Monday, April 22, 2019

جمہوریت یا آمریت؟ نفسیاتی جائزہ

جمہوریت یا آمریت؟ نفسیاتی جائزہ
از، نعیم بیگ
بلا کسی تمہید کے آمدم بر سرِ مطلب۔ پاکستان میں نئی “تبدیلی” کے نعرے کے بعد سماجی سٹریکچر جو بہت پہلے سے ہی بیش تر معاملات میں تنزلی کی جانب تیزی سے گر رہا تھا، اپنے انہدام کی طرف ایک نئی کروٹ لے رہا ہے۔ جمہوری ادوار میں عوامی، سماجی، معاشی اور دیگر معاملات میں (گو بادی النظر ہی سہی) ایک تکلف، خاطر داری یا رکھ رکھاؤ ہمیشہ سرکار و اہل اقتدار کی ضرورت رہی ہے۔
بھلے درونِ خانہ وہ آمرانہ فیصلہ ہی کیوں نہ ہو، لیکن اسے باقاعدہ نیشنل، صوبائی یا بلدیاتی اسمبلی سے منظور کرایا جانا قابلِ تحسین سمجھا جاتا ہے۔ ایسے اقدامات سے ملک کے اندر جو بھی اثرات نظر آئیں، عالمی سطح پر جمہوری و سافٹ امیج ضرور ابھرتا ہے اور عالمی معاملات میں ملکی توقیر و منزلت بہرحال حاصل ہوتی ہے۔ عالمی میڈیا اپنے ویسٹڈ انٹرسٹ میں اس کا اقرار کرے یا نا کرے تاہم گلوبل عوامی سطح پر یہ امیج ضرور ابھرتا ہے کہ ریاست کے ادارے جمہوریت کی علم برداری پر قائم ہیں۔
اب اِس نئے دور کی بات سن لیں۔  ابھی گزشتہ ماہ راقم نے لاہور میں مقامی پولیس افسران/ بیوروکریٹس کے ایک فیصلہ پر اپنی ناقدانہ رائے کا اظہار کیا تھا۔ اِس مضمون کا عنوان تھا اپنے ہی شہر میں ہوٹل کا کمرہ نہیں ملے گا (شائع ایک روزن) میری اِس رائے میں اختلاف کی واحد وجہ یہ تھی کہ اِکیسویں صدی میں ایک کروڑ آبادی کے شہر کے بارے میں سرکاری افسر یہ کیسے طے کر سکتا ہے کہ قانون اِس کے دفتر کی لونڈی ہے۔ کیا صرف اِسے اپنی سہولت دیکھنی ہے یا مفاد عامہ میں سوچنا ہے ۔وہ جب چاہے مفاد عامہ کے نام پر غیر مقبول قوانین ایک نوٹیفیکیشن کے تحت لاگو کر سکتا ہے۔
میرا خیال تھا کہ شاید شنوائی ہو لیکن خیر صاحبو ۔۔۔ع۔’ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں’  کے مصداق اسی طرزِ فکر کے شواہد مزید میڈیا میں سامنے آئے ہیں۔ کل ہائی کورٹ لاہور میں میں عوامی رسل و رسائل (ایم ٹو اور ایم ون) پر ایم ٹیگ کی پابندی لگائے جانے کے سلسلے میں سرکاری محکمہ نیشل ہائی وے کے خلاف ایک رِٹ کے ذریعہ اس عوامی مفاد کے خلاف اٹھایا جانے والے عمل کو چیلنج کیا گیا ہے۔
بات سیدھی سی یہ ہے یہ سرکاری محکمے کس طرح اس قسم کے فیصلے کر سکتے ہیں جو عوامی مفاد کے خلاف سامنے نظر آتے ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ اپنی مرضی کی گاڑیوں کو ایم ٹیگ کے سلسلے میں رجسٹر کر کے رسل و رسائل کی اجازت دیں گے اور باقی غیر مرضیانہ  ملکی ٹرانسپورٹ کو روک دیں گے، جب کہ اس سے پہلے تمام گاڑیاں (فٹنس کی شرط کے ساتھ) اجازت رکھتی تھیں۔ اگر کوئی “اور” وجہ ہے تو اسے عوامی پلیٹ فارمز پر ضرور ڈسکس کیا جائے۔
رجسٹر کرنے کی بات آئی ہے تو نادرا کی اہلیت تو اسی بات پر ہے کہ ابھی تک سو فیصد پاکستانی شہریوں کو وہ رجسٹر نہیں کر سکا ہے۔ ( 96٪ شہری رجسٹر ہوئے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ابھی بھی ایک کروڑ کے قریب شہری رجسٹر ہونے باقی ہیں) یاد رہے رجسٹریشن کا محکمہ 1971/1972 سے یہ فرائض سر انجام دے رہا ہے، جسے بعد میں نادرا کا نام دیا گیا۔   
آمرانہ فیصلوں کی اس بہار میں اور بھی پھول کھِل رہے ہیں۔  ایمنسٹی سکیم پر کئی ایک دنوں سے کیبنٹ کے اندر بار بار کڑی اختلاف رائے سامنے آ رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایمنسٹی سکیم پورے پاکستان کے مفاد میں یا بہت بہتر نتائج لا سکتی ہے یا اِس برے طریقے سے اس کی معاشی معاملات کو خاک برد کر دے گی۔ اس معاملے کو کیوں اسمبلی کے بند اجلاس میں کیبنٹ فیصلے سے پہلے نہیں لایا جاتا۔ کیا ہم اسے آمرانہ طرز فکر نہیں کہہ سکتے؟  
پچھلی حکومتوں نے بھی اسی طرح کے آمرانہ فیصلے کئے، جس کے منفی نتائج سے  وہ خود یا عوام آج تک نہیں نکل سکے ہیں۔ آج بھی اسی کا تسلسل ہے تو پھر نئی “تبدیلی” کہاں ہے؟ نیا جمہوری حق یا دور کہاں ہے؟
اِس ضمن میں ایک اور اخباری خبر کہ ایف بی آر کے اختیارات میں وسیع پیمانے پر توسیع کی جا رہی ہے۔ یہ خالصتاً ایک ایسا معاملہ ہے کہ جہاں بقول آپ کے بیشتر بیوروکریٹ کرپٹ ہیں یا نا اہل ہیں ۔ پچھلے آٹھ ماہ میں بیوروکریسی کی اکھاڑ پچھاڑ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیشتر افسران نالائق ہیں یا کام نہیں کر رہے ہیں یا کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔۔ کیا ایسے افسران کو مزید اختیارات دے کر پاکستان کی عوام کو انکے ہاتھوں یرغمال بننے سے کوئی روک سکتا ہے۔
کیا اِن اختیارات کے ساتھ ساتھ ان کے غلط فیصلوں پر احتساب کا کڑا قانون بھی لایا جا رہا ہے جس سے اختیارات کا نا جائز استعمال روکا جا سکے ۔ ورنہ صرف اختیارات دینا تو مزید ریٹ بڑھانے کی بات بن جائے گا۔ یہ معاملہ نیشنل اسمبلی کی کمیٹی کے سپرد ہونا چاہیے جو اس پر طے کرے کہ کتنے اختیارات بڑھائے جائیں اور پھر کیسے انھی افسروں/ اہل کاروں کو کرپشن سے روکا جائے۔  میں اپنے ایک مضمون پی ٹی آئی حکومت، کچھ تنقید، کچھ تجاویز (شائع ایک روزن) میں پہلے ہی بہت کچھ کہہ چکا ہوں۔
قصہ مختصر کہ یہ آمرانہ طرز عمل جو اب اِس حکومتی پیرا مِڈ میں نیچے کے طرف ایک چھوت کی بیماری کی طرح سفر کرتی ہوئی پہنچ رہی ہے ،عوامی اذہان کو منفی رحجانات سے متاثر کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ ایسی فکری پاراڈائم ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہے۔ اگر جملہ صاحبِ اقتدار یہ سمجھ رہے ہیں کہ اسمبلیاں ، عوامی فورمز کی اب کوئی حیثیت نہیں، تو بھلا اِن پر اربوں روپیوں کے ماہانہ اخراجات کی کیا ضرورت ہے۔ سیدھے بھاؤ کام چلائیے۔۔۔ مرکزی اور صوبائی سطح پر ایک چھوٹا سا قانونی جمہوری سیٹ اپ بنا لیں۔ اللہ اللہ خیر سلا۔

Friday, December 30, 2016

مسلم لیگ (ن) کی پلی بارگین، مفاہمت والے، اور ٹوبہ ٹیک سنگھ

مفاہمت ختم، سبق سکھا دیں گے! 
میاں صاحب مودی کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں تو کشمیریوں پر کیا گزرتی ہوگی؟
ہم نے کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کی!
ایسا نہیں ہو سکتا کہ ملک تباہ ہو جائے اور میں خاموش رہوں
(آصف علی زرداری شریک چیئرمین پیپلز پارٹی)
یہ وہ جلی سرخیاں ہیں جو ملک کے سب سے بڑے اخبار نے اپنی ۲۸ دسمبر ۲۰۱۶.ء کی اشاعت میں لگائیں۔ بظاہر ان خبروں میں جس دکھ اور درد کی لہر ہے وہ قوم کا سرمایہ ہونا چاہئے۔ لیکن ایسا کیوں نہیں ہوپاتا؟ کیوں کہ ہم ابھی تک ان سیاسی نعروں سے نہیں نکل سکے؟ مسٹر زرداری خود اختیارکردہ جلا وطنی ختم کر کے وطن واپس آ چکے ہیں؛ اور ۲۷ دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی نویں برسی پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے روایتی سیاسی نعروں پر اکتفا کیا ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کی واپسی بہر صورت ایک اچھا اقدام ہے جس سے جمہوری روایات کو جن سنگین خطرات کا سامنا تھا اورہے، سے نہ صرف نجات ملنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، بلکہ خود زرداری کی متوقع گرفتاری کو پارلیمنٹ کا مضبوط سہارا مل جائے گا۔ پیپلز پارٹی نے چار مطالبات کی جو مانگ نون لیگ کو دے رکھی ہے اس پر بلاول گزشتہ کئی ایک ہفتوں سے سیاسی جلسوں میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کا کام کر رہے تھے لیکن عوامی سطح پر شنوائی نہیں ہوئی؟
شنیدن ہے کہ عمران خان کی سولو فلائیٹ بنام پانامہ لیکس پر حکمرانوں پر خوف کے جو گہرے سائے منڈلا رہے تھے اور کئی ایک محاذوں پر شکست ہونے کے خطرات کے پیشِ نظر نون لیگ نے بظاہر اپنے حریف پیپلز پارٹی کے اعلیٰ ایوانوں میں میثاقِ جمہوریت کی دہائی دی تھی۔ جس پر پیپلز پارٹی نے بھی فوری مفادات کے حصول کے پیشِ نظر چار مطالبات سامنے رکھ دیئے تھے۔ یہ وہ لمحات تھے جہاں بیک وقت کئی ایک نتائج سامنے آنے کی صورت بھی تھی۔
پی ٹی آئی کی بدقسمتی کہ فوج اور عدالتِ عظمیٰ کے چیفس آگے پیچھے اپنی ملازمت مدت پوری ہونے پر خوف کی اَن دیکھی فضا کو ہوا میں تحلیل کر گئے۔ ایسا ہوتے ہی حکمران غیر مرئی خوف سے نکل آئے۔ عمران خان کی وقتی خاموشی ( عدالت کی اگلی پیشی ) تک پیپلز پارٹی نے حکمرانوں کو اقتدار کی سولو فلائٹ سے روکنے کے لئے اپنے شریک چیرمین کی جلاوطنی کو خیر آباد کہتے ہوئے میدان میں آنے کا عندیہ دیا۔
یہاں مسّلہ یہ تھا کہ ایشوز کیا ہونگے؟ کیا مہنگائی پر عوام اٹھیں گے؟ کیا سماجی ومعاشرتی بے انصافی پر قوم کھڑی ہو سکتی ہے؟ کیا حکومت کے خلاف پانامہ اور دیگر کرپشن کیسز پر شور مچانے سے انقلاب آ سکتا ہے؟ (یہاں انقلاب سے مراد پیپلز پارٹی کی حکومت ہے)۔ ایسا کچھ نہیں تھا۔ یہ وہ ایشوز ہیں جس کا حل اب اس سماج کی سرکردہ اکائیوں کے ساتھ ساتھ لوگوں نے انفرادی طور پر خود ہی ڈھونڈ لیاہے۔
اب معاشی ضروریات کے تحت عوامی نچلی اور درمیانی سطح تک کرپشن کوئی معانی نہیں رکھتی۔ جرائم کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار، سٹریٹ کرائم اس بات کی غمازی کرتے ہیں۔ انتہائی شریف اور باکردار لوگ بھی اپنی معاشی ضروریات کو جیسے تیسے نیم کرپشن، مٹھائی کے نام پر (آپ اسے بے ایمانی اور جھوٹ کہہ سکتے ہیں) اور ٹیکس چوری سہولیات دینے کے وعدے وعید و انفرادی چوری سے حل کر لیتے ہیں۔
رہاسماجی انصاف، تو وہ اب اس معاشرے میں بے معنی ہو گیا ہے۔ عام آدمی نے صورتِ حال سے سمجھوتا کرتے ہوئے یا تو خود انتقام لینا شروع کر دیا ہے یا پھر صبر سے کام لیتے ہوئے کسی مناسب موقع پر مخالف کو زِک یا نقصان پہنچانے کا تہیہ کر لیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق روزانہ پاکستان بھر میں اندازا دس افراد خودکشی کرتے ہیں۔ عام متوسط طبقے نے عدالتوں میں جانا چھوڑ دیا ہے۔ ہاں البتہ اعلیٰ مالی و کارپوریٹ مفادات کے لئے بڑی عدالتیں حاضر ہیں جہاں پیسے کی ریل پیل سے وکلاء حضرات ، کلائنٹ دونوں خوش ہیں۔ باقی رہا پانامہ اور دیگر کرپشن، عوام نے ایک نفسیاتی سطح پر اس خیال کو تجسیم کر دیا ہے کہ جب انہیں وقت ملے گا وہ بھی ایسا ہی کریں گے۔ جب سماجی صورتِ حال اس نہج پر ہو تو کھوکھلے سیاسی نعرے کوئی معانی نہیں رکھتے۔
یہ بد عنوانی ، بد نظمی اور سماجی سطح پر انارکی کی پہلی منزل ہے جو عمومی طور پر سماج میں سرائیت کرتے ہوئے اسے ایک معاشرے میں بدلتی ہے جہاں نفیساتی سطح بے حس اور غیر انسانی اخلاقیات سے گریز معاشرہ جنم لیتا ہے۔ عمرانی علوم اور عالمی سیاسی رحجانات کے ماہرین اس بات پر متفق ہو رہے ہیں کہ دنیا کے کئی ایک نئے ممالک میں ابتدائی انارکی کی صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے جہاں اصولِ عمرانیات کے تحت حکومتیں اپنے وجود کی موجودگی میں فیل ہو چکی ہیں۔ ان میں لاطینی امریکہ کے ممالک ایشیا کے کئی ایک ممالک جن میں برما، ہندوستان ، پاکستان، فلپائن اور مڈل ایسٹ کے کچھ خلیجی ممالک ( جو فی الحال اپنی نیم سنجیدہ معاشی مستحکم قیادت کی وجہ سے محفوظ ہیں) اور یورپی ممالک میں ترکی شامل ہیں۔ انارکی میں مبتلا دوسری سٹیج میں مغربی، مشرقی اور وسطی افریقہ کے کئی ایک ممالک بشمول سومالیہ، لیبیا، شام ، عراق ، فلسطین، افغانستان وغیرہ شامل ہیں جہاں سماجی زندگی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور لاکھوں کی تعداد میں بوجہ جنگ و جدل، اور جانی و مالی عدم تحفظ لوگ ملک چھوڑ کر دربدر ہوچکے ہیں۔
پاکستان کا ایک بڑا سنجیدہ اور مخلص دانشور طبقہ ان گہرے اندیشوں سے اٹی فضا میں بگولوں کی طرح اڑتی ہوئی دھول اور ٹاپوں کی آواز سن رہا ہے، جہاں مملکت خداداد میں انارکی کی دوسری سٹیج کے برپا ہونے کی امکانات نظر آ رہے ہیں ۔ایسے میں اگر فوری طور پر ملکی ،سیاسی و حکومتی سطح پر راست اقدامات نہیں کئے گئے تو خارجہ پالیسی کی ناکامی، عالمی تنہائی ، پڑوسیوں کی چیرہ دستیوں اور معاشی انتظام و انصرام میں لئے گئے بے کار قرضوں کی واپسی اور مملک کے ٹینجیبل اثاثوں کو عالمی اداروں کے پاس رہن کر دینے سے ہم کسی بھی عالمی تادیبی کاروائی سے نہ بچ سکیں گے اور انارکی اس حد تک پھیل جائے گی جہاں سے ریاست کی واپسی ناممکن ہو جائے گی۔ ہماری سرزمین کا طرہ امتیاز ہے کہ ہم فارغ وقت میں لہو رونے اور رلانے میں یدطولٰی رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے عام انسانی فہم و ادراک کی چیزیں بھی ہماری قیادت کو نظر نہیں آتیں۔
سی پیک میں چین کی سرمایہ کاری اور روس کی شرکت کی خواہش ہماری جغرافیائی حدود میں نئے امکانات پر روشنی ڈالتی ہے۔ وقت آ چکا ہے کہ سیاسی پارٹیاں کئی ایک دھائیوں سے اٹھنے والی بدبودار اور بوسیدہ مفاہمت یا مخالفت سمیت سیاسی شعبدہ بازیوں سے باہر نکلے۔ (جس کا امکان ابھی نہیں )۔ حقیقی ایشوز پر ایماندارانہ طرزِ فکر کے ساتھ اپنے تھنک ٹینک بٹھائے، عوامی سطح پر اندرون ملک سیاسی امکانات کا جائزہ لے۔نون لیگ اگر یہ سمجھتی ہے کہ زرداری کی آمد سے وہ پلی بارگین کی پوزیشن میں آ جائے گی تو ان کے فکری و سیاسی توازن پر افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔
منافقت ، جھوٹ اور سچ کو چھپانے کی طرزِ معاشرت گزشتہ کئی دھائیوں سے ہماری قومی جڑیں کھوکھلی کر چکی ہے۔ راقم کو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ حکمرانوں سے لے کر نچلے طبقے کی عوام تک سب ان اخلاقی برائیوں میں ملوث ہیں، جس نے سماج کے حقیقی چہرے کو مسخ کر رکھا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر ہماری بات پر کوئی یقین نہیں کرتا۔ معاشرے کا چہرہ دیکھنے کے لئے حالیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا واقع چشم کُشا ہے۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً دو کروڑ سے زائد خواتین و حضرات شراب نوشی کرتے ہیں۔ جن میں ہر طبقہ فکر کے لوگ بشمول مذہبی زعماء بھی شامل ہیں ، جو اندازاً دس سے گیارہ فیصد آبادی ہے۔ جبکہ اقلیتیں موجودہ آبادی کا صرف تین فیصد ہیں۔ ان اعداد و شمار کو عالمی میڈیا بھی پرکھ چکا ہے، وال سٹریٹ جرنل کے ٹوبہ ٹیک سنگھ واقع پر طویل مضمون نے پاکستان کے گٹر سے ڈھکنا اٹھا دیا ہے۔ جس سے پوری دنیا میں پاکستان کی منافقت اور جھوٹ پر مبنی سماج کا اصلی چہرہ سامنے آیا ہے۔
ایسی صورت میں اصلی شراب پر پابندی کو ختم کرکے اس سارے معاملہ کو بجائے مذہبی قالین کے نیچے دبا دیا جائے، کسی نئے ریگولیٹری و معاشی ادارے کے حوالے کر دینے سے کم از کم دو پہلوؤں پر مثبت نتائج سامنے آئیں گے ایک تو یقینی طور پر ٹیکسیشن کا عمل فروغ پائے گا۔ غیر ملکی انفرادی ٹورزم کی ابتدا ہوگی اور دوسرے سماجی طور پر جو ہے جیسا ہے کی بنیاد رکھ دی جائے گی۔ اس عمل کے تحت درست اعداد و شمار، درست ملکی تاریخ، تعلیمی نظام کی تشکیلِ نو بھی ممکن ہے لیکن ایسا کون کرے گا؟ کیا موجودہ یا متوقع سیاسی قیادت سماجی سطح پر یہ انقلابی قدم اٹھا سکتی ہے یہ آج کا ملین ڈالر سوال ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, August 30, 2016

نعیم بیگ کی افسانوی دنیا از دیپک بدکی(اردو ادب کے معروف محقق و نقاد ، افسانہ نگار غازی آباد انڈیا )


نعیم بیگ کی افسانوی دنیا

چند روز پہلے پاکستان کے معروف افسانہ نگار نعیم بیگ نے اپنے دو افسانوں کے مجموعے، ’یو ڈیم سالا‘ اور ’پیچھا کرتی آوازیں ‘ اپنی تمامتر محبتوں کے ساتھ بھیج دیں ۔ کتابوں پر سرسری نظر جو ڈالی تو پھر چھوڑنے کو جی نہیں چاہا اور اس طرح دونوں کتابوں کو پڑھ کر ہی دم لیا۔ ان کے علاوہ انھوں نے اپنی مرتبہ کتاب ’نئی صدی کے افسانے ‘ (حصہ اول ) اور انگریزی میں دہشت گردی کے تناظر میں لکھا ہوا ناول ’کوگن پلان ‘ (Kogon Plan)بھی عنایت کی ہیں مگر ان کے بارے میں یہاں پر اپنے تاثرات درج کرنے کا محل نہیں ہے ۔ کوگن پلان سے پہلے ان کا ایک اور انگریزی ناول ’ٹرپنگ سول ‘ ۲۰۱۰ء میں شائع ہوچکا ہے ۔ ۲۰۰۸ء تا ۲۰۱۱ء تک وہ انگریزی رسالے ’ٹیکنو بز‘ (Techno biz) سے منسلک رہے ۔ تصانیف کے بارے میں بات کرنے سے پہلے کچھ نعیم بیگ کے بارے میں بتاتا چلوں ۔ موصوف اقبال کی دھرتی لاہور میں ،جو نہ صرف علم و ثقافت کی آماج گاہ ہے بلکہ تاریخی و سیاسی اہمیت بھی رکھتی ہے،مارچ ۱۹۵۲ء میں پیدا ہوئے ، گوجرانوالہ اورلاہور میں تعلیم پانے کے بعد بلوچستان یونیورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ ۱۹۷۵ء میں بنک میں ملازم ہوگئے اور وہیں پر وائس پریذیڈنٹ و ڈپٹی جنرل منیجر کے عہدے سے ریٹائر منٹ لے لی اور پھر منیجمنٹ اور فائنانس کنسلٹنسی کرنے لگے ۔علاوہ ازیں ان کا تخلیقی شعور ان کو ادب کی طرف راغب کرتا رہا جس کا ثمران کی یہ گراں بہا تخلیقات ہیں ۔ تاریخ ، ثقافت ، علم فنون اور فلسفہ میں ان کی دلچسپی ان کے تخلیقی شعور کو مہمیز کرتی رہی ہے ۔نعیم بیگ بچپن ہی سے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے رہے، پہلے والد اور پھر اپنی ملازمت کے باعث پاکستان کے طول و عرض کو ناپ لیا ، افریقہ کے پسماندہ علاقوں کو دیکھا ، یورپ کے انٹلکچول ماحول سے آشنا ہوئے اور پھر خلیجی ممالک میں پیٹرو ڈالروں کی بارش کا نظارہ کر تے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مشاہدہ بہت وسیع ہے ۔
نعیم بیگ کی تخلیقی زندگی کا آغاز ۲۰۰۹ء میں اخبار جنگ لاہور میں چھپے افسانہ ’ آخری لمحہ ‘ سے ہوا۔اپنی افسانوی زندگی کے آغاز کے بارے میں خود ہی فرماتے ہیں کہ ’’ اپنے پہلے افسانے کا انجام اور آخری چند لائنیں اگر میں یہ کہوں کہ میں نے نہیں لکھیں بلکہ میرے لاشعور نے اسے قلم کی نوک سے اُگل دیا تو سچ مانیے کہ یہ سچ ہے اور یوں میرے افسانوں کی دنیا آباد ہوئی۔‘‘مشہور جاسوسی ناول نگار ابن صفی کو بچپن میں خوب پڑھتے رہے جس کا اثر ان کی کئی کہانیوں میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔
نعیم بیگ پر جدیدیت کا اثر کہیں کہیں پر نظر آتا ہے جیسے افسانہ ’آگہی‘ تاہم ترقی پسندی ان کی رگ رگ میں سمائی ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں مقصدیت صاف جھلکتی ہے ۔ بعض اوقات یہ عینیت پسندی کی حد وں کو چھو جاتی ہے ۔ ان کا سماجی و سیاسی شعور پختہ اور دقیقہ رس ہے ۔ وہ اپنے ارد گرد زندگی کو دیکھتے ہیں اور پھر کسوٹی پر اسے پرکھتے ہیں۔ ان کے یہاں ’عالمی معیشت کا جبر‘ اور ’ہجرت کا دکھ‘ صاف طور پر نمایاں ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ انسانی ہجرت کی وجہ کبھی تقسیم ملک بنی اور کبھی مسلسل بھوک اور بے روزگاری جس کے سبب غریب ممالک سے لوگ نئے سبزہ زاروں کی جانب جوق در جوق نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔ بقول افسانہ نگار:
’’ انسان کا المیہ ایک ہی جیسا رہا ۔ صرف ظلم اپنی شکلیں بدل بدل کر لاکھوں انسانوں کو مسلسل ہجرت پر مجبور کر رہا تھا۔
کبھی وطنیت اور کبھی دھرم و مذہب کا نام لیا گیا اور اپنی جھوٹی انا ، لیکن اندر کی بورژوائی غلیظ نظام اپنی جڑیں مضبوط کرتا
رہا ۔ ‘‘
افسانوں کا مجموعہ ’ یو ڈیم سالا‘ اکتوبر ۲۰۱۳ء میں شائع ہواجس میں ۱۸ ؍ افسانے شامل ہیں ۔مجموعے کا پہلا افسانہ ’یو ڈیم سالا‘ مالی تنگدستی سے مجبور تارکین وطن اجیروں کا خلیجی آجروں کے پاس روزگار تلاشنا، فاقہ کشی کرنا اور تحت الانسانی حالات میں زندگی بسر کرنا منعکس کیا گیا ہے ۔’ آخری لمحہ ‘ میں ایک طوائف موت کو گلے لگاتی ہے جب اس کا عاشق دولت کی لالچ میں اسے دھوکا دیتا ہے مگر عاشق کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیتی ہے جبکہ بالے دلال کو، جو اس کو دل سے چاہتا ہے ، اپنے نزعی بیان میں سریحاً بچاتی ہے ۔’آگہی ‘ میں جدید اسلوب اپنایا گیا ہے جس میں ایک استادجب حقیقت سے روبرو ہوتا ہے تو اس کو اپنے خون پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور اس کے خواب ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں ۔افسانہ ’ستار بھائی ‘ دہشت گردی پر لکھا گیا فکر انگیز افسانہ ہے جس میں لالچ میں آکر اخبار کا ہاکر ستار بھائی پہلے تو بچوں کے سکول میں بم رکھنے کے لیے راضی ہوتا ہے مگر ضمیر کے کچوکنے پر واپس آکر اسی گیراج کو اڑا دیتا ہے جس کے مالک نے یہ کام سونپا ہوتا ہے۔ ’فطرت‘ کہانی ہے ایک ہوس پرست ریٹائرڈ بزرگ کی جو نفسیاتی معالجۂ قدر شناسی (apreciation therapy) کے طلسم میں آکر اپنی نوکرانی کو زیر کرنے کا موقع کھو دیتا ہے ۔ افسانہ ’اپنی مٹی ‘ میں امبرین نکلتی تو ہے اپنے خاوندکے قاتل کو مارنے کے لیے لیکن جب قتالہ کی روداد خاص کر پولیس کی زیادتیوں کے بارے میں سنتی ہے تو غصے کو تھوک کر اسے گلے لگاتی ہے ، اس کو اپنا بیٹا سونپتی ہے اور اس کی بیٹی کو ڈاکٹری کی تعلیم دینے کا وعدہ کرتی ہے ۔افسانہ ’پیلا اسکول ‘ میں افسانہ نگار نے نہ صرف جدید تکنالوجی کو تعلیم کا جزو بنانے کی حمایت کی ہے بلکہ یہ باور کرایا ہے کہ اگر اسکول احاطے میں آندھی کے وقت کسی کے پاس موبائیل ہوتا تو اتنا جان و مال کا نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔مزید انھوں نے اسکولوں میں معلمی تشدد کے خلاف بھی اشارہ کیا ہے ۔’ریزہ چین ‘ کہانی ہے ایک فقیر صفت رابن ہڈ کی جو ایک امیر کو بنک سے نکلتے وقت اللہ کے نام پر پچاس ہزار روپئے غریبوں میں بانٹنے کے لیے چھین لیتا ہے ۔افسانہ’محبت آشنا‘ میں ایک سٹرگلر (struggler) معاشی تنگدستی کے سبب اپنی محبوبہ کو نہیں پاسکتا ہے مگر مرتے دم اس کے نام کروڑوں کی جائیداد چھوڑ جاتا ہے ۔افسانہ’ راج دوت‘ میں اکرام الدین قید سے تو چھوٹ جاتا ہے مگر اپنی کھوئی ہوئی ماں کی ممتا اور بھوک سے پھر بھی نڈھال رہتا ہے ۔ ’خوشی ‘ میں موجودہ معاشرے کی بے اعتنائیوں کا حوالہ دیا گیا ہے کہ کبھی کبھی جرائم پیشہ، وہ چاہے عورت ہی کیوں نہ ہو، بھیس بدل کر ہمدردی کے خواستگار بن جاتے ہیں اور پھر آپ کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ایسی ہی ایک مشہور ہندی کہانی ’ہار کی جیت ‘ بچپن میں پڑھی تھی جس نے ذہن پر مستقل چھاپ چھوڑ رکھی ہے ۔ ’مارشل لاء‘ جذباتیت سے بھر پور ایک لکچرر کے دل کی بھڑاس ہے جو مارشل لاء کے خلاف آواز تو اٹھاتا ہے مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتاہے ؟’جلتے فرشتے ‘ جذباتی افسانہ ہے جس میں ایک استانی معصوم بچوں کو جلتا دیکھ کر اپنی جان پر کھیل کر ان کو بچانے کی کوشش کرتی ہے ۔مذکورہ افسانوں کے علاوہ ’کوئل کا خط‘ ، ’بجلی اور شاہ جی‘،’ بم،بم‘ اور’ الٹی گنگا ‘کے عنوان سے چار دلچسپ انشائیے بھی شامل ہیں ۔
افسانہ نگار کا دوسرا مجموعہ ’ پیچھا کرتی آوازیں ‘ ۲۰۱۶ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں بھی ۱۸؍ افسانے شامل ہیں ۔ پہلے مجموعے میں جہاں افسانہ نگار کی جہاں گردی اپنے نقش مرتسم کر تی ہے وہیں دوسرے مجموعے میں انسانی بہیمیت ، درندگی اورسماجی و سیاسی عفریت ان کے ذہن میں چیخ و پکار بن کر ابھرتی ہے ۔چنانچہ فرماتے ہیں :
’’ انھی حقیقتوں کا ادراک کرتے ہوئے خاکسار نے نفرت ساز فیکٹریوں اور ان کے عقائد و نظریات کے آگے اپنے
قلم سے پل باندھنے کی کوشش کی ہے ۔ اپنے افسانوں سے منافرت کے مقابلے میں محبت و آشتی ، حقیقی جمہوری
قدروں سے آشنا ، اپنے زمینی تناظرے سے جڑے المیوں اور مسائل کو زبان دی ہے ۔‘‘
پہلا افسانہ ’لکڑی کی دیوار ‘ بہت ہی اثر انگیز اور جذباتی افسانہ ہے جس میں ایک چرچ کے فادر کے سامنے ایک آدمی اعتراف کرتا ہے کہ اس کے کہنے پر اس کی محبوبہ نے شادی سے پہلے ہی اس کا بچہ پیدا کرکے خود کشی کی اور وہ اب سماجی جبر کے تحت اس بچے کو پالتا ہے مگر اسے بیٹا نہیں کہہ پاتا۔ پادری جب یہ اعتراف سنتا ہے، پشیماں ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے سامنے جو آدمی بول رہا ہوتا ہے ، خود اس کا بیٹا ہوتا ہے جو ایسے ہی حالات میں پیدا ہوا تھا مگر وہ اب تک اس حقیقت سے لاعلم ہے ۔ ’باونڈری لائن ‘ سعادت حسن منٹو کی کہانی ’ٹیٹوال کا کتا ‘ سے تحریک پاکر لکھا گیا افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ اس میں ایک کتیا انسان دشمنی اور تناؤ کا شکار ہوجاتی ہے جب کہ اس کے دو پِلّے بچ جاتے ہیں ۔ اس فضول کی خونریزی کو دیکھ کر دونوں طرف کے سپاہی آپس میں پلّوں کو بانٹ کر ان کو پالتے ہیں اور خود بھی امن بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ افسانہ جہاں تخیل کی اُپج ہے وہیں واقعیت سے بہت دور ہے۔افسانہ ’تسخیر ‘ بہت ہی استدلالی اور عقلیت پسند افسانہ ہے جس میں ایک ڈاکٹر کی مریض کو بچانے کی آخر دم تک کوشش ہے جو اس فقرے میں مضمر ہے:
’’ ہمارے پاس بات کرنے کے لیے دو کسوٹیاں ہر وقت حاضر ہیں ۔ ایک منطق اور عقلی دلائل ۔ دوسرے یقین کی آخری
حد تک ایمان ۔ دونوں کے حوالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کو اختیار کے ساتھ علم کی وسعت کی تہہ در تہہ تسخیر کی
اجازت ہے ، چاہے اس میں قدرت کے وہ اصول بھی آشکار ہوجائیں جن سے ہمارے موجودہ مذہبی تہذیب کے
ٹھیکیداروں نے اپنے تئیں منع فرما رکھا ہے ۔ کیا اس ممانعت کی کہیں ....کسی جگہ نشاندہی ہے کیا ؟..... مجھے معلوم ہے
کہ کہیں نہیں ہے ...آپ چاہے کسی بھی فہم و ادراک پہ مبنی فلسفہ یا مذہبی عقائد کی بنیاد پر کوئی کتاب سامنے لے آئیں یہ
لکھا نہیں ملے گا۔ جستجو اور تسخیر کی واضح علامتیں اور ہدایات ہیں ۔ ‘‘
’ڈیپار چر لاؤنج‘ ایک اور فکر انگیز افسانہ ہے جو ایک جانب انسانی خواہشوں اور آرزوؤں کی حدیں کھینچنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف مشرقی سسٹم پر طنز کرتا ہے جہاں وقت کی پابندی کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا۔ ’ہوُک ‘ایک پڑھی لکھی ڈاکٹر لڑکی کی فرمانبرداری کی داستان ہے جو اس کو بہت بھاری پڑتی ہے ۔’آہٹ‘ میں شادی کے لیے والدہ کی ناقابل قبول شرطیں بیان کی گئی ہیں ۔ ’چھتّا‘ ایک گھر کے افراد کی شہادت کی کہانی ہے کہ کمانڈر کو مجبوراً خانو کو اپنے ماں کی دیکھ بھال کے لیے فوج سے رخصت کرنا پڑتا ہے ۔’زرد پتّے ‘ ایک کال گرل کی کہانی ہے جس کی مجبوریوں کی داستاں سن کر راوی اس کی ہوٹل بل چکتا کرتا ہے ۔’حلف‘ ایک کیس میں پھنسی مجرمہ کی کہانی ہے جو اپنا جرم قبول تو کرتی ہے مگر اس کا بھولا بچھڑا عاشق سارا الزام اپنے سر پر لیتا ہے ۔ یہ افسانہ کم ہندوستانی فلموں کی مانند میلو ڈرامہ زیادہ لگتا ہے ۔ مجموعے کا حاصل افسانہ ’جہاز کب آئیں گے ‘ مسلسل دہشت گردی اور سرکاری جبر و استبداد کے باعث ہجرت پر مجبور ہوئے لوگوں کی کہانی ہے جس میں بھوک سے نڈھال ایک معصوم، یتیم اور ناقص نمو ذہن لڑکی کو جہاز کا انتظار رہتا ہے کیونکہ اس نے سنا ہے کہ جہاز آسمان سے کھانے کے لیے خوراک کے پیکٹ پھینکتے ہیں ۔’ خط استوا‘ مخلصی موت euthanasia) ( پر مبنی کہانی ہے ۔دہشت گردی کے تناظر میں لکھا گیا افسانہ’ آخری معرکہ ‘ میں ایک ایریا کمانڈر اپنے ہی بھائی کو موت کے گھاٹ اتارنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ’پیچھا کرتی ہوئی آوازیں ‘ زخم خوردہ عورت کی نفسیات کو اجاگر کرتا ہے۔ افسانہ’نیا سماج‘ میں افسانہ نگار نے تبلیغی انداز اپنا کر ترقی کے تاریک پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے ۔’گھاؤ‘ میں ایک شہری لڑکی گاؤں کے معصوم وکیل کو اپنے جال میں پھنساتی ہے ۔ ’جنگل کی گرفت‘ پر اسرار کہانی ہے جبکہ ’سائے کے پیچھے‘ نفسیاتی اور اسراری کہانی ہے جس میں ایک عورت تنہائی کے سبب اپنی ذہنی توازن کھو بیٹھتی ہے ۔آخری افسانہ’اپنے’’ مہین‘‘ خان‘ ایک خود پسند شیخی باز شاعر کی روداد ہے ۔
مذکورہ بالا افسانوں کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ افسانہ نگار کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ عمیق ہے ۔ ان کے یہاں موضوعات کی بوقلمونی نظر آتی ہے اور وہ حقیقت پسندی کے بہت قریب ہیں ۔ نعیم بیگ نہ صرف ذات کی باتیں کرتے ہیں بلکہ سماج پر اکثر انگلیاں اٹھاتے ہیں ۔ انھوں نے موجودہ معاشرے کو کھنگالاہے اور اس کی بدعنوانیوں سے نبرد آزما ہیں ۔ افسانہ نگار جہاں ایک جانب عشق و محبت ، ہوس پرستی ، خود غرضی ، جرائم ، اور انسانی ہمدردی پر اپنا قلم اٹھاتے ہیں وہیں دوسری جانب دہشت گردی ، پولیس کی زیادتیوں، فوجی استبداد، معاشی تنگدستی ، ذہنی انخلا (Brian drain) ،سائنسی سوچ و فکر ، قدامت پرستی اور موڈرن سائنسی معلومات کے تصادم اور انسانیت کے تقاضوں کو اپنے افسانوں کا موضوع بناتے ہیں۔ دہشت گردی پر لکھا ہوا افسانہ ’ستار بھائی‘ موجودہ دور کا المیہ بن کر سامنے آتاہے ۔جیسا کہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں ان کے کئی افسانوں میں ابنِ صفی کی چھاپ ملتی ہے ۔
نعیم بیگ کے ہاں منظر نگاری کی بہت اچھی مثالیں ملتی ہیں وہ چاہے دبئی کے پام ڈیرہ بیچ پر ڈھلتے سورج کا سماں ہو یا چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن ’آبِ گم ‘ کا بیاں ہو یا پھر پیلے سکول کا خستگی کی روداد ہو۔ کئی افسانوں کی شروعات انھوں نے منظر نگاری ہی سے کی ہے جیسے باونڈری لائن، ہُوک ، چھتّا ، زرد پتّے،حلف،خطِ استوا، البتہ کہیں کہیں براہ راست مکالمے سے بھی افسانے کی ابتدا کی ہے جیسے تسخیر ، آہٹ۔ جہاں تک کردار نگاری کا سوال ہے ان نے چند کردار قاری کے ذہن پر نقش ہو جاتے ہیں جیسے مشتری بائی، بالے ، بلوچ خان ،ڈاکٹر امبر، بدرالدین وغیرہ۔ ان کی کردار نگاری کے بارے میں ڈاکٹر افشاں ملک دوسرے مجموعے میں مشمول مضمون ’ذات کی تلاش‘ میں فرماتی ہیں :
’’ ان کے افسانوں کے کرداروں میں آج کا وہ انسان نظر آتا ہے جو حقیقت کی سنگلاخ زمین پر کھڑا ہے ، جس کے مسائل
ختم نہیں ہوئے بلکہ بدل گئے ہیں ۔ ان کا کردار تلاش معاش میں ہجرت کے کرب جھیلتا ہے ، رشتوں کے درک جانے
کے دکھ اٹھاتا ہے ۔ کبھی ذات کی تلاش میں سرگرداں تو کبھی بھیڑ میں تنہا ہوجانے کا احساس ، کبھی تنہائی کے شور سے خوفزدہ
ہوجانا تو کبھی نا آسودہ فطری خواہشوں کے جبر سہنا اس کا مقدر ہے ۔‘‘
نعیم بیگ نے بیانیہ کا خوب استعمال کیا ہے اور بوجھل علامتوں اور استعاروں سے گریز کیا ہے ۔ان کی زبان سلیس اور شگفتہ ہے البتہ انگریزی الفاظ کا کثرت سے استعمال ہوا ہے حالانکہ ان الفاظ کے متبادل اردو میں موجود ہیں جیسے کلائنٹ( گراہک )، ٹرانزیکشن ( لین دین)۔ عام قارئین کے لیے یہ مشکلیں پیدا کر تا ہے ۔ کتاب کی کمپوزنگ میں چند غلطیاں در آئی ہیں ۔کچھ الفاظ کا املا غلط ہے یا پھر لفظ ہی غلط استعمال ہوا ہے ، مثلاً انجیسڈ(؟)،بیب (بیپ) ،پسٹل (پستول) وغیرہ۔
دونوں مجموعوں میں سے قابل غور چند اقتباسات ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:
*’’تنہائی اگر اپنے ساتھ مواقع لائے تو انسان اندر سے بے چین ہوکر فطری تقاضے پورے کرنے کو ایک تئیں عین
عبادت سمجھ بیٹھتا ہے اور پھر نئے راستے پر چل نکلتا ہے ۔‘‘( فطرت)
*’’ دیکھو ہمارا کام اپنے علم کی طاقت پر انسان کو آخری لمحہ تک زندہ رکھنا ہوتا ہے ۔‘‘ (تسخیر )
*’’ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ اب اس علاقے کے کئی ایک حکومتی محکمے اپنی روایتی نالائقی اور لالچ کی وجہ
سے دہشت گردتحریک کی در پردہ حمایت کر رہے تھے۔ ‘‘(چھتّا)
*’’انسان موت کو سامنے دیکھ کر بھی زندگی کی دعا کرتا ہے ۔‘‘(خطِ استوا)
*’’ہم سب کی زندگی نئی تہذیب کے ساتھ بندھ کر مشینی اندازمیں ڈھل چکی ہے ۔ فطرت سے دوری نے ہمیں اپنے
آپ سے بھی دور کر دیا ہے ۔ مشینوں کے ساتھ زندگی گزارنے میں یہی ایک مسئلہ ہے کہ انسان خود بھی اسی ذہن کا
عادی ہوجاتا ہے اور روبوٹ کی طرح زندگی گزارنا شروع کر دیتا ہے ۔‘‘ (نیا سماج)
نعیم بیگ کی مرتبہ کتاب ’نئی صدی کے افسانے ‘ ان کی ادارتی صلاحیتوں کا پتہ دیتی ہے ۔ پروگریسیو اردو رائٹرس گلڈ کی جانب سے شائع شدہ یہ کتاب موجودہ دور کے افسانوی منظر نامے کا بولتا ہوا کارنامہ ہے ۔ مجھے اس کتاب کے تعارفی ابواب نعیم بیگ کا ’نئی صدی اور اس کے تقاضے ‘ اور فرخ ندیم کا ’ نئی صدی کی افسانوی ثقافت ‘ بہت ہی پسند آئے کیونکہ ان میں نہ صرف موجودہ دور کا افسانوی تناظر پیش کیا گیا ہے بلکہ چنندہ افسانوں کا مختصراً جائزہ بھی لیا گیاہے ۔ مجموعے کے اکثر و بیشتر افسانے بہت ہی فکر انگیز ہیں ۔ یہاں میں ترقی پسندی کے بارے میں چند تاثرات پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ بیسویں صدی کے اوائل سے ہم ترقی پسندی کی آڑ میں غربت اور بے روزگاری کا رونا روتے آئے ہیں ، سرمایہ دارانہ نظام کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے رہیں ہیں جب کہ بیشتر ترقی پسند قلم کار سرمائے کی دھوپ کو اوڑھ کر ترقیاں کرتے رہے اور اپنا مستقبل محفوظ کرتے رہے ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ غر بت کی اصل وجہ کو ہم بیان کرنے سے کتراتے ہیں ۔ ایک غریب کنبہ بچہ پیدا کرنے کی مشین بن چکا ہے ، کچھ جرائم کی نذر ہوجاتے ہیں اور کچھ دہشت گردی کی بھٹّی کا ایندھن بن جاتے ہیں ۔ اس بارے میں کوئی قلم نہیں اٹھاتا ہے کیونکہ اس میں سستی شہرت نہیں ملتی ۔ عوام کے لیے کنبہ کی حد بندی، سائنسی تعلیم ،صحت و تندرستی کا خیال اور اپنے ماحول کی حفاظت کرنا اشد ضروری ہے تب ہی اس زمین سے غربت اور جرائم کم ہو سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ اس پس منظر میں موجودہ ترقی پسندوں کو اپنے دروں کو کھنگالنا پڑے گا اور اپنے سوچ 
و فکر کو نئی راہ پر ڈالنا پڑے گا۔
*****
Deepak Budki, A-102, S G Impression, Sector 4-B, Vasundhra, Ghaziabad(India) 201012. Mob

 +919868271199 PIN-

Saturday, August 13, 2016

دیدبان ، ایک لمحہِ موج خیز


دیدبان ، ایک لمحہِ موج خیز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمیں کے ٹوٹے ہوئے آخری کنارے تک
میں اُس کے ساتھ چلوں گا نئے ستارے تک (بیرم غوری)

سوشل میڈیا ،فیس بک اور انٹرنیٹ کی دنیا بھی عجیب و غریب اور محیر العقول ہے ، معاشرتی شعور میں جہاں وقت کے نئے تقاضوں نے نِت نئے ابواب لکھے، وہیں انسانی نفسیات میں ایک نمایاں تبدیلی آئی۔ سوشل انیمل ہونے کے ناتے کراس بارڈر، ہر نسل و رنگ کے انسان پھولوں کی کلیاں اٹھائے امن و محبت کی نئی تہذیبی و تمدنی آشنائی کا سبب بنے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں سانجھے کا سودا ہوا۔ اطلاعات لمحہ بہ لمحہ ترسیل ہوئیں ۔ عالمگیری سطح پر نئے فکری افق دریافت ہوئے ، موضوعات پُر اثر اور متنوع ہوئے۔ سیٹلائٹ نے زمینی اور کائناتی مخفی گوشوں کو یک جا کر دیا۔ یہ ایک ایسا انقلاب تھا جس نے دنیا بھر میں امن و محبت کے پیغام کو جس تیزی کے ساتھ مہمیز دی وہ ناقابلِ تسخیر نئے عالمی معاشرے کی ابتداء ثابت ہوا۔
ایسے میں ادب ا ور نئے نظریات کی جو فلسفیانہ تشریحات بیسویں صدی میں یورپ سے اٹھیں وہ لمحوں میں تقسیم ہوتی تیسری دنیا کے مملکتوں کے باسیوں تک آن پہنچیں۔ اردو برصغیر کی ایک مکمل تہذیب ہونے کے سبب اپنے اندر اس قدر وسعت اور جہان آباد رکھتی ہے کہ اس نے جہاں عالمی ادبی اور فلسفیانہ نظریات کو اپنے اندر سمویا، وہیں فکری سطح پر اِن سرگوشیوں کو بھی جگہ دی جو ادب میں فنِ لطیف کا درجہ رکھتی تھیں۔ یوں اردو ادب میں نئی نسل نے ترقی پسندی کے رحجانات سے آگے بڑھ کر جدید رحجانات سے مزیں امکانات کا جائزہ لیا ، اور اپنی تخلیقات مین نئے تجربات سے قاری کو آشنا کیا ۔ایسے میں ایک مثبت کام یہ ہوا کہ انٹرنیٹ پر اردو ادب کے بلاگز اور ادبی فورمز نے ان نوجوانوں کو پرنٹ میڈیا سے ہٹ کر نئی دنیا آباد کرتے ہوئے نئی پہچان دی۔
اردو زبان اپنے مزاج میں جہاں فارسی ، عربی اور ہندی کے حسین امتزاج کا مُرقّع ہے، وہیں اسکی نشونما میں ترقی پسندی اور جدیدیت نے نئے خون کو انجیکٹ کیا، نئے امکانات کا دریچہ وا کیا،رجعت پسندی کو بزورِ قلم پرے دھکیلتے ہوئے دیگر عالمی زبانوں کے ادب کی آمد کو اپنی ارتقائی جسامت کا جزولاینفک بنایا۔ ایسے میں اکسیویں صدی کے ابتداء ہی سے پرنٹ میڈیا میں اردو ادبی جرائد اپنے حصے کی شمع جلاتے رہے۔ تاہم انٹرنیٹ کی دنیا میں سوشل میڈیا ہی واحد سہارا بنا۔ اس سے پہلے آن لائن کئی ایک بلاگ وجود میں آئے جس میں’ ریختہ‘ سرِ فہرست ہے تاہم اب چند برسوں سے فیس بک پر کچھ ادبی فورمز کے سجے چمنستان میںیہ خود رُو بلاگز اردو ادب کی خدمت میں درپیش مسائل کا ادراک تو رکھتے تھے لیکن رفتہ رفتہ صرف نئے لکھنے والوں کی بے جاء حوصلہ افزائی میں یک طرفہ کردار ادا کرنے لگے۔جس سے نئے لکھنے والوں کی ایک بڑی اکثریت خودنمائی و نرگسیت کا شکار اور تنقید سے بالاتر ہوکر جمالیاتی اور ادبی لطافت سے قدرے دور ہو گئی۔ چنانچہ ان ادبی جرائد و فورمز اور بیسیوں آن لائن بلاگز کی کہکشاں میں ابھرتے ہوئے عالمی ادبی و ثقافتی رحجانات اپنی نئی دنیا بسانے کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے اپنی تعبیر کی تلاش میں رہے۔
ایسے میں انٹرنیٹ کی دنیا میں کسی ایسے آن لائن جریدے کی اشد ضرورت تھی جو صنفی طور پر نثر کو فوقیت دے اور تنقید کے میدان میں نئے امکانات اور رحجانات کی دنیا آباد کرے۔ تب ’’ دیدبان ‘‘ کے جنم لینے کی نوید آئی۔ سوشل اور پرنٹ میڈیا پر جانی پہچانی والی تین معروف ادیباؤں ڈاکٹر نسترن فتیحی ( علی گڑھ انڈیا)، سبین علی ( جدہ سعودی عریبیہ) اور سلمیٰ جیلانی ( نیوزی لینڈ ) راقم کی دلی مبارک باد کی مستحق ہیں جنہوں نے انٹرنیٹ کے ناگفتہ بہ ادبی حالات میں اردو ادب کی ترقی و ترویج کا بیڑا اٹھایا اور دیدبان کے راستے نہ صرف نئے ادباٗ و شعرا کو جگہ دی بلکہ اساتذہ کے ملفوظات اور تخلیقی محرکات کو قارئین تک پہچانے کی مشترکہ کوشش کو کامیاب بنایا۔ متذکرہ بالا تینوں خواتین کا عالمی ادب ، اردو ادب اور تنقید میں پہلے ہی کافی کام عالمی قارئین سامنے آ چکا ہے، لہذا یقین واثق ہے کہ انکی علمی و فکری جستجو ’ دیدبان‘ کے آنے والے شماروں میں نئی جہات کو منظر ائے گی۔ ۔ خاصے کی بات یہ ہے کہ تینوں خواتین اپنے الگ الگ فطری رحجانات میں یونیک حیثیت کی مالکہ ہیں، نسترن فتیحی کا میدان اگر تنقید ہے ( انکی حالیہ تنقیدی کتاب نے ’ ایکو فیمینزم ‘ نے عالمی شہرت پائی ہے) تو سبین علی تخلیق کے میدان میں ’ کتن والی ‘ جیسے معرکۃ الآراء افسانے کو جنم دے چکی ہیں۔ سلمیٰ جیلانی گو اپنے تخلیقی جوہر میں یکتا ہے لیکن راقم کے ذاتی خیال میں وہ ترجمہ جیسی مشکل اور ٹیکنیکل صنف میں نمایاں کامیابی کے حامل عالمی کام نہ صرف کر چکی ہیں بلکہ مزید کریں گی۔
گواب تک ’ دیدبان‘ کا پہلا شمارہ اپنے پورے ادبی حسن کے ساتھ جلوہ گر ہے تاہم راقم سمیت قارئین اس آن لائن بلاگ ( جریدے) کی عمودی اور افقی سطح کو آسمانِ اردو ادب پر کہیں بلند دیکھنے کے متمنی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ
لاہور پاکستان مورخہ ۱۲۔ اگست ۲۰۱۶ء

Tuesday, June 14, 2016

مقدس سلطنت

مقدس سلطنت






(تین ایکٹ شارٹ پلے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایکٹ۔۱
پردہ اٹھتا ہے۔
( دارلحکومت میں بادشاہ کا موتی محل اور معمول کی درباری شام )
جگمگ کرتے وسیع و عریض ہال کے چکنے اور چمکدار فرش پر ایرانی و ترکی ریشمی سلکی قالین بچھے ہوئے ہیں ۔ سامنے ایک بڑے خوبصورت اسٹیج پر مخملی کرسی نما تخت پر بادشاہ گاؤ تکیے پر نیم دراز فروکش ہے۔ بادشاہ کے تخت کے پس منظر میں جنگی و فطری مناظر میں جنگی جانوروں کی بڑی بڑی قدآور تصاویر نظر آ رہی ہیں ۔ جس میں شیر ، گھوڑے اور گائے نمایاں ہیں ۔ شیر اور گائے کی گردنوں میں پھولوں کے ہار ڈالے ہوئے ہیں ۔
بادشاہ کے عین پیچھے دائیں اور بائیں بڑے بڑے گلدان پھولوں سے سجے بہار کی آمد کی نوید دے رہے ہیں۔ سامنے مستطیل تپائی پر مختلف انواع کے پھولوں کے گلدستے سجے ہوئے ہیں ۔ان کے ساتھ ہی خشک میوے اور مشروبات رکھے ہیں۔ اسکے دونوں اطراف میں (یو شیپ) مخملی کرسیوں پر وزیر اور اربابِ اختیارِ مملکت اور سرکاری افسران بیٹھے ہیں۔ دربار میں کاروبارِ سلطنت و مملکت پر گفتگو ہو رہی ہے۔
دربان اندر آکر کورنش بجا لاتے ہوئے بادشاہ سے مخاطب ہوتا ہے۔ ’’ ظلِ سبحانی صحافی باریابی کی اجازت چاہتا ہے۔‘‘
’’ پیش ہو۔ ‘‘ بادشاہ خوشدلی سے ہاتھ اٹھا کر اجازت دیتا ہے ۔
’’خوب۔۔۔ بہت خوب ۔۔۔ظلِ سبحانی کا اقبال بلند ہو۔‘‘ تالیاں بجاتے ہوئے منہ چڑھا صحافی دربار میں حاضر ہوتے ہوئے بادشاہ کے سامنے تین بار کورنش بجا لاتا ہے۔
صحافی: ’’ یہ رہی وہ شاندار اور الوہی مہا ذہانت جو سچائی کے پردوں کو چاک کرتی ہے ۔‘‘ وہ بادشاہ کی مدح سرائی کرتا ہے ، اور آداب بجا لاتے ہوئے مسلسل ہاتھ سر تک لے جاتا ہے۔
(حالانکہ صحافی بادشاہ کی کہی ہوئی کوئی بات بھی سن نہ پایا تھا ، جو اِ س نے چند لمحے پہلے کہی تھی)
میڈیا وزیر : ’’لیکن۔۔۔ میرے ساتھیو !یہ یاد رکھو۔ میرا کہا ہوا ہمیشہ درست ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ میں ظلِ سبحانی کے حکم پر عوام کو انہی کے کہے لفظوں سے متاثر کرتا ہوں ۔‘‘
یہ کہتے ہوئے وزیرِ میڈیا بادشاہ کے سامنے کورنش بجا لاتے ہوئے احتجاج کے انداز میں صحافی کو دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ اوپر اٹھا لیتا ہے۔
بادشاہ سر کی جنبش سے تائید کرتا ہے۔ درباری حیران ہیں کہ تائید کس کی ہوئی ہے۔
اسی اثنا میں اقوامِ متحدہ میں بادشاہ کی طرف سے مقرر کردہ دراز قد سفیر قدموں تک سبز گاؤں پہنے اور سر پر اپنی ٹوپی میں مور کا ایک پر لگائے بادشاہ کی طرف ڈانس کرنے کے انداز میں قدم بڑھاتا ہوا نپی تلی آواز میں کہتا ہے۔
’’ مائی لارڈ شپ ۔۔۔ (کورنش بجا لاتے ہوئے ) میرے آقا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس وقت سلطنت میں لمبی داڑھی اور ٹخنوں سے اوپر شلوار اٹھائے دشمن اپنے چہروں پر نقاب اوڑھے ایک بھیانک جال بچھا رہے ہیں۔ پوری دنیا اس کی دھائی دے رہی ہے۔‘‘
بادشاہ : (دربار کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ کو حرکت میں لاتے ہوئے پوچھتا ہے ) کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ لوگ کون ہیں ۔ کیا ہم نے انکی سرپرستی کبھی کی؟
دربار خاموش رہتا ہے۔ ایک منہ چڑھا قصیدہ خوان کسی طرف سے نکلتا ہے اور کورنش بجا لاتے ہوئے کہتا ہے۔۔۔۔
’’میرے آقا! حضور فیضِ گنجور! آپ شہنشاہِ فیضانِ صحبت ہیں۔ آپکے عوامی اور انسانی خدمات کے چشمے جو یہاں پھوٹ رہے ہیں وہ ان سے نہ صرف خائف ہیں بلکہ جو عزت و احترام آپکو عوام میں مل رہا ہے وہ اس سے معاشی و سیاسی اندیشوں میں مبتلاہیں۔اسی لئے انہوں نے اب سرحدی جھڑپیں شروع کر دی ہیں اور شہروں میں سما رہے ہیں۔ تاکہ اپنے عقائد کے بل بوتے پر وہ لوگوں کو گمراہ کر سکیں۔ ‘‘

یہ سن کربادشاہ اپنے سنہرے اور گداز تخت سے اٹھتا ہے اور اپنے دربار میں چاروں طرف گہری نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس نے شاہی لباس پہنا ہوتا ہے جس میں اسکے تمام فوجی میڈل بھی سینے پر آویزاں ہوتے ہیں۔ گلے میں سُچے موتیوں کی مالائیں اور سر پر سنہرا تاج پہنا ہوتا ہے۔
ٓایک کونے سے اونچی آواز آتی ہے ۔۔۔’’ سب کھڑے ہو جائیں۔‘‘
سارا دربار حکم بجا لاتے ہوئے کھڑا ہو جاتا ہے۔ بادشاہ کے کھڑے ہوتے ہی دربار میں چاروں طرف چھت سے لٹکے سنہری روشنیوں کے فانوس جل اٹھتے ہیں۔ دیواروں پر لٹکی بڑی بڑی تصویروں پر سرخ سپاٹ لائٹ روشن ہو جاتی ہیں۔ جس سے ان تصویروں میں دوڑتے ہوئے گھڑ سوار غیر محسوس طریقے سے آگے بڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور پورے دربار میں گھوڑوں کی ہنہنانے کی مدہم آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔
بادشاہ اپنی گرجدار آواز میں پورے دربار سے مخاطب ہوتا ہے۔
’’ میرے ہم وطنواور ساتھیو ۔۔۔ میں آپ سب کے جذبات و احساسات کو سمجھتا ہوں چونکہ آپ ریاست کے ساتھ ساتھ ، اسکے عوام اور میرے ساتھ وفادار ہیں ۔ مجھے آپ سب پر فخر ہے ۔‘‘
’’لیکن آپ کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جب میں ایک دفعہ کھڑا ہو جاؤں تو پھر ساری قوم کا میرے پیچھے متحد ہوکرکھڑا ہونا لازم ہے ۔ ‘‘
’’ میں اپنی تلوار کی قسم کھا کر کہتا ہوں ( وہ اپنے دائیں جانب دیوار پر لٹکی تلوار کو دیکھتا ہے)۔ اسکا ایک ہاتھ اپنے بغلی ہولسٹر پر ہوتا ہے۔ میں کسی دوسرے ملک ، یا انکے ایجنٹوں کو اپنے ملکی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے سکتا اور نہ ہی کسی ملک کو اپنی سرحدوں کے اندر داخل ہونے کی اجازت دونگا۔‘‘
’’ خدا ئے برتر و اعلیٰ کی مقدس خواہش ہے اس آڑے وقت میں ریاست کو بچانے کے لئے مملکت کے لوگ قربانی دیں اور میں آج اس معزز ایوان اور دربار میں بڑے فخر سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ یہ لازوال قربانی اس ملک کے ذی شان شاہی خاندان اور ارباب اختیار و اقتدار سے شروع ہو گی۔‘‘
تالیوں ، شوخ سیٹیوں اور زندہ باد کے نعروں کے شور میں ہز ہائی نس کنگ ماجن اپنے چغہ کو سنبھالتے ہوئے چبوترے سے نیچے اترتا ہے۔
بادشاہ کے نیچے آجانے سے چاروں طرف سر جھک رہے ہوتے ہیں، تائیدی نظروں سے بادشاہ کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ ظلِ سبحانی
ہلکے قدموں سے اپنے وزراء اور سرکاری افسروں سے فرداً فرداً مصافحہ کرتا ہے ۔ کچھ لوگ کنگ ماجن کے ہاتھ چومتے ہیں جو اس تاریخی اعلان سننے کے واسطے یہاں جمع ہوئے تھے۔
کنگ ماجن ہاتھ کے اشارے سے سبھی مہمانوں کو دربار کے ایک کونے میں لگے ایشیائی، یورپی اور کانٹی ننٹل ڈشز سے سجے شاندار بھاپ اٹھتے بوفے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس اثنا میں شاہی ویٹر ہاتھ میں طشتریاں لئے مہمانوں میں مختلف انواع کے مشروب تقسیم کرنے لگتے ہیں۔
پردہ گرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایکٹ۔۲
پردہ اٹھتا ہے۔
دارلحکومت کی ایک گلی میں بوسیدہ مکان میں شام کا ایک منظر۔ کمرے میں ایک پرانا سا لکڑی کا پلنگ ہے جس کے قریب ایک کرسی اور میز دھرا ہے۔ دیوار پر کچھ کپڑے ٹنگے ہیں اور میز پر کمپیوٹر اور چند کتابیں پڑی ہوئی ہیں اور اسی کے ساتھ ہی ایک پرانے اونی قالین پر ایک بوڑھا شخص کتاب ہاتھ میں لیے بیٹھا ہے۔ کمرے میں ایک طرف شکسپیئرکے مقبرے کی تصویر اور دوسری طرف سقراط کی زہر کا پیالہ تھامے ہاتھ سے بنی پینٹنگ ٹنگی ہوئی ہیں۔ یہی اس کمرے کا کل اثاثہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ ارے کیا کوئی میری آواز سنتا ہے؟ میں کب سے پکار رہا ہوں مجھے ایک کپ چائے چاہیے۔۔۔‘‘
بڑی ہوئی شیو، میلے سے کپڑوں میں ملبوس پینسٹھ سالہ بوڑھا پروفیسر اپنے پیٹ کے درد کو اند ر کی طرف دباتے ہوئے چلاتا ہے۔وہ کاٹھ کباڑ جیسے کمرے میں کتابوں کے مٹی سے اٹے ڈھیر کے جھرمٹ اور ملگجی سی روشنی میں فرش پر پرانے اونی قالین پر بیٹھا کچھ پڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اتنے میں ایک عورت اپنے لرزتے ہوئے ہاتھ میں چائے کا کپ لئے نمودار ہوتی ہے۔ اسکا چہرہ دھویں سے کالا ہو رہا ہے۔
’’اب کوئی تماری آواز نہیں سنے گا۔ میرے آقا ۔۔۔ مائی لارڈ شپ! نہ اس گھر میں نہ کوئی باہر ۔۔۔‘‘
’’ سچائی کی تلاش میں تم اپنی زمین سے رشتے توڑ چکے ہو ۔ سچ یہ ہے کہ کوئی تمیں سچا نہیں سمجھتا۔ انہیں تم پر یقین نہیں رہا۔‘‘
’’ تماری سچ کی جھونپڑی کے گرد انہوں نے منافقت اور جھوٹ کے بلند و بالا محل کھڑے کر لئے ہیں۔ اب یہ کٹیا ان محلات کی اوٹ میں چھپ چکی ہے۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ تمارے خیالات پورے سماج کو گندہ کرتے ہیں، انتشار پھیلاتے ہیں۔‘‘
’’ مائی ڈئیر پروفیسر۔۔۔ یہ جان جاؤ کہ تم انکے عزائم میں رخنہ ہو۔‘‘ بوڑھی عورت ایک قہقہہ لگاتی ہے۔
’’چونکہ تم قریب الموت ہو ۔۔۔ اس لئے انہوں نے تمیں نظر انداز کر دیا ہے۔‘‘
وہ چائے کا کپ اس کے نزدیک تپائی پر رکھ دیتی ہے۔
’’ یہ رہی تماری چائے۔۔۔ اور یہ آخری کپ ہے۔ گھر میں سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ مجھ میں اب ہمت نہیں رہی کہ میں اس بڑھاپے میں سارا دن دھوپ میں قطار میں کھڑے رہوں اور اپنے حصے کا راشن حاصل کر سکوں۔ ایک لیٹر دودھ ایک کلو چینی اور ایک ڈبل روٹی کے علاوہ وہ دیتے ہی کیا ہیں؟ اس بار آٹا اور چاول بھی منع کر دئیے تھے۔ ‘‘
’’ وہ کہتے ہیں ۔۔۔ قربانی دو ۔۔۔ ملک کے لئے۔ ریاست کے لئے ۔۔۔ اس آزادی کے لئے جو تمیں حاصل ہے۔۔۔ ‘‘
’’ آزادی؟ ۔۔۔ کیسی آزادی ؟؟؟
منافقت اور جھوٹ کی سربلندی، بھوک میں تڑپنے کی آزادی؟؟؟
وہ یہ کہتی ہوئی ، بڑبڑاتی ہوئی کمرے سے نکل جاتی ہے۔ بوڑھا پروفیسر خاموش نظروں سے اسے باہر جاتا دیکھتا ہے ۔
کمرے میں گہری خاموشی چھا جاتی ہے اس پِن ڈراپ سائلنس میں اچانک ارسطو کی زہر پیتے ہوئے تصویر اچانک نیچے گر جاتی ہے اسکے فریم کا شیشہ فرش پر کرچی کرچی ہو کر پھیل جاتا ہے۔
پردہ گرتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایکٹ ۔۳
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پردہ اٹھتا ہے
منظر ۔۔۔۔
چند دنوں بعد، بادشاہ کا دربار ہمیشہ کی ویسے ہی سجا ہوا ہے ، وہی ہال ، وہی لوگ، وہی سٹیج ، امورِ سلطنت پر گرما گرم گفتگو ہو رہی ہے ۔
پورا دربار خاموش ہے۔ ظلِ سبحانی جوش اور غصہ میں وزیروں، سرکاری افسرو ں اور درباریوں سے مخاطب ہیں۔
’’ کوئی دلیل ، کوئی مزاحمت نہیں ۔۔۔ میں صرف حکم کی تعمیل چاہتا ہوں۔‘‘
وہ بائیں جانب کھڑے سپہ سالار کی جانب خوشمگین نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ تم سمجھتے ہو، میں کیا کہہ رہا ہوں؟ ‘‘
سپہ سالار کورنش بجا لاتے ہوئے عرض کرتا ہے ۔۔۔ ’’ حضور والا ۔۔۔ مائی لارڈ شپ۔ میں پوری طرح سمجھتا ہوں لیکن میرے فوجی جوان بھوکے پیٹ نہیں لڑ سکتے۔ ان کے پاس اسلحہ کی بھی کمی ہے اور سب سے بڑی بات انہیں لڑنے کے لئے کوئی ٹھوس وجہ چاہیے۔ ‘‘
بادشاہ : کیا کہا ٹھوس وجہ؟ کیا اب تک ہم دشمنوں سے بلاوجہ لڑ رہے تھے؟ ‘‘ بادشاہ نے قہر آلود نظروں سے سارے دربار کی طرف دیکھا۔ ( چاروں طرف کھسر پھسر اور سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں)
سپہ سالار اپنے موٹے ہاتھ سے اپنے گال کو خجالت سے کھجلاتا ہے
ایک کونے سے آواز بلند ہوتی ہے ۔۔۔’’ خاموش ۔۔۔ نگاہ روبرو ، ہمہ تن بگوش، ظلِ سبحانی جلوہ افروز ہیں۔‘‘
سپہ سالار ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے کورنش بجا لاتا ہے اور کہتا ہے۔
’’ جہاں پناہ کا اقبال بلند ہو۔ ہمارا خیال ہے کہ ہمیں اب فیصلہ کر لینا چاہیے کہ ہم عقیدوں پر سجدہ کریں گے ، پرانی دوستیاں نبھائیں گے یا نئے عالمی منظر میں اپنی محلوں کی حفاظت کریں گے۔ہمیں یکبارگی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم دوست ہیں کہ دشمن۔ ‘‘
بادشاہ یکلخت چاروں طرف متلاشی نگاہوں سے دیکھتا ہے اور گرجتا ہے۔
’’ وزیرِ قانون کہاں ہے؟ ‘‘
بائیں جانب لوگوں میں حرکت ہوتی ہے اور ایک موٹا سا ٹھگنے قد کا شخص آگے بڑھ کر بادشاہ کو کورنش بجا لاتے ہوئے مخاطب ہوتا ہے۔
’’ میرے آقا۔ مائی لارڈ شپ ۔۔۔ یہ غلام یہاں حاضر ہے۔ ‘‘ وزیرِ قانون کی تھرتھراتی ہوئی آواز آتی ہے۔
’’ فوری طور پر پوری ریاست میں نیا قانون لاگو کردو ۔ تمام ریاست میں آج سے عوام کے بنیادی و انسانی حقوق ختم کئے جاتے ہیں۔ صرف ان لوگوں کو استثنا ہے جو اس وقت یہاں دربار میں موجود ہیں۔‘‘
’’ ملک کی تمام جیلوں سے سب قیدی رہا کر دئیے جائیں اگر وہ مملکت کو یقین دھانی کروادیں کہ ہر قیدی اپنے ذرائع سے دس فوجیوں کو کھانا اور اسلحہ فراہم کرے گا۔ کوئی انصاف کی کچہری نہیں لگے گی۔ ہم اپنے دشمنوں کو شکست دینا چاہتے ہیں ۔۔۔ ہم اپنی کاز سے وابستہ رہیں گے ہر قیمت پر۔۔۔ اور ہماری کاز ہے’ انسان کی آزادی‘۔ ‘‘
وہ معنیٰ خیز مسکراہٹ سے درباریوں کی طرف دیکھتا ہے۔
لونگ لیو دی کنگ اور بادشاہ زندہ باد کے نعروں سے پورا دربار گونج اٹھتا ہے ۔ لوگوں کے چہرے خوشی سے تمتما اٹھتے ہیں۔ دربار کے تمام سنہرے فانوس جل اٹھتے ہیں اور دیواروں پر گھڑ سوار حرکت میں آ جاتے ہیں۔
اتنے میں کچھ لوگ بڑھ کر دیواروں پر لٹکی شیروں اور گائیوں کی تصویروں کے گلے میں پڑے پھولوں کے ہار نوچ لیتے ہیں۔
سب لوگ آگے بڑھ کر جہاں پناہ کا ہاتھ چومنا چاہتے ہیں لیکن بادشاہ اپنی دائیں جانب سے سٹیج پر نمودار ہونے والی اپنی نئی نویلی دلہن ملکہ عالیہ کی طرف مسکراتے ہوئے تفاخرانہ نظروں سے دیکھتا ہے۔ وہ آگے بڑھ کر دھیرے سے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے ۔
پھر دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے درباریوں کو ہال کے ایک کونے میں سجے گرما گرم بوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے’ لانگ لیو دی کنگ‘ اور ’لانگ لیو دی کوئین‘ کے شور میں دربار سے نکل جاتے ہیں۔
پردہ گرتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ ۱۲ جون ۲۰۱۶ لاہور پاکستان جملہ حقوق محفوظ

Thursday, May 26, 2016

سعادت حسن منٹو ، حقیقت کیا ہے؟



سعادت حسن منٹو ، حقیقت کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو ادب میں جہاں سعادت حسن منٹو ہمیشہ سے اپنی اچھوتی اور متنازع فیہ حیثیت کے ساتھ زندہ رہا ، وہیں بعد از موت بھی اسکے فن پارے اختلافی آراٗ پر مبنی ا دبی گفتگو کا محور رہے ہیں۔ لیکن یہ بات مشترکہ طور پر طے ہو رہی کہ منٹو ایک لاجواب کہانی کار تھا ۔ وہ اپنے عہد سے جڑا ایسا فنکار تھا جسے کسی نظریے ،تحریک یا ادبی اجتماع کی ضرورت نہ تھی۔ فطری طور پر آزاد پیدا ہو نے کے بعد سماجی زنجیروں میں بندھا جانا اسے پسند نہ تھا۔ اِسی لئے وہ ممکنہ حد تک ذہنی و لسانی سطح پر نہ صرف شخصی طو ر پر آزاد تھا بلکہ اپنی فکر میں آزاد منش ادیب تھا۔ اسکے موضوعات اسکی عصری زندگی سے اٹھائے گئے سوالات تھے اور اسکا اظہار بھی زندگی کے انہی بیباک اصولوں پر تجسیم کیا گیا جنہیں سماج کے روایتی ٹیبوز نے سمیٹ رکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان ادب پاروں میں اظہار و بیان کی دلکشی و چاشنی کے ساتھ ساتھ حقائق کی تلخیاں اور کسیلا پن بھی شامل ہے۔ اُن سچائیوں کو ، جن کا تعلق انسانی زندگی اور اس سے جڑے بے حس و سنگدل سماج سے ہے ، وہ نہ صرف آشکار کرتا ہے بلکہ ایک نفسیاتی معالج کی طرح اس پر نشتر بھی چلاتا ہے۔ معروف رائٹر و نقاد ڈاکٹر شفیق جالندھری پنجاب یونیورسٹی اپنے مختصر مضمون ’’منٹو ۔۔۔ افسانے اور سچائیاں‘‘ میں لکھتے ہیں(۱)
’’وہ ایک ایسا معالج ہے جو صرف کھٹی میٹھی گولیوں سے ہی علاج نہیں کرتا، ضرورت محسوس ہو نے پر نہایت بے تکلفی سے آپریشن بھی شروع کر دیتا ہے۔ اس کا آپریشن کچھ اِس انداز کا ہے کہ اس کے اچانک ہو جانے پر مریض حیران سے رہ جاتے ہیں۔ ذہنی طور پر آپریشن کے لئے پہلے سے آمادہ نہ ہونے کی بِنا پر بعض اوقات وہ گھبرا اور سٹپٹا بھی جاتے ہیں۔ ایسا اِس وقت ہوتا ہے جب منٹو جنس کے مسائل کو سامنے لاتا ہے۔ جنس کے متعلق اکثر لوگ بے حد شرمیلے ہوتے ہیں، بعض شرم کی بجائے احتیاط کو پیشِ نظر رکھتے ہیں ، کچھ لوگ کھُلے ڈلے ہوتے ہیں اور بعض فحش گوئی کو اپنا لیتے ہیں۔ منٹو ایک کھُلا ڈلا انسان ہے جس پر فحاشی کا الزام لگتا ہے۔‘‘
شاید یہی بات تھی کہ مخصوص مغربی ادبی حلقوں میں سعادت حسن منٹو کے افسانوں ، مضامین اور تحاریر کی ادبی اہمیت عام طور پر ایک ایسے رائٹر کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں اس کا اکثر کام طوائف کے کوٹھے تک محدود سمجھا گیا ہے۔ اسے جنسیات و غیر متنوع موضوعات کا لکھاری کہا جانے لگا۔ جس کے پاس موضوعاتی تنوع بہت کم ہے ۔ لیکن ایشین سٹڈیز سنٹر ، مشی گن سٹیٹ یو نیو رسٹی، امریکہ کی پروفیسر لیسلے ۔اے۔ فلیمنگ اپنے ایک طویل مقالے میں ’’ این اَدر لونلی وائس ‘‘ جو سعادت حسن منٹو کے اردو کام پر لکھا گیا تھا، میں کہتی ہیں۔(۲)
’’ایسا نہیں ہے ۔ مغرب نے ابھی سعادت حسن منٹو پر کام ہی کب کیا ہے۔ وہ ایک سطحی سوچ کے حامل نقادوں کی تاثراتی رائے سے یہ اخذ کر رہے ہیں ۔ پروفیسر لیسلے کا کہنا ہے کہ منٹو کے عہد میں اور بعد از منٹو ، جو مصنفین اور نقاد ( زیادہ ترمارکسٹ نظریات سے وابستہ) اردو ادب میں مقبولِ عام کے طور پر پہچانے جاتے تھے انہوں سے بہت کچھ گڈمڈ کر دیا اور بحیثیت نقاد اپنے فرائض سے پہلو تہی برتی ہے۔ بجائے اسکے کہ وہ منٹو کے مکمل کام کی طرف توجہ دیتے ،جس میں تیئس افسانوی (شارٹ سٹوریز) مجموعے، ایک ناولٹ ، پانچ ریڈیو پلے ، ایک مکمل ڈرامہ، تین مضامین کے مجموعے، دو خاکوں کے مجموعے اور وہ تمام کام جو مغربی ادب سے ترجمہ کیا گیا کو پورے کا پورا د یکھا جانا از حد ضروری تھا۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ نقادوں سے یہ غلطی ہوئی انہوں نے سلیکٹڈ کام کو منتخب کیا اور اسی پر اپنی ادبی رائے کا اظہار کیا۔ اس ذاتی طور پر منتخب کئے گے کام میں نقادوں نے صرف ایسے کام کو ہی منتخب کیا جو سنسیشنل تھا ، جنسی مسائل پر لکھا گیا تھا اور حقیقی ادب سے اسکی جڑت نسبتاً کمزور تھی اور وہ ترقی پسند ( مارکسٹ نظریات) سے لگاؤ نہیں رکھتا تھا جو حکمرانوں اور عوام کے درمیان سماجی و معاشی تعلق کو کہیں زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ ان سب کا خیال تھا کہ منٹو نے ان ترقی پسند نظریات کو اپنے ادبی کام میں مہمیز نہیں دی جیسا کہ اس عہد میں ہو رہا تھا۔
ایسا لکھنے سے پہلے ڈاکٹر فلیمنگ نے منٹو کے تمام کام کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے یہ بھی دیکھا کہ منٹو ایک ایسے رائٹر کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے بالخصوص اپنے افسانوں (شارٹ سٹوریز) میں تنوع کو بے اختیار برتا ہے۔ وہ اپنی نظر سے زندگی کے ان حقیقی مسائل کو اس گہرائی میں جاکر دیکھتا ہے جہاں سماج کا مشترکہ ذہن بھی نہ پہنچا ہو۔‘‘
اپنی اس رائے کو سامنے لاتے ہوئے کارلو کوپالا لکھتا ہے ’’ کہ یہ سب کچھ کہنے سے پہلے ڈاکٹر فلیمنگ منشی پریم چند (ڈی۔ ۱۹۳۶) سے لیکر اب تک عمومی طور پر سارے اردو ادب اور اردو شارٹ سٹوریز کا بالخصوص ، بغور جائزہ لیتی ہیں ۔ انکا کہنا ہے کہ منٹو کے کام کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے میں نے فرینک۔ او کارنر کے لکھے ہوئے ملتے جلتے مضمون ’’ دی لونلی وائس ‘‘ سے متاثر ہو کر استفادہ کیا ہے جہاں انہوں نے افسانوی ادب اور ناول کے درمیان ایک ایسے پُل کو تلاش کیا تھا، جس میں ہمہ جہت سے نکل کر صرف ایک مرکزی کردار کو متن میں متوازی سطح پر اٹھایا جاتا ہے اور اسی کے مسائل کو سماج کے ان دیکھے ،مخفی المیوں سے جوڑ دیاجاتا ہے، لیکن بین ہی وہ متن اپنی تہ میں علامتی سطح پر ہمہ جہت مسائل کو ایڈریس کرتا ہے ۔ ڈاکٹر فلیمنگ کا یہ بھی خیال ہے کہ فرق صرف یہ ہے کہ فرینک او کارنر ایک انتہائی تہذیب یافتہ سوسائٹی کے سولائزڈ افراد کو اپنی کہانیوں میں لاتا ہے جبکہ منٹو مبینہ طور پر تہذیب یافتہ سوسائٹی کی انتہائی نچلی سطح پر جا کر ایس افراد کو اپنے کردار چنتا ہے جو اپنی سماجی حیثیت میں کوئی مقام ہی نہیں رکھتے بلکہ بادیِ النظر میں سماج کی نفرتوں کا شکا ر ہیں اور یہیں سے ان افراد کی تنہائیوں کا دور شروع ہوتا ہے جس کے بعد ازاں منفی نتائج پوری سوسائٹی پر نظر آتے ہیں۔ ‘‘
یہ وہی بات ہے کہ جو میں پہلے اپنے کسی مختصر مضمون میں منٹو کے بارے میں لکھ چکا ہوں کہ منٹو انہی متذکرہ مبینہ نفرت آلود افراد کر کیریکٹرائز کرتے ہوئے تحت الشعور اور لاشعور کی ان سفلی خواہشات اور انکے محرکات کو ہمارے شعوری علم کے دائرے میں کھینچ لانے کی کوشش کرتا ہے، جنہیں ہم بالعموم ’’ ضمیر ‘‘ کے دبیز پردوں میں ڈھانپ کر رکھتے ہیں۔
منٹو کے ممتاز اور مقبول عام افسانوں پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور مزید بھی لکھا جائے گاکیونکہ میرا ذاتی خیال ہے کہ منٹو پر لکھنے کے لئے اسی پایہ کے نقاد کا میسر ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے بیشتر نقادوں کی رائے بہرحال ادبی نقطہ نظر سے استدلال کے جھولے میں ڈولتی نظر بھی آتی ہے لیکن حسن عسکری بڑی سچائی سے ’سیاہ حاشئے‘ کی’’حاشیہ آرائی ‘‘ میں منٹو پر بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ (۳)
’’پچھلے دس سال میں نئے ادب کی تحریک نے اردو افسانوی ادب میں گرانقدر اضافے کئے ہیں، لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اکثر و بیشتر نئے افسانوں کی محرک تخلیق کی اندرونی لگن نہیں تھی بلکہ خارجی حالات اور واقعات ، خواہ انکا تعلق خود مصنف کی ذات سے ہو یا ماحول سے۔ ممکن ہے کہ یہ بہت حد تک اس رائج الوقت عقیدے کے ماتحت ہوا ہو کہ محض خارجی ماحول کو بدل دینے سے انسانوں کی داخلی زندگی کو بدلا جا سکتا ہے ‘‘
حسن عسکری جیسے جئید نقا د اسی مضمون میں چل کر آگے کہتے ہیں ۔۔۔۔
’’ برصغیرِ ہندوستان کے یہ فسادات ایسی پیچیدہ چیز ہیں، اور صدیوں کی تاریخ سے، صدیوں آگے کے مستقبل سے، اس بری طرح الجھے ہوئے ہیں کہ ان کے متعلق یوں آسانی سے اچھے برے کا فتویٰ نہیں دیا جا سکتا، کم از کم ایک معقول ادیب کو یہ زیب نہین دیتا کہ وہ ایسے ہوش اڑا دینے والے واقعات کے متعلق سیاسی لوگوں کی سطح پر اتر کر فیصلے کرنے لگے۔ منٹو نے اپنے افسانوں میں وہی کیا ہے جو ایک ایماندار (سیاسی معنوں میں ایماندار نہیں بلکہ ادیب کی حیثیت سے ایماندار) اور حقیقی ادیب کو ان حالات میں اور ایسے واقعات کے اتنے تھوڑے عرصے بعد لکھتے ہوئے کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے نے نیک و بد کے سوال ہی کو خارج از امکان قرار دے دیا ہے۔ انکا نقطہِ نظر نہ سیاسی ہے، نہ عمرانی نہ اخلاقی بلکہ صرف ادبی اور تخلیقی۔ منٹو نے صرف یہ دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ ظالم یا مظلوم کی شخصیت کے مختلف تقاضوں اور ظالمانہ فعل کا کیا تعلق ہے۔ ظلم کرنے کی خواہش کے علاوہ ظالم کے اندر اور کون کون سے میلانات کار فرما ہیں، انسانی دماغ میں ظلم کتنی جگہ گھیرتا ہے اور زندگی کی دوسری دلچسپیاں باقی رہتی ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔ ‘‘
یہ وہ اہم سولات ہیں جو منٹو اپنی تحاریر میں اٹھاتا ہے۔ اس نے نہ تو رحم کے جذبات ابھارے ہیں نہ ہی غصے کے یا نفرت کے وہ وہی جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جو فطری طور پر انسان کے اندر پنہاں ہے۔ آئیے ان سوالات کے جواب ہم انکے سیاہ حاشئے میں شامل مختصر افسانوں سے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو انہوں نے پاکستان کی سرزمین پر تقسیمِ ہند کے فوراً بعد لکھے۔ (۴)
سیاہ حاشیہ ( ۱۹۴۸) میں اپنے مختصر افسانے’’ اشتراکیت‘‘ میں اشتراکیت کی حقیقی روح سے رو گردانی کرتے ہوئے منٹو اشتراکیت کے نام پر صرف روٹی کمانے والوں کو لٹیرے کے روپ میں دیکھتا ہے ۔
اس طرح ’تعاون ‘ عنوان کے تحت وہ لوٹ مار کے ایک گروہ کو علامتی انداز سے کتے سے بھِڑا دیتا ہے۔
’ تقسیم ‘ میں وہ مال غنیمت میں سے ظالم برآمد کروا کردوسرے ظالموں کو جہنم واصل کرا دیتا ہے ۔
’ اصلاح ‘ میں مرد کے مخصوص اعضا کے حوالے سے ایک ایسی عجیب و غریب صورت پیدا کرتا ہے کہ اعتقاد سے زیادہ اصلاح کا معنوی پہلو غلطی دور کرنے کی کوشش کو علامتی بنا دیتا ہے ۔
اسی طرح’ حیوانیت‘ ، ’کھاد‘ ، ’کسرِنفسی‘ اور دیگر افسانچوں میں منٹو نے تقسیم ہند پر اپنے فنکار قلم سے ہندو مسلم فسادات ، لوٹ مار اور قتل وغارت کو جس مہارت سے پینٹ کیا ہے وہی حقیقی طور پر ایک ادیب کا کردار ہے۔ منٹو نے انسان کو نہ ظالم بنایا نہ مظلوم، غیر معمولی حالات میں اس نے انسانی فطرت کے ان تمام پہلوؤں کو ادیبانہ مہارت و بصیرت سے قاری پر منکشف کر دیا اور اشارہ کرکے خود خاموش ہوگیا۔ دوسرے لفظوں میں انسان اپنی انسانی فطرت میں نہ تو فرشتہ بن سکتا ہے نہ ہی شیطان۔ وہ کتنا ہی غیر معمولی بننے کی کوشش کیوں نہ کرے زندگی کی حقیقت اور فطری تقاضے اسے معمولی معاملات میں گھسیٹ لاتے ہیں ۔
متذکرہ بالا اجمالی جائزہ منٹو کے پورے کام کا احاطہ نہیں کرتا، میں اپنے تعیں سمجھتا ہوں کہ منٹو کے جملہ افسانوں، مضامین ،خاکوں ڈراموں و دیگر تحاریر وغیرہ پر ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔
انہی بنیادوں پر مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ منٹو ایک عظیم فنکار تھا اور اپنے عہد سے جڑ کر اس نے اردو ادب کی جو نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں وہ بلاشبہ بے حد سراہے جانے کے قابل ہیں۔ مقبولیت تو اس نے اپنی زندگی میں ہی پا لی تھی لیکن اسکا بلند و بالا عالمی ادبی مقام آنے والے دنوں میں حقیقی منصب و رتبے کامتقاضی ہوگا جو دنیائے ادب کے نقادوں کو انہیں دینا ہوگا کیونکہ منٹو اسی منصب کے قابل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نعیم بیگ
لاہور پاکستان ۳۱ مارچ ۲۰۱۶
جملہ حقوق بحقِ مصنف محفوظ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات
۱۔دیپاچہ از ڈاکٹر شفیق جالندھری ’’منٹو کے یادگار افسانے ‘‘ نگارشات پبلشرز ۱۹۹۹
۲۔ مقالہ پروفیسر ڈاکٹر لیسلے اے فلیمنگ ۔ ’ ’ این ادر لونلی وائس‘‘ ریویو از کارلو کوپالا ازجرنل فار ساوتھ ایشین لٹریچر
ایشین سٹڈیز سنٹر ، مشی گن یونیورسٹی امریکہ
۳۔ حاشیہ آرائی از محمد حسن عسکری دیپاچہ ’ سیاہ حاشئے‘ از سعادت حسن منٹو ۱۹۴۸ از سنگ میل پبلیکیشنز ’ منٹو نما‘ ایڈیشن ۲۰۰۸
۴۔ سیاہ حاشئے از سعادت حسن منٹو سنگِ میل پبلیکیشنز منٹو نما ایڈیشن ۲۰۰۸

Sunday, May 8, 2016

شمال کی جنگ (اردو افسانہ)



شمال کی جنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ڈئیرمارتھا ۔۔۔
 مجھے امید ہے کہ میرے خطوط تم تک پہنچ رہے ہونگے۔ دراصل جس شخص کو میں یہ خطوط پوسٹ کرنے کو دیتا ہوں وہ ایک نادار بنسری نواز پٹھان لڑکا ہے۔ اس کی ٹانگ دو برس پہلے بم شیل لگنے سے کٹ گئی تھی۔ اب یہاں چھوٹے موٹے کام کر کے گزارہ کرتا ہے۔ بنسری بجانا اسکا شوق ہے اور تمیں یاد ہوگا جب میں یہاں آنے کا قصد کر رہا تھا تو مجھے ایک بنسری چاہیے تھی۔ وہ بنسری میں نے اسی لڑکے کو دینی تھی۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ وہ اس دن کتنا خوش تھا جب میں نے اسے سنہرے تانبے کی بنسری دی تھی تو کتنی دیر تک اس بنسری کو دیکھتا رہا۔ جب میں نے اسے بجانے کو کہا تو اس نے اپنی پرنم پلکیں اوپر اٹھائیں اور کہا ، ابھی نہیں۔۔۔ میں اسکی بات سن کر خاموش ہو گیا تھا لیکن جب اگلے دن شام کووہ ایک دھن تیار کر کے مجھے سنانے آیا تو یقین کرو میں حیرت زدہ رہ گیا ۔ وہ محبت کی وہی اداس دھن تھی۔۔۔ جس کے سُر دل کے تاروں کو چھیڑتے ہوئے پہلے ہی میری روح میں اتر چکے تھے۔ 
 جانتی ہو وہ دھُن کونسی تھی ؟تم نے بھی یہ دھن سنی ہوئی ہے، وہی سیمفونی والی۔۔ ۔’ وہن آئی ایم لیڈ اِن ارتھ‘‘ ۔۔۔۔’جب مجھے زمین کے اندر لِٹا دیا گیا‘ ۔۔۔
 یاد آیا تمیں ،ہم نے یہ دھُن براڈوے میں ایک ساتھ سنی تھی اور تم رو پڑی تھی اور کئی دنوں تک روتی رہی تھی ۔ مجھے تمیں چپ کرانے کے لئے ایک بار پھر براڈوے لیجانا پڑا اس بارگی ہم نے کامیڈی شو دیکھا تھا۔
 یہ اداس دھن سن کر میں نے اسے پوچھا۔ یہ دھن تم نے کہاں سے سیکھی تو اس نے بتایا’’ ایک مغربی عورت کو یہاں قید کر لیا گیا تھا جو دو سال یہاں رہی تھی اور میری خدمات اسکے سپرد تھیں ۔ میں اسکے متفرق کام کرتا تھا اُسی نے مجھے یہ دھن سیکھائی تھی میں نے سنا تھا کہ وہ بعد میں مسلمان ہو گئی تھی۔‘‘ 
میں سمجھ گیا تھا وہ وَان ریڈلِی کی بات کر رہا ہے۔ 
 ۔۔۔۔ اوہ میں خط بند کرتا ہوں ۔۔۔ کوئی آ رہا ہے! 
تمار ا اپنا ٹِم 
 مقام نامعلوم مورخہ ستمبر ۲۰۱۵
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
 ڈیئر مارتھا۔۔۔
 صبح بخیر۔۔۔ کیا تمیں کل رات نیند آئی تھی؟
 میں تو رات بھر جاگتا رہا ہوں۔ اب یہ نہ پوچھنا ،کیوں؟ 
 ہاں،میں تم سے پوچھنا بھول جاتا ہوں کہ جو آرپائن کے پرپل ایمپرر پودے میں نے گزشتہ سال گھر کے پچھلے صحن میں لگائے تھے کیا انہوں نے اس موسم خزاں میں پھول دئیے تھے کہ نہیں۔ بس تم وہیں سے اونچی آواز میں بتا دینا تماری آواز مجھ تک پہنچ جائے گی۔ 
 آجکل یہاں کچھ عجیب سی صورتِ حال ہے ۔ کئی ایک دنوں سے یہاں بم باری رکی ہوئی تھی لیکن کل رات سے پھر شروع ہو گئی ہے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہاں مقامی باغیوں کو مزید کمک اور نفری مل گئی ہے اس بار وہ یہاں فوج کو سخت جواب دیں گے۔ لیکن میرے لئے عجیب بات تو یہ ہے کہ یہاں باغیوں میں ہر نسل اور ہر ملک کا آدمی ہے۔ تم تو جانتی ہی ہو ۔ انکا ایک ہی مطالبہ ہے کہ مغرب یہاں سے نکل جائے کیونکہ انہیں اپنے مذہب کے پرچار کے لئے زمین اور آزادی چاہیے تاکہ یہ پوری دنیا کی نسل انسانی کو سدھار سکیں۔ ۔۔۔ کتنی بودی وجہ ہے نا! خیر یہ سب سیاسی باتیں ہیں وہ تو سب کچھ میں ’ آج کی ڈائری‘ میں اخبار کو بھیج چکا ہوں ۔ 
 مجھے کبھی کبھار یہاں بالکل ایسے لگتا ہے جیسے دنیا بھر کے لوگ اس علاقے میں کچھ اور کرنا چاہتے ہیں اور وہ کیا ہے مجھے معلوم نہیں ہو سکا؟
 تم صحیح کہتی تھی میں غبی اور کند ذہن صحافی ہوں۔۔۔ مجھے پھول بیچنے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ 
 یہی دیکھ لو ایک سال کی مدت میں میر ا یہاں صرف ایک ہی دوست بناہے وہی بنسری نواز لڑکا ۔ ہاں مجھے یہ بتانا تو بھول ہی گیا کہ وہ لڑکا کل آیا تھا کہہ رہا تھا، راستے بند ہوتے جارہے ہیں، جنوب سے کوئی نیا گروہ بھی یہاں اسلامی مملکت کی داغ بیل ڈالنے کے لئے آچکا ہے۔ اگر تمیں نکلنا ہے تو ابھی نکل لو ورنہ چند روز تک یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہولناکی چاروں طرف پھیل چکی ہے۔ بھلا کوئی اس سے پوچھے جنگ سے زیادہ ہولناکی اور کیا ہوگی، کئی ایک دھائیوں سے یہاں پوری ایک نسل لڑ کر مر چکی ہے۔ اور پھر اس کے بعد اگلی نسل لڑتی رہی ہے ۔ اب تیسری نسل یہ جنگ لڑ رہی ہے۔ پچھلی نسل نے یہی جنگ پہلے اسی فوج کے ساتھ مل کر لڑ ی تھی اب ان کے خلاف لڑ رہی ہے۔ ایسا تو نہیں کہ اگلی بار یہ دونوں مل کر کسی اور کے خلاف لڑ پڑیں۔
 ویسے مجھے ہمسایہ ملکوں کے بڑے شہروں سے بھی کچھ خبریں پہنچتی ہیں ، چونکہ وہ میرا علاقہ نہیں لہذا ان خبروں کو میں رپورٹ نہیں کرتا۔ اپنے دوسرے ساتھیوں کو کام کرنے دیتا ہوں، وہ کہتے ہیں سب مذاہب ناکام ہو چکے ہیں، اسی لئے یہ لوگ مذاہب کو زندہ رکھنے کے واسطے اس میں شدت لارہے ہیں، ان انتہا پسندوں نے اس خطے کے کو اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ اب آخری جنگ شاید گھر گھر ہو ۔ بلکہ تقریباً ہو ہی رہی ہے۔ یہ سب لوگ آخر کیا چاہتے ہیں؟ ناکامی انکا مقدر کیوں بن رہی ہے؟
 اچھا خط بند کرتا ہوں ۔۔۔ بنسری نواز آنے والا ہے ہم نے کہیں جانا تھا۔
 خدا حافظ تمارا ٹم۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 میری جان مارتھا۔۔۔
 کل رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ، کہ میں کسی بڑے تاریک غار کے اندر ہوں اور چاروں طرف اژدھے اپنے سر اٹھا کر مجھے دیکھ رہے ہیں، اسکا بھلا کیا مطلب ہوا؟ میں تو یہاں بالکل ٹھیک ہوں بس اب باہر نکلنا کم ہو گیا ہے علاقہ میں جنگ کی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی ہیں، مقامی لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے بڑے شہروں میں تباہی مچا رکھی ہے بچوں ، بڑوں عورتوں کو بلاتمیز و تفریق قتل کر رہے ہیں ، لیکن پھر بھی انکے ساتھ لوگوں کی ہمدردیاں بڑھ رہی ہیں ۔ مجھے تو صرف یہی نظر آتا ہے صرف مذہب کی بنیاد پر یہاں زندگی گزارنے کی ایک سعی لا حاصل ہے۔ کیا یہ لوگ اپنے معاشی وسائل کو یوں حل ہوتا دیکھ رہے ہیں ۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ چند صدیاں پیچھے جاکر ان کے لوگ آج کی زندگی گزار سکیں گے۔ وقت کا پہیہ الٹا کیسے چل سکتا ہے۔۔ فطرت کا اصول تو یہ نہیں ۔ 
 مارتھا تم بھی کہو گی کہ میں کیا اول فول بک رہا ہوں ۔ اچھا تم ایک کام کرنا ، چرچ جا کر میرے لئے خداوند سے دعا کرنا۔ مجھے ان انسانوں سے محبت ہوتی جا رہی ہے جو خود زندگی سے نفرت کر رہے ہیں ، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ایک ساتھ مکمل خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں مختلف سمتوں سے ؟ 
 مارتھا مجھے تم بہت یاد آ رہی ہو میں کئی ایک دنوں سے بنسری نواز سے بنسری بجانا سیکھ رہا ہوں ۔ کل میں نے وہی دُھن بجائی تھی۔۔۔۔
’’ وہن آئی ایم لیڈاِن ارتھ ۔۔۔۔ ‘‘
یقین کرو مجھے ایسے لگا کہ میں واقعی دفن ہو رہا ہوں ۔۔۔ کیا تمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم دونوں اب نہیں مل سکیں گے۔
’ جب میں زمین کے اندر لٹا دیا گیا۔۔۔
 کیا میرے سب اعمال دھُل جائیں گے ۔۔۔
 اچھا اب خط لکھنا بند کرتا ہوں، اس وقت بم باری ہمارے گھروں پر ہی ہو رہی ہے ۔ گھڑی بھر کی بات ہے۔۔۔اب میں اپنے آپ کو کائنات کی آزاد فضا کے حوالے کرتا ہوں ، بس تم تیار رہو ، ہم ایک ساتھ پھر براڈوے ضرور جائیں گے۔
 تمارا اپنا اور صرف اپنا ٹم
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 عالمی صفحہ’’ اخبار دارالحکومت ‘‘ مورخہ ۵ اپریل ۲۰۳۲ ء
 مختصر خبر( نامہ نگار )یہ خطوط شمالی علاقوں میں پہاڑوں کے دامن میں بسے ایک گاؤں کے پرانے تباہ شدہ ڈھیر سے برآمد ہوئے ہیں جو مکتوب الیہ تک نہ پہنچ سکے تھے ۔ ان خطوط کی صحافیانہ تحقیقات جاری ہیں۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 نعیم بیگ
  8 May 2016لاہور پاکستان 
 حقوق بحق مصنف محفوظ