Friday, April 29, 2016

متوقع ناول سے ایک اقتباس مصنف نعیم بیگ


نعیم بیگ کے  متوقع ناول سے ایک اقتباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ڈاکٹر صاحب وضع دارشخص تھے لیکن ایمپرئیل ذہنیت اور ارسٹوکریٹک طبیعت رکھتے تھے ۔۔۔ جی ہاں ان کا رہن سہن بالکل ابھی تک نوابوں کی طرح ہی تھا ۔ کلینک جاتے تو ہمیشہ سوٹ میں ملبوس ہوتے ، ٹائی اور سولا ہیٹ ۔ تقریبات میں شیروانی اور سفید پاجامہ ، گھر میں وہ ہمیشہ کُرتا، پاجامہ پہنتے۔ میں کبھی کبھار خالہ کو تنہائی میں کہہ دیتا کہ انہیں یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی وہیں نواب آف رامپور کے پاس ہی چھوڑ آتیں یہاں تو گھر بھر میں سب پر رعب جھاڑتے پھرتے ہیں تو وہ مسکرا اٹھتی اور کہتی ، تماری اماں سے پوچھتی ہوں انہوں نے ایسا کیوں کیا؟
اس کی شاید ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہمارے گھر میں اماں کی حیثیت نمایاں  تھی اور انہی کا حکم چلتا تھا اور نرم مزاج ہونے کے ناتے ہمیں ممکنہ حد تک تحریر و تقریر کی آزادی تھی ، کسی حد تک بچوں کے ناز نخرے بھی اٹھائے جاتے تھے لیکن خالہ کے ہاں صورتِ حال یکسر مختلف تھی ۔ ایک تو خالو ڈاکٹر تھے یہی بڑی وجہ تھی کہ اس زمانے میں دور دور تک کسی ڈاکٹر کا موجود ہونا قابل فخر ہوتا تھا ، پھر نوابی صحبت نے انہیں بھی آدھا پونا نواب تو بنا ہی دیا تھا۔ سو گھر میں جب موجود ہوتے تو یوں لگتا جیسے کوئی دیو پھر گیا ہے۔ جنگل کی سی خاموشی میں صرف دو معصوم خواتین ایک خالہ اور دوسری انکی بیٹی نگہت ایک دوسرے سے سرگوشیوں میں باتیں کرتیں۔
 مجھے تو خیر سے چند روزہ مہمان اور گھر میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے بالکل بولنے کا حکم نہیں تھا۔ مجھ پر صرف حکم چلایا جا سکتا تھا اور سچ پوچھئے، وہ سبھی چلاتے تھے۔ میں خاموش طبع قسم کا لڑکا تھا ، بڑوں کو جواب دینا سرشت میں ہی نہ تھا، کچھ جواب بھی دینا ہوتا تو تصورِ میں جواب دیتا، حکم ملتے ہی بھاگ کر کبھی دہی لینے جاتا اور بالائی راستے میں ہی کھا آتا ، کبھی نگہت کوئی چیز لینے نزدیکی دوکان پر بھجواتیں تو بقیہ پیسوں میں سے میں اپنے لئے خود ہی کوئی چیز بطور عوضانہ تکمیلِ حکم خرید لاتا، وہ مسکراتی اور میرے گال پر چٹکی بھر لیتی۔ چونکہ اسکا کوئی چھوٹا بھائی نہ تھا لہذا میری نگہت کے ساتھ چاندنی تھی اور اسکی میرے ساتھ ، کیونکہ اسکے وہ تمام ذاتی اور خفیہ راز جو بھُٹہ صاحب ( نگہت اپنے منگیتر کو بُھٹہ صاحب ہی کہتی تھی) کے حوالے سے تھے، صرف میں ہی جانتا تھا ، عشقیہ خطوط سے لیکر تحائف  تک  کے تبادلے میرے ذریعے ہی ہوا کرتے تھے۔ 
 ہاں البتہ ڈاکٹر صاحب کی بات اور تھی وہ بڑے تھے بلکہ عمر میں تو ابا سے بھی بڑے تھے سو میرے لئے قابلِ احترام۔ ان کا حکم تھا کہ اتوار والے دن صبح شکار کے لئے جانا ہے ۔ میں تڑکے تیار ہو کر بیٹھ جاتا اور جب انکی کڑک دار آواز پڑتی ہم دونوں گھر سے پیدل نکل پڑتے۔ ڈاکٹر صاحب کے کندھے پر دو نالی شاٹ گن ہوتی اور کارتوسوں کا ایک پٹّا انہوں نے کمر کے گرد لپیٹا ہوتا ۔ گھر سے باہر ہمیشہ تیار ہو کر نکلتے۔ پینٹ تو ہمیشہ پہنتے ہی تھے نیجے جوگرز ٹائپ کے بڑے کالے جوتے ہوتے اور سر پر برطانوی طرز کا سولا ہیٹ ہوتا۔ 
 میں انکے ساتھ اسسٹنٹ کے طور پر ہوتا۔ میرے گلے میں کارتوسوں کا ایک فاضل پٹّا ہار کی طرح لٹکا دیاجاتا وہ اس لئے کہ آخری بکّل پر باندھے جانے کے باوجود بھی وہ کمر پر ڈھیلا رہتا اور بار بار نیچے لڑکتا جس سے پیدل چلنے کی رفتا پر اچھا خاصا اثر پڑتا لہذا مجھے حکم تھا کہ اس پٹے کو گلے میں ہار کی طرح پہن لیا جائے۔ کئی ایک بار خالہ جان نے گھر سے نکلتے ہوئے خالو سے سرگوشی کی یہ کارتوسوں کا پٹّا بہت بھاری ہے اس بچے پر رحم کھائیے اور اسکے لئے کوئی نیا پٹا بنوا دیں تاکہ بچے کی گردن تو محفوظ رہے لیکن ڈاکٹر صاحب کی آنکھیں دیکھ کر وہ سٹپٹا جاتیں اور خاموشی سے مجھے رخصت کر دیتیں ۔ دائیں کندھے پر ایک کپڑے کا بڑا تھیلہ جس میں ایک اور کپڑے کا تھیلہ رکھا جاتا جس میں متوقع شکار پرندے جمع  ہونے ہوتے۔ اسی تھیلے میں ایک عدد بڑی چھُری اور ایک کمانی دار چاقو جسے مجھے کھولنے کی اجازت نہیں تھی ،رکھا جاتا۔ 
 دو تین گھنٹوں کی مسافت کے بعد ہم شہر سے کئی میل دور کھیتوں میں نکل آتے اور پھر انجان منزل کی تلاش شروع ہو جاتی ۔ کبھی ڈاکٹر صاحب دائیں مڑتے اور کئی فرلانگ کے بعد پھر مزید دائیں اور مزید دائیں مڑنے کے بعد تیس چالیس منٹ میں وہیں دائرے کی صورت میں سفر کر کے پہنچ جاتے جہاں سے سفر شروع ہوا تھا اور پھر کہتے ۔ 
’’سالا ایک جیسا ٹاور لگایا ہے تمارے ابا نے ۔ نان سنس ‘‘ ۔۔۔۔
رامپوری ہونے کے باوجود انہیں انگریزوں کے لہجے میں بولنا اچھا لگتا تھا۔
 یہاں یہ وضاحت کردوں کہ ابّا محکمہ بجلی میں ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے والے انجئنیر تھے ۔۔۔ اور انکا آخری غصہ ہمیشہ انہی پر اترتا ۔ میرا خیال ہے کہ ہم زلف ہونے کے ناتے خاندانی رقابت نکالنے کا یہی بہترین موقع ہوتا۔ 
 دور کہیں بجلی کے بڑے ٹاورز کے درمیان تاروں پر بیٹھے جب پرندے نظر آتے تو مجھے زور دار آواز میں ڈانٹ دیتے کہ خاموش ہو جاؤ ۔ جبکہ میں پچھلے کئی ایک گھنٹوں سے خاموش چل رہا ہوتا تھا۔ میں مزید خاموش ہو جاتا مطلب یہ کہ دل میں جو طلسماتی یا جادوئی خیالات ابھر کر منظر بنا رہے ہوتے وہ سارے اُڑن چھو ہو جاتے ۔ اسی اثنا میں اب شِست باندھی جاتی ، فوجیوں کی طرح گھنٹوں زمین پر ٹیک دئیے جاتے ، بندوق ناک کی سیدھ میں برابر کی جاتی ، پھر ایکدم کچھ خیال آنے سے ہٹا کر کلپ ہٹا کر دیکھا جاتا کہ کارتوس بھرے ہیں کہ نہیں ۔ یہ اطمینان ہونے کے بعد یہی عمل واپس ایک بار پھر دہرایا جاتا اور سیدھی ہوتی بندوق سے فائر ہوجاتا ۔۔۔۔ ویسے یہ اکثر ہوا کہ بندوق کے فائر سے پہلے ہی کئی بار پرندے اڑ جاتے ۔ ایسی صورت میں وہ ہمیشہ خوش ہوتے کہ چلو ایک کارتوس  تو بچ گیا۔ 
 ہاں جب فائر ہو جاتا تو نتیجہ میں دو تین پرندے گھبرا کر نیچے گر جاتے اور بقیہ اڑ جاتے ۔ میرا کام دراصل اسی وقت شروع ہوتا تھا ۔ مجھے برطانوی شکاری کتے بیگل کی طرح ایک ہی جست میں ان گرے ہوئے پرندوں تک پہنچنا ہوتا تھا ۔ کھیتوں میں اگر کچھ اُگا ہوا ہے تو نیچے گرنے والے پرندوں کو تلاش کرنا اور پھُرتی سے ان کی گردنوں پر باآواز بلند تکبر کہتے ہوئے چھُری پھیرنا اور بعد ازاں معائنے کے لئے ہتھیلی پر رکھ کر ڈاکٹر صاحب کو میڈیکل ایگزامینیشن کے لئے باری باری پیش کرنا میرا اولین فرض تھا۔
 لیکن یقین جانیئے اس میں میرا کوئی قصور نہ ہوتا جب یہ ہوتا کہ اِدھر فائر ہوا اور وہیں میں شکاری کتے بِیگل کی طرح گٹ سیٹ ، ریڈی گو کی طرح بھاگ نکلتا۔ تھیلا تو وہیں پٹک دیتا اور گلے کا کارتوسوں والا پٹ خودبخود کہیں راستے میں اتر جاتا۔ حکم یہ تھا کہ موقع واردات پر چونکہ ضروری اور فوری پہنچنا ہے تو میں حکم بجا لانے میں دیر نہ کرتا۔ اب جو تڑپتے، پھڑکتے ہوئے پرندوں کو قریب سے دیکھتا تو میری روح فنا ہو جاتی اور میں پہلے سے حلق میں آئے دھڑکتے دل کے ساتھ اکثر وہیں ڈھیر ہو جاتا۔
 اب ڈاکٹر صاحب پر دوہری ذمہ داری آن پڑتی کہ وہ زخمی پرندوں کو اٹنیڈ کریں یا بے ہوش انسان کو ، بہرحال یہ کریڈٹ تو انہیں دینا پڑتا ہے کہ جب مجھے ہوش آتا تب تک کئی ایک پرندے تھیلے میں منتقل کرچکے ہوتے۔ ان کے خون آلود ہاتھوں کو دیکھ کر میں دہل سا جاتا لیکن کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔ مجھے ہوش میں آتے دیکھ کر انکا اکثر پہلا جملہ یہی ہوتا ۔ 
’’ سالا ۔۔۔ پورا کا پورا باپ پر گیا ہے ؟ بزدل کہیں کا ؟ ‘‘ 
میرا خیال ہے کہ ابّا کی بلانوشی اور آرٹ و کلچر سے محبت انہیں ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔
 انکے رقیبانہ جملے مجھے اس وقت قطعی سمجھ نہیں آتے تھے اور میں شرمندہ شرمندہ سا اٹھ کر بیٹھ جاتا اور جانفشانی سے ایک بار پھر کارتوسوں کی پٹّا گلے میں لٹکاتا اور تھیلا دائیں کندھے پر ۔۔۔ یوں ہم شام گئے شکار شدہ پرندوں کے کئی ایک تھیلے اٹھائے واپس گھر لوٹتے، مجھ غریب کے دونوں کندھوں پر دو تھیلے ہوتے، کمر یا گلے میں کارتوسوں کی پیٹی ، دونوں ہاتھ لٹکے ہوئے تھیلوں کے نیچے ہوتے کہ کہیں تھیلے نیچے سے پھٹ نہ جائیں۔ اکثر شام کا دھندلکا پھیلتے ہی اپنا سولا ہیٹ بھی مجھے پہنا دیتے ۔ اگر کوئی اس وقت مجھے دور سے دیکھتا تو یقیناًمیں ایک ایسے ناکردہ گناہوں میں ملوث ایشیائی غلام لگتا جس کے والدین نے بچے کے پیسے کھرَے کر لئے ہوں اور گورا صاحب اس غلام کو اپنے ساتھ رکھتے ہوں ۔ گھر میں داخل ہوتے ہی صحن میں سامان رکھنے کے بعد ڈاکٹر صاحب مجھے فوراً غسل کرنے بھجوا دیتے اور خود وہیں کچن میں بیٹھ کر چائے کی چُسکیاں لگاتے ہوئے میری بدحواسیوں کو خالہ جان کے سامنے یوں پیش کرتے جیسے شکار کا سارا کارنامہ میری ان بد حواسیوں کی وجہ سے ناکام ہوا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
متوقع ناول سے ایک قتباس 
مصنف نعیم بیگ 
لاہور پاکستان
جملہ حقوق محفوظ بحق مصنف 

Sunday, April 10, 2016

حِبالہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



حِبالہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(سال دوہزارانچاس عیسوی ، صحارا لیبارٹری بمقام گلوبل دارلخلافہ واشنگٹن۔۲ ، واقع ’جی۔جے ۱۸۵ ڈی سپر ارتھ (۱) ‘ فاصلہ از زمین بیس لائٹ سال۔) 
ایک زور دار دھماکے کی آواز کے ساتھ ہی سبز رنگ کا لیس دار سیال مادہ کمرے کے فرش پر چاروں طرف پھیل گیا ، مادے میں ایک منحنی سا بے جان لوتھڑا دیکھ کر شیشے کی دیوار کے پار سفید رنگ کے لباس میں پانچ نقاب پوش خواتین و مرد سائنسدانوں نے اچھل اچھل کر خوشی سے نعرے لگائے اور معانقے کئے ۔ انکی برسوں کی کوشش بارآور ہو گئی تھی، ان کے سر تفاخر سے بلند گئے۔ وہ انسانی تخلیق کے فطری نظام کو شکست دیکر ایک نئی مخلوق پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں ۔۔۔
’’کیا ہم کمرے میں داخل ہو سکتے ہیں ؟‘‘ ایک نسوانی آواز نے چیف سے پوچھا۔
’’ نہیں ابھی نہیں۔۔۔ ابھی ہم نے نومولد کی ساخت اور وقتِ نمو کی پیمائش کرنی ہے، لیزر بیم اون کر دی جائے اور زمین سے سیٹلائٹ رابطہ کر دیا جائے تاکہ ساری دنیا یہ کاروائی براہِ راست دیکھ سکیں ۔ ‘‘ چیف بولا۔ 
 لیزر بیم اور کیمرے اون کر دیئے گئے اور انکا رخ لیب ہال کے وسط میں ایستادہ شیشے کے کمرے کی طرف کر دیا گیا۔ چند لمحوں میں لوتھڑے میں حرکت ہو ئی اور اس نے تیزی سے بڑھنا شروع کر دیا۔
 الاسکا سٹیٹ لیب امریکہ کے علاوہ دنیا کے تمام بڑے ملکوں کی سائنسی لیبز سے رابطہ ہوچکا تھا اور دنیا بھر کے سائنسدان اس نئی مخلوق کو دیکھنے کے لئے اپنے اپنے ملکوں کی لیبز میں جمع تھے۔ دنیا میں رات کا آخری پہر تھا۔ پیدائش کے پہلے حصے کی ویڈیو دنیا میں پہنچ چکی تھی اور زمانے بھر کے چینل، پرنٹ میڈیا پل پل کی خبر جاری کر رہے تھے۔ 
 نو مولد جسکا نام ’گلائیز ون‘ رکھا گیا تھا، اپنی عجیب الخلقت شکل، دس دس انگلیوں کے ہاتھ پاؤں اور تین سروں سمیت تیزی سے اپنی جسامت بڑھا رہا تھا۔ صحارا لیب سے سائنس دان کہہ رہے ہیں کہ ’گلائیز ون‘ کے تحقیقی و تولیدی پروسس میں نو سال صرف ہوئے ہیں، ولادت میں صرف نو منٹ لگے ہیں، اسے مکمل جوان ہونے میں نو گھنٹے چاہیں۔ یہ نو سو سال تک زندہ رہے گا اور نو سیاروں تک اسکی رسائی ہوگی۔ ’گلائیز ون‘ کی تولید کے لئے زمین کی سب سے صحت مند ۲ ملین انڈے رکھنے والی عورت کی اوری کو اِسکی رضا سے منتخب کیا گیا تھا اور ایولیشن میں انسان کے سپرمز کے علاوہ نو بڑے حیوانات، چرند و پرند کے سپرمز جس میں سور ، بھیڑیئے ، کتا اور الّو بھی شامل ہیں، ایک ساتھ مِلا کر تجربہ کیا گیا ہے ۔’ گلائیز ون‘ کا جسم ان تمام خصوصیات سے بہرہ مند ہوگا اور وہ بلا تفریق نو سیاروں میں کسی مافوق الفطرت مخلوق کی طرح سائنسی مدد کے بغیرسفر کرسکے گا۔
 صحارا سائنسی لیب میں ’ گلائیز ون‘ کی تولید سے تکمیل ہونے کا پروسس شروع ہوتے ہی زمین پر آفات کا سلسلہ شروع ہو گیا اور نسل انسانی مٹنے لگی، زلزلوں ، سمندری طوفانوں اور سیلابوں نے ہر طرف تباہی مچا دی۔ دنیا بھر کا میڈیا اور چینل اب بیک وقت دونوں خبریں ساتھ ساتھ دکھا رہے تھے۔
 ابھی ’ گلائیز ون ‘ کو مکمل ہونے میں تین گھنٹے باقی تھے لیکن زمین پر صبح کے آثار مفقود تھے۔ رات طویل ہو چکی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں اندھیرا چھانے لگا، سورج کے طلوع ہونے کے نظام میں خرابی پیدا ہو چکی تھی زمین اپنے محور پر حرکت سے معذور ہوتی نظر آ رہی تھی۔ پوری دنیا میں بسنے والوں نے جابجا گلیوں، سڑکوں ، بازاروں میں نامعلوم اور غیر مرئی آتشیں ہیولے کتوں، بھیڑیوں اور سورؤں پر سوا ر غول کے غول شہروں میں انسانوں پر حملے اور رقص کرتے دیکھے گئے ہیں جنہیں کیمرہ محفوظ کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔
 سائنسدان حیران تھے کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ جوابی سائنسی تحقیق ابھی کوئی حتمی جواب دینے سے قاصر تھی ۔کیا تخلیقی توازن بگڑ گیا ہے ؟ یا غیر مربوط سپرمز سے غیر مرئی مخلوق سامنے آ گئی ہے۔ انسانی سپرمز نے کیوں، کب اور کیسے انکار کیا؟ ۔۔۔ سب کچھ ابہام کا شکار ہے۔ہاں البتہ سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ ’گلائیزون‘ کی تکمیل ہوتے ہی دنیا مکمل طور پر تباہ و برباد ہو جائے گی اور کسی انسان کا نشان تک نہ ہوگا۔ صرف وہی پانچ سائنسدان بچیں گے جو خلاٗ میں صحارا سائنسی لیب میں کام کر رہے ہیں۔ ان پانچ کو ’’ گلائیز ون‘‘ خود ہینڈل کرے گا۔ 
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 تشریحات:
 (۱) انڈیپنڈنٹ نیوز ( سائنس) کے عالمی مجلے ۷ مارچ ۲۰۱۵ کی تحقیق سے اٹھائے گئے کچھ نکات۔
نعیم بیگ لاہور پاکستان
۱۰ اپریل ۲۰۱۶ 
جملہ حقوق محفوظ بحق مصنف

Thursday, April 7, 2016

ماسٹر گل محمد ....... یادیں



ماسٹر گل محمد
.......................
مجھے اتنا یاد ہے کہ ملک میں اوزان، کرنسی کا اشاریہ نظام کے رائج ہونے سے پہلے کا یہ واقع ہے شاید ۱۹۵۹ یا ۱۹۶۰ کے اوائل کا ہے، جب   میں ابا کی انگلی پکڑے اسکول کی عمارت میں داخل ہوا  تو  لمحہ بھر کو ششدر رہ گیا۔ یہ کوئٹہ کے یٹ روڈ پرایستادہ گورنمنٹ پرائمری اسکول کی پرشکوہ عمارت تھی جو میرے ذہن میں آج بھی اسی طرح نقش ہے۔ آس پاس کے مکانات’ سیون ٹائپ‘ (۱) ہونے کی وجہ سے اسکول کی پیلی اینٹوں سے بنی پختہ عمارت اس وقت مجھے عالیشان محل کی طرح لگی ۔ مجھے یہاں جماعت دوئم میں داخل کرنے کے لئے لایا گیا تھا ۔ ابا کی حال ہی میں یہاں ٹرانسفر ہوئی تھی تو گھر سے قریب ترین یہی اسکول تھا۔
ضروری کاغذی کاروائی کے بعد ہیڈ ماسٹر صاحب نے جماعت دوئم کے انچارج ٹیچر کو بلایا اور مجھے انکے حوالے کرتے ہوئے ابا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں میرزا صاحب کا بیٹا ہوں میرا خاص خیال رکھا جائے۔ یہ ماسٹر گل محمد تھے ۔ سرمئی شلوار قمیض میں ملبوس دبلے پتلے سے درمیانے قد کے ساتھ انکی شخصیت مجھے بالکل عام سی لگی ۔ انہوں نے میری طرف دیکھا اور میرے کندھے پر ٹہوکہ دیتے ہوئے چلنے کا اشارہ کیا۔ مجھے کچھ عجیب سا لگا لیکن خاموش رہا۔ 
ہم دونوں ایک ساتھ ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرے سے نکل کر کوریڈور سے ہوتے ہوئے جماعت دوئم کی طرف چل پڑے ۔ کوریڈور میں کئی ایک کلاسیں جاری تھیں اور ننھے ننھے بچے جھولتے ہوئے دوسرا یا تیسراپہاڑا رٹ رہے تھے۔ بعد میں معلوم ہو ا کہ یہ بچے کچی، پکی اور جماعت اول کے طالب علم تھے جنہیں زمین پر بٹھایا جاتا ہے، ڈیسک کی سہولت جماعت دوئم سے شروع ہوتی ہے۔ ہم اپنے کمرے میں پہنچے تو میں نے دیکھا کہ کوئی تیس پینتیس لڑکے اپنے اپنے بنچ پر چڑھے مرغِ چمن وخوش الحان بنے پہاڑے رٹ رہے تھے ۔ صرف ایک فرق تھا کہ اس بار پہاڑا سات یا نو کا تھا۔ اور ایک تنومند لڑکا ہاتھ میں بید لئے کسی کو پیچھے سے نیچے نہیں ہونے دیتا ہوا انہیں ہینڈل کر رہا تھا۔ جس کا نام مجھے بعد میں آصف خان معلوم ہو ا ، یہ کلاس مانیٹر تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی ماسٹر گل محمد نے دوسری قطار میں ایک لڑکے کی پشت پر زور سے ہاتھ مارتے ہوتے اسے نیچے اترنے کو کہا جب وہ سیدھا کھڑا ہوا تو انہوں نے اسے بستے سمیت سب سے آخری نشست پر جانے کا حکم دیا اور مجھے کہا کہ یہ تماری سیٹ ہے۔ میں سیٹ پر ابھی بیٹھ ہی رہا تھا کہ انہوں نے کہا چلو بنچ پر چڑھو اور مرغا بن جاؤ۔ میں حیرت سے انہیں دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ میرا کیا قصور ہے؟ لیکن معلوم ہوا کہ یہ اس کلاس کا اصول ہے کہ جب سزا ملے گی تو اجتماعی ہی ملے گی۔ چاروناچار میں اسکول داخل ہونے کہ چند ہی لمحوں بعد مرغ بنا اس اسکول کے سنہری اصولوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔ 
کہتے ہیں کہ آپکی زندگی میں جہاں انسان اپناکردار ادا کر رہے ہوتے ہیں وہیں قدرت اپنا فطری نظام بھی ساتھ ساتھ چلا رہی ہوتی ہے ، یہی وہ وقت تھا کہ جس بنچ پر مجھے مرغا بنے کو کہا گیا وہیں میرے ساتھ بلوچستان یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر فاروق احمد مرغِ باد نما بنے اپنے بائیں بازو کی آڑ لیتے ہوئے کن انکھیوں سے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھ رہے تھے ۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ 
کافی دیر تک مرغا بنے رہنے سے جب میری ٹانگیں کپکپانے لگیں تو پیچھے والے لڑکوں نے ہنسنا شروع کر دیا ۔ میں نے دل میں سوچا کہ یہ سب تو عادی مجرم لگتے ہیں ، میں کہاں پھنس گیا ہوں ۔ یہ صورتِ حال ناجانے کب تک رہتی کہ اچانک ریسس ( آدھی چھٹی) کا گھنٹہ بج گیا اور ساری جماعت نے اپنے اپنے بنچوں سے اتر کر سکون کا سانس لیا لیکن میرے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ میں لاہور سے انگریزی ماحول میں پڑھا ہوا طالب علم تھا جہاں سزا کا تصور بالکل الگ تھا ۔ بہرکیف، ماسٹر گل محمد نے گھنٹی کی آواز سنتے ہی اپنا حاضری رجسٹر اٹھایا اور جماعت سے باہر جاتے ہوئے فاروق کی طرف معنیٰ خیز نظروں سے دیکھا ۔ فاروق نے بھی انہیں دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ اچھا یہ ان وقتوں کی بات ہے جب اسکول میں بچوں کو کسی تعارف یا دوستی کے لئے کسی رسماً علیک سلیک کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ جب ہم ساتھ ساتھ بیٹھ گئے تو یہ طے ہو رہا کہ ہم دوست ہیں۔
فاروق نے مجھ سے پوچھا ، چلو گے؟ میں نے کہا۔ کہاں ؟ تو اس نے کہا، چلو بتاتا ہوں ۔ اور یہ کہہ کر اس نے کلاس روم کے ایک کونے میں پڑی ہوئی مٹی کی صراحی اٹھائی اور مجھے ساتھ لئے باہر نکل آیا۔ 
ریسس کوئی آدھ گھنٹے کے لئے ہوتی تھی ۔ فاروق نے صراحی اٹھاتے ہوئے مجھے سے میرا تعارف پوچھا، یہ اتفاق ہی تھا کہ ہمارے گھر قریب قریب ہی تھے۔ اس نے مجھے بتایا ، یہ صراحی ماسٹر گل محمد کی ہے جو وہ گھر سے لاتے ہیں۔ دوپہر کو ہم قریبی سرکاری ٹیوب ویل سے اس میں شفاف پانی بھر کر لا دیتے ہیں جسے وہ چھٹی ہونے پر اپنے ساتھ سائیکل کے کیریئر پر باندھ کر گھر لے جاتے ہیں۔ اور اس کام پر انہوں نے دو لڑکوں کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے کہ واپسی پر دونوں لڑکے باری باری اس صراحی کو اٹھاتے ہیں انکا خیال تھا کہ کہیں کوئی لڑکا راستے میں صراحی کے بوجھ سے تھک کر اسے توڑ نہ دے۔ اس زمانے میں کوئٹہ میں شفاف پینے والے پانی کی از حد قلت ہوا کرتی تھی ( یہ بات مجھے بعد میں معلوم ہوئی )۔
میں نے کہا کہ یہ تو بہت سخت گیر ماسٹر ہیں انکا کام کیوں کرتے ہو؟ فاروق کہنے لگا ۔۔۔ ہاں یہ تو ہے لیکن دوسرے استاد ماسٹر گل محمد سے زیادہ سنگدل ہیں۔ میری ریڑھ کی ہڈی میں سر د لہر دوڑ گئی ۔ اسکول کے سخت ماحول کو دیکھ کر میرے اندر یہ خواہش جاگنے لگی کہ یا اللہ تو میرے حال پر رحم فرماٗ۔ یہ بات جب میں نے اماں کو بتائی تو اماں نے کہا اچھا اللہ پر بھروسہ رکھو کوئی سبب بنے گا۔ 
ان کی اس بات کے اندر چند روز میں ہی اسکول میں یہ اعلان ہوا کہ ’’ نارمن‘‘ (۲) والے آ رہے ہیں۔ مجھے حیرت تھی کہ یہ ’نارمن‘ والے کون ہیں؟ ۔ یہ خبر سن کر سارے اسکول کے بچے خوشی اور مسرت سے ناچنے لگے تھے۔ مجھے اب بھی نہیں معلوم کہ یہ ’’ نارمن‘‘ والے کون تھے ؟ لیکن شاید کوئی سینئر استاد اس کی مکمل تاریخ بتا سکیں۔ 
آخر کار وہ دن آگیا کہ جس دن ’نارمن‘ والوں نے اسکول کا چارج سنبھال لیا ۔ سارے اساتذہ چھٹی پر چلے گئے ماسوائے ہیڈ ماسٹر صاحب۔ ’نارمن‘ والوں جن میں گوری خواتین بھی شامل تھیں ، نے پہلے دو دن بچوں کی مدد سے سارا اسکول صاف ستھرا کیا۔ باتھ روم دھوئے گئے ۔ نئی کیاریاں بنائی گئیں۔ چند ایک خواتین نے جنہوں نے رِسس میں بچوں کو کھانے کے لئے پیکٹ بنانے کا انتظام سنبھال لیا تھا ۔ رسس میں ہمیں قطارمیں لگا کر زبردستی گرم گرم دودھ پلایا جاتا اور اسکے بعد کھانے کے پیکٹ دئیے جاتے اور مانیٹر کیا جاتا کہ ہم کھا رہے ہیں یا ضائع کر رہے ہیں۔ کلاس میں پڑھائی کا طریقِ کار بدل چکا تھا ، تصویروں سے پڑھایا جاتا۔ بنچ پر مرغ بننے کی بجائے ٹافیاں ملتیں۔ چٹھی کے وقت روزانہ کوئی نہ کوئی تھیلہ یا لفافہ تھمایا جاتا جس میں کسی وقت گھی کے بند ڈبے ہوتے جن پر دو ہاتھ ملتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، کسی وقت خشک دودھ کے سیل بند لفافے۔۔۔۔
یہ سارا ماحول کوئی دو ہفتے جاری رہا ۔ یقین کیجیئے کہ ان دنوں اسکول میں بچوں کی حاضری سو فیصد تھی۔ البتہ ایک بات دیکھی کہ دیگر اساتذہ میں واحد ماسٹر گل محمد تھے جو اِن دنوں بھی بڑی باقاعدگی سے اسکول آتے تھے اور’ نارمن‘ والوں کے ساتھ کام کرتے تھے، اور میرا خیال ہے کہ ماسٹر گل محمد ’ نارمن‘ والوں سے متاثر بھی تھے ، وضع دار اور ایماندار ہونے کے ناتے شاید وہ چھٹی کرنا پسند نہیں کرتے تھے ۔ یہ انکی شخصیت اور شرافت تھی کہ انہوں نے بعد میں بنچوں پر مرغا بنانے کی رسم ترک تو نہ کی لیکن بہت کم کر دی تھی، اور فاروق سے اسکی مودبانہ رویے کی وجہ سے انکی محبت بہت بڑھ چکی تھی ، یہ بات مجھے فاروق سے ہی معلوم ہوئی کہ انکی شادی نہ ہوئی تھی اور وہ بیچلر ہی اسکول سے ریٹائر ہو گئے تھے۔
مجھے تو چند ماہ بعد ہی واپس آنا پڑا کہ ابا دوبارہ پنجاب ٹرانسفر ہو گئے تھے لیکن کوئٹہ کے وہ چند ماہ میری زندگی کے یادگار لمحات میں بدل گئے تھے۔ اللہ غریق رحمت کرے ۔ ماسٹر گل محمد کے انتقال کی خبر بعد میں مجھے ڈاکٹر فاروق نے ہی دی تھی ۔۔۔۔ اور وہ خود ۲۰۱۰ عیسویں میں امریکہ میں قبل از ریٹائرمنٹ چل بسے تھے۔
نوٹ : یہ واقعہ کوئٹہ کے میرے پہلے قیام کی یادوں میں رچا بسا ہے ۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کے بعد مجھے کئی ایک بار کوئٹہ کی سرزمین نے پکارا اور میں حاضر ہوتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تشریحات
(۱) کوئٹہ میں زلزلہ سے بچنے کے لئے مخصوص طرز پر بنائے جانے والے مکانات کو ’ سیون ٹائپ‘ کہا جاتا ہے ۔
(۲) ’نارمن‘ والے کون تھے؟ میرا قیاس ہے کہ ان دنوں پاکستان کے امریکہ سے بڑے قریبی تعلقات تھے اور شاید یہ ’ نارمن‘ والے کسی امریکن این۔جی۔او کی نام ہی رہا ہوگا۔ 
نعیم بیگ
لاہور پاکستان 
۴ اپریل ۲۰۱۶
جملہ حقوق محفوظ بحق مصنف 

Tuesday, April 5, 2016

مستقبل شناس افسانہ نگار ................................................. پیچھا کرتی آوازیں از نعیم بیگ پر تبصرہ ارشد علی



مستقبل شناس افسانہ نگار
.................................................
پیچھا کرتی آوازیں از نعیم بیگ پر تبصرہ
ارشد علی
مارکیز نے کہا تھا کہ ادیب کچھ بھی لکھ سکتا ہے بشرطیکہ وہ اپنے قاری سے اسے منوا بھی سکے۔ مارکیز کی کہی ہوئی یہ بات جہاں ہمیں ادیب کے حاصل اظہار کے وسیع کینوئس کا پتہ دیتی ہے وہی قاری کی جانب سے قبولیت کو تحریر کی کامیابی کا حتمی معیار بھی قرار دیتی ہے۔ معاصر عہد میں قاری کی بالغ نظری سے انکار کرنا ممکن نہیں لہذا آج کا قاری جنوں، بھوتوں اور پریوں کی کہانیوں کو نہ تسلیم کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی انہیں متن ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔ بلکہ وہ سفاک سچائی کو اظہارئیے میں لانے کا خواہش مند ہے جس میں اس کے تلخ شب و روز کا عکس ہو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی حسیاتی اور جمالیاتی تسکین کا سامان بھی طلب کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے ادیب کی ذمہ داریاں بدرجہا بڑھ چکی ہیں اور قاری کی ان توقعات کو پورا نہ اترنے اور معروض سے کٹے ہونے کے باعث بیشتر ادیب قبولیت حاصل نہیں کر پاتے اور ہمیشہ تاریکیوں میں رہ کر دائمی اندھیروں میں غرق ہو جاتے ہیں۔
اگر معدودے چند ادیب ہمیں موجودہ عہد میں اس معیار پر پورے اترتے دکھائی دیتے ہیں تو نعیم بیگ کا نام ان میں اولین نمبروں پر درج کیے جانے لائق ہے ۔ جس کا ثبوت ان کا حال ہی میں اشاعت پذیر ہونے والا افسانوی مجموعہ " پیچھا کرتی آوازیں" فراہم کرتا ہے ۔ نعیم بیگ اپنے موضوعاتی تنوع اور مخصوص اسلوب ، جو نہ تو علامتوں اور تجریدیت سے بوجھل ہے اور نہ ہی سپاٹ اور سادہ بیانیے کے مماثل ہے بلکہ ان کے بین بین اپنی تشکیل کرتا دکھائی دیتا ہے، کے باعث معاصر افسانوی منظر نامے میں اپنی جداگانہ شناخت رکھتے ہیں۔ سماجی اور معاشرتی مسائل کی جھلک، حقیقت نگاری، ترقی پسندانہ فکر سے جڑت، فرد کی نفسیات کا عمیق اور گہرا مشاہدہ ، اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی اقتصادی نظام کے نتیجے میں جنم لینے والے مسائل نعیم بیگ کے افسانوں کی اساس ہیں اور وہیں ہمیں ایک بیدار مغز اور ملکی و عالمی حالات سے آگاہ صاحب بصیرت افسانہ نگار کے وجود کا پتہ دیتے ہیں۔
نعیم بیگ بطور کہانی کار پاکستان کے حوالے سے خاصے مضطرب دکھائی دیتے ہیں جس کا ثبوت ان کے افسانوں میں جا بجا دکھائی دیتا ہے۔ جہاں کہیں وہ دہشت گردی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران اورسماجی شکست و ریخت کو متن کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
" کئی ایک برسوں سے مسلسل جنگ کی صورت حال میں علاقائی اقدار ، رسم و رواج، مذہبی رواداری حتی کہ انسان دوستی تک عنقا ہو چکی تھیں۔ آج وقت کی لگام صرف دولت کے ہاتھ میں آچکی تھی اور وہی کاروبار زندگی چلا رہی تھی۔"
(افسانہ : جہاز کب آئیں گے )
"شاید یہ آخری قافلہ تھا جو اپنے پیچھے گاؤں میں صدیوں کی ہنستی بستی زندگی کو چھوڑے اپنی بھیانک ویرانیوں کی تلاش میں نکل رہا تھا۔ "
(افسانہ : جہاز کب آئیں گے )
"سواری کی کمی نے ایک ہڑبونگ مچا رکھی تھی۔ سواریوں کے کرایے ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکے تھے"
(افسانہ : جہاز کب آئیں گے )
افسانہ ہذا نہ صرف ٹوٹتی اقدار اور تباہ ہوتے سماجی ڈھانچے کو متن کر رہا ہے ۔ بلکہ اختتام تک آتے آتے یہ ایسی المیہ داستان کی صورت اختیار کر جاتاہے جس کا ستر سال سے اس ملک کا ہر باسی کردار ہے۔ اور وہ یہاں پہلے دن سے ہی مہاجرت اور آئی ،ڈی، پیز کی زندگی گزارنے پر مجبور، اور ان اڑتے پرندوں کا منتظر ہے جو امن کے پیامبر نہیں بلکہ بھوک مٹانے کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ میر ے خیال میں آئی ڈی پیز کے مخصوص پس منظر پر یہ اردو میں لکھا گیا پہلا افسانہ تھا۔ جو نعیم بیگ کی دور رس نگاہ اور گہرے عصری شعور کا پتہ دیتا ہے۔
اس سماجی شکست و ریخت کے علاوہ نعیم بیگ ہمیں قربانیوں اور عزم کی ان داستانوں سے بھی روشناس کرواتے ہیں جو ہمارے جوانمرد سپاہی مادر وطن کی خاظر اپنی جانوں کا مسلسل نذرانہ پیش کرکے دئیے جا رہے ہیں۔
" مادر وطن پر قربان ہونے والے افسر اور جوان تو بہت ہیں اور وہ یہ کارنامہ رہتی دنیا تک سر انجام دیتے رہیں گے اور شہید و غازی ہوتے ہوئے اپنے نام زندہ و جاوید کر جائیں گے۔ ہم نے یہ جنگ نہ صرف ان دہشت گردوں کے خلاف جیتنی ہے ۔ بلکہ اس ملک کی آنے والی نسلوں کو ایک سنہری تاریخ بھی دے کر جانا ہے۔"
(افسانہ : چھتا)
لیکن ان جوانوں کی قربانیاں کیوں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہیں اور یہ داستان الم کیوں جاری و ساری ہے اس کا جوا ب بھی افسانوی متن ہمیں دیتا ہے۔اور ا س سارے قضیے کی بنیادی جڑ اور سچائی کو یوں آشکار کرتا ہے۔
" اب اس علاقے کے کئی ایک حکومتی محکمے اپنی روایتی نالائقی اور لالچ کی وجہ سے دہشت گرد تحریک کی درپردہ حمایت کر رہے تھے ۔"
(افسانہ : چھتا )
افسانہ آخری معرکہ میں زیریں سطح پر نعیم بیگ اس سچائی کو بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں جو اس سارے معاملے کو حل کرنے کا باعث ہو سکتی ہے اسے ہم ان کی خواہش سے تعبیر کریں یا حتمی فیصلہ قرار دیں اس معاملے میں کوئی تبصرہ کرنے سے تاوقت حال گریز کرتاہوں۔لیکن اتنا ضرور ہے کہ یہ دہشت گردی کا ناسور صرف اور صرف اسی صورت میں جڑ سے اکھاڑ کر پھینکا جا سکتا ہے۔
" لیکن اب لگ رہا تھا کہ فوج نے اپنی طاقت اور سوچ کو مجتمع کر لیا ہے۔"
(افسانہ : آخری معرکہ)
اس کے علاوہ اس جاری جنگ کے وہ اندوہناک مناظر جو اس دھرتی اور اس ملک کے باسیوں کو آئے روز دیکھنے پڑے اس غم و الم کی داستان اور کرب انگیز مناظر کو افسانوی متن میں یوں جگہ ملتی دکھائی دیتی ہے۔
" دور کہیں فضاء میں جنگی جہازوں کے بم گرانے کی آوازیں اور زمین پر گولیاں چلنے کی آوازیں ایک ساتھ مل کر اپنی غم ناک دھنیں بجا رہی تھیں ۔ جنگ اپنے عروج پر تھی اور زمین اپنا خراج انسانی خون کی شکل میں وصول کر رہی تھی۔" (افسانہ : آخری معرکہ )
" دور دور تک انسانی لاشیں اور گاڑیوں کے ادھ جلے حصے اور بموں کے شیل کے ٹکڑے پھیلے ہوئے تھے۔ درختوں کی کئی ایک بڑی شاخیں ٹوٹ کر نیچے گر چکی تھیں۔ بظاہر انسانی جان گاؤں کے اس حصے میں نا پید ہو چکی تھی۔ البتہ انہوں نے چند ایک کتوں کے بھونکنے کی آواز ضرور سنی۔"
( افسانہ : آخری معرکہ )
دہشت گردی کے علاوہ نعیم بیگ کے افسانوں میں ہمیں اس جنوب ایشیائی ملک کہ حوالے سے کہیں کہیں یوٹوپیائی منظر کشی بھی نظر آتی ہے۔ جس میں وہ اس ملک میں مساوات، امن ، بھائی چارے کا حامل ایک غیر طبقاتی معاشرہ قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ جہاں ہر انسان کو مساوی مواقع حاصل ہوں ۔ صحت تعلیم اور روزگار پر تمام کا حق تسلیم شدہ ہواور آقا و غلام کی تفریق پر مشتمل اس سماج کا بوریا بستر لپیٹ دیا گیا ہو۔ افسانہ " نیا سماج " اور " تسخیر" اسی فکر کے حامل ہیں ہاں یہ اضافہ ضرور کرنا چاہوں گا کہ انسانی رسائی اور نا رسائی کی داستان سے مکالمہ کرنے کے باعث افسانہ " تسخیر " کہیں زیادہ وسیع کینوس کا حامل ہے۔
" اگر ہم مذہب کی اساس کو لمحہ بھر کے لیے بھول جائیں اور صرف منطق و استدلال کی زبان استعمال کریں تو تب بھی انسانی عقل کی رسائی لا محدود ہے۔"
(افسانہ : تسخیر)
اہم بات یہ ہے کہ عقل و دانش کی اس لامحدویت کی حاکمیت کا دور غیر طبقاتی سماج کے قیام کے بعد ہی عمل میں لایا جا سکا اور افسانوی متن بھی اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے وہیں یہ حقیقت بھی بیان میں آتی ہے کہ کائناتی تسخیر کا عمل ہر لمحہ جاری و ساری ہے اور ابھی تک انسانی عقل کا دائرہ لامحدودیت کی حد وں کو نہیں پہنچ پایا ہے۔
" کیا علم و دانش کی وسعت اور آگہی کی رسائی ابھی دور ہے یا الوہی علوم پر غیر مرئی قدغن ہے۔"
(افسانہ : تسخیر )
نعیم بیگ کے افسانے جہاں ان خواہشات سے روشناس کرواتے ہیں جو اس خطے کی ترقی و خوشحالی کے حوالے سے ان کے دل میں موجزن ہیں وہیں وہ اس راہ میں حائل مشکلات بھی گنواتے جاتے ہیں اور یہ بات ہر ذی شعور کے علم میں ہے کہ پاک بھارت دشمنی اس راہ کا ایک بھاری پتھر ہے جو دونوں ملکوں کی ترقی کی راہ میں روکاوٹ ہے۔ لیکن "باؤنڈری لائن" پر ایک دوسرے کے سامنے سینہ تانے ایک دوسرے کو واصل جہنم و نرک کر نے کو تیار کھڑے صابر علی اور نریندر سنگھ کشمش ، چنے اور پلِے تقسیم کرکے ہمیں وہ راہ ضرور دکھا جاتے ہیں جو محبتوں کو ضرب دینے کا باعث بن سکتی ہے۔ اب کون جانے وہ دو پِلے اس دھرتی کے ہی بیٹے نہ ہوں۔؟؟؟
نعیم بیگ کو ایک ایسا کمال حاصل ہے جو ان کی فن افسانہ نگاری پر کامل دسترس کا عملی نمونہ ہے کہ وہ روایتی افسانہ نگاروں کی مانند قاری کو چونکانے میں اپنی توانائیاں صرف نہیں کرتے ۔ بلکہ وہ فنی مہارت اور چابک دستی سے کہانی کو نت نئی تلمیحات اور اشاروں سے مزین کر دیتے ہیں۔ اور کہانی کا تمام تر منظر نامہ تبدیل کرکے قاری کی سوچ کو اس راہ پر ڈال کر آگے بڑھنے کو چھوڑ دیتے ہیں جو راہ ان کی متعین کردہ ہوتی ہے۔ افسانہ (لکڑی کی دیوار )اور (حلف)ایسی ہی کہانیاں ہیں جن میں ہمیں ان کی یہ مخصوص افسانوی دسترس اور سماج کا گہرا مطالعہ دونوں ہی چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔(خط استواء) نعیم بیگ کا ایک اچھوتا اور منفرد افسانہ ہے اور ان کے افسانوی مجموعے میں یہی افسانہ میرا پسندیدہ ترین افسانہ بھی ہے اگر اسے میں آنے والے دور کا نمائندہ افسانہ قرار دوں تو غلط نہ ہو گا کہ اس افسانے میں نعیم بیگ نے کمرے کی چار دیواری اور بستر کی ناہمواری پر دکھ و کرب کے ساتھ موت کے منتظر لوگوں کے لیے آواز اٹھائی ہے اور میرا یہ ماننا ہے کہ ان کی اس پکار پر جلد یا بدیر ہرذی ہوش کو لبیک کہنا ہی ہو گا ۔ کہ کسی کو موت کے انتظار میں کرب انگیز گھڑیاں گزارنے سے اسے زندگی سے مکت کرنا بہرحال کہیں زیادہ دانش مندانہ رویہ قرار پائے گا۔
اس کے علاوہ نعیم بیگ کی کہانیاں سماج میں جنم لیتے انسانی المیوں ، دکھوں اور تنہائیوں سے بھی روشناس کرواتی ہیں اب ان تنہائیوں کی وجہ فطرت کا جبر (زرد پتے) ہو یا اس کی وجوہات کے سوتے ہمارے گھروں کی چار دیواری سے ہی کیوں نہ پھوٹتے ہوں(ہوک / آہٹ) بات انسانی جست کی ناکامی کی ہو (ڈیپارچرلاؤنج ) یا فرد کی نفسیاتی کشمکش سے روشناس کروانے والی تحریروں کی (سائے کے پیچھے / پیچھا کرتی آوازیں) نعیم بیگ ہمیں ہر ہر موضوع کو کامل دسترس کے ساتھ متن کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے افسانوی مجموعہ " پیچھا کرتی آوازیں" ایسی نت نئی رنگینیوں کا حامل ہے جو سوچ کے نئے در اور دریچے وا کرنے کے ساتھ ساتھ قاری کے جذبات اور احساسات کو بھی اتھل پتھل کرکے رکھ دیتا ہے اور قاری کو ان صفحات میں اپنا ماضی ، حال تو کہیں مستقبل دکھائی دینے لگتا ہے۔ میرے خیال میں مقصدیت سے بھرپور ادب کے تخلیق کاروں میں نعیم بیگ معاصر ادب کا ایک اہم نام ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ مستقبل میں بھی ان سے بہرا مند ہونے کا نا صرف موقع ہمیں میسر رہے گا بلکہ اردو ادب کی افسانوں روایت میں بھی نعیم بیگ کا نام افسانے کی آبرو مندی میں اضافے کا باعث بنے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارشد علی
اسلام آباد ہاکستان
جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ
مورخہ : 22-03-2016

پرولتاری ادیب : تاثرات : " پیچھا کرتی آوازیں "




پرولتاری ادیب :
تاثرات :
" پیچھا کرتی آوازیں "
ولیم ورڈزورتھ نے تحریر کے بارے میں کہا تھا کہ " Fill your paper with the breathings of your heart" عالمی ادب میں جنھوں نے اپنے دل سے تحریروں کو زندگی بخشی انکے نام رہتی دنیا تک لیئے جاتے رہینگے ۔ اعلی ادبی اظہار جہاں انسانی سوچ کو نئے زاوئیے فراہم کرتا ہے وہیں ایک نئی روشن صبح سے روشناس بھی کراتا ہے ایسا ادب جہاں کسی شخص کی زندگی کا ایک اہم اور دلچسپ پہلو پیش کیا جائے جس میں ابتدا، ارتقا اور خاتمہ ہو جو انسان کو زندگی کے نئے پہلوئوں سے قریب تر کردے اسے ادبی اصطلاح میں ایک سچی اور حقیقی کہانی کہا جاتا ہے۔
مکمل افسانوی انداز لیئے یہ تحریریں اور انکے رنگ حیات آفرینی سے بھرپور ہوتے ہیں ۔جس میں کسی ایک واقع کو بنیاد بنا کر کہانی کی تشکیل کی گئی ہو اور جس میں حقیقی زندگی کے کسی ایک جز کو لے کر کہانی بُنی گئی ہو۔ جس میں وحدت ِ تاثر ہو، کہ پڑھنے کے بعد ذہن میں صرف ایک تاثر رہ جائے. رواں صدی میں ہمارے ادب نے اس حوالے سے کچھ نئی کروٹیں بدلی ہیں ۔
معاشی انقلابات نے جہاں سماج پر گہرے اثرات مرتب کیئے ہیں وہیں ادب میں جمہوری شعور کی بیداری کے وہ عناصر بھی شامل ہوگئے جس نے دنیا کا نقشہ ہی بدل ڈالا اور صدیوں کی محرومیوں ، آرزوئوں اور خوابوں کو نئے معنی عطا کردیے۔ اس حوالے سے میں جب بھی نعیم بیگ کے افسانے پڑھتا ہوں تو وہ مجھے اس معیار پر پورے اترتے دکھائی دیتے ہیں ۔ جہاں زندگی کی حقیقتیں ادب میں بڑے آب و تاب سے جلوہ گر ہیں۔
نعیم بیگ کے افسانوں کا مجموعہ " پیچھا کرتی آوازیں " انکے فنی شعور کی وہ علامتیں ہیں جو قارئین ادب کو کثیرالجہتی عنوانات اور انکی تشکیلات سے گزار کر فہم و ادراک اور معنیاتی وسعتوں کے حیرت انگیز وسیلے عطا کرتی ہیں ۔
نعیم بیگ صاحب نے اردو افسانے کو داستانوی ماحول سے نکال کر اس کا رشتہ زندگی سے قائم کیا۔ جہاں زندگی انکی کہانیوں میں سانس لیتی نظرآتی ہے ۔ ان کے افسانوں کی فضا جہاں تہذیبی مظاہر کو عمدگی سے برتتی ہے وہیں مقامی فضا اور اردگرد کے ماحول کو نئی معنویت کے ساتھ استعمال کرتی دکھائی دیتی ہے ۔ جہاں وہ شخصی اور اجتماعی لاشعور، معاشرتی صورت حال، سیاسی منظرنامے اور زندگی کے دوسرے مسائل اور وارداتوں کے بیان کی متنوع صورتیں پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
عالمگیر پیمانے پر فکرکے مضبوط دھارے موجودہ معاشی نظام پر اپنی تنقیدی گرفت کو مستحکم کرتےدکھائی دیتے ہیں ۔ کیپٹلزم کے منفی اثرات،جس کے نتیجے میں سماج کی دگرگوں حالت، ثقافتی اکھاڑپچھاڑ اور شہری صارفیت پسند نفسیات نے ادبی منظر نامے کو یکسر تبدیل کرکے رکھدیا ہے ۔ وہیں اس صورتحال میں حساس قلمکار استعماریت اور اسکی پروردہ قوتوں کو علامتی حصار میں لیکر کاونٹر کررہا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ادب میں استعماریت، جبرو استبداد، کے خلاف ایک سرد جنگ جاری ہے ۔ جسکے علامتی محاذوں پر نظریاتی دانشوروں کا پہرہ ہے۔ نعیم بیگ اس سرد جنگ میں اپنی فکری قوتوں اور شعوری امکانات کے ساتھ ڈٹے دکھائی دیتے ہیں ۔ ادب کا یہ نڈر سپاہی نا صرف میدان ادب میں جانفشانی سے لڑرہا ہے بلکہ ایک ایسی نظریاتی فورس کو بھی تربیت دے رہا ہے جو سماجی برائیوں کے خلاف سینہ سپر ہوکر لڑنے کا عزم رکھتی ہے ۔
مذکورہ کتاب نعیم بیگ کے ایسے ہی فکری رجحانات کا اظہار ہے جو ادبی خودمختاری اور جمہوری ادب کا حسن ہے ۔ "پیچھا کرتی آوازیں" نعیم بیگ صاحب کے علمی اور ادبی تجربوں سے حاصل کردہ نتائج کو اخذ اور انکے ماخذ کو سمجھنے میں ناصرف ذہنی وسعت کا باعث ہے بلکہ یہ ان تجربات کی روشنی میں ظہور پذیر کامیابیوں کودیگر سماجی اکائیوں میں بھی خوبصورتی سے منتقل کررہی ہیں۔
آج کی پوری معاشیات پراستعماری قوتوں کا قبضہ ہے۔ سرِ دست ان قوتوں کے زہرناک شکنجوں سے پوری انسانیت کو آزاد کرانا محال نظر آتا ہے اور دنیا میں کسی درجہ میں کوئی اجتماعی کوشش بھی نہیں دکھائی دیتی۔ مگر ایسے میں عالمگیر ادب جاگ رہا ہے جو اس نظام کی فراست کے آگے ایک بند باندھنے کی پوزیشن میں ہے ۔ نعیم بیگ صاحب کی بیشتر کہانیوں کے تانے بانے اسی نظام کی خرابیوں کو طشت ازبام کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ نعیم بیگ نے بہترین ادب کی ترجمانی کرتے ہوئے اس بات کے ثبوت فراہم کردیے ہیں کہ استعماریت کی گہری سیاہ رات میں بھی کاونٹر نیریٹیوسوچ اپنی پوری قوت کے ساتھ جاگ رہی ہے ۔
ایک سچا ادیب اپنے ماحول اور ملک کی حقیقی صورتحال کا آئینہ ہوتا ہے ۔ نعیم بیگ صاحب کی حب الوطنی ان کی کہانیوں میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔ انکی دوررس نگاہیں اپنے مخصوص ادب میں جن پیشنگوئیوں کا ذکر کررہی ہیں وہ قابل توجہ ہیں ۔ نعیم بیگ کے دلوں کو چھولینے والے موضوعات، انکی سیاسی فہم اور تدبر، اور ادبی فلسفیانہ روایات کے روشن پہلو میری اور تمام قارئین ادب کی سوچوں کو مہمیز کرتے رہیںگے ۔
امن، محبت، سلامتی، علاقائی اور بین الاقوامی دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور انکے کالمز کے محور ہیں ۔ وہ ادب میں اعلی قدروں کے ترجمان ہیں اسی لیئے عالمی افق پر انکی ادبی سماجی اور سیاسی خدمات کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ۔
" پیچھا کرتیں آوازیں " پسے ہوئے پرولتاری طبقے کی آہوں سسکیوں کی بازگشت ہے جسکی صدا پر نعیم بیگ کا قلم لبیک کہہ رہا ہے ۔۔۔

سید صداقت حسین ۔ کراچی
۴ اپریل، ۲۰۱۶