ان دیکھے حصار
(افسانوی مجموعہ سلونی از قربِ عباس )
گزشتہ سال کی یہ ایک گرم لیکن خوشگوار شام تھی۔ ایوان اقبال لاہور میں حلقہ اربابِ ذوق کا ہفتہ واری اجلاس منعقد تھا کہ حلقے کے منتظم نے نئی نسل کے ترجمان نوجوان افسانہ نگار کو اپنا افسانہ پیش کرنے کی دعوت دی تو لامبے قد کا ایک نوجوان جین اور شرٹ میں ملبوس چہرے پر عزم و یقین کے پھول سجائے بڑی بے تکلفی سے مائک کو سنبھالے سامنے آیا ۔ ابھی چند لمحے پہلے ہی اس سے میری پہلی ملاقات ایوان کی لابی میں ہوئی تھی ۔ گھنی بھنویں اور گہری چمکدار آنکھیں۔ لبوں پر طلسماتی سی مسکراہٹ اور چہرے پر ختم نہ ہونے والا تجسس۔یہ قربِ عباس تھا۔
آدمی کی بصارت پر کھُلنے والا دنیا کا منظر نامہ ، نئی خوشبو اورنئے ذائقوں سے آشنا، پلٹ کر آنے والی صدائیں جب فکری بصیرت کے ساتھ اپنی آواز اٹھاتی ہیں تو وہ قربِ عباس کی آواز سے ہم آہنگ ہو جاتی ہیں۔ جب کوئی صاحب بصیرت ، ذی فہم اور سوچنے والا نوجوان قدرت کے ظاہری انکشافات سے نکل کر حقائق کو تلاش کرتا ہے تو یہ دنیا اس پر جذبوں کی طہارت اور کائنات کے لامتناہی سفر کو اظہار کی ایک نئی راہ دیتی ہے جہاں کائنات اور انسان آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ سفر وجود سے تطہیر پاکر ان ابدی مسرتوں کی تلاش میں ہوتا ہے جہاں ’’ کن فیکون‘‘ کا جواز مل سکے۔ کائنات ایسے ہی لوگوں پر اپنے اسرار کھولتی ہے جو ظاہر کے پیرہن سے نکل کر باطن کی آواز اور اضطراب بن جاتے ہیں۔
قرب عباس کے افسانوی مجموعہ سلونی کا پہلا افسانہ اسی انسانی اسرار کی تلاش میں اردگرد کی پھیلی رنگین دنیا اور اسکی تہہ میں پوشیدہ انسانی وجود کو تلاش کرتا ہے۔ سلونی کے باقی افسانے بھی اس کی اسی تلاش کا حصہ ہیں۔ انسانی نفسیات ، اسکے فطری تقاضے سچ کی مسلسل تلاش قرب کے افسانوں کے موضوعات ہیں۔ اسکی لکھی ہوئی کہانیوں سے کشید شدہ جذبے جب فطرت کی طرف سفر کرتے ہیں تو سرِ سطح آب لفظوں کا ایک ہجوم ایک ایسی معنویت پیدا کرتا ہے جہاں زندگی اپنے منفی رویوں کے غبار سے نکل کر جاوداں ، سچے اور آفاقی پہلوؤں کی معراج بنتی ہے۔
’’سلونی‘‘ ایسی ہی کہانیوں کا مجموعہ ہے ۔ جہاں آدمیوں کا نوحہ انسان کی تحقیر کی شکل میں سامنے نہیں آتا بلکہ مادیت سے اٹے چہروں پر ایک نئی فکری سوچ کی ایسی پرچھائیں کا دعویٰ کرتا ہے جہاں انسان شرفِ انسانیت سے آگہی کی سمت دیکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ بھوک اور انصاف معاشرے کے وہ بنیادی المیے ہیں جن سے قرب ’’ پھانسی ‘‘ جیسا افسانہ کشید کرتا ہے۔ انسان کی پیدائشی اور شعوری آزادی کے فکری پہلو اور پھر اس زمین سے جڑے انسانی دکھ قرب کے افسانوں میں نمایاں حثیت رکھتے ہیں۔ وہ بورژوائی روایات کا قائل نہیں پرولتاری دنیا کے دکھ اسے زندگی کے حقیقی مسائل لگتے ہیں۔ اسی فضا میں ’’ سلام لیکم صاب جی ‘‘ جنم لیتا ہے۔ قرب نے اپنے اردگرد ایک ایسے حصار کو باندھ رکھا ہے جس سے منعکس ہوتی شعائیں انسان کی فطرت سے مراجعت کرتی نظر آتی ہیں۔ اسکے خون کی گرمی اس کے اندر تلاطم برپا رکھتی ہے لیکن وہ طوفانوں کا فکری سطح پرمقابلہ کرتے ہوئے بھی پر سکون رہتا ہے۔ ’’ برہنہ عورتوں‘‘ میں وہ کہتا ہے ۔۔۔ ’’ہماری سوچ کا نظام ، ہماری نفسیات کا نظام ، ہمارے گھر کا اور ہمارے معاشرے کا نظام اپنے آپ میں مکمل اور منظم‘‘ ۔۔۔ تو پھر وہ کیوں چیختی ہے۔ دیوانگی اس قدر کیوں بڑھ جاتی ہے۔ میں نہیں جانتا ۔۔۔ کوئی بھی نہیں جانتا۔ ‘‘
قرب یہ سوال اپنے آپ سے کرتا ہے اپنی قاری سے مکالمہ کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ان افسانوں میں اپنا دل چیر کر رکھ دیتا ہے۔ مجھے صرف اتنا کہنا ہے کہ
قرب کے افسانے اپنے اسلوب میں ایک نمایاں جدت رکھتے ہیں۔ رواں بیانیہ اس کا خاصہ ہے ۔ اس کے کردار و مکالمے دکھ کی تمازت سے پگھل کر ایک نئی شکل میں سامنے آتے ہیں ۔ بادی النظر میں یہ کہانیاں زندگی کی عام کہانیاں ہیں لیکن ان میں مخفی جدید فکر مقید ہے جو اپنے اظہار میں پختہ اور شستہ ہوجاتی ہے اور نئے انسانی فکر و عظمت کا یقین بن کر زندگی کی تحریک بن جاتی ہے۔
آج کے تھکے ہوئے انسان کا ٹوٹتا ہوا بدن جو عذاب سہہ رہا ہے وہ قربِ عباس کی کہانیوں میں پوری توانائی سے سامنے آتا ہے۔ قرب کی لفظوں تک رسائی نثر کا مان تو رکھ رہی ہے تاہم اسے ابھی بہت دور تک جانا ہے یہ دوری تقدیرِ آدم کہہ لیں یا کھوئے ہوئے انسان کی تلاش۔۔۔۔۔ بہرحال سوال کوئی بھی ہو جواب میں قرب کو اپنی شعوری اور فکری سطح اسی طرح نامعلوم کرب کے اظہار میں ملے گی۔ اپنے آپ سے نبردآزما رہنا ہی قرب کی منزل ہے اور اسکا یہ سفر ہی شائید آج کے نوجوان کا مطمعِ نظر ہے۔ قرب سے اردو ادب کا مستقبل روشن ہے اور میری نیک تمنائیں سلونی کے ساتھ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ۔ لاہور پاکستان


No comments:
Post a Comment