Thursday, March 17, 2016

اردو ادب ، تجرید و علامت میں یا عام فہم سادہ بیانیہ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردوافسانوی ادب میں تجریت علامت اور دیگر تجربات کی پرچھائیں پچاس دھائیاں پہلے سیاسی و سماجی جبر کی وجہ سے سامنے آئی تھی ، جہاں اظہار کو علامتوں، اشارے کنائیوں ، استعاروں کی ضرورت پڑی ۔ لیکن اس کا راست اثر یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ افسانے کا قاری اسکے مجہول پن ، تجرد خیالی اورمبہم تفہیم اور ترسیل کی عدم موجودگی سے ادب برائے زندگی کے ان عوامل سے دور ہوتا گیا۔ 
یہ افسانے ایک خاص نہج پر لکھے جاتے تھے اور انکا مخاطب بھی ایک خاص کلاس ہوا کرتی تھی ۔ وہ الگ بات ہے کہ عام لیکن ذہین قاری بھی اس سے ادبی حظ اٹھاتے تھے۔
پھر رفتہ رفتہ ان علامتی اور تجریدی کام میں فنی ناپختگی کی وجہ سے ابہام مزید گہرا ہو گیا ۔ اس وقت تک صرف انتظار حسین جیسے جئید افسانہ نگار ہی اساطیری داستانوں سے افسانے کشید کر تے رہے ۔۔۔ 
ادب کو حقیقت نگاری اور زندگی سے جوڑنے والے ادیب دنیا سے رخصت ہو گئے اور نئے لکھنے والوں کو یہ بات سمجھ میں آئی کی افسانوی ادب شاید اب تجرید یا علامت میں ہی لکھا جائے گا۔ جبکہ دنیا بھر میں ستر اور اسی کی دھائی اور بعد ازاں مقبول عالمی ادب گیبرئل گارشیا سے جادوئی حقیقت نگاری تک جا پہنچا تھا۔ لیکن اس میں زندگی موجود تھی ناکہ صرف فلسفہ ۔۔۔۔۔
میں اپنے تعئں سمجھتا ہوں کہ افسانوی کہانیاں جہاں بالائی سطح پر قاری کو ایک پیغام دیتی ہیں وہیں باطنی سطح پر الگ مفہوم سامنے آتا ہے ۔۔۔۔۔

’’سو کہانی کو عام قہم ، راست بیانیہ میں سطور میں اور بین السطور میں بھی ہونا لازم ہے اور وہ یہ کہ حقیقی کہانی زندگی کا فلسفہ تو ہو لیکن اس کے حقائق سے جڑت بھی رکھتی ہو۔ اور یار لوگ کہتے ہیں عمومی کلیشے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

اب یہ عمومی کلیشے ہے یا خصوصی ؟ اس پر ہم فیصلہ نہیں کرسکتے بلکہ تاریخ اور وقت فیصلہ کرتے ہیں ۔ انسان کے دکھ و درد اور ابتلاٗ کی کہانی پر پوری دنیا کا ادب اور تاریخ بھری پڑی ہے۔ اور یہی افسانوی ادب کی تحریک ہے جسے آپ سادہ و عام فہم زبان و بیانیہ میں آشکار کر سکتے ہیں ۔میں خود ایک ادنیٰ تخلیقکار کی حثیت سے سماج کی وہی صورت پینٹ کر دیتا ہوں جو نظر آتی ہے یا جو نظر آنے کا میرا وجدان رکھتی ہے ۔  (جاری ہے )  

میں نے ابھی چند روز پہلے کہیں عرض کیا تھا



""""آج کی نئی نسل کی بحث سادہ بیانیہ یا علامتی بیانیہ نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ان کی پوری تخلیقی قوت اس طاری شدہ جمود کو توڑنا ہے اور اسے صرف عام فہم زبان میں ہی توڑا جاسکتا ہے ۔ سماجی و معاشرتی سطح پر جس تیزی سے سائینس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ بدلتی بدلتی معاشی صورتِ حال نظر آ رہی ہے جس میں صارفیت کا عنصر نمایاں ہے ۔۔۔ نئی سماجی اقدار اسی معاشی ابتلاٗ سے نمودار ہو رہی ہیں جس پر عہدِ حاضر کا ادیب خاموش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اسےعلامتوں اور استعاروں سے مرقع نثری یا شعری اسلوب سے ناقابل فہم نہیں بنایا جانا چاہیئے ۔ہمارے ہاں فکشن کو کن حوالوں سے یہاں قلمایا یا برتا جا رہا ہے ابھی واضع نہیں؟
یہاں میں کوثر جمال کا ایک ماسٹر پیس جملہ پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں 
ساٹھ اور ستر کی دہائی میں تجرید اور علامت کے نام پر ایسا بہت کچھ لکھا گیا۔ جسے بعد میں خود لکھنے والوں نے بھی ’’بھولنا‘‘ چاہا، اور بہت سے واپس تخلیقی بیانیے، کہانی اور ترسیل کی طرف واپس آئے۔ ( کوثر جمال ) 

اور میں انکی رائے سے سو فیصد اتفاق کرتے ہوئے مزید یہ عرض کرونگا کہ ادبی روایات سے جڑت ہی حقیقی طور پر ادب کا سرمایہ ہوتا ہے آپ اس میں تجربات کرتے جائیں کچھ کامیاب ہونگے کچھ ناکام ہونگے، فن تجرید کسی بھی صورت میں ہو اپنی حیثیت اور مقام رکھتا ہے اور کوئی ادب کا متوالہ اس سے انکار نہیں کرتا ۔ اسی طرح ظلم و جبر کے دور میں لکھے گئے علامتی افسانے اپنے وقت میں مقبول ہوئے۔ ان میں سجاد ظہیر ، انگارے میں چھپنے والے اور بعد ازاں کئی ایک دھائیوں تک مصنفین جن میں محمود ظفر ، احمد علی ، رشید خان سے چلتے ہوئے انتظار حیسن تک آئے اور ادب کا حصہ بنے ۔ زیریں سطح پر (ترسیل اور ابلاغ کے ساتھ ) اور دوست بھی شامل ہوئے،
لیکن ایک بات طے رہی کہ منٹو سے عصمت ، بیدی ، کرشن سے احمد ندیم اور انتظار حیسن تک نے بنیادی طور پر کہانی کو پسِ پشت نہیں ڈالا ، تجرید اور علامت سے بلکہ انہیں سنوارا ۔۔۔۔ 
آخری آدمی کی یار لوگ بات کرتے ہیں کیا وہ پہیلی ہے؟ یا اسکا ابلاغ ذہن کی گم گشتہ راہ داریوں میں ہوا کے جھونکے کے انتظار میں مردہ پڑا نظر آتا ہے ۔۔۔۔
ایک ایسی تخلیق جو اپنے مقاصد ( جن میں کسی نہ کسی طور پر ابلاغ ہوتا ہے ) میں ناکام رہے تواسے کیا کہا جا سکتا ہے؟ ۔ وہ یہ الگ بات ہے کہ شکیل عادل زادہ ، نواب محی الدین (مر حوم ) ابن صفی ( مرحوم ) اور اے حمید (مرحوم ) جن کرداروں کو تخلیق کر گئے ہیں آج کے اور ادب کے نابغہ روزگار ادیب جنہیں ہم بڑے ادیب کہتے ہیں تخلیق نہ کر سکے ۔۔۔۔۔۔
میں ذاتی طور پر تجرید اور علامت کی اس چمنستانِ ادب میں قدر کرتا ہوں لیکن کوئی لکھے تو ؟ """"""
آج کل کے فیس بک نوجوان مصنفین کی دل سے قدر کرتا ہوں کہ کم از کم وہ کچھ کام کر رہے ہیں 
ابھی تک تو انہیں تجرید اور علامت کی جہات کو تلاش کرنا ہے ۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ آج کے نوجوان مصنفین پہلے تجرید اور علامتوں کے نظام سے کماحقہُ روشناس ہوں پھر اس پر بات کریں تو یقیناً قاری سراہے گا۔ 

میری ساری گزارشات تجرید یا علامت کے خلاف نہیں  بلکہ اسکی تیکنیک ، ٹریٹمنٹ ، مستند استعارے و علامت اور تجرید کے عمل گزاری سے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابلاغ بہرحال ایک ایسا نقطہ ہے جسے ہم کسی بھی تحریر سے نکال نہیں سکتے ورنہ حروف تو ڈکشنری میں بھی موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
کچی شراب جان لیوا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے نوجوان کچی شراب چھکنا چاہتے ہیں

Tuesday, March 15, 2016

ناول ’ یہ راستہ کوئی اور ہے ‘ مصنف اقبال حسن خان اشاعت جنوری ۲۰۱۶ ، کراچی تبصرہ از نعیم بیگ لاہور پاکستان



نقد و نظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
 ناول ’ یہ راستہ کوئی اور ہے ‘ مصنف اقبال حسن خان اشاعت جنوری ۲۰۱۶ ، کراچی
 تبصرہ از نعیم بیگ لاہور پاکستان

 یہ راستہ کوئی اور ہے
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 بات کچھ بھی ہو ، ہجرت کا غم کسی بھی ذی روح کے لئے اولاً امتناعی اور ثانیاً شدید اضطرابی کیفیت رکھتا ہے جس کے فکری، معاشی ، معاشرتی اور سماجی اثرات نہ صرف خود اس انسان کے لئے سوہانِ روح بنتے ہیں بلکہ اس سے منسلک تمام درو بست ، رشتے ، ناتے ، عمرانی ، سیاسی و ثقافتی سطح پر دوررس نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔ اور پھر ہجرت بھی ایسی ، جہاں لاکھوں افراد کا ہر دو طرف انخلا ، سفر کی صعوبتیں اور نفرت کے بلند ہوتے شعلے اور قتل و غارت کے معرکے جس نے انسانیت شرما دی ہو۔ 
 تقسیم ہند ، ہجرت ، انسانی ابتلاٗ اور اسکے خمیر سے اٹھتی ہوئی کہانیاں ہی وہ موضوعات ہیں جس پر اقبال حسن خان کی میں دوسری ، بلکہ یوں کہیئے کہ تیسری کتاب پڑھ رہا ہوں ۔ گو ابھی انکی اس ٹرائیلوجی میں ایک کتاب کا منصہ شہود پر نمودار ہونا باقی ہے لیکن اتفاق سے میں اسکے چیدہ چیدہ ابواب پڑھ چکا ہوں ۔۔۔۔
 اس میں انکی پہلی کتاب ، انکا ناول ’ گلیوں کے لوگ‘ ہے، جس کی پذ یرائی پاک و ہند کا نہ صرف میڈیا کر چکا ہے بلکہ نقد و نظر کے ارباب اس پر سیر حاصل بحث کر چکے ہیں۔ انکی تیسری متوقع کتاب کا ذکر انہوں نے خود ’ راج سنگھ لاہوریا‘ کے عنوان سے اسی مذکورہ ناول کی پشت پر کر دیا ہے۔
 اقبال حسن خان کا قلم ہجرت اور اس سے اٹھی ہوئی ان سینکڑوں کہانیوں میں وہ نثری لطافت اور رنگین بخیہ گری کرتا ہے جو قاری کی خود ہجر و فراق کی بیشمار طویل داستانوں اور راتوں کا پسِ منظر ہوتا ہے۔ اقبال حسن صرف لفظی پیکروں اور منسلک سیاسی تھیوریوں سے انسانی رشتوں کے بنتے بگڑتے مناظر تشکیل نہیں کرتے اور نہ ہی انکے نثری مناظر منجمد یا ساکت ہوتے ہیں ۔ انکا قلم ہمہ جہت امیجری سے بڑے   واضح اور متحرک اور حیرت سے بھرپور مناظر پیش کرتا ہے۔ سامنے سے  واضح اور متحیر تصویر بنتی ہے تو باطن میں وہی تصویر کہیں دلفریب اور کہیں دلدوز بنتی ہے۔ آگ اور ٓانسوؤں کی اس بھٹی میں ڈھلا انکا نثری فن پارہ قاری کو جکڑ لیتا ہے۔ چونکہ بنیادی طور پر انکا فن پلے رائٹ کی اس تیکنیکی مہارت سے وابستہ ہے تو اسی ہنر مندی کے نشان یہاں انکے ناولوں میں بھی ملتے ہیں۔
 میں ناول کی کہانی تو آپ کے سامنے پیش نہ کر پاؤں گا کیونکہ یہ قاری کا فطری حق ہے کہ وہ ادبی حظ اٹھانے کے لئے کسی بھی نثری یا شعری فن پارے کو خود اپنی فکری ہم آہنگی سے تفہیم دے۔ تاہم میں اس ناول میں چیدہ چیدہ امید و بیم کے حصار سے نکلی ہوئی تقدیرِ آدم کی ازلی سچائی کا ذکر ضرور کرونگا۔
 ناول ایک ایسے پلاٹ پر کھڑا کیا گیا ہے جہاں تقسیم ہند کی دنوں سے شروع ہوتی داستان اپنے عروج کو پہنچتی ہے ۔ اقبال حسن نے اسی زمین سے اٹھے عام کرداروں کو منتخب کیااور ایک ایسی کہانی تشکیل دی جو اس وقت کے سیاسی حالات اور سماجی و معاشی مصائب سے جوانمردی سے نبردآزما رہے تھے۔
 اقبال حسن نے انہی مسائل کے اندر سے کچھ اہم عمرانی و سیاسی سوالات بھی اٹھائے ہیں ۔ انکے کردار نئی قوم کے بنتے بگڑتے حالات میں بھی سیاست کی خاردار راہداریوں میں سچ بولتے رہے ۔ انہوں نے ہندوستان کی تقسیم ، پاکستان کا قیام اور متحدہ ہندوستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی سیاسی و شخصی غلطیوں کو آشکار بھی کیا ہے ۔ 
 صفحہ نمبر ۳۱۳ سے ایک اقتباس اس ناول کی اساس کی شاید وضاحت کردے۔
’’ وہ اپنا بیان دے کر مڑی، دیوار کے قریب گئی اور فریم شدہ بڑی بڑی تصویروں کے ساتھ چلتے ہوئے ایک تصویر کے قریب رک کر بولی۔
’’ ادھر آؤ ، میرے قریب۔‘‘
میں اس کے عقب میں ایک مناسب فاصلے سے کھڑا ہو گیا۔ اُس نے شاید میری قربت محسوس کر لی تھی، اسی لئے تو اِس نے گھوم کر دیکھے بغیر ایک تصویر کی طرف اشارہ کیا۔
’’ آزادی کے وقت تمیں زیادہ شعور نہیں ہوگا اور ہو سکتا ہے کہ تم ان میں سے کچھ لوگوں کو پہچان نہ سکو۔‘‘
میں نے تصویر کو غور سے دیکھا۔ میں اپنے ابا جی کی وجہ سے اُس زمانے کے اخبارات میں چھپی تصویریں دیکھتا تھا تو مجھے تصویر میں موجود چار آدمیوں میں سے تین کو پہچاننے میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ اس تصویر میں، جناح صاحب، نہرو ، ولبھ بھائی پٹیل اکھٹے تھے، چوتھی تصویر ایک باریش شخص کی تھی لیکن میں اِسے نہ پہچان سکا تو میں نے سبھی کے نام لے کر کہا۔
’’ یہ شخص کون ہے؟ مجھے یہ شکل کچھ دیکھی ہوئی سی لگتی ہے لیکن میں نام نہیں جانتا۔‘‘
وہ مسکرائی اور میری طرف گھوم کر بولی۔
’’ یہ شخص ان سب سے زیادہ سمجھدار اور مستقبل کو دیکھنے والا تھا۔ یہ مولانا آزاد ہیں۔ اگر اس تصویر میں کھڑے دوسرے تین اس کی بات مان لیتے تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا اور مذہب کے نام پر یہ نفرتیں نہ پھیلتیں اور نہ ہی یہ خِطہ ہمیشہ کے لئے بارود کے ڈھیر پر بیٹھتا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلے پیرے میں یہی کردار پھر بولتا ہے۔ ’’ ہندوستان توڑنا ایک سازش تھی، میں ہندو ہوں لیکن مجھے مسلمانوں سے ہمدردی ہے۔ تم بھی مسلمان ہو شاید تم کبھی اس بارے میں سوچو۔ یہ سامراج کا بہت ہی کاری وار تھا۔ ہندوستان کی تقسیم نے مسلمانوں کو بھی تقسیم کر دیا، لاہور اور ڈھاکہ کے درمیان گیارہ سو میل کا فاصلہ ہے یہ فاصلہ کبھی پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصوں کو ایک نہیں رہنے دیگا ۔۔۔۔۔ ‘‘
اس اقتباس سے جہاں مصنف کی فکری نہج منکشف ہوتی ہے وہیں اس ناول کی عمارت ایک ایسے معروضی حالات سے تشکیل دیتی ہوئی نظر آتی ہے جو اپنی سچائی کو جواز نہیں بناتی بلکہ بعد از قیام جو حالات سامنے آتے ہیں وہی اسکا مقصد و منشا آشکار کر دیتے ہیں، اور میرا خیال ہے کہ یہی مصنف کی کامیابی ہے۔ 
 ایک اور اہم پہلو جو اس ناول کو انتہائی اہم ، مضبوط اورکامیاب بناتا ہے ، وہ پرانی تہذیبوں سے کشید کیا ہوا صدیوں پرانا زرعی معاشرہ ہے ، جس کے دھرتی ٹیبوز اور ٹوٹم کسی نہ کسی شکل میں آج بھی ہمارے فہم و ادراک اور طرزِ فکر واحساس میں رچے بسے نظر آتے ہیں ا ور ان کی گرفت بڑی مضبوط نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’یہ راستہ کوئی اور ہے‘ کی علامتی معنوی سطح اس کا عنوان بنی کیونکہ ہم جدید زندگی کی نعمتوں سے بہرہ مند ہو کر بھی اپنے ٹیبوز کو جھٹلا نہ سکے۔ ہمارے فکر و خیال کا کوئی بھی راستہ انہیں توڑ کر باہر نہیں جا سکتا لیکن زندگی انہی ٹیبوز میں بند بھی نہیں رہ سکتی۔ راقم اس عنوان کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
 ناول کی زبان و بیانیہ حد درجہ سلیس ، عام فہم اور رواں ہے جو قاری کو دورانِ قراٗت لمحہ بھر کے لئے رکنے کو نہیں چھوڑتا اور شاید اسکی بڑی وجہ اسکا طرزِ بیانیہ ہے جو عموماً یاداشتوں کے اسلوب سے مماثلت رکھتا ہے۔ راقم نے بیشتر آٹو بائیوگرافیز اسی طرزِ نگارش پر پڑھی ہیں۔ تین سو اکاون صفحات پر لکھا گیا یہ ناول اردو ادب میں ہجرت کے موضوع پر لکھے گئے خزانے میں ایک انمول اضافہ ہے۔ 
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 نعیم بیگ لاہور پاکستان
 مورخہ ۱۵ مارچ ۲۰۱۶

Saturday, March 12, 2016

تیرہ سال آٹھ مہینے (افسانہ برا ئے تنقید)



تیرہ سال آٹھ مہینے
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ہیلو ۔۔۔ کیا آپ سریش کمار ہیں؟ ‘‘ ایک کھنکتی ہوئی نسوانی آواز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔
’’ جی ۔۔۔ میں ہی سریش کمار ہوں۔‘‘ میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔
’’ میں نگہت ارمانی ہوں۔ آپ نے مجھے پہچانا؟ آواز میں مصنوعی شگفتگی تھی ۔ وہ مجھے زردی مائل چہرے والی ایک مایوس سی عورت لگی۔
 میں بار ڈیسوزا کے ایک کونے میں بیٹھا، مدہم روشنی کی لو میں سرخ شراب کے تیسرے پیگ سے گھونٹ لے رہا تھاکہ وہ اچانک کہیں سے نکل آئی۔ 
 میں نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا لیکن میں نہ صرف اسے پہچان چکا تھا بلکہ مجھے اس کی زندگی کی پوری کتاب از بر تھی ۔ اسکا وجود میری زندگی کے حسین لمحوں میں حرفِ بے مہر ہی رہا۔ صرف اس لئے کہ وہ شوبھا کی عزیز ترین سہیلی تھی ۔ بقول شوبھا ، وہ نگہت کے بغیر ایک ادھوری کہانی اور بے برگ شجرہے۔ 
 یہ مارچ کی ایک شام تھی میں کسی دوست کی طرف سے اٹھ کر واپس گھر جا رہا تھا۔ گاڑی کی رفتار بہت کم تھی جونہی میں چوراہے پر پہنچا کہ اشارے کی سرخ بتی پر رکنا پڑا۔ میں نے رئیر ویؤ مرر میں دیکھا اور بِلا سوچے سمجھے جھٹ سے اپنی کار بائیں جانب ہوٹل شیؤن کی طرف موڑ لی اور پھر اسکے بار روم کے ایک کونے میں بیٹھ کر سرخ شراب سے شغل کرنے لگا۔ جب انسان کے پاس کرنے کو کچھ نہ ہو تو وہ ایسے ہی حادثاتی فیصلے کرتا ہے۔ 
 مجھے یاد آنے لگا کہ جب شوبھا اٹھتے بیٹھتے ہر وقت اسکی بات کرتی تھی تو کبھی کبھار میرے اندر اس سے حسد اور جلن کا جذبہ پیدا ہو جاتا ۔ میں کہتا۔۔۔’’ خدا کے لئے نگہت کو کچھ دیر کے لئے تو بھول جاؤ ۔۔۔ اب میں تمارے قریب ہوں، آؤ کچھ اور باتیں کرتے ہیں۔ وہ میرے کہنے پر موضوع بدل تو دیتی لیکن وہی ڈھاک کے تین پات ، چند لمحوں میں پھر وہی نگہت ، وہی کالج ، وہی اسکول اور اسکی بڑائیاں ۔۔۔ آپ نے اُس بچے کا لطیفہ تو سن رکھا ہوگا جو اپنے ہر مضمون میں اپنا رٹا ر ٹایا مضمون ’ میرا دوست جگدیش ‘ جوڑ دیا کرتا تھا۔ ایک دن اسکے استاد نے کہا بس۔ بہت ہوگیا اس بار تم اپنے کسی یادگار سفر کے بارے میں لکھو گے جو ملک سے باہر تھا ۔ استاد کا خیال تھا کہ اس بار بچہ ملک سے باہر کی کہانی لکھے گا تو جگدیش کا ذکر کرنا بھول جائے گا۔ لیکن کیا مجال؟ وہی ہوا بچے نے مضمون شروع کیا۔ اپنے والد کے ساتھ سفر کا آغاز ، پھر ایرپورٹ ، جہاز اور اسکے ٹیک آف کرتے باہر کا منظر نامہ جہاں اسے کھڑکی سے باہر جگدیش نظر آ جاتا ہے اور اس کے بعد وہی مضمون دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔
 سو شوبھا کا بھی یہی حال تھا۔ آپ جہاں چاہے اسے لے جائیں ، نگہت اس کے ذہن سے محو ہی نہیں ہوتی تھی ۔ مجھے یاد ہے کہ ٹائٹینک فلم دیکھتے ہوئے فلم کے کسی منظر میں کسی دوسری لڑکی کو دیکھتے ہوئے اسے پھر نگہت یاد آئی تو میں غصہ میں ہال سے باہر نکل آیا، وہ بھی میرے پیچھے باہر نکل آئی ۔ اس بار میں بڑی مشکل سے مانا تھا لیکن میں مجبور تھا ۔۔۔، دن اور رات کا ساتھ، محبت کا لفظ اس کہانی کے لئے بہت چھوٹا ہے ۔ عشق کہہ لیجیئے۔ عشق بھی ایسا جس میں اگر نگہت نکل جائے تو چمن کے اس پیڑ پر صرف ایک شاخ ہی ملے گی جس پر دو پھول جو ایک دوسرے سے منہ جوڑے سرگوشیوں میں مصروف، دن اور رات کی پروا کئے بغیر ، موسموں کی تند و تیز طوفانی لہروں سے بے نیاز ، آس پاس رہتے ہوئے انسانوں کو صرف تصویر کا ایک ساکت و جامد فریم سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے رنگوں میں رنگے نظر آئیں گے۔
 اب ایسے میں اگر نگہت ارمانی امریکہ سے آپ کے سامنے آکر یہ پوچھے کہ کیا آپ نے مجھے پہچانا؟ تو کتنا عجیب سا لگتا ہے۔
’’ نگہت ۔۔۔ میں تمیں بھلا کیسے بھول سکتا ہوں ۔ ‘‘ میں صرف اتنا ہی کہہ سکاتھا
’’ اوہ ۔ تب تو ٹھیک ہے بابا! میں تو ڈرتے ڈرتے آپکی طرف آئی تھی کہ ناجانے آپ مجھے پہچانتے بھی ہیں کہ نہیں؟ ‘‘ نگہت اس بار مجھے زیادہ سنجیدہ لگی۔ بابا کہنا اسکا تکیہ کلام تھا یہ بھی مجھے شوبھا ہی نے بتایا تھا۔ وہ شاید اپنے بچوں کو بھی بابا ہی کہتی ہوگی۔
’’ آؤ بیٹھو ۔۔۔ ‘‘ میں نے ایک کرسی گھسیٹ کر اسے اشارہ کیا۔ میں خود بے تاب تھا اس سے بات کرنے کو ، کیونکہ مجھے یقین تھا کہ یہ حادثہ اتفاقی نہیں ہے۔ وہ یقیناً شوبھاکے کہنے پر ہی مجھے ڈھونڈ رہی ہوگی ، کیونکہ یہ صرف و ہی جانتی تھی کہ میں جب بھی تنہا ہوتا ہوں تو غم غلط کرنے یہیں آتا ہوں۔ میں نے جلدی سے ویٹر کو اشارہ کیا ۔ ویٹر آیا تواس نے کافی لانے کو کہا اور ریلکس ہو کر بیٹھ گئی۔ 
 رسمی گفتگو کے بعد اس نے اچانک شوبھا کی بات چھیڑ دی۔
’’ میں صرف یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ مجھے آپ شوبھاکے بارے میں کچھ بتائیں ۔ کیا کبھی اسکی یاد آئی ؟ ‘‘ اسکے لہجے میں تجسس تھا۔
’’ نگہت تم اسکی دوست ہو میں تو اسکی زندگی میں مثلِ مسافر تھا ذرا رکے تو وہ آگے نکل گئی۔۔۔‘‘ میرا لہجہ دکھ بھرا تھا۔ ’’ کیا تم اس سے نہیں ملی اب تک ، امریکہ گئے تو اسے چار سال ہو گئے ہیں ؟ ‘ ‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔
’’ کہاں ۔۔۔ سریش!؟ امریکہ آنے کے بعد چند دن تو رابطے میں تھی لیکن پھر وہ ایسی غائب ہوئی کہ ناجانے اسے زمین کھا گئی یا آسمان؟‘‘ وہ اداس سے لہجے میں بولی۔
’’ میں نے سنا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہے ‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ اس نے آپ کو فون نہ کیا ہو؟ اسکے لہجے میں حیرت تھی۔
’’ نگہت !میں بتاتا ہوں ۔۔۔ میں ٹھہرا زمانے بھرکا ٹھکرایا ہوا شخص ۔۔۔ اسکی شوریدہ سری میری روح میں اترتی رہی اور میں سرشار ہوتا رہا ، ہم دونوں خاموش فضاؤں کی اوٹ میں چھپے اپنی روحوں کو سیراب کرتے رہے، ہم خوش تھے کہ ہم نے محبت پا لی، دراصل ہم دونوں ہی خود غرض تھے، مجھے صرف چاہت کی انتہا درکار تھی اور اسے چاہت کے ساتھ اور بھی بہت کچھ چاہیے تھا ، آخر عورت تھی نا! سو ہم نے سمجھوتا کر لیا۔ یوں ماہ و سال گزرتے گئے۔
 جب میرے پروں میں اڑنے کی سکت نہ رہی تو پھر اس نے ایک دن اچانک پنجرہ کھول دیا ۔ اس نے کہا وہ مجھے رہا کرنا چاہتی ہے ، مجھے ایک جھٹکا سالگا ۔۔۔ میرے ذہن میں پے در پے جھماکے ہونے لگے۔
’’رہائی ؟ ۔۔۔ محبت سے ، یا اس بندھن سے؟ مجھے یہ طویل اسیری اپنے حصار میں لے چکی تھی۔ میں اس قید سے رہا ہونے کو تیار نہ تھا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیااور چپ سی لگ گئی۔‘‘ نگہت ارمانی نے کافی پیتے ہوئے اپنی کہنیاں میز کے شیشے پر ٹیک لیں تھیں ۔ اسکے چہرے پر تحیر کے سایے تھے اور وہ مجھے غور سے سن رہی تھی۔ 
’’دراصل جب اس نے رہائی کی بات کی تو میں تڑپ اٹھا تھا اسکی یہ بات سن کر ، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ ایک دن یوں سب رشتے ، ناتے توڑ دے گی ۔‘‘ 
 ’’تب میں نے جی کڑا کر مسکراتے ہوئے اِسے کہا ۔ میں قید ہی کب تھا ، میں توپہلے بھی آزاد تھا اور اب بھی آزاد ہوں ۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ زندگی کے کسی موڑ پر بھی خِفت اٹھائے یا نادم ہو۔ میں صرف اتنا ہی کہہ سکا تھاکہ ایک بات جان لینا شوبھا ۔ راستے بدل لینے سے منزلیں نہیں بدل جاتیں۔ تماری اڑان کامحور میں ہی رہوں گا۔ تمارے قدم جہاں پڑیں گے وہیں تمیں میرے قدموں کے نشان نظر آئیں گے۔‘‘
یہ سب کچھ نگہت کو بتاتے ہوئے میری پلکیں شاید بھیگ چکی تھیں ، وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہی تھی لیکن خاموش تھی۔
 یہ کہہ کر میں نے سر جھکا لیا جب نگہت نے دیکھا کہ میں خاموش ہو چکا ہوں تو اس نے اپنی خاموشی توڑی ۔
’’ سریش ۔ ۔۔ تم جانتے ہو کہ شوبھاجب امریکہ سے یہاں پڑھنے آئی تھی تو اسکے پاپا نے اسکی وہیں شادی کر دی تھی اور شاید وہ اپنے شوہر کے ساتھ چند ہفتے رہی بھی تھی۔ ‘‘
یہ انکشاف میرے لئے جان لیوا تھا۔ میں نے اسے ٹوکا ’’تب اس کہانی میں ولن کون ہے۔۔۔ میں ، اسکا یا شوبھا خود؟ ‘‘ میں نے نگہت سے پوچھا اور سرخ شراب کا پیگ ایک ساتھ اندر انڈیل لیااور ویٹر کو مزید لانے کا اشارہ کر دیا۔
’’میرا خیال ہے تم اور شوبھا کا شوہر ، دونوں بے قصور ہو اور شوبھا بے چاری ۔۔۔ اسے میں کیا کہوں؟ وہ قسمت کی ماری حالات سے شکست کھا گئی۔‘‘
 ’’ اب میں تمیں بتاتی ہوں۔ جب وہ امریکہ سے یہاں فائن آرٹس میں تعلیم کے لئے آنے لگی اسِکی عمر صرف انیس برس تھی ۔ اسکے باپ نے بستر مرگ پر ہونے کی وجہ سے اسکی شادی کروا دی۔ جس کے لئے وہ ذہنی طور پر تیار نہ تھی ۔ شادی کے چند مہینوں بعد امریکہ میں اسکے پاپا کا انتقال ہوگیا اور وہ یہ صدمہ نہ سہہ سکی اور شوہر کو تعلیم کا کہہ کر یہاں آ گئی۔خاندان میں اور کوئی تھا نہیں لہذا تماری محبت نے اسے آسمان پر پہنچا دیا۔ اسے یہ ہوش ہی نہیں رہا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے۔ اسکی تعلیم تو پانچ سال میں ختم ہوگئی لیکن جب اس نے ڈاکٹریٹ کا سوچا تو میں نے اسے امریکہ یاد دِلایا لیکن اس نے کہا کہ وہ تمارے بغیر نہیں رہ سکتی اور نہ ہی تمیں چھوڑ کر جا سکتی ہے ۔۔۔۔ میں نے کہا وہ تم سے بیس سال بڑا ہے تو اس نے جواب دیا تھا تو کیا ہوا؟ لمبی اڑان کے لئے پروں کا بڑا ہونا ضروری ہے۔
 یہ وہی وقت تھا جب امریکہ مڈل ایسٹ کی جنگوں میں مصروف تھا اور وہاں کے حالات ایشیئنز کے لئے تکلیف دہ ہو چکے تھے ، شوبھا کا شوہر کس ناکردہ جرم میں پکڑا گیا۔ جب وہ کئی سال بعد جیل سے رہا ہوا تو اس نے شوبھا سے رابطہ کیا اور اسکی مدد چاہی ۔ تم جانتے ہی ہو کہ امریکی ہونے کے باوجود وہ ایک مشرقی لڑکی تھی ۔ اس نے باپ کی عزت کی لاج رکھی اور سارا بوجھ خود اٹھا لیا ۔۔۔۔ اور یوں وہ دکھوں کی گٹھری اٹھائے اپنی روح کو چار سال تڑپاتی رہی ، لیکن اپنے شوہرکو معا شی و سماجی سہارا دیا اسے دوبارہ زندگی میں داخل کردیا ۔۔۔ لیکن بے چاری اس ساری بھاگ دوڑ میں اپنے لئے وقت نہ بچا تھا۔
’’ جانے سے چند دن پہلے مجھے یہ خط دیا کہ تمیں پہنچا دوں ۔۔۔۔سو آج میں تماری تلاش میں کامیاب ہو گئی‘‘ نگہت نے اپنا بیگ کھولا اور ایک لفافہ میری طرف بڑھا دیا ۔
 میں نے لفافہ تھاما تو شوبھا کی مہک نے مجھے مدہوش سا کر دیا ، میں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے تہ کیا ہوا کاغذ کھولا۔ مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ یہ مہک اسکی چِتا کی ہے۔ 
 اس پر لکھا تھا۔ 
’’ زندگی کے یہ تیرہ سال آٹھ مہینے جنم جنم میرے ساتھ رہیں گے۔۔۔‘‘ 
مجھے ایسے لگا وہ ایک سمندر کی طرح میرے سامنے ہے اور میں اس میں گِر رہا ہوں۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



افسانہ برا ئے تنقید -