مقدس سلطنت
(تین ایکٹ شارٹ پلے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایکٹ۔۱
پردہ اٹھتا ہے۔
( دارلحکومت میں بادشاہ کا موتی محل اور معمول کی درباری شام )
جگمگ کرتے وسیع و عریض ہال کے چکنے اور چمکدار فرش پر ایرانی و ترکی ریشمی سلکی قالین بچھے ہوئے ہیں ۔ سامنے ایک بڑے خوبصورت اسٹیج پر مخملی کرسی نما تخت پر بادشاہ گاؤ تکیے پر نیم دراز فروکش ہے۔ بادشاہ کے تخت کے پس منظر میں جنگی و فطری مناظر میں جنگی جانوروں کی بڑی بڑی قدآور تصاویر نظر آ رہی ہیں ۔ جس میں شیر ، گھوڑے اور گائے نمایاں ہیں ۔ شیر اور گائے کی گردنوں میں پھولوں کے ہار ڈالے ہوئے ہیں ۔
بادشاہ کے عین پیچھے دائیں اور بائیں بڑے بڑے گلدان پھولوں سے سجے بہار کی آمد کی نوید دے رہے ہیں۔ سامنے مستطیل تپائی پر مختلف انواع کے پھولوں کے گلدستے سجے ہوئے ہیں ۔ان کے ساتھ ہی خشک میوے اور مشروبات رکھے ہیں۔ اسکے دونوں اطراف میں (یو شیپ) مخملی کرسیوں پر وزیر اور اربابِ اختیارِ مملکت اور سرکاری افسران بیٹھے ہیں۔ دربار میں کاروبارِ سلطنت و مملکت پر گفتگو ہو رہی ہے۔
دربان اندر آکر کورنش بجا لاتے ہوئے بادشاہ سے مخاطب ہوتا ہے۔ ’’ ظلِ سبحانی صحافی باریابی کی اجازت چاہتا ہے۔‘‘
’’ پیش ہو۔ ‘‘ بادشاہ خوشدلی سے ہاتھ اٹھا کر اجازت دیتا ہے ۔
’’خوب۔۔۔ بہت خوب ۔۔۔ظلِ سبحانی کا اقبال بلند ہو۔‘‘ تالیاں بجاتے ہوئے منہ چڑھا صحافی دربار میں حاضر ہوتے ہوئے بادشاہ کے سامنے تین بار کورنش بجا لاتا ہے۔
صحافی: ’’ یہ رہی وہ شاندار اور الوہی مہا ذہانت جو سچائی کے پردوں کو چاک کرتی ہے ۔‘‘ وہ بادشاہ کی مدح سرائی کرتا ہے ، اور آداب بجا لاتے ہوئے مسلسل ہاتھ سر تک لے جاتا ہے۔
(حالانکہ صحافی بادشاہ کی کہی ہوئی کوئی بات بھی سن نہ پایا تھا ، جو اِ س نے چند لمحے پہلے کہی تھی)
میڈیا وزیر : ’’لیکن۔۔۔ میرے ساتھیو !یہ یاد رکھو۔ میرا کہا ہوا ہمیشہ درست ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ میں ظلِ سبحانی کے حکم پر عوام کو انہی کے کہے لفظوں سے متاثر کرتا ہوں ۔‘‘
یہ کہتے ہوئے وزیرِ میڈیا بادشاہ کے سامنے کورنش بجا لاتے ہوئے احتجاج کے انداز میں صحافی کو دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ اوپر اٹھا لیتا ہے۔
بادشاہ سر کی جنبش سے تائید کرتا ہے۔ درباری حیران ہیں کہ تائید کس کی ہوئی ہے۔
اسی اثنا میں اقوامِ متحدہ میں بادشاہ کی طرف سے مقرر کردہ دراز قد سفیر قدموں تک سبز گاؤں پہنے اور سر پر اپنی ٹوپی میں مور کا ایک پر لگائے بادشاہ کی طرف ڈانس کرنے کے انداز میں قدم بڑھاتا ہوا نپی تلی آواز میں کہتا ہے۔
’’ مائی لارڈ شپ ۔۔۔ (کورنش بجا لاتے ہوئے ) میرے آقا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس وقت سلطنت میں لمبی داڑھی اور ٹخنوں سے اوپر شلوار اٹھائے دشمن اپنے چہروں پر نقاب اوڑھے ایک بھیانک جال بچھا رہے ہیں۔ پوری دنیا اس کی دھائی دے رہی ہے۔‘‘
بادشاہ : (دربار کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ کو حرکت میں لاتے ہوئے پوچھتا ہے ) کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ لوگ کون ہیں ۔ کیا ہم نے انکی سرپرستی کبھی کی؟
دربار خاموش رہتا ہے۔ ایک منہ چڑھا قصیدہ خوان کسی طرف سے نکلتا ہے اور کورنش بجا لاتے ہوئے کہتا ہے۔۔۔۔
’’میرے آقا! حضور فیضِ گنجور! آپ شہنشاہِ فیضانِ صحبت ہیں۔ آپکے عوامی اور انسانی خدمات کے چشمے جو یہاں پھوٹ رہے ہیں وہ ان سے نہ صرف خائف ہیں بلکہ جو عزت و احترام آپکو عوام میں مل رہا ہے وہ اس سے معاشی و سیاسی اندیشوں میں مبتلاہیں۔اسی لئے انہوں نے اب سرحدی جھڑپیں شروع کر دی ہیں اور شہروں میں سما رہے ہیں۔ تاکہ اپنے عقائد کے بل بوتے پر وہ لوگوں کو گمراہ کر سکیں۔ ‘‘
یہ سن کربادشاہ اپنے سنہرے اور گداز تخت سے اٹھتا ہے اور اپنے دربار میں چاروں طرف گہری نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس نے شاہی لباس پہنا ہوتا ہے جس میں اسکے تمام فوجی میڈل بھی سینے پر آویزاں ہوتے ہیں۔ گلے میں سُچے موتیوں کی مالائیں اور سر پر سنہرا تاج پہنا ہوتا ہے۔
ٓایک کونے سے اونچی آواز آتی ہے ۔۔۔’’ سب کھڑے ہو جائیں۔‘‘
سارا دربار حکم بجا لاتے ہوئے کھڑا ہو جاتا ہے۔ بادشاہ کے کھڑے ہوتے ہی دربار میں چاروں طرف چھت سے لٹکے سنہری روشنیوں کے فانوس جل اٹھتے ہیں۔ دیواروں پر لٹکی بڑی بڑی تصویروں پر سرخ سپاٹ لائٹ روشن ہو جاتی ہیں۔ جس سے ان تصویروں میں دوڑتے ہوئے گھڑ سوار غیر محسوس طریقے سے آگے بڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور پورے دربار میں گھوڑوں کی ہنہنانے کی مدہم آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔
بادشاہ اپنی گرجدار آواز میں پورے دربار سے مخاطب ہوتا ہے۔
’’ میرے ہم وطنواور ساتھیو ۔۔۔ میں آپ سب کے جذبات و احساسات کو سمجھتا ہوں چونکہ آپ ریاست کے ساتھ ساتھ ، اسکے عوام اور میرے ساتھ وفادار ہیں ۔ مجھے آپ سب پر فخر ہے ۔‘‘
’’لیکن آپ کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جب میں ایک دفعہ کھڑا ہو جاؤں تو پھر ساری قوم کا میرے پیچھے متحد ہوکرکھڑا ہونا لازم ہے ۔ ‘‘
’’ میں اپنی تلوار کی قسم کھا کر کہتا ہوں ( وہ اپنے دائیں جانب دیوار پر لٹکی تلوار کو دیکھتا ہے)۔ اسکا ایک ہاتھ اپنے بغلی ہولسٹر پر ہوتا ہے۔ میں کسی دوسرے ملک ، یا انکے ایجنٹوں کو اپنے ملکی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے سکتا اور نہ ہی کسی ملک کو اپنی سرحدوں کے اندر داخل ہونے کی اجازت دونگا۔‘‘
’’ خدا ئے برتر و اعلیٰ کی مقدس خواہش ہے اس آڑے وقت میں ریاست کو بچانے کے لئے مملکت کے لوگ قربانی دیں اور میں آج اس معزز ایوان اور دربار میں بڑے فخر سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ یہ لازوال قربانی اس ملک کے ذی شان شاہی خاندان اور ارباب اختیار و اقتدار سے شروع ہو گی۔‘‘
تالیوں ، شوخ سیٹیوں اور زندہ باد کے نعروں کے شور میں ہز ہائی نس کنگ ماجن اپنے چغہ کو سنبھالتے ہوئے چبوترے سے نیچے اترتا ہے۔
بادشاہ کے نیچے آجانے سے چاروں طرف سر جھک رہے ہوتے ہیں، تائیدی نظروں سے بادشاہ کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ ظلِ سبحانی
ہلکے قدموں سے اپنے وزراء اور سرکاری افسروں سے فرداً فرداً مصافحہ کرتا ہے ۔ کچھ لوگ کنگ ماجن کے ہاتھ چومتے ہیں جو اس تاریخی اعلان سننے کے واسطے یہاں جمع ہوئے تھے۔
کنگ ماجن ہاتھ کے اشارے سے سبھی مہمانوں کو دربار کے ایک کونے میں لگے ایشیائی، یورپی اور کانٹی ننٹل ڈشز سے سجے شاندار بھاپ اٹھتے بوفے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس اثنا میں شاہی ویٹر ہاتھ میں طشتریاں لئے مہمانوں میں مختلف انواع کے مشروب تقسیم کرنے لگتے ہیں۔
پردہ گرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایکٹ۔۲
پردہ اٹھتا ہے۔
دارلحکومت کی ایک گلی میں بوسیدہ مکان میں شام کا ایک منظر۔ کمرے میں ایک پرانا سا لکڑی کا پلنگ ہے جس کے قریب ایک کرسی اور میز دھرا ہے۔ دیوار پر کچھ کپڑے ٹنگے ہیں اور میز پر کمپیوٹر اور چند کتابیں پڑی ہوئی ہیں اور اسی کے ساتھ ہی ایک پرانے اونی قالین پر ایک بوڑھا شخص کتاب ہاتھ میں لیے بیٹھا ہے۔ کمرے میں ایک طرف شکسپیئرکے مقبرے کی تصویر اور دوسری طرف سقراط کی زہر کا پیالہ تھامے ہاتھ سے بنی پینٹنگ ٹنگی ہوئی ہیں۔ یہی اس کمرے کا کل اثاثہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ ارے کیا کوئی میری آواز سنتا ہے؟ میں کب سے پکار رہا ہوں مجھے ایک کپ چائے چاہیے۔۔۔‘‘
بڑی ہوئی شیو، میلے سے کپڑوں میں ملبوس پینسٹھ سالہ بوڑھا پروفیسر اپنے پیٹ کے درد کو اند ر کی طرف دباتے ہوئے چلاتا ہے۔وہ کاٹھ کباڑ جیسے کمرے میں کتابوں کے مٹی سے اٹے ڈھیر کے جھرمٹ اور ملگجی سی روشنی میں فرش پر پرانے اونی قالین پر بیٹھا کچھ پڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اتنے میں ایک عورت اپنے لرزتے ہوئے ہاتھ میں چائے کا کپ لئے نمودار ہوتی ہے۔ اسکا چہرہ دھویں سے کالا ہو رہا ہے۔
’’اب کوئی تماری آواز نہیں سنے گا۔ میرے آقا ۔۔۔ مائی لارڈ شپ! نہ اس گھر میں نہ کوئی باہر ۔۔۔‘‘
’’ سچائی کی تلاش میں تم اپنی زمین سے رشتے توڑ چکے ہو ۔ سچ یہ ہے کہ کوئی تمیں سچا نہیں سمجھتا۔ انہیں تم پر یقین نہیں رہا۔‘‘
’’ تماری سچ کی جھونپڑی کے گرد انہوں نے منافقت اور جھوٹ کے بلند و بالا محل کھڑے کر لئے ہیں۔ اب یہ کٹیا ان محلات کی اوٹ میں چھپ چکی ہے۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ تمارے خیالات پورے سماج کو گندہ کرتے ہیں، انتشار پھیلاتے ہیں۔‘‘
’’ مائی ڈئیر پروفیسر۔۔۔ یہ جان جاؤ کہ تم انکے عزائم میں رخنہ ہو۔‘‘ بوڑھی عورت ایک قہقہہ لگاتی ہے۔
’’چونکہ تم قریب الموت ہو ۔۔۔ اس لئے انہوں نے تمیں نظر انداز کر دیا ہے۔‘‘
وہ چائے کا کپ اس کے نزدیک تپائی پر رکھ دیتی ہے۔
’’ یہ رہی تماری چائے۔۔۔ اور یہ آخری کپ ہے۔ گھر میں سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ مجھ میں اب ہمت نہیں رہی کہ میں اس بڑھاپے میں سارا دن دھوپ میں قطار میں کھڑے رہوں اور اپنے حصے کا راشن حاصل کر سکوں۔ ایک لیٹر دودھ ایک کلو چینی اور ایک ڈبل روٹی کے علاوہ وہ دیتے ہی کیا ہیں؟ اس بار آٹا اور چاول بھی منع کر دئیے تھے۔ ‘‘
’’ وہ کہتے ہیں ۔۔۔ قربانی دو ۔۔۔ ملک کے لئے۔ ریاست کے لئے ۔۔۔ اس آزادی کے لئے جو تمیں حاصل ہے۔۔۔ ‘‘
’’ آزادی؟ ۔۔۔ کیسی آزادی ؟؟؟
منافقت اور جھوٹ کی سربلندی، بھوک میں تڑپنے کی آزادی؟؟؟
وہ یہ کہتی ہوئی ، بڑبڑاتی ہوئی کمرے سے نکل جاتی ہے۔ بوڑھا پروفیسر خاموش نظروں سے اسے باہر جاتا دیکھتا ہے ۔
کمرے میں گہری خاموشی چھا جاتی ہے اس پِن ڈراپ سائلنس میں اچانک ارسطو کی زہر پیتے ہوئے تصویر اچانک نیچے گر جاتی ہے اسکے فریم کا شیشہ فرش پر کرچی کرچی ہو کر پھیل جاتا ہے۔
پردہ گرتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایکٹ ۔۳
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پردہ اٹھتا ہے
منظر ۔۔۔۔
چند دنوں بعد، بادشاہ کا دربار ہمیشہ کی ویسے ہی سجا ہوا ہے ، وہی ہال ، وہی لوگ، وہی سٹیج ، امورِ سلطنت پر گرما گرم گفتگو ہو رہی ہے ۔
پورا دربار خاموش ہے۔ ظلِ سبحانی جوش اور غصہ میں وزیروں، سرکاری افسرو ں اور درباریوں سے مخاطب ہیں۔
’’ کوئی دلیل ، کوئی مزاحمت نہیں ۔۔۔ میں صرف حکم کی تعمیل چاہتا ہوں۔‘‘
وہ بائیں جانب کھڑے سپہ سالار کی جانب خوشمگین نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ تم سمجھتے ہو، میں کیا کہہ رہا ہوں؟ ‘‘
سپہ سالار کورنش بجا لاتے ہوئے عرض کرتا ہے ۔۔۔ ’’ حضور والا ۔۔۔ مائی لارڈ شپ۔ میں پوری طرح سمجھتا ہوں لیکن میرے فوجی جوان بھوکے پیٹ نہیں لڑ سکتے۔ ان کے پاس اسلحہ کی بھی کمی ہے اور سب سے بڑی بات انہیں لڑنے کے لئے کوئی ٹھوس وجہ چاہیے۔ ‘‘
بادشاہ : کیا کہا ٹھوس وجہ؟ کیا اب تک ہم دشمنوں سے بلاوجہ لڑ رہے تھے؟ ‘‘ بادشاہ نے قہر آلود نظروں سے سارے دربار کی طرف دیکھا۔ ( چاروں طرف کھسر پھسر اور سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں)
سپہ سالار اپنے موٹے ہاتھ سے اپنے گال کو خجالت سے کھجلاتا ہے
ایک کونے سے آواز بلند ہوتی ہے ۔۔۔’’ خاموش ۔۔۔ نگاہ روبرو ، ہمہ تن بگوش، ظلِ سبحانی جلوہ افروز ہیں۔‘‘
سپہ سالار ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے کورنش بجا لاتا ہے اور کہتا ہے۔
’’ جہاں پناہ کا اقبال بلند ہو۔ ہمارا خیال ہے کہ ہمیں اب فیصلہ کر لینا چاہیے کہ ہم عقیدوں پر سجدہ کریں گے ، پرانی دوستیاں نبھائیں گے یا نئے عالمی منظر میں اپنی محلوں کی حفاظت کریں گے۔ہمیں یکبارگی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم دوست ہیں کہ دشمن۔ ‘‘
بادشاہ یکلخت چاروں طرف متلاشی نگاہوں سے دیکھتا ہے اور گرجتا ہے۔
’’ وزیرِ قانون کہاں ہے؟ ‘‘
بائیں جانب لوگوں میں حرکت ہوتی ہے اور ایک موٹا سا ٹھگنے قد کا شخص آگے بڑھ کر بادشاہ کو کورنش بجا لاتے ہوئے مخاطب ہوتا ہے۔
’’ میرے آقا۔ مائی لارڈ شپ ۔۔۔ یہ غلام یہاں حاضر ہے۔ ‘‘ وزیرِ قانون کی تھرتھراتی ہوئی آواز آتی ہے۔
’’ فوری طور پر پوری ریاست میں نیا قانون لاگو کردو ۔ تمام ریاست میں آج سے عوام کے بنیادی و انسانی حقوق ختم کئے جاتے ہیں۔ صرف ان لوگوں کو استثنا ہے جو اس وقت یہاں دربار میں موجود ہیں۔‘‘
’’ ملک کی تمام جیلوں سے سب قیدی رہا کر دئیے جائیں اگر وہ مملکت کو یقین دھانی کروادیں کہ ہر قیدی اپنے ذرائع سے دس فوجیوں کو کھانا اور اسلحہ فراہم کرے گا۔ کوئی انصاف کی کچہری نہیں لگے گی۔ ہم اپنے دشمنوں کو شکست دینا چاہتے ہیں ۔۔۔ ہم اپنی کاز سے وابستہ رہیں گے ہر قیمت پر۔۔۔ اور ہماری کاز ہے’ انسان کی آزادی‘۔ ‘‘
وہ معنیٰ خیز مسکراہٹ سے درباریوں کی طرف دیکھتا ہے۔
لونگ لیو دی کنگ اور بادشاہ زندہ باد کے نعروں سے پورا دربار گونج اٹھتا ہے ۔ لوگوں کے چہرے خوشی سے تمتما اٹھتے ہیں۔ دربار کے تمام سنہرے فانوس جل اٹھتے ہیں اور دیواروں پر گھڑ سوار حرکت میں آ جاتے ہیں۔
اتنے میں کچھ لوگ بڑھ کر دیواروں پر لٹکی شیروں اور گائیوں کی تصویروں کے گلے میں پڑے پھولوں کے ہار نوچ لیتے ہیں۔
سب لوگ آگے بڑھ کر جہاں پناہ کا ہاتھ چومنا چاہتے ہیں لیکن بادشاہ اپنی دائیں جانب سے سٹیج پر نمودار ہونے والی اپنی نئی نویلی دلہن ملکہ عالیہ کی طرف مسکراتے ہوئے تفاخرانہ نظروں سے دیکھتا ہے۔ وہ آگے بڑھ کر دھیرے سے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے ۔
پھر دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے درباریوں کو ہال کے ایک کونے میں سجے گرما گرم بوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے’ لانگ لیو دی کنگ‘ اور ’لانگ لیو دی کوئین‘ کے شور میں دربار سے نکل جاتے ہیں۔
پردہ گرتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ ۱۲ جون ۲۰۱۶ لاہور پاکستان جملہ حقوق محفوظ