اردوافسانوی ادب میں تجریت علامت اور دیگر تجربات کی پرچھائیں پچاس دھائیاں پہلے سیاسی و سماجی جبر کی وجہ سے سامنے آئی تھی ، جہاں اظہار کو علامتوں، اشارے کنائیوں ، استعاروں کی ضرورت پڑی ۔ لیکن اس کا راست اثر یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ افسانے کا قاری اسکے مجہول پن ، تجرد خیالی اورمبہم تفہیم اور ترسیل کی عدم موجودگی سے ادب برائے زندگی کے ان عوامل سے دور ہوتا گیا۔
یہ افسانے ایک خاص نہج پر لکھے جاتے تھے اور انکا مخاطب بھی ایک خاص کلاس ہوا کرتی تھی ۔ وہ الگ بات ہے کہ عام لیکن ذہین قاری بھی اس سے ادبی حظ اٹھاتے تھے۔
پھر رفتہ رفتہ ان علامتی اور تجریدی کام میں فنی ناپختگی کی وجہ سے ابہام مزید گہرا ہو گیا ۔ اس وقت تک صرف انتظار حسین جیسے جئید افسانہ نگار ہی اساطیری داستانوں سے افسانے کشید کر تے رہے ۔۔۔
ادب کو حقیقت نگاری اور زندگی سے جوڑنے والے ادیب دنیا سے رخصت ہو گئے اور نئے لکھنے والوں کو یہ بات سمجھ میں آئی کی افسانوی ادب شاید اب تجرید یا علامت میں ہی لکھا جائے گا۔ جبکہ دنیا بھر میں ستر اور اسی کی دھائی اور بعد ازاں مقبول عالمی ادب گیبرئل گارشیا سے جادوئی حقیقت نگاری تک جا پہنچا تھا۔ لیکن اس میں زندگی موجود تھی ناکہ صرف فلسفہ ۔۔۔۔۔
میں اپنے تعئں سمجھتا ہوں کہ افسانوی کہانیاں جہاں بالائی سطح پر قاری کو ایک پیغام دیتی ہیں وہیں باطنی سطح پر الگ مفہوم سامنے آتا ہے ۔۔۔۔۔
’’سو کہانی کو عام قہم ، راست بیانیہ میں سطور میں اور بین السطور میں بھی ہونا لازم ہے اور وہ یہ کہ حقیقی کہانی زندگی کا فلسفہ تو ہو لیکن اس کے حقائق سے جڑت بھی رکھتی ہو۔ اور یار لوگ کہتے ہیں عمومی کلیشے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب یہ عمومی کلیشے ہے یا خصوصی ؟ اس پر ہم فیصلہ نہیں کرسکتے بلکہ تاریخ اور وقت فیصلہ کرتے ہیں ۔ انسان کے دکھ و درد اور ابتلاٗ کی کہانی پر پوری دنیا کا ادب اور تاریخ بھری پڑی ہے۔ اور یہی افسانوی ادب کی تحریک ہے جسے آپ سادہ و عام فہم زبان و بیانیہ میں آشکار کر سکتے ہیں ۔میں خود ایک ادنیٰ تخلیقکار کی حثیت سے سماج کی وہی صورت پینٹ کر دیتا ہوں جو نظر آتی ہے یا جو نظر آنے کا میرا وجدان رکھتی ہے ۔ (جاری ہے )
میں نے ابھی چند روز پہلے کہیں عرض کیا تھا
""""آج کی نئی نسل کی بحث سادہ بیانیہ یا علامتی بیانیہ نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ان کی پوری تخلیقی قوت اس طاری شدہ جمود کو توڑنا ہے اور اسے صرف عام فہم زبان میں ہی توڑا جاسکتا ہے ۔ سماجی و معاشرتی سطح پر جس تیزی سے سائینس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ بدلتی بدلتی معاشی صورتِ حال نظر آ رہی ہے جس میں صارفیت کا عنصر نمایاں ہے ۔۔۔ نئی سماجی اقدار اسی معاشی ابتلاٗ سے نمودار ہو رہی ہیں جس پر عہدِ حاضر کا ادیب خاموش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسےعلامتوں اور استعاروں سے مرقع نثری یا شعری اسلوب سے ناقابل فہم نہیں بنایا جانا چاہیئے ۔ہمارے ہاں فکشن کو کن حوالوں سے یہاں قلمایا یا برتا جا رہا ہے ابھی واضع نہیں؟
یہاں میں کوثر جمال کا ایک ماسٹر پیس جملہ پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں
ساٹھ اور ستر کی دہائی میں تجرید اور علامت کے نام پر ایسا بہت کچھ لکھا گیا۔ جسے بعد میں خود لکھنے والوں نے بھی ’’بھولنا‘‘ چاہا، اور بہت سے واپس تخلیقی بیانیے، کہانی اور ترسیل کی طرف واپس آئے۔ ( کوثر جمال )
اور میں انکی رائے سے سو فیصد اتفاق کرتے ہوئے مزید یہ عرض کرونگا کہ ادبی روایات سے جڑت ہی حقیقی طور پر ادب کا سرمایہ ہوتا ہے آپ اس میں تجربات کرتے جائیں کچھ کامیاب ہونگے کچھ ناکام ہونگے، فن تجرید کسی بھی صورت میں ہو اپنی حیثیت اور مقام رکھتا ہے اور کوئی ادب کا متوالہ اس سے انکار نہیں کرتا ۔ اسی طرح ظلم و جبر کے دور میں لکھے گئے علامتی افسانے اپنے وقت میں مقبول ہوئے۔ ان میں سجاد ظہیر ، انگارے میں چھپنے والے اور بعد ازاں کئی ایک دھائیوں تک مصنفین جن میں محمود ظفر ، احمد علی ، رشید خان سے چلتے ہوئے انتظار حیسن تک آئے اور ادب کا حصہ بنے ۔ زیریں سطح پر (ترسیل اور ابلاغ کے ساتھ ) اور دوست بھی شامل ہوئے،
لیکن ایک بات طے رہی کہ منٹو سے عصمت ، بیدی ، کرشن سے احمد ندیم اور انتظار حیسن تک نے بنیادی طور پر کہانی کو پسِ پشت نہیں ڈالا ، تجرید اور علامت سے بلکہ انہیں سنوارا ۔۔۔۔
آخری آدمی کی یار لوگ بات کرتے ہیں کیا وہ پہیلی ہے؟ یا اسکا ابلاغ ذہن کی گم گشتہ راہ داریوں میں ہوا کے جھونکے کے انتظار میں مردہ پڑا نظر آتا ہے ۔۔۔۔
ایک ایسی تخلیق جو اپنے مقاصد ( جن میں کسی نہ کسی طور پر ابلاغ ہوتا ہے ) میں ناکام رہے تواسے کیا کہا جا سکتا ہے؟ ۔ وہ یہ الگ بات ہے کہ شکیل عادل زادہ ، نواب محی الدین (مر حوم ) ابن صفی ( مرحوم ) اور اے حمید (مرحوم ) جن کرداروں کو تخلیق کر گئے ہیں آج کے اور ادب کے نابغہ روزگار ادیب جنہیں ہم بڑے ادیب کہتے ہیں تخلیق نہ کر سکے ۔۔۔۔۔۔
میں ذاتی طور پر تجرید اور علامت کی اس چمنستانِ ادب میں قدر کرتا ہوں لیکن کوئی لکھے تو ؟ """"""
آج کل کے فیس بک نوجوان مصنفین کی دل سے قدر کرتا ہوں کہ کم از کم وہ کچھ کام کر رہے ہیں
ابھی تک تو انہیں تجرید اور علامت کی جہات کو تلاش کرنا ہے ۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ آج کے نوجوان مصنفین پہلے تجرید اور علامتوں کے نظام سے کماحقہُ روشناس ہوں پھر اس پر بات کریں تو یقیناً قاری سراہے گا۔
میری ساری گزارشات تجرید یا علامت کے خلاف نہیں بلکہ اسکی تیکنیک ، ٹریٹمنٹ ، مستند استعارے و علامت اور تجرید کے عمل گزاری سے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابلاغ بہرحال ایک ایسا نقطہ ہے جسے ہم کسی بھی تحریر سے نکال نہیں سکتے ورنہ حروف تو ڈکشنری میں بھی موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچی شراب جان لیوا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے نوجوان کچی شراب چھکنا چاہتے ہیں

