پیدل نکل پڑتے۔ ڈاکٹر صاحب کے کندھے پر دو نالی شاٹ گن ہوتی اور کارتوسوں کا ایک پٹّا انہوں نے کمر کے گرد لپیٹا ہوتا ۔ گھر سے باہر ہمیشہ تیار ہو کر نکلتے۔ پینٹ تو ہمیشہ پہنتے ہی تھے نیجے جوگرز ٹائپ کے بڑے کالے جوتے ہوتے اور سر پر برطانوی طرز کا سولا ہیٹ ہوتا۔ 
 میں انکے ساتھ اسسٹنٹ کے طور پر ہوتا۔ میرے گلے میں کارتوسوں کا ایک فاضل پٹّا ہار کی طرح لٹکا دیاجاتا وہ اس لئے کہ آخری بکّل پر باندھے جانے کے باوجود بھی وہ کمر پر ڈھیلا رہتا اور بار بار نیچے لڑکتا جس سے پیدل چلنے کی رفتا پر اچھا خاصا اثر پڑتا لہذا مجھے حکم تھا کہ اس پٹے کو گلے میں ہار کی طرح پہن لیا جائے۔ کئی ایک بار خالہ جان نے گھر سے نکلتے ہوئے خالو سے سرگوشی کی یہ کارتوسوں کا پٹّا بہت بھاری ہے اس بچے پر رحم کھائیے اور اسکے لئے کوئی نیا پٹا بنوا دیں تاکہ بچے کی گردن تو محفوظ رہے لیکن ڈاکٹر صاحب کی آنکھیں دیکھ کر وہ سٹپٹا جاتیں اور خاموشی سے مجھے رخصت کر دیتیں ۔ دائیں کندھے پر ایک کپڑے کا بڑا تھیلہ جس میں ایک اور کپڑے کا تھیلہ رکھا جاتا جس میں متوقع شکار پرندے جمع  ہونے ہوتے۔ اسی تھیلے میں ایک عدد بڑی چھُری اور ایک کمانی دار چاقو جسے مجھے کھولنے کی اجازت نہیں تھی ،رکھا جاتا۔ 
 دو تین گھنٹوں کی مسافت کے بعد ہم شہر سے کئی میل دور کھیتوں میں نکل آتے اور پھر انجان منزل کی تلاش شروع ہو جاتی ۔ کبھی ڈاکٹر صاحب دائیں مڑتے اور کئی فرلانگ کے بعد پھر مزید دائیں اور مزید دائیں مڑنے کے بعد تیس چالیس منٹ میں وہیں دائرے کی صورت میں سفر کر کے پہنچ جاتے جہاں سے سفر شروع ہوا تھا اور پھر کہتے ۔ 
’’سالا ایک جیسا ٹاور لگایا ہے تمارے ابا نے ۔ نان سنس ‘‘ ۔۔۔۔
رامپوری ہونے کے باوجود انہیں انگریزوں کے لہجے میں بولنا اچھا لگتا تھا۔
 یہاں یہ وضاحت کردوں کہ ابّا محکمہ بجلی میں ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے والے انجئنیر تھے ۔۔۔ اور انکا آخری غصہ ہمیشہ انہی پر اترتا ۔ میرا خیال ہے کہ ہم زلف ہونے کے ناتے خاندانی رقابت نکالنے کا یہی بہترین موقع ہوتا۔ 
 دور کہیں بجلی کے بڑے ٹاورز کے درمیان تاروں پر بیٹھے جب پرندے نظر آتے تو مجھے زور دار آواز میں ڈانٹ دیتے کہ خاموش ہو جاؤ ۔ جبکہ میں پچھلے کئی ایک گھنٹوں سے خاموش چل رہا ہوتا تھا۔ میں مزید خاموش ہو جاتا مطلب یہ کہ دل میں جو طلسماتی یا جادوئی خیالات ابھر کر منظر بنا رہے ہوتے وہ سارے اُڑن چھو ہو جاتے ۔ اسی اثنا میں اب شِست باندھی جاتی ، فوجیوں کی طرح گھنٹوں زمین پر ٹیک دئیے جاتے ، بندوق ناک کی سیدھ میں برابر کی جاتی ، پھر ایکدم کچھ خیال آنے سے ہٹا کر کلپ ہٹا کر دیکھا جاتا کہ کارتوس بھرے ہیں کہ نہیں ۔ یہ اطمینان ہونے کے بعد یہی عمل واپس ایک بار پھر دہرایا جاتا اور سیدھی ہوتی بندوق سے فائر ہوجاتا ۔۔۔۔ ویسے یہ اکثر ہوا کہ بندوق کے فائر سے پہلے ہی کئی بار پرندے اڑ جاتے ۔ ایسی صورت میں وہ ہمیشہ خوش ہوتے کہ چلو ایک کارتوس  تو بچ گیا۔ 
 ہاں جب فائر ہو جاتا تو نتیجہ میں دو تین پرندے گھبرا کر نیچے گر جاتے اور بقیہ اڑ جاتے ۔ میرا کام دراصل اسی وقت شروع ہوتا تھا ۔ مجھے برطانوی شکاری کتے بیگل کی طرح ایک ہی جست میں ان گرے ہوئے پرندوں تک پہنچنا ہوتا تھا ۔ کھیتوں میں اگر کچھ اُگا ہوا ہے تو نیچے گرنے والے پرندوں کو تلاش کرنا اور پھُرتی سے ان کی گردنوں پر باآواز بلند تکبر کہتے ہوئے چھُری پھیرنا اور بعد ازاں معائنے کے لئے ہتھیلی پر رکھ کر ڈاکٹر صاحب کو میڈیکل ایگزامینیشن کے لئے باری باری پیش کرنا میرا اولین فرض تھا۔
 لیکن یقین جانیئے اس میں میرا کوئی قصور نہ ہوتا جب یہ ہوتا کہ اِدھر فائر ہوا اور وہیں میں شکاری کتے بِیگل کی طرح گٹ سیٹ ، ریڈی گو کی طرح بھاگ نکلتا۔ تھیلا تو وہیں پٹک دیتا اور گلے کا کارتوسوں والا پٹ خودبخود کہیں راستے میں اتر جاتا۔ حکم یہ تھا کہ موقع واردات پر چونکہ ضروری اور فوری پہنچنا ہے تو میں حکم بجا لانے میں دیر نہ کرتا۔ اب جو تڑپتے، پھڑکتے ہوئے پرندوں کو قریب سے دیکھتا تو میری روح فنا ہو جاتی اور میں پہلے سے حلق میں آئے دھڑکتے دل کے ساتھ اکثر وہیں ڈھیر ہو جاتا۔
 اب ڈاکٹر صاحب پر دوہری ذمہ داری آن پڑتی کہ وہ زخمی پرندوں کو اٹنیڈ کریں یا بے ہوش انسان کو ، بہرحال یہ کریڈٹ تو انہیں دینا پڑتا ہے کہ جب مجھے ہوش آتا تب تک کئی ایک پرندے تھیلے میں منتقل کرچکے ہوتے۔ ان کے خون آلود ہاتھوں کو دیکھ کر میں دہل سا جاتا لیکن کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔ مجھے ہوش میں آتے دیکھ کر انکا اکثر پہلا جملہ یہی ہوتا ۔ 
’’ سالا ۔۔۔ پورا کا پورا باپ پر گیا ہے ؟ بزدل کہیں کا ؟ ‘‘ 
میرا خیال ہے کہ ابّا کی بلانوشی اور آرٹ و کلچر سے محبت انہیں ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔
 انکے رقیبانہ جملے مجھے اس وقت قطعی سمجھ نہیں آتے تھے اور میں شرمندہ شرمندہ سا اٹھ کر بیٹھ جاتا اور جانفشانی سے ایک بار پھر کارتوسوں کی پٹّا گلے میں لٹکاتا اور تھیلا دائیں کندھے پر ۔۔۔ یوں ہم شام گئے شکار شدہ پرندوں کے کئی ایک تھیلے اٹھائے واپس گھر لوٹتے، مجھ غریب کے دونوں کندھوں پر دو تھیلے ہوتے، کمر یا گلے میں کارتوسوں کی پیٹی ، دونوں ہاتھ لٹکے ہوئے تھیلوں کے نیچے ہوتے کہ کہیں تھیلے نیچے سے پھٹ نہ جائیں۔ اکثر شام کا دھندلکا پھیلتے ہی اپنا سولا ہیٹ بھی مجھے پہنا دیتے ۔ اگر کوئی اس وقت مجھے دور سے دیکھتا تو یقیناًمیں ایک ایسے ناکردہ گناہوں میں ملوث ایشیائی غلام لگتا جس کے والدین نے بچے کے پیسے کھرَے کر لئے ہوں اور گورا صاحب اس غلام کو اپنے ساتھ رکھتے ہوں ۔ گھر میں داخل ہوتے ہی صحن میں سامان رکھنے کے بعد ڈاکٹر صاحب مجھے فوراً غسل کرنے بھجوا دیتے اور خود وہیں کچن میں بیٹھ کر چائے کی چُسکیاں لگاتے ہوئے میری بدحواسیوں کو خالہ جان کے سامنے یوں پیش کرتے جیسے شکار کا سارا کارنامہ میری ان بد حواسیوں کی وجہ سے ناکام ہوا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
متوقع ناول سے ایک قتباس 
مصنف نعیم بیگ 
لاہور پاکستان
جملہ حقوق محفوظ بحق مصنف 

Sunday, April 10, 2016

حِبالہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



حِبالہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(سال دوہزارانچاس عیسوی ، صحارا لیبارٹری بمقام گلوبل دارلخلافہ واشنگٹن۔۲ ، واقع ’جی۔جے ۱۸۵ ڈی سپر ارتھ (۱) ‘ فاصلہ از زمین بیس لائٹ سال۔) 
ایک زور دار دھماکے کی آواز کے ساتھ ہی سبز رنگ کا لیس دار سیال مادہ کمرے کے فرش پر چاروں طرف پھیل گیا ، مادے میں ایک منحنی سا بے جان لوتھڑا دیکھ کر شیشے کی دیوار کے پار سفید رنگ کے لباس میں پانچ نقاب پوش خواتین و مرد سائنسدانوں نے اچھل اچھل کر خوشی سے نعرے لگائے اور معانقے کئے ۔ انکی برسوں کی کوشش بارآور ہو گئی تھی، ان کے سر تفاخر سے بلند گئے۔ وہ انسانی تخلیق کے فطری نظام کو شکست دیکر ایک نئی مخلوق پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں ۔۔۔
’’کیا ہم کمرے میں داخل ہو سکتے ہیں ؟‘‘ ایک نسوانی آواز نے چیف سے پوچھا۔
’’ نہیں ابھی نہیں۔۔۔ ابھی ہم نے نومولد کی ساخت اور وقتِ نمو کی پیمائش کرنی ہے، لیزر بیم اون کر دی جائے اور زمین سے سیٹلائٹ رابطہ کر دیا جائے تاکہ ساری دنیا یہ کاروائی براہِ راست دیکھ سکیں ۔ ‘‘ چیف بولا۔ 
 لیزر بیم اور کیمرے اون کر دیئے گئے اور انکا رخ لیب ہال کے وسط میں ایستادہ شیشے کے کمرے کی طرف کر دیا گیا۔ چند لمحوں میں لوتھڑے میں حرکت ہو ئی اور اس نے تیزی سے بڑھنا شروع کر دیا۔
 الاسکا سٹیٹ لیب امریکہ کے علاوہ دنیا کے تمام بڑے ملکوں کی سائنسی لیبز سے رابطہ ہوچکا تھا اور دنیا بھر کے سائنسدان اس نئی مخلوق کو دیکھنے کے لئے اپنے اپنے ملکوں کی لیبز میں جمع تھے۔ دنیا میں رات کا آخری پہر تھا۔ پیدائش کے پہلے حصے کی ویڈیو دنیا میں پہنچ چکی تھی اور زمانے بھر کے چینل، پرنٹ میڈیا پل پل کی خبر جاری کر رہے تھے۔ 
 نو مولد جسکا نام ’گلائیز ون‘ رکھا گیا تھا، اپنی عجیب الخلقت شکل، دس دس انگلیوں کے ہاتھ پاؤں اور تین سروں سمیت تیزی سے اپنی جسامت بڑھا رہا تھا۔ صحارا لیب سے سائنس دان کہہ رہے ہیں کہ ’گلائیز ون‘ کے تحقیقی و تولیدی پروسس میں نو سال صرف ہوئے ہیں، ولادت میں صرف نو منٹ لگے ہیں، اسے مکمل جوان ہونے میں نو گھنٹے چاہیں۔ یہ نو سو سال تک زندہ رہے گا اور نو سیاروں تک اسکی رسائی ہوگی۔ ’گلائیز ون‘ کی تولید کے لئے زمین کی سب سے صحت مند ۲ ملین انڈے رکھنے والی عورت کی اوری کو اِسکی رضا سے منتخب کیا گیا تھا اور ایولیشن میں انسان کے سپرمز کے علاوہ نو بڑے حیوانات، چرند و پرند کے سپرمز جس میں سور ، بھیڑیئے ، کتا اور الّو بھی شامل ہیں، ایک ساتھ مِلا کر تجربہ کیا گیا ہے ۔’ گلائیز ون‘ کا جسم ان تمام خصوصیات سے بہرہ مند ہوگا اور وہ بلا تفریق نو سیاروں میں کسی مافوق الفطرت مخلوق کی طرح سائنسی مدد کے بغیرسفر کرسکے گا۔
 صحارا سائنسی لیب میں ’ گلائیز ون‘ کی تولید سے تکمیل ہونے کا پروسس شروع ہوتے ہی زمین پر آفات کا سلسلہ شروع ہو گیا اور نسل انسانی مٹنے لگی، زلزلوں ، سمندری طوفانوں اور سیلابوں نے ہر طرف تباہی مچا دی۔ دنیا بھر کا میڈیا اور چینل اب بیک وقت دونوں خبریں ساتھ ساتھ دکھا رہے تھے۔
 ابھی ’ گلائیز ون ‘ کو مکمل ہونے میں تین گھنٹے باقی تھے لیکن زمین پر صبح کے آثار مفقود تھے۔ رات طویل ہو چکی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں اندھیرا چھانے لگا، سورج کے طلوع ہونے کے نظام میں خرابی پیدا ہو چکی تھی زمین اپنے محور پر حرکت سے معذور ہوتی نظر آ رہی تھی۔ پوری دنیا میں بسنے والوں نے جابجا گلیوں، سڑکوں ، بازاروں میں نامعلوم اور غیر مرئی آتشیں ہیولے کتوں، بھیڑیوں اور سورؤں پر سوا ر غول کے غول شہروں میں انسانوں پر حملے اور رقص کرتے دیکھے گئے ہیں جنہیں کیمرہ محفوظ کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔
 سائنسدان حیران تھے کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ جوابی سائنسی تحقیق ابھی کوئی حتمی جواب دینے سے قاصر تھی ۔کیا تخلیقی توازن بگڑ گیا ہے ؟ یا غیر مربوط سپرمز سے غیر مرئی مخلوق سامنے آ گئی ہے۔ انسانی سپرمز نے کیوں، کب اور کیسے انکار کیا؟ ۔۔۔ سب کچھ ابہام کا شکار ہے۔ہاں البتہ سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ ’گلائیزون‘ کی تکمیل ہوتے ہی دنیا مکمل طور پر تباہ و برباد ہو جائے گی اور کسی انسان کا نشان تک نہ ہوگا۔ صرف وہی پانچ سائنسدان بچیں گے جو خلاٗ میں صحارا سائنسی لیب میں کام کر رہے ہیں۔ ان پانچ کو ’’ گلائیز ون‘‘ خود ہینڈل کرے گا۔ 
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 تشریحات:
 (۱) انڈیپنڈنٹ نیوز ( سائنس) کے عالمی مجلے ۷ مارچ ۲۰۱۵ کی تحقیق سے اٹھائے گئے کچھ نکات۔
نعیم بیگ لاہور پاکستان
۱۰ اپریل ۲۰۱۶ 
جملہ حقوق محفوظ بحق مصنف

Thursday, April 7, 2016

ماسٹر گل محمد ....... یادیں



ماسٹر گل محمد
.......................
مجھے اتنا یاد ہے کہ ملک میں اوزان، کرنسی کا اشاریہ نظام کے رائج ہونے سے پہلے کا یہ واقع ہے شاید ۱۹۵۹ یا ۱۹۶۰ کے اوائل کا ہے، جب   میں ابا کی انگلی پکڑے اسکول کی عمارت میں داخل ہوا  تو  لمحہ بھر کو ششدر رہ گیا۔ یہ کوئٹہ کے یٹ روڈ پرایستادہ گورنمنٹ پرائمری اسکول کی پرشکوہ عمارت تھی جو میرے ذہن میں آج بھی اسی طرح نقش ہے۔ آس پاس کے مکانات’ سیون ٹائپ‘ (۱) ہونے کی وجہ سے اسکول کی پیلی اینٹوں سے بنی پختہ عمارت اس وقت مجھے عالیشان محل کی طرح لگی ۔ مجھے یہاں جماعت دوئم میں داخل کرنے کے لئے لایا گیا تھا ۔ ابا کی حال ہی میں یہاں ٹرانسفر ہوئی تھی تو گھر سے قریب ترین یہی اسکول تھا۔
ضروری کاغذی کاروائی کے بعد ہیڈ ماسٹر صاحب نے جماعت دوئم کے انچارج ٹیچر کو بلایا اور مجھے انکے حوالے کرتے ہوئے ابا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں میرزا صاحب کا بیٹا ہوں میرا خاص خیال رکھا جائے۔ یہ ماسٹر گل محمد تھے ۔ سرمئی شلوار قمیض میں ملبوس دبلے پتلے سے درمیانے قد کے ساتھ انکی شخصیت مجھے بالکل عام سی لگی ۔ انہوں نے میری طرف دیکھا اور میرے کندھے پر ٹہوکہ دیتے ہوئے چلنے کا اشارہ کیا۔ مجھے کچھ عجیب سا لگا لیکن خاموش رہا۔ 
ہم دونوں ایک ساتھ ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرے سے نکل کر کوریڈور سے ہوتے ہوئے جماعت دوئم کی طرف چل پڑے ۔ کوریڈور میں کئی ایک کلاسیں جاری تھیں اور ننھے ننھے بچے جھولتے ہوئے دوسرا یا تیسراپہاڑا رٹ رہے تھے۔ بعد میں معلوم ہو ا کہ یہ بچے کچی، پکی اور جماعت اول کے طالب علم تھے جنہیں زمین پر بٹھایا جاتا ہے، ڈیسک کی سہولت جماعت دوئم سے شروع ہوتی ہے۔ ہم اپنے کمرے میں پہنچے تو میں نے دیکھا کہ کوئی تیس پینتیس لڑکے اپنے اپنے بنچ پر چڑھے مرغِ چمن وخوش الحان بنے پہاڑے رٹ رہے تھے ۔ صرف ایک فرق تھا کہ اس بار پہاڑا سات یا نو کا تھا۔ اور ایک تنومند لڑکا ہاتھ میں بید لئے کسی کو پیچھے سے نیچے نہیں ہونے دیتا ہوا انہیں ہینڈل کر رہا تھا۔ جس کا نام مجھے بعد میں آصف خان معلوم ہو ا ، یہ کلاس مانیٹر تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی ماسٹر گل محمد نے دوسری قطار میں ایک لڑکے کی پشت پر زور سے ہاتھ مارتے ہوتے اسے نیچے اترنے کو کہا جب وہ سیدھا کھڑا ہوا تو انہوں نے اسے بستے سمیت سب سے آخری نشست پر جانے کا حکم دیا اور مجھے کہا کہ یہ تماری سیٹ ہے۔ میں سیٹ پر ابھی بیٹھ ہی رہا تھا کہ انہوں نے کہا چلو بنچ پر چڑھو اور مرغا بن جاؤ۔ میں حیرت سے انہیں دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ میرا کیا قصور ہے؟ لیکن معلوم ہوا کہ یہ اس کلاس کا اصول ہے کہ جب سزا ملے گی تو اجتماعی ہی ملے گی۔ چاروناچار میں اسکول داخل ہونے کہ چند ہی لمحوں بعد مرغ بنا اس اسکول کے سنہری اصولوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔ 
کہتے ہیں کہ آپکی زندگی میں جہاں انسان اپناکردار ادا کر رہے ہوتے ہیں وہیں قدرت اپنا فطری نظام بھی ساتھ ساتھ چلا رہی ہوتی ہے ، یہی وہ وقت تھا کہ جس بنچ پر مجھے مرغا بنے کو کہا گیا وہیں میرے ساتھ بلوچستان یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر فاروق احمد مرغِ باد نما بنے اپنے بائیں بازو کی آڑ لیتے ہوئے کن انکھیوں سے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھ رہے تھے ۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ 
کافی دیر تک مرغا بنے رہنے سے جب میری ٹانگیں کپکپانے لگیں تو پیچھے والے لڑکوں نے ہنسنا شروع کر دیا ۔ میں نے دل میں سوچا کہ یہ سب تو عادی مجرم لگتے ہیں ، میں کہاں پھنس گیا ہوں ۔ یہ صورتِ حال ناجانے کب تک رہتی کہ اچانک ریسس ( آدھی چھٹی) کا گھنٹہ بج گیا اور ساری جماعت نے اپنے اپنے بنچوں سے اتر کر سکون کا سانس لیا لیکن میرے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ میں لاہور سے انگریزی ماحول میں پڑھا ہوا طالب علم تھا جہاں سزا کا تصور بالکل الگ تھا ۔ بہرکیف، ماسٹر گل محمد نے گھنٹی کی آواز سنتے ہی اپنا حاضری رجسٹر اٹھایا اور جماعت سے باہر جاتے ہوئے فاروق کی طرف معنیٰ خیز نظروں سے دیکھا ۔ فاروق نے بھی انہیں دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ اچھا یہ ان وقتوں کی بات ہے جب اسکول میں بچوں کو کسی تعارف یا دوستی کے لئے کسی رسماً علیک سلیک کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ جب ہم ساتھ ساتھ بیٹھ گئے تو یہ طے ہو رہا کہ ہم دوست ہیں۔
فاروق نے مجھ سے پوچھا ، چلو گے؟ میں نے کہا۔ کہاں ؟ تو اس نے کہا، چلو بتاتا ہوں ۔ اور یہ کہہ کر اس نے کلاس روم کے ایک کونے میں پڑی ہوئی مٹی کی صراحی اٹھائی اور مجھے ساتھ لئے باہر نکل آیا۔ 
ریسس کوئی آدھ گھنٹے کے لئے ہوتی تھی ۔ فاروق نے صراحی اٹھاتے ہوئے مجھے سے میرا تعارف پوچھا، یہ اتفاق ہی تھا کہ ہمارے گھر قریب قریب ہی تھے۔ اس نے مجھے بتایا ، یہ صراحی ماسٹر گل محمد کی ہے جو وہ گھر سے لاتے ہیں۔ دوپہر کو ہم قریبی سرکاری ٹیوب ویل سے اس میں شفاف پانی بھر کر لا دیتے ہیں جسے وہ چھٹی ہونے پر اپنے ساتھ سائیکل کے کیریئر پر باندھ کر گھر لے جاتے ہیں۔ اور اس کام پر انہوں نے دو لڑکوں کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے کہ واپسی پر دونوں لڑکے باری باری اس صراحی کو اٹھاتے ہیں انکا خیال تھا کہ کہیں کوئی لڑکا راستے میں صراحی کے بوجھ سے تھک کر اسے توڑ نہ دے۔ اس زمانے میں کوئٹہ میں شفاف پینے والے پانی کی از حد قلت ہوا کرتی تھی ( یہ بات مجھے بعد میں معلوم ہوئی )۔
میں نے کہا کہ یہ تو بہت سخت گیر ماسٹر ہیں انکا کام کیوں کرتے ہو؟ فاروق کہنے لگا ۔۔۔ ہاں یہ تو ہے لیکن دوسرے استاد ماسٹر گل محمد سے زیادہ سنگدل ہیں۔ میری ریڑھ کی ہڈی میں سر د لہر دوڑ گئی ۔ اسکول کے سخت ماحول کو دیکھ کر میرے اندر یہ خواہش جاگنے لگی کہ یا اللہ تو میرے حال پر رحم فرماٗ۔ یہ بات جب میں نے اماں کو بتائی تو اماں نے کہا اچھا اللہ پر بھروسہ رکھو کوئی سبب بنے گا۔ 
ان کی اس بات کے اندر چند روز میں ہی اسکول میں یہ اعلان ہوا کہ ’’ نارمن‘‘ (۲) والے آ رہے ہیں۔ مجھے حیرت تھی کہ یہ ’نارمن‘ والے کون ہیں؟ ۔ یہ خبر سن کر سارے اسکول کے بچے خوشی اور مسرت سے ناچنے لگے تھے۔ مجھے اب بھی نہیں معلوم کہ یہ ’’ نارمن‘‘ والے کون تھے ؟ لیکن شاید کوئی سینئر استاد اس کی مکمل تاریخ بتا سکیں۔ 
آخر کار وہ دن آگیا کہ جس دن ’نارمن‘ والوں نے اسکول کا چارج سنبھال لیا ۔ سارے اساتذہ چھٹی پر چلے گئے ماسوائے ہیڈ ماسٹر صاحب۔ ’نارمن‘ والوں جن میں گوری خواتین بھی شامل تھیں ، نے پہلے دو دن بچوں کی مدد سے سارا اسکول صاف ستھرا کیا۔ باتھ روم دھوئے گئے ۔ نئی کیاریاں بنائی گئیں۔ چند ایک خواتین نے جنہوں نے رِسس میں بچوں کو کھانے کے لئے پیکٹ بنانے کا انتظام سنبھال لیا تھا ۔ رسس میں ہمیں قطارمیں لگا کر زبردستی گرم گرم دودھ پلایا جاتا اور اسکے بعد کھانے کے پیکٹ دئیے جاتے اور مانیٹر کیا جاتا کہ ہم کھا رہے ہیں یا ضائع کر رہے ہیں۔ کلاس میں پڑھائی کا طریقِ کار بدل چکا تھا ، تصویروں سے پڑھایا جاتا۔ بنچ پر مرغ بننے کی بجائے ٹافیاں ملتیں۔ چٹھی کے وقت روزانہ کوئی نہ کوئی تھیلہ یا لفافہ تھمایا جاتا جس میں کسی وقت گھی کے بند ڈبے ہوتے جن پر دو ہاتھ ملتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، کسی وقت خشک دودھ کے سیل بند لفافے۔۔۔۔
یہ سارا ماحول کوئی دو ہفتے جاری رہا ۔ یقین کیجیئے کہ ان دنوں اسکول میں بچوں کی حاضری سو فیصد تھی۔ البتہ ایک بات دیکھی کہ دیگر اساتذہ میں واحد ماسٹر گل محمد تھے جو اِن دنوں بھی بڑی باقاعدگی سے اسکول آتے تھے اور’ نارمن‘ والوں کے ساتھ کام کرتے تھے، اور میرا خیال ہے کہ ماسٹر گل محمد ’ نارمن‘ والوں سے متاثر بھی تھے ، وضع دار اور ایماندار ہونے کے ناتے شاید وہ چھٹی کرنا پسند نہیں کرتے تھے ۔ یہ انکی شخصیت اور شرافت تھی کہ انہوں نے بعد میں بنچوں پر مرغا بنانے کی رسم ترک تو نہ کی لیکن بہت کم کر دی تھی، اور فاروق سے اسکی مودبانہ رویے کی وجہ سے انکی محبت بہت بڑھ چکی تھی ، یہ بات مجھے فاروق سے ہی معلوم ہوئی کہ انکی شادی نہ ہوئی تھی اور وہ بیچلر ہی اسکول سے ریٹائر ہو گئے تھے۔
مجھے تو چند ماہ بعد ہی واپس آنا پڑا کہ ابا دوبارہ پنجاب ٹرانسفر ہو گئے تھے لیکن کوئٹہ کے وہ چند ماہ میری زندگی کے یادگار لمحات میں بدل گئے تھے۔ اللہ غریق رحمت کرے ۔ ماسٹر گل محمد کے انتقال کی خبر بعد میں مجھے ڈاکٹر فاروق نے ہی دی تھی ۔۔۔۔ اور وہ خود ۲۰۱۰ عیسویں میں امریکہ میں قبل از ریٹائرمنٹ چل بسے تھے۔
نوٹ : یہ واقعہ کوئٹہ کے میرے پہلے قیام کی یادوں میں رچا بسا ہے ۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کے بعد مجھے کئی ایک بار کوئٹہ کی سرزمین نے پکارا اور میں حاضر ہوتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تشریحات
(۱) کوئٹہ میں زلزلہ سے بچنے کے لئے مخصوص طرز پر بنائے جانے والے مکانات کو ’ سیون ٹائپ‘ کہا جاتا ہے ۔
(۲) ’نارمن‘ والے کون تھے؟ میرا قیاس ہے کہ ان دنوں پاکستان کے امریکہ سے بڑے قریبی تعلقات تھے اور شاید یہ ’ نارمن‘ والے کسی امریکن این۔جی۔او کی نام ہی رہا ہوگا۔ 
نعیم بیگ
لاہور پاکستان 
۴ اپریل ۲۰۱۶
جملہ حقوق محفوظ بحق مصنف 

Tuesday, April 5, 2016

مستقبل شناس افسانہ نگار ................................................. پیچھا کرتی آوازیں از نعیم بیگ پر تبصرہ ارشد علی



مستقبل شناس افسانہ نگار
.................................................
پیچھا کرتی آوازیں از نعیم بیگ پر تبصرہ
ارشد علی
مارکیز نے کہا تھا کہ ادیب کچھ بھی لکھ سکتا ہے بشرطیکہ وہ اپنے قاری سے اسے منوا بھی سکے۔ مارکیز کی کہی ہوئی یہ بات جہاں ہمیں ادیب کے حاصل اظہار کے وسیع کینوئس کا پتہ دیتی ہے وہی قاری کی جانب سے قبولیت کو تحریر کی کامیابی کا حتمی معیار بھی قرار دیتی ہے۔ معاصر عہد میں قاری کی بالغ نظری سے انکار کرنا ممکن نہیں لہذا آج کا قاری جنوں، بھوتوں اور پریوں کی کہانیوں کو نہ تسلیم کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی انہیں متن ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔ بلکہ وہ سفاک سچائی کو اظہارئیے میں لانے کا خواہش مند ہے جس میں اس کے تلخ شب و روز کا عکس ہو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی حسیاتی اور جمالیاتی تسکین کا سامان بھی طلب کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے ادیب کی ذمہ داریاں بدرجہا بڑھ چکی ہیں اور قاری کی ان توقعات کو پورا نہ اترنے اور معروض سے کٹے ہونے کے باعث بیشتر ادیب قبولیت حاصل نہیں کر پاتے اور ہمیشہ تاریکیوں میں رہ کر دائمی اندھیروں میں غرق ہو جاتے ہیں۔
اگر معدودے چند ادیب ہمیں موجودہ عہد میں اس معیار پر پورے اترتے دکھائی دیتے ہیں تو نعیم بیگ کا نام ان میں اولین نمبروں پر درج کیے جانے لائق ہے ۔ جس کا ثبوت ان کا حال ہی میں اشاعت پذیر ہونے والا افسانوی مجموعہ " پیچھا کرتی آوازیں" فراہم کرتا ہے ۔ نعیم بیگ اپنے موضوعاتی تنوع اور مخصوص اسلوب ، جو نہ تو علامتوں اور تجریدیت سے بوجھل ہے اور نہ ہی سپاٹ اور سادہ بیانیے کے مماثل ہے بلکہ ان کے بین بین اپنی تشکیل کرتا دکھائی دیتا ہے، کے باعث معاصر افسانوی منظر نامے میں اپنی جداگانہ شناخت رکھتے ہیں۔ سماجی اور معاشرتی مسائل کی جھلک، حقیقت نگاری، ترقی پسندانہ فکر سے جڑت، فرد کی نفسیات کا عمیق اور گہرا مشاہدہ ، اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی اقتصادی نظام کے نتیجے میں جنم لینے والے مسائل نعیم بیگ کے افسانوں کی اساس ہیں اور وہیں ہمیں ایک بیدار مغز اور ملکی و عالمی حالات سے آگاہ صاحب بصیرت افسانہ نگار کے وجود کا پتہ دیتے ہیں۔
نعیم بیگ بطور کہانی کار پاکستان کے حوالے سے خاصے مضطرب دکھائی دیتے ہیں جس کا ثبوت ان کے افسانوں میں جا بجا دکھائی دیتا ہے۔ جہاں کہیں وہ دہشت گردی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران اورسماجی شکست و ریخت کو متن کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
" کئی ایک برسوں سے مسلسل جنگ کی صورت حال میں علاقائی اقدار ، رسم و رواج، مذہبی رواداری حتی کہ انسان دوستی تک عنقا ہو چکی تھیں۔ آج وقت کی لگام صرف دولت کے ہاتھ میں آچکی تھی اور وہی کاروبار زندگی چلا رہی تھی۔"
(افسانہ : جہاز کب آئیں گے )
"شاید یہ آخری قافلہ تھا جو اپنے پیچھے گاؤں میں صدیوں کی ہنستی بستی زندگی کو چھوڑے اپنی بھیانک ویرانیوں کی تلاش میں نکل رہا تھا۔ "
(افسانہ : جہاز کب آئیں گے )
"سواری کی کمی نے ایک ہڑبونگ مچا رکھی تھی۔ سواریوں کے کرایے ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکے تھے"
(افسانہ : جہاز کب آئیں گے )
افسانہ ہذا نہ صرف ٹوٹتی اقدار اور تباہ ہوتے سماجی ڈھانچے کو متن کر رہا ہے ۔ بلکہ اختتام تک آتے آتے یہ ایسی المیہ داستان کی صورت اختیار کر جاتاہے جس کا ستر سال سے اس ملک کا ہر باسی کردار ہے۔ اور وہ یہاں پہلے دن سے ہی مہاجرت اور آئی ،ڈی، پیز کی زندگی گزارنے پر مجبور، اور ان اڑتے پرندوں کا منتظر ہے جو امن کے پیامبر نہیں بلکہ بھوک مٹانے کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ میر ے خیال میں آئی ڈی پیز کے مخصوص پس منظر پر یہ اردو میں لکھا گیا پہلا افسانہ تھا۔ جو نعیم بیگ کی دور رس نگاہ اور گہرے عصری شعور کا پتہ دیتا ہے۔
اس سماجی شکست و ریخت کے علاوہ نعیم بیگ ہمیں قربانیوں اور عزم کی ان داستانوں سے بھی روشناس کرواتے ہیں جو ہمارے جوانمرد سپاہی مادر وطن کی خاظر اپنی جانوں کا مسلسل نذرانہ پیش کرکے دئیے جا رہے ہیں۔
" مادر وطن پر قربان ہونے والے افسر اور جوان تو بہت ہیں اور وہ یہ کارنامہ رہتی دنیا تک سر انجام دیتے رہیں گے اور شہید و غازی ہوتے ہوئے اپنے نام زندہ و جاوید کر جائیں گے۔ ہم نے یہ جنگ نہ صرف ان دہشت گردوں کے خلاف جیتنی ہے ۔ بلکہ اس ملک کی آنے والی نسلوں کو ایک سنہری تاریخ بھی دے کر جانا ہے۔"
(افسانہ : چھتا)
لیکن ان جوانوں کی قربانیاں کیوں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہیں اور یہ داستان الم کیوں جاری و ساری ہے اس کا جوا ب بھی افسانوی متن ہمیں دیتا ہے۔اور ا س سارے قضیے کی بنیادی جڑ اور سچائی کو یوں آشکار کرتا ہے۔
" اب اس علاقے کے کئی ایک حکومتی محکمے اپنی روایتی نالائقی اور لالچ کی وجہ سے دہشت گرد تحریک کی درپردہ حمایت کر رہے تھے ۔"
(افسانہ : چھتا )
افسانہ آخری معرکہ میں زیریں سطح پر نعیم بیگ اس سچائی کو بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں جو اس سارے معاملے کو حل کرنے کا باعث ہو سکتی ہے اسے ہم ان کی خواہش سے تعبیر کریں یا حتمی فیصلہ قرار دیں اس معاملے میں کوئی تبصرہ کرنے سے تاوقت حال گریز کرتاہوں۔لیکن اتنا ضرور ہے کہ یہ دہشت گردی کا ناسور صرف اور صرف اسی صورت میں جڑ سے اکھاڑ کر پھینکا جا سکتا ہے۔
" لیکن اب لگ رہا تھا کہ فوج نے اپنی طاقت اور سوچ کو مجتمع کر لیا ہے۔"
(افسانہ : آخری معرکہ)
اس کے علاوہ اس جاری جنگ کے وہ اندوہناک مناظر جو اس دھرتی اور اس ملک کے باسیوں کو آئے روز دیکھنے پڑے اس غم و الم کی داستان اور کرب انگیز مناظر کو افسانوی متن میں یوں جگہ ملتی دکھائی دیتی ہے۔
" دور کہیں فضاء میں جنگی جہازوں کے بم گرانے کی آوازیں اور زمین پر گولیاں چلنے کی آوازیں ایک ساتھ مل کر اپنی غم ناک دھنیں بجا رہی تھیں ۔ جنگ اپنے عروج پر تھی اور زمین اپنا خراج انسانی خون کی شکل میں وصول کر رہی تھی۔" (افسانہ : آخری معرکہ )
" دور دور تک انسانی لاشیں اور گاڑیوں کے ادھ جلے حصے اور بموں کے شیل کے ٹکڑے پھیلے ہوئے تھے۔ درختوں کی کئی ایک بڑی شاخیں ٹوٹ کر نیچے گر چکی تھیں۔ بظاہر انسانی جان گاؤں کے اس حصے میں نا پید ہو چکی تھی۔ البتہ انہوں نے چند ایک کتوں کے بھونکنے کی آواز ضرور سنی۔"
( افسانہ : آخری معرکہ )
دہشت گردی کے علاوہ نعیم بیگ کے افسانوں میں ہمیں اس جنوب ایشیائی ملک کہ حوالے سے کہیں کہیں یوٹوپیائی منظر کشی بھی نظر آتی ہے۔ جس میں وہ اس ملک میں مساوات، امن ، بھائی چارے کا حامل ایک غیر طبقاتی معاشرہ قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ جہاں ہر انسان کو مساوی مواقع حاصل ہوں ۔ صحت تعلیم اور روزگار پر تمام کا حق تسلیم شدہ ہواور آقا و غلام کی تفریق پر مشتمل اس سماج کا بوریا بستر لپیٹ دیا گیا ہو۔ افسانہ " نیا سماج " اور " تسخیر" اسی فکر کے حامل ہیں ہاں یہ اضافہ ضرور کرنا چاہوں گا کہ انسانی رسائی اور نا رسائی کی داستان سے مکالمہ کرنے کے باعث افسانہ " تسخیر " کہیں زیادہ وسیع کینوس کا حامل ہے۔
" اگر ہم مذہب کی اساس کو لمحہ بھر کے لیے بھول جائیں اور صرف منطق و استدلال کی زبان استعمال کریں تو تب بھی انسانی عقل کی رسائی لا محدود ہے۔"
(افسانہ : تسخیر)
اہم بات یہ ہے کہ عقل و دانش کی اس لامحدویت کی حاکمیت کا دور غیر طبقاتی سماج کے قیام کے بعد ہی عمل میں لایا جا سکا اور افسانوی متن بھی اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے وہیں یہ حقیقت بھی بیان میں آتی ہے کہ کائناتی تسخیر کا عمل ہر لمحہ جاری و ساری ہے اور ابھی تک انسانی عقل کا دائرہ لامحدودیت کی حد وں کو نہیں پہنچ پایا ہے۔
" کیا علم و دانش کی وسعت اور آگہی کی رسائی ابھی دور ہے یا الوہی علوم پر غیر مرئی قدغن ہے۔"
(افسانہ : تسخیر )
نعیم بیگ کے افسانے جہاں ان خواہشات سے روشناس کرواتے ہیں جو اس خطے کی ترقی و خوشحالی کے حوالے سے ان کے دل میں موجزن ہیں وہیں وہ اس راہ میں حائل مشکلات بھی گنواتے جاتے ہیں اور یہ بات ہر ذی شعور کے علم میں ہے کہ پاک بھارت دشمنی اس راہ کا ایک بھاری پتھر ہے جو دونوں ملکوں کی ترقی کی راہ میں روکاوٹ ہے۔ لیکن "باؤنڈری لائن" پر ایک دوسرے کے سامنے سینہ تانے ایک دوسرے کو واصل جہنم و نرک کر نے کو تیار کھڑے صابر علی اور نریندر سنگھ کشمش ، چنے اور پلِے تقسیم کرکے ہمیں وہ راہ ضرور دکھا جاتے ہیں جو محبتوں کو ضرب دینے کا باعث بن سکتی ہے۔ اب کون جانے وہ دو پِلے اس دھرتی کے ہی بیٹے نہ ہوں۔؟؟؟
نعیم بیگ کو ایک ایسا کمال حاصل ہے جو ان کی فن افسانہ نگاری پر کامل دسترس کا عملی نمونہ ہے کہ وہ روایتی افسانہ نگاروں کی مانند قاری کو چونکانے میں اپنی توانائیاں صرف نہیں کرتے ۔ بلکہ وہ فنی مہارت اور چابک دستی سے کہانی کو نت نئی تلمیحات اور اشاروں سے مزین کر دیتے ہیں۔ اور کہانی کا تمام تر منظر نامہ تبدیل کرکے قاری کی سوچ کو اس راہ پر ڈال کر آگے بڑھنے کو چھوڑ دیتے ہیں جو راہ ان کی متعین کردہ ہوتی ہے۔ افسانہ (لکڑی کی دیوار )اور (حلف)ایسی ہی کہانیاں ہیں جن میں ہمیں ان کی یہ مخصوص افسانوی دسترس اور سماج کا گہرا مطالعہ دونوں ہی چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔(خط استواء) نعیم بیگ کا ایک اچھوتا اور منفرد افسانہ ہے اور ان کے افسانوی مجموعے میں یہی افسانہ میرا پسندیدہ ترین افسانہ بھی ہے اگر اسے میں آنے والے دور کا نمائندہ افسانہ قرار دوں تو غلط نہ ہو گا کہ اس افسانے میں نعیم بیگ نے کمرے کی چار دیواری اور بستر کی ناہمواری پر دکھ و کرب کے ساتھ موت کے منتظر لوگوں کے لیے آواز اٹھائی ہے اور میرا یہ ماننا ہے کہ ان کی اس پکار پر جلد یا بدیر ہرذی ہوش کو لبیک کہنا ہی ہو گا ۔ کہ کسی کو موت کے انتظار میں کرب انگیز گھڑیاں گزارنے سے اسے زندگی سے مکت کرنا بہرحال کہیں زیادہ دانش مندانہ رویہ قرار پائے گا۔
اس کے علاوہ نعیم بیگ کی کہانیاں سماج میں جنم لیتے انسانی المیوں ، دکھوں اور تنہائیوں سے بھی روشناس کرواتی ہیں اب ان تنہائیوں کی وجہ فطرت کا جبر (زرد پتے) ہو یا اس کی وجوہات کے سوتے ہمارے گھروں کی چار دیواری سے ہی کیوں نہ پھوٹتے ہوں(ہوک / آہٹ) بات انسانی جست کی ناکامی کی ہو (ڈیپارچرلاؤنج ) یا فرد کی نفسیاتی کشمکش سے روشناس کروانے والی تحریروں کی (سائے کے پیچھے / پیچھا کرتی آوازیں) نعیم بیگ ہمیں ہر ہر موضوع کو کامل دسترس کے ساتھ متن کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے افسانوی مجموعہ " پیچھا کرتی آوازیں" ایسی نت نئی رنگینیوں کا حامل ہے جو سوچ کے نئے در اور دریچے وا کرنے کے ساتھ ساتھ قاری کے جذبات اور احساسات کو بھی اتھل پتھل کرکے رکھ دیتا ہے اور قاری کو ان صفحات میں اپنا ماضی ، حال تو کہیں مستقبل دکھائی دینے لگتا ہے۔ میرے خیال میں مقصدیت سے بھرپور ادب کے تخلیق کاروں میں نعیم بیگ معاصر ادب کا ایک اہم نام ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ مستقبل میں بھی ان سے بہرا مند ہونے کا نا صرف موقع ہمیں میسر رہے گا بلکہ اردو ادب کی افسانوں روایت میں بھی نعیم بیگ کا نام افسانے کی آبرو مندی میں اضافے کا باعث بنے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشد علی
اسلام آباد ہاکستان
جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ
مورخہ : 22-03-2016

پرولتاری ادیب : تاثرات : " پیچھا کرتی آوازیں "




پرولتاری ادیب :
تاثرات :
" پیچھا کرتی آوازیں "
ولیم ورڈزورتھ نے تحریر کے بارے میں کہا تھا کہ " Fill your paper with the breathings of your heart" عالمی ادب میں جنھوں نے اپنے دل سے تحریروں کو زندگی بخشی انکے نام رہتی دنیا تک لیئے جاتے رہینگے ۔ اعلی ادبی اظہار جہاں انسانی سوچ کو نئے زاوئیے فراہم کرتا ہے وہیں ایک نئی روشن صبح سے روشناس بھی کراتا ہے ایسا ادب جہاں کسی شخص کی زندگی کا ایک اہم اور دلچسپ پہلو پیش کیا جائے جس میں ابتدا، ارتقا اور خاتمہ ہو جو انسان کو زندگی کے نئے پہلوئوں سے قریب تر کردے اسے ادبی اصطلاح میں ایک سچی اور حقیقی کہانی کہا جاتا ہے۔
مکمل افسانوی انداز لیئے یہ تحریریں اور انکے رنگ حیات آفرینی سے بھرپور ہوتے ہیں ۔جس میں کسی ایک واقع کو بنیاد بنا کر کہانی کی تشکیل کی گئی ہو اور جس میں حقیقی زندگی کے کسی ایک جز کو لے کر کہانی بُنی گئی ہو۔ جس میں وحدت ِ تاثر ہو، کہ پڑھنے کے بعد ذہن میں صرف ایک تاثر رہ جائے. رواں صدی میں ہمارے ادب نے اس حوالے سے کچھ نئی کروٹیں بدلی ہیں ۔
معاشی انقلابات نے جہاں سماج پر گہرے اثرات مرتب کیئے ہیں وہیں ادب میں جمہوری شعور کی بیداری کے وہ عناصر بھی شامل ہوگئے جس نے دنیا کا نقشہ ہی بدل ڈالا اور صدیوں کی محرومیوں ، آرزوئوں اور خوابوں کو نئے معنی عطا کردیے۔ اس حوالے سے میں جب بھی نعیم بیگ کے افسانے پڑھتا ہوں تو وہ مجھے اس معیار پر پورے اترتے دکھائی دیتے ہیں ۔ جہاں زندگی کی حقیقتیں ادب میں بڑے آب و تاب سے جلوہ گر ہیں۔
نعیم بیگ کے افسانوں کا مجموعہ " پیچھا کرتی آوازیں " انکے فنی شعور کی وہ علامتیں ہیں جو قارئین ادب کو کثیرالجہتی عنوانات اور انکی تشکیلات سے گزار کر فہم و ادراک اور معنیاتی وسعتوں کے حیرت انگیز وسیلے عطا کرتی ہیں ۔
نعیم بیگ صاحب نے اردو افسانے کو داستانوی ماحول سے نکال کر اس کا رشتہ زندگی سے قائم کیا۔ جہاں زندگی انکی کہانیوں میں سانس لیتی نظرآتی ہے ۔ ان کے افسانوں کی فضا جہاں تہذیبی مظاہر کو عمدگی سے برتتی ہے وہیں مقامی فضا اور اردگرد کے ماحول کو نئی معنویت کے ساتھ استعمال کرتی دکھائی دیتی ہے ۔ جہاں وہ شخصی اور اجتماعی لاشعور، معاشرتی صورت حال، سیاسی منظرنامے اور زندگی کے دوسرے مسائل اور وارداتوں کے بیان کی متنوع صورتیں پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
عالمگیر پیمانے پر فکرکے مضبوط دھارے موجودہ معاشی نظام پر اپنی تنقیدی گرفت کو مستحکم کرتےدکھائی دیتے ہیں ۔ کیپٹلزم کے منفی اثرات،جس کے نتیجے میں سماج کی دگرگوں حالت، ثقافتی اکھاڑپچھاڑ اور شہری صارفیت پسند نفسیات نے ادبی منظر نامے کو یکسر تبدیل کرکے رکھدیا ہے ۔ وہیں اس صورتحال میں حساس قلمکار استعماریت اور اسکی پروردہ قوتوں کو علامتی حصار میں لیکر کاونٹر کررہا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ادب میں استعماریت، جبرو استبداد، کے خلاف ایک سرد جنگ جاری ہے ۔ جسکے علامتی محاذوں پر نظریاتی دانشوروں کا پہرہ ہے۔ نعیم بیگ اس سرد جنگ میں اپنی فکری قوتوں اور شعوری امکانات کے ساتھ ڈٹے دکھائی دیتے ہیں ۔ ادب کا یہ نڈر سپاہی نا صرف میدان ادب میں جانفشانی سے لڑرہا ہے بلکہ ایک ایسی نظریاتی فورس کو بھی تربیت دے رہا ہے جو سماجی برائیوں کے خلاف سینہ سپر ہوکر لڑنے کا عزم رکھتی ہے ۔
مذکورہ کتاب نعیم بیگ کے ایسے ہی فکری رجحانات کا اظہار ہے جو ادبی خودمختاری اور جمہوری ادب کا حسن ہے ۔ "پیچھا کرتی آوازیں" نعیم بیگ صاحب کے علمی اور ادبی تجربوں سے حاصل کردہ نتائج کو اخذ اور انکے ماخذ کو سمجھنے میں ناصرف ذہنی وسعت کا باعث ہے بلکہ یہ ان تجربات کی روشنی میں ظہور پذیر کامیابیوں کودیگر سماجی اکائیوں میں بھی خوبصورتی سے منتقل کررہی ہیں۔
آج کی پوری معاشیات پراستعماری قوتوں کا قبضہ ہے۔ سرِ دست ان قوتوں کے زہرناک شکنجوں سے پوری انسانیت کو آزاد کرانا محال نظر آتا ہے اور دنیا میں کسی درجہ میں کوئی اجتماعی کوشش بھی نہیں دکھائی دیتی۔ مگر ایسے میں عالمگیر ادب جاگ رہا ہے جو اس نظام کی فراست کے آگے ایک بند باندھنے کی پوزیشن میں ہے ۔ نعیم بیگ صاحب کی بیشتر کہانیوں کے تانے بانے اسی نظام کی خرابیوں کو طشت ازبام کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ نعیم بیگ نے بہترین ادب کی ترجمانی کرتے ہوئے اس بات کے ثبوت فراہم کردیے ہیں کہ استعماریت کی گہری سیاہ رات میں بھی کاونٹر نیریٹیوسوچ اپنی پوری قوت کے ساتھ جاگ رہی ہے ۔
ایک سچا ادیب اپنے ماحول اور ملک کی حقیقی صورتحال کا آئینہ ہوتا ہے ۔ نعیم بیگ صاحب کی حب الوطنی ان کی کہانیوں میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔ انکی دوررس نگاہیں اپنے مخصوص ادب میں جن پیشنگوئیوں کا ذکر کررہی ہیں وہ قابل توجہ ہیں ۔ نعیم بیگ کے دلوں کو چھولینے والے موضوعات، انکی سیاسی فہم اور تدبر، اور ادبی فلسفیانہ روایات کے روشن پہلو میری اور تمام قارئین ادب کی سوچوں کو مہمیز کرتے رہیںگے ۔
امن، محبت، سلامتی، علاقائی اور بین الاقوامی دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور انکے کالمز کے محور ہیں ۔ وہ ادب میں اعلی قدروں کے ترجمان ہیں اسی لیئے عالمی افق پر انکی ادبی سماجی اور سیاسی خدمات کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ۔
" پیچھا کرتیں آوازیں " پسے ہوئے پرولتاری طبقے کی آہوں سسکیوں کی بازگشت ہے جسکی صدا پر نعیم بیگ کا قلم لبیک کہہ رہا ہے ۔۔۔

سید صداقت حسین ۔ کراچی
۴ اپریل، ۲۰۱۶