خیر پورسندھ کی مہکتی فضاؤں میں ادبی چمن کے وہ خمیدہ کمر پیڑ اب بھی اُس کومل سی نازک نسیم کو ننھے اور معصوم شعر کہتے چشمِ تصور میں دیکھتے ہونگے۔ وہ جانتے تھے کہ الہ آباد سے چلا یہ قافلہ شعر و ادب کے قلبِ مضطر میں ڈھل چکا ہے اور نسیم سید شعر و ادب کی دنیا میں ایک نام پیدا کرنے جا رہی ہیں۔ ان کا ادبی قد جتنا بلند ہے اتنا ہی پھلوں سے لدّی اس شجر کی ٹہنیاں ہر خاص و عام تک محبت و خلوص کا پیغام بہم پہنچا رہی ہیں اور یہی ادب و انسانیت کی معراج ہے۔ دھیمے سروں میں لکھنا انکا مزاج ہے ۔
میں اسے یوں کہوں گا کہ شاعری فنِ لطیف ہے۔ اکتساب و ریاضت کی مشاطگی اس کی بار آوری میں کچھ زیادہ کارگر نہیں ہوتی۔ اسی لئے شاعری کو عطیہ الہی یا کارِ الہامی سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن شاعری کو الہام یا آمد کا نام دینے کا یہ مطلب نہیں کہ اسکا رخ زمین سے بے نیاز رہتا ہے۔ فرمان فتح پوری کہتے ہیں ’’اچھی اور سچی شاعری آسمانی ہو کر بھی ہمیشہ زمینی رہتی ہے۔ زمین ہی سے اسکا انکھوا پھوٹتا ہے وہیں پروان چڑھتا ہے اور وہیں برگ و بار لاتا ہے۔ ‘‘
نسیم سید کی شاعری اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہے۔ انکی نظمیں جہاں دکھ اور درد سے مو سوم ہوتی ہیں وہیں انسان کے باطنی رموزِ بیاں کو آشکار کرتی ہیں۔ انکی شاعری میں رومانیت ، ذات کے دکھ ، وطن کی مٹی سے محبت اورانسان دوستی نمایاں ہے۔
انکے ہاں موضوعات تازہ آہنگ اور زبان کے نئے نئے پیرائے انکی سماجی ، ذاتی ، حسیاتی اور جمالیاتی تجربوں کی تازہ کاری سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔
نسیم سید شعری تہذیب کی ایک نئی دنیا دریافت کرتی ہیں۔ میرے خیال میں انہوں نے پیش پا دور افتادہ راہوں سے گریز کر کے اپنے لئے ایک نیا جادہِ سخن تراشا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برستے رنگ
اور بھیگتے یہ سبزپیرہن
غزالِ دشت جاں دلاں !
یہ کیسا اہتمام ہے؟
کنار چشمِ نم جو سجا ہے
کوئی خواب ہے
کہ خواب کا سیراب ہے۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے یہ بھی کہنے دیجیئے کہ نسیم سید کی فکری اساس میں یہ منظر نامے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔
انکی نثری تحریریں ، افسانے اور مضامین کسی آدرش کے زیرِ اثر بنائی ہوئی جنت کا اہتمام نہیں کرتیں اور نہ ہی انہوں نے حقیقی زندگی کو کسی سراب یا روحانی طلسم کدے میں رکھ کر دیکھا۔ انہیں غالباً ان سہاروں کی ضرورت بھی نا تھی اس لئے کہ حقیقت کا فریب ہی اتنا جاذبِ نظر ہوتا ہے کہ کسی اور سمت دیکھنے ہی نہیں دیتا۔
میں اجازت چاہنے سے پہلے اس مختصر اور سنجیدہ اظہاریہ کو خیر باد کہتا ہوں اور نسیم سید کی پاکستان آمد کو خوش آئیند دیکھتا ہوں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کتنے عرصے کے بعد تشریف لائی ہیں اور دوبارہ انکی آمد کب متوقع ہے لیکن ’’ ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پہ رونق ‘‘ کے مصداق پاکستان کی شعر و ادب کی دنیا کا ایک اپنا الگ رنگ ہے۔ یہاں جملہ سامعین و حاضرین شائستہِ ادب ، نستعلیق ، باذوق بے حد و حساب سخن فہم ہیں۔ انہیں آج تک کسی گھٹیا شعر کی داد دیتے ہوئے اور شریف آدمی کی ہوٹنگ کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ہاں اگر کوئی مجھ جیسا نثر نگار یا فکشن نگار خراب افسانہ یا مضمون پڑھ کر جانے لگے تو زیادہ تالیاں بجاتے ہیں۔
جب یہ معلوم ہوا کہ اس تقریبِ رونمائی میں مجھے بھی حاضرین سے دو منٹ کا خطاب کرنا ہے تو سچ پوچھیئے میری جان نکل گئی۔ مجھ جیسے انجیو پلاسٹی شدہ دل رکھنے والے جانتے ہونگے کہ جان کیونکر اور کب نکلتی ہے۔
مشاق احمد یوسفی صاحب کہیں لکھتے ہیں انکی زبانی ہی سن لیجیئے۔۔۔ ’’ چنانچہ جب سٹیج پر آیا تو قدم پھونک پھونک کر رکھا۔ کہاں تو داد و تحسین کی طلب و تمنا ایسی کہ اگر دو تین فقروں پر تالیاں نہ بجیں تو نہ صرف منہ اتر جاتا ہے بلکہ خود بھی سٹیج سے اترنے کو جی چاہتا ہے۔ اور اللہ اللہ۔۔۔ اب یہ عالم کہ ہر ہر فقرے پر دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں کوئی درینہ دوست تازہ دشمنی کی بنیاد پر رخصتی تالی نہ بجا دے۔‘‘
سو اب رخصتی تالی بجنے سے پہلے ہی اجازت دیجیئے۔
شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بتقریب کتاب رونمائی لاہور کیفے ٹیریا ۔
نسیم سید
از نعیم بیگ لاہور پاکستان۔ جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ
مورخہ ۱۳ دسمبر ۲۰۱۴ ،

No comments:
Post a Comment