خواب میں دیکھا ہوا دن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( گوہر کے نام )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( گوہر کے نام )
کاش ایسا ہو
کبھی رات کو جلدی سوئیں
صبح اٹھیں
تو زمین پر
کسی موہوم بشارت کی طرح
اک نیا دن ہو
جسے خوف نہ ہو مرنے کا
جس کی چاہت بھری کرنوں کی سُپرداری میں
فاختاؤں کو کوئی ڈر نہ رہے، ڈرنے کا
جس کی خوشبوئی ہوئی آنکھوں کے نذرانے میں
گھر کھُلے چھوڑ کے جائیں میرے جانے والے
جز محبت نہ خریداری ہو بازاروں میں
دھوپ مامور ہو خود اپنی نگرانی پر
جبکہ تنہائی حفاظت پر ہو سنّاٹے کی
خواب ، امید کی توفیق سے بڑھ سکتا ہے
اور نیا دن تو کسی وقت بھی چڑھ سکتا ہے
کبھی رات کو جلدی سوئیں
صبح اٹھیں
تو زمین پر
کسی موہوم بشارت کی طرح
اک نیا دن ہو
جسے خوف نہ ہو مرنے کا
جس کی چاہت بھری کرنوں کی سُپرداری میں
فاختاؤں کو کوئی ڈر نہ رہے، ڈرنے کا
جس کی خوشبوئی ہوئی آنکھوں کے نذرانے میں
گھر کھُلے چھوڑ کے جائیں میرے جانے والے
جز محبت نہ خریداری ہو بازاروں میں
دھوپ مامور ہو خود اپنی نگرانی پر
جبکہ تنہائی حفاظت پر ہو سنّاٹے کی
خواب ، امید کی توفیق سے بڑھ سکتا ہے
اور نیا دن تو کسی وقت بھی چڑھ سکتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیسن مجروح
حیسن مجروح
میرزاغالب نے اپنی ایک غزل میں کہا۔۔۔۔
’’دل کو نیازِ حسرت دیدار کر چکے
دیکھا تو ہم میں طاقتِ دیدار ہی نہیں
ملنا ترا اگر نہیں آسان تو سہل ہے
دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں‘‘
دیکھا تو ہم میں طاقتِ دیدار ہی نہیں
ملنا ترا اگر نہیں آسان تو سہل ہے
دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں‘‘
اب دیکھیئے حسین مجروح کیا کہتے ہیں
’’ جبر و قدر کے کھٹ راگ سے قطع نظر، شاعری کھنڈر کی دیوار نہیں ہوتی کہ فقط گر پڑنے کے خوف سے منظر ہو کر رہ جائے، اسے تو پوری زندگی سے معاملہ ہوتا ہے یعنی وہ جسے ہم بسر کرتے ہیں اور وہ جو ہمیں گذارتی ہے۔ وقت اور کائنات کی تقویم تو شاعری کا اسمِ آعظم ہے ۔۔۔۔‘‘
’’ جبر و قدر کے کھٹ راگ سے قطع نظر، شاعری کھنڈر کی دیوار نہیں ہوتی کہ فقط گر پڑنے کے خوف سے منظر ہو کر رہ جائے، اسے تو پوری زندگی سے معاملہ ہوتا ہے یعنی وہ جسے ہم بسر کرتے ہیں اور وہ جو ہمیں گذارتی ہے۔ وقت اور کائنات کی تقویم تو شاعری کا اسمِ آعظم ہے ۔۔۔۔‘‘
یوں تو حسین مجروح کی ’’آواز‘‘ کی گونج پورے مجموعہ میں بازگشت کے طرح بار بار آکر قاری کے کانوں سےمانوس سی سرگوشیاں کرتی ہے اور اصرار کرتی ہے کہ جن نئے احساسات و تحیرات کے بیان کو شعری کاوش کے روپ میں ڈھالا گیا ہے اس کی جستجو اور دریافت ہی انسانی شعور کا پہلا قدم ہے ۔
حسین مجروح ایک بڑا شاعر ہے جو فرسودہ ، استعمال شدہ ’’ کلیشے‘‘ سے اپنے آپ کو بچاتا ہے اور اپنے فکر و خیال ، لفظوں کے حسنِ جمال ، بچھڑنے کے ملال اور کہکشاؤں کے جلال میں بھی سچ کی کسوٹی کا منظر نامہ پیش کرتا ہے۔
میں بھلا کس طرح حسین مجروح کی آواز کی اس گُنگناہٹ و غنائیت جو پوری طرح آس و زندگی سے لبریز ہے، رد کردوں کہ وہ صدیوں سے گونجتی ہوئی کھنکتی آوازوں کے سحر سے آشنا ہے اور کائنات میں پھیلی ہوئی مسحور کن جمالیاتی لطافت کا بھی جائزہ لیتا ہے ۔
حسین مجروح ایک بڑا شاعر ہے جو فرسودہ ، استعمال شدہ ’’ کلیشے‘‘ سے اپنے آپ کو بچاتا ہے اور اپنے فکر و خیال ، لفظوں کے حسنِ جمال ، بچھڑنے کے ملال اور کہکشاؤں کے جلال میں بھی سچ کی کسوٹی کا منظر نامہ پیش کرتا ہے۔
میں بھلا کس طرح حسین مجروح کی آواز کی اس گُنگناہٹ و غنائیت جو پوری طرح آس و زندگی سے لبریز ہے، رد کردوں کہ وہ صدیوں سے گونجتی ہوئی کھنکتی آوازوں کے سحر سے آشنا ہے اور کائنات میں پھیلی ہوئی مسحور کن جمالیاتی لطافت کا بھی جائزہ لیتا ہے ۔
’’جز محبت نہ خریداری ہو بازاروں میں
دھوپ مامور ہو خود اپنی نگرانی پر
جبکہ تنہائی حفاظت پر ہو سنّاٹے کی
خواب ، امید کی توفیق سے بڑھ سکتا ہے
اور نیا دن تو کسی وقت بھی چڑھ سکتا ہے‘‘
دھوپ مامور ہو خود اپنی نگرانی پر
جبکہ تنہائی حفاظت پر ہو سنّاٹے کی
خواب ، امید کی توفیق سے بڑھ سکتا ہے
اور نیا دن تو کسی وقت بھی چڑھ سکتا ہے‘‘
انسانی خمیر میں گندھا ہوا رومانوی اور جمالیاتی رنگ حسین مجروح کے مصرعوں کی شان بن جاتا ہے اور امید و آس کا ایسا منظر نامہ کھولتا ہے جہاں روشنی جگمگاتی ہوئی آپ کو نئے احساس سے روشناس کرتی ہے۔ ’خواب میں دیکھا ہوا دن‘ اسی احساس کا نام ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ
لاہور پاکستان۔
۲۴ نومبر ۲۰۱۵
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ
لاہور پاکستان۔
۲۴ نومبر ۲۰۱۵

No comments:
Post a Comment