Monday, February 15, 2016

مختصر ترین اردو افسانہ "روشن آسمان"


 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 رات کی تاریکی چھا چکی تھی۔ کیمپ کے کچے گھر کے ایک کونے میں بیٹھے بچے کبھی کھسر پھسر کرتے ، کبھی آپس میں لڑ پڑتے اور پھر ہنسنے کی آوازیں آتیں ۔بچوں کے مسلسل ہنسنے اور رونے کی ملی جلی آوازوں نے ماں کو زچ کر دیا تھا لیکن وہ کیا کرتی۔ آج بچوں کا باپ ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔
 تب جنگی سائرن کی اوپر نیچے ہوتی گونج نے بچوں کو سہما دیا۔ماں انہیں کئی دنوں سے بتا رہی تھی کہ جب سائرن اس طرح بجتا ہے تو دشمن کے جہاز اوپر سے بم برساتے ہیں۔ 
 بچے خاموش ہو چکے تھے لیکن چھ سالہ مرجان اندھیرے میں ناجانے کب باہر نکل گیا ،کسی کو معلوم نہ ہو سکا۔
 قریب میں جب بم گرنے کی آواز آئی تو بچے ماں سے لپٹ گئے۔ماں نے دیکھا مرجان غائب تھا۔وہ تڑپ کر گھر سے باہر نکلی اور دیوانہ وار مرجان کو ڈھونڈنے لگی ۔
 بم مسلسل گر رہے تھے اور آسمان زمین پر جلتے ہوئے انسانوں کے شعلوں سے روشن ہو چکا تھا کہ ماں نے دیکھا مرجان کوڑے کے ڈھیر کے قریب بیٹھا کچھ کھا رہا تھا اور اسکی نظریں روشن آسمان کی طرف تھیں۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 نعیم بیگ
 لاہور پاکستان
 جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ 
16th Feb, 2016

بولتے مجسمے

بولتے مجسمے
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 بیچ میں صرف ہارڈ بورڈ کی دیوار تھی اسی لئے ساتھ والے کمرے سے مسہری کی ردھم میں ہلنے کی چرچراہٹ ، اکھڑے سانس، حلق سے بلند ہوتی جنسی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں۔
 ان آوازوں سے بچنے کے لئے اُنہوں نے میوزک بھی لگا رکھا تھا لیکن اُن کے فحش جملے مجھے اور نینی کو پوری طرح سمجھ آ رہے تھے۔ 
 میں نے نینی سے کہا ’’ تم جانتی ہو وہاں کیا کام ہو رہا ہے ۔۔۔ ہم پیار کر رہے ہیں اور وہ لوگ وحشی جنسی لذت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔‘‘
 ’’ لطف اندوز ہو رہے ہیں یا بار خاطِراور کارِگراں سمجھ رہے ہیں ؟ ‘‘ نینی بول اٹھی ’’ لذتِ وحشت میں ہنگامہ امرت ہے،لیکن ہمارے ہنی مون کے پروسنا میں اتنا شور تو نہ ہونا چاہیئے۔ ‘‘ 
 ’’ہم بھی تو آخر اس وقت یہی کام کر رہے ہیں لیکن ہماری سرگوشیاں تو ہمارے فرشتے بھی نہیں سن سکتے۔‘‘ میں نے لقمہ دیا۔ 
 اگلے دن صبح ہمارے میزبانوں کے چہرے سُتے ہوئے تھے آج انہیں بینک کی قسط جمع کرانی تھی اور کپڑے لانڈری کرنا تھے۔ بلڈنگ میں ہر فلیٹ کو ایک دن لانڈری کا میسر تھا۔انہوں نے ہماری پارٹیشن والے حصے میں ایک چٹ دروازے سے اندر بھجوا دی تھی جس پر یہ تفصیل لکھی تھی۔ 
 جب ہم ناشتہ کرنے بلڈنگ کے رستوران میں گئے تو راستے میں لانڈری روم دیکھا۔ ہمارے میزبان ہاتھوں میں کپڑے اٹھائے صابن نہ ہونے کی وجہ سے کسی دوست کا انتظار کر رہے تھے جن کے پاس صابن ہوتا۔
 دونوں کسی گہری فکر میں ڈوبے سر جھکائے بولتے مجسموں کے انتظار میں خاموش کھڑے تھے۔ 

(خیال ماخوذ ’مائی تھری ویز از چارلس ریفرٹی ‘ مائیکروفکشن منڈے میگزین شمارہ دسمبر ۲۰۱۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ
 لاہور پاکستان
 جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ
16th Feb, 2016 


  

Thursday, February 11, 2016

مائیکروفکشن یا مختصر ترین افسانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب سے پہلے تو ہمیں مائیکروفکشن کو اس کے اپنے ادبی و لسانی تناظر میں دیکھنا ہے جہاں سے یہ اصطلاح آئی ہے۔ دوسرا سوال یہ کہ کیا انگریزی میں مائیکروفکشن ایک باقاعدہ ادبی صنف ہے بھی کہ نہیں؟ یہ وہ بڑے سوال ہیں جن کے جوابات کو ہم سب سے پہلے ترجیح دیتے ہیں اس کے بعد ہم اسکے دیگر عناصر کو زیرِ بحث لاتے ہیں۔
 فکشن کا لفظ اب اردو ادب میں عام فہم ہو چکا ہے ۔ اس لفظ کی ادائیگی سے ہی فکشن کا پورا ڈھانچہ اپنی ہیئت میں نظر آنا شروع ہو جاتا ہے تاہم جب ہم اس کے ساتھ مائیکرو کا اشتراک کرتے ہوئے مرکب بناتے ہیں تو یہ ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایسی فکشن جو مختصر الفاظ میں اپنی ہیئت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک پورا خیال، کہانی یا کردار کو سامنے لائے جہاں قاری اس کی تفہیم میں کسی طور پر ابلاغ کی بھول بلیوں میں نہ کھو جائے بلکہ مرکزی خیال کی ترسیل اس کے ذہن میں تصویر کی طرح ابھر جائے۔ ہاں اسی طرح علامتی کہانیوں میں استعاروں کا استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اس شرط کے ساتھ اسکا ابلاغ مکمل ہو ۔
 مائیکروفکشن یا مختصر افسانہ دراصل الفاظ کی ایک خاص تعداد کا نام نہیں بلکہ کسی بھی کہانی کو مکمل تصویر کرتے ہوئے ادیب الفاظ کی ایک خاص مقدار کے اندر ہی اسے تجسیم کرے۔ دوسرے لفظوں میں کہانی کو الفاظ کی ایک مخصوص مقدار کے اندر ہی سمونا ادیب کی ہنر مندی ہے۔
 یہاں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ اردو افسانے کی ساخت اور اسکے اجزائے ترکیبی تو اسقدر وسیع و عریض ہیں کہ انہیں تین سو الفاظ کے اندر کیسے سمویا جا سکتا ہے۔ ہم آگے چل کر اس سوال پر بھی بات کرتے ہیں۔ 
 انگلش میں مائیکروفکشن کو فلیش فکشن کی ذیلی یا متوازی شاخ بھی کہا جاتا ہے جہاں کوئی بھی کہانی تجسیم ہوتے ہوئے اپنے داستانی محور سے ہٹتی نہیں بلکہ انہی مخصوص اور نپے تلے الفاظ میں اپنے انجام تک پہنچتی ہے ۔ ہاں البتہ اردو میں افسانے کی ساخت و ہیئت کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں مائیکروفکشن میں زیادہ محنت کرنی پڑے گی کیونکہ اردو ادب میں جب ہم کسی کہانی کو تصوراتی دنیا سے الفاظ کا پیراہن پہناتے ہوئے تجسیم کرتے ہیں تو اردو زبان کی لوچ و رچاؤ کا خیال بھی رکھتے ہیں، افسانوینت کی ممکنہ شکل کا ادیبانہ محاکمہ بھی لازم ہے۔ 
 تو آئیے پہلے ابتدائی سوالات کو پرکھ لیتے ہیں ۔ مائیکرو فکشن جیسے میں نے پہلے عرض کیا کہ مخصوص الفاظ کے اندر پورے خیال کو سمونا کہلایا جاتا ہے۔ انگلش ادب میں سٹیو المنڈ ، ایمی ہیمپل، گراہم جونز اور لیڈیا ڈیوس نے مائیکروفکش کو نہ صرف رقم کیا بلکہ انکی کہانیاں انگریزی ادب میں ایک خاص مقام رکھتی ہیں ۔ جوشیم فرینک اور رومالائین انٹی اب بھی کئی ایک نئی کہانیاں مائیکروفکشن کی صنف میں تحریر کر رہے ہیں۔ اردو ادب میں منٹو نے اس کی ابتدائی شکل پیش کی جس پر بعد میں گو کوئی زیادہ کام نہیں ہوا تاہم عصر حاضر میں کام کرنے کے مواقع ہیں۔
 یہاں میں یہ ضرور کہنا چاہونگا کہ دوسطری اقوال زریں ، مقولے یا لطائف یا ون لائنر کسی صورت میں مائیکروفکشن کی تعریف میں نہیں آتے۔ ہم پوری کہانی کو فکشنلائز کرتے ہوئے جب اردو میں لکھیں گے تو اردو لسانی و ثقافتی مروجہ ادبی روایات اس مختصر افسانے میں سموئیں گے۔ مرکزی خیال کو کردار یا واقعیت نگاری سے مزیں کریں گے اور اسکے ساتھ مربوط ، حتمی اور کہانی کو مکمل کر دینے والا انجام بھی عطا کریں گے۔ 
 یہاں ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آخر ہم کیوں مائیکروفکشن کا اہتمام کریں کیوں اسے ترقی و ترویج دیں؟ قاری کے نقطہ نظر سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ آج کی مصروف دنیا میں وقت کی کمی ایک ایساعنصر ہے جس پر ترقی یافتہ یا ترقی پزیر ملکوں میں اب اس پر قابو پانا ممکن نہیں رہا۔ لیکن انسانی ذہنی آسودگی کو برقرار رکھنے اور انسانی جمالیات کو حساس ہونے سے بچانے کے لئے ادب اور انٹرٹیمنٹ کا سہارا ضروری ہے لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے وہ طویل افسانے یا ناول نہیں پڑھ سکتے لہذا اس کمی کو پورا کرنے کے لئے مائیکروفکشن کی صنف وجود میں آئی ۔
 بین ہی اسی طرح ایک ادیب کے پاس انہی اصولوں کے پیشِ نظر اپنے ہنر اور فن کے بہترین استعمال کا موقع میسر آتا ہے جہاں ادیبانہ صلاحیتوں کو پرکھنے کے لئے مختصر افسانہ لکھنا ایک چیلنج سے کم نہیں وہیں خیال کی ندرت اور متنوع اصنافی اسلوب و بیانیہ اسکی ہنر مندی کی شان ہے۔میری رائے میں جو نوجوان ادیب اب فکشن لکھ رہے ہیں انہیں مائیکروفکشن میں لکھنا ضروری ہے اس سے بہترین الفاظ کا چناؤ ، انکا درست استعمال ، الفاظ کی فریزینگ ( یعنی جملہ سازی) ، مختصر مکالمہ اگر ہو اور کردار و واقعیت نگاری کے مربوط جملہ اجزائے ترکیبی سے تادیر اور اثرپذیر کہانیاں وجود میں آئیں گی۔ 
 میں یہاں اپنے مختصر مضمون کے قارئین کیلئے مثال کے طور پر ایک انگریزی مائیکروفکشن کہانی پیش کرتا ہوں جس کا ترجمہ میں نے ابھی ابھی کیا ہے۔ یہ کہانی میرے نقطہ نظر سے بہت اہم ہے۔ اسکی وجہ اسکا مصنف ہے جو ایشیائی نام رکھتا ہے جو یقینی طور پر اردو ادب سے واقف ضرور ہوگا اسی لئے اس کہانی میں آپ کسی حد تک مغربی ثقافت کے ساتھ ایشیائی ثقافت بھی محسوس کریں گے۔ 


آخری شخص
 .....................
’’جب سے اسی کی بیوی پادری کے ساتھ نکل گئی تھی ، میتھیو اکثر بار اور پبز میں ہی پایا جاتا تھا۔ وہ کسانوں کی طرح بے تحاشا شراب پیتا۔ گزرتی ہوئی ٹرین کی وسل کو مسلسل سنتا رہتا اور بیتھی کے بارے میں اکثر جھوٹ بولتا کہ وہ مر چکی ہے۔ وہ اپنے خوشگوار دنوں کی یاد میں ڈوب جاتا جہاں ذمہ داریاں صرف ایک سایے کی مانند تھیں۔ وہ جونئیر منٹس کو بچوں کے پاس چھوڑتا، قطار در قطار اپارٹمنس کے پاس سے گزرتا ہوا ، اجنبیوں پر اچٹتی نظر ڈالتا ہوا، اپنے ذہن کے اندر انکی شناخت کو مار دیتا۔
 اسکا ذہن بیتھی کے لکھے اُس نوٹ پر تیز و تند ہوا کی مانند کانوں میں سائیں کرتا ہوا گزر جاتا جس میں لکھا تھا کہ ’’اس کے سامنے بڑے مقاصد ہیں ، اور تم بھی بڑا مقصد رکھتے ہو‘ ‘ 
وہ اکثر جیوک باکسسز کے پاس کھڑی لڑکی سے جھوٹ بولتا اور کہتا اسے کینسر تھا لیکن وہ اس سے بے انتہا محبت کرتی تھی۔ وہ تنہائی میں چاند سے بھی باتیں کرتا اور اپنے اندر کے خالی پن کو یقین کی حد تک لے جانے میں کامیاب ہوجاتا کہ وہ ہی دنیا کا سب سے آخری شخص ہے جسے بیتھی نے چھوڑا تھا ۔ ‘‘ 

مصنف ۔میر یاشعر سید بخاری

(نوٹ ۔ یہ کہانی ایک انگلش مائکروفکشن منڈے میگزین نامی وہب سائٹ سے لی گئی ہے۔)

اس کہانی سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ گو انگلش میں افسانویت کا اس قدر اہتمام نہیں کیا جاتا بلکہ کہانی کے اتار چڑھاؤ سے اسکی کیفیات کو رقم کیا جاتا ہے اور لفظوں کی بناوٹ اور درست استعمال سے کہانی کو فروغ دیتے ہوئے اس اسکے منطقی انجام تک لایا جاتا ہے۔ ہم اردو ادب میں بھی اسی قسم کے مختصر افسانوں کی ترویج کو حتمی شکل دے سکتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر انگلش سے مستعار لے جانے والی صنف کو اردو ادب میں سمونے کا قائل ہوں ۔ اس ضمن میں ہمیں سب سے پہلے مختصر افسانہ نویس سعادت حسن منٹو کے کام کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ اسی کے ساتھ ہمیں اردو اور انگلش ادب کے بلینڈ سے مختصر افسانے کی صنف کو ادب کا حصہ سمجھنا ہوگا ورنہ مختصر ترین افسانہ اپنے ارتقا پذیری میں ہی رہے گا۔ 

 نعیم بیگ
 لاہور پاکستان
 مورخہ ۱۱ فروری ۲۰۱۶ جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ

Wednesday, February 10, 2016

انتظار حسین ۔۔۔۔صاحب طرز ادیب اوروضع دار انسان


کالم ’’روزنِ تاباں‘‘ از نعیم بیگ 
انتظار حسین ۔۔۔۔صاحب طرز ادیب اوروضع دار انسان
........................................................................
انتظار حسین اب ہم میں نہیں رہے لیکن ان کے سینکڑوں کالم ، تصانیف ناول ، افسانے خود نوشت اردو ادب کے شیدائیوں کو صدیوں تک انہیں یاد رکھنے کا سامان مہیا کر گئے ہیں ۔ اردو ادب میں انکا طرزِ نگارش اپنے اسلوبیاتی رنگوں سے مزیں کہیں داستانوں میں کھو جاتا ہے اور کہیں بدلتے لہجے کے ساتھ عصری تقاضوں کی علامت میں غوطہ زن ہے۔ یہی اسلوبیاتی تنوع ان کی پہچان بنا۔ ان کی تحاریر میں حیرت کا سامان ہے تو کہیں سنجیدہ قاری کے پاؤں اکھیڑ دیتا ہے۔ فینٹیسی سے ربط ، پرانی اقدار کے بکھرنے کا دکھ اور نوسٹیلجک کلاسیک کا ایک ریلا ہے جو انکے ناولوں اور افسانوں میں بہتا چلا جاتا ہے ۔ علامتیں اور استعاراتی اسلوب کے نِت نئے ڈھنگ انکی شان ہیں۔ اردو افسانے کی صنف انہیں دیر تک یاد رکھے گی کہ انہوں نے افسانہ لکھتے ہوئے قدیم نثری اسالیب سے استفادہ کیا اور جدید انداز میں عصری موضوعات پر اعلیٰ ادب تخلیق کیا۔ اِن مختصر سے لمحوں میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک صاحبِ طرز ادیب تھے جو بلا عنوان و نام ، اپنی تحاریر سے پہچانے جا تے تھے۔ 
انتظار حسین ایک خوبصورت انسان تھے۔ انکی پوری زندگی انہی صحافیانہ اور ادیبانہ قیامت خیزیوں میں گزری جن سے پچاس سے نوے کی دھائی تک میں رہنے میں تمام دانشوروں اور ادیبوں نے سامنا کیا۔ ۔۔۔ ان کی خودنوشت بائیو گرافی ’’ چراغوں کا دھواں ‘‘ انکے پچاس برسوں کی زندگی کا نچوڑ ہیں اور خوبصورت بات یہ ہے کہ انہوں نے اس سوانح عمری کو بھی افسانوی اسلوب دیا۔ 
انڈیا سے پاکستان کے سفر سے کافی ہاوس، ٹی ہاوس تک اور پھر مارشل لاٗ سے حلقہ اربابِ ذوق تک داستانیں اسی سوانح میں رقم ہیں۔ ان کی اس کہانی میں انتظار حسین ایک خوبصورت دل رکھنے والے انسان نظر آتے ہیں ۔ اپنی یادوں میں انیس سو سنتالیس کو رقم کرتے ہوئے لنڈے بازار سے کمبلوں کی خریداری ، حسن عسکری کی دوستی و رفاقت ، مہاجروں کی آمد اور لاہور میں اپنے پہلے مہمان کی آمد کے ذکر سے قاری جان جاتا ہے کہ وہ کس قدر انمول دل اپنے اندر رکھتے تھے۔ 
میرا ان سے تعارف ستر کی دھائی کی ابتدا میں کالج یونیورسٹی کے زمانے میں انکی کتب اور اخباری کالموں سے ہو ا ، ملک سے باہر رہنے کی وجہ سے انکی تحاریر آن لائن پڑھتا تھا۔زندگی کی پہلی ملاقات دو سال پہلے ان سے یہیں ہوئی۔ اسی اکیڈمی کے دفتر میں جب ستیہ پال آنند کی آمد پر ان سے بالمشافہ ملاقات ہوئی تو انکی نرم روئی و خلوص، استقامت اور عزم دیکھ کر میرے دل میں انکی عزت و محبت کئی ایک گنا بڑھ گئی۔ 
وہ اردو ادب کا عالمی سرمایہ تو ہیں ہی لیکن لاہور کی ادبی محفلیں اور گلیاں انہیں برسوں نہ بھُلا سکیں گی۔ خدا انہیں غریقِ رحمت کرے ۔ 
شکریہ
اکیڈمی آف لیٹرز لاہور کے تعزیتی ریفرنس میں۹ فروری۲۰۱۶ کو پڑھا گیا ۔

Monday, February 8, 2016

اردو افسانہ ’’ بلیکی ‘‘ از نعیم بیگ لاہور پاکستان




     
کئی ایک راتوں سے مسلسل جاگنے کی وجہ سے آج صبح جب میری آنکھ کھُلی تو جسم میں کسل مندی تھی ۔
دل چاہ رہا تھا کہ دفتر سے چھٹی کر لی جائے۔ آنکھیں ملتے ہوئے میں نے کمرے میں نظر دوڑائی تو میری چارپائی کے نیچے فرش پر بلیکی سو رہی تھی۔ میرے جاگنے اور چارپائی کے چرچرانے پر وہ ذرا سی کسمسائی اور پھر پہلو بدل کر سو گئی۔ میرے سامنے رات کا پورا منظر گھوم گیا۔
فراز میرا جگری ، آجکل مڈل ایسٹ سے آیا ہوا ہے۔ اسکول سے شروع ہوتی ہماری دوستی کوئی بیس ایک سال پرانی تو ہوگی۔ ہر روز اسکا کوئی نیا پروگرام بنتا اور ہم رات گئے تک گھر پہنچتے۔ جیسے کل رات اس نے موڈ بنا لیا کہ وہ بازارِ حسن ضرور جائے گا ۔ ایک زمانہ تھا کہ ہم نوجوانی کے ابتدائی دنوں میں کبھی کبھار اس طرف نکل جایا کرتے تھے لیکن ہمیشہ مایوس ہی واپس لوٹے کیونکہ ہماری خواہشات کچھ عجیب نہیں تو مشکل ضرور ہوتیں ، ہم اکثر ایک ہی بات کہتے ۔ یار۔۔۔ لونڈیا کم عمر اور خوبصورت ہوگی تو بات بنے گی ورنہ واپسی، یوں کم عمر ی و خوبصورتی کی تکرار و تلاش میں سرگرداں ہم اکثر گھوم پھر کر شہزادی تمباکو پان چباتے ناکام و نامراد واپس نکل پڑتے ، خوبصورتی کی خواہش تو اپنی جگہ ، لیکن کم عمری کی کوئی خاص وجہ اس وقت ذہن میں نہ تھی البتہ اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم بازار سے شاید جسم خریدنے جاتے ہی نہیں تھے ، بلکہ تلاش کچھ اور تھی۔
بعد میں فراز مڈل ایسٹ چلا گیا اور میں اچھی نوکری کی تلاش میں تھک ہار کر محکمہ ایجوکیشن میں کلرک لگ گیا تھا ۔ ایک بوڑھی ماں تھی، وہ بے چاری میری شادی کی خواہش دل میں لئے چل بسی ، اور یوں میں اب کرایہ کے گھر میں تنہا رہتا تھاجو ایک تنگ سی بند گلی کے آخر میں تھا۔ گمان غالب ہے کہ یہ کمرہ نما گھر کسی وقت ملحقہ گودام کے چوکیدار کاہو گا ۔ گھر کے سامنے اور دائیں جانب کپڑے کے گودام تھے جو کبھی کبھار سامان کی آمد و رفت پر ہی کھلتے،بائیں جانب گلی سے باہر نکلتے ہوئے تین اور گھر آمنے سامنے تھے ۔ اس لحاظ سے ہماری چھوٹی سی گلی شاہراہ عام نہ ہونے کی وجہ سے دن اور رات کو ویران ہی رہتی ۔
ہاں البتہ اس علاقے میں آوارہ کتوں کی ایک فوج رہتی تھی جو مجھ جیسے رات بھر سڑکیں ناپنے والے شخص کے لئے ایک بڑا خطرہ تھا، لیکن یہ ایک محض اتفاق تھا کہ میں جب بھی ان کتوں کے پاس سے گذرتا تو وہ بجائے بھونکنے کے مجھ پر اس طرح غراتے کہ معلوم ہوتا کچھ کہہ رہے ہیں اور کبھی کبھار تو میں واقعی ان کے پاس سے گزرتے ہوئے اگر انہیں ڈانٹ پِلادیتا تو وہ ہمیشہ پیچھے کی طرف دُبک جاتے۔ مجھے یوں لگتا جیسے وہ مجھے پہلے سے جانتے ہوں۔
ادھر کئی ماہ پہلے کی بات ہے کہ میں ایک رات جب دیر سے گھر پہنچا تو دیکھا کہ ایک کالے رنگ کا کمزور سا لاوارث پِلا گھر کے باہر بیٹھا اونگ رہا تھا ۔ مجھے دیکھ کر اس نے ہلکی سی آواز میں بھوں بھوں کیا۔ میں سمجھ گیا کہ بھوک کے مارے یہاں بیٹھا ہے۔ میں نے اندر سے ڈبل روٹی کے ایک دو سلائس دودھ میں ڈبو کر اس کے سامنے ڈال دئیے ۔ کچھ دیر تو وہ سونگتا رہا پھر اس نے فوراً کھانا شروع کر دیا۔ بعد میں یہ معمول ہو گیا کہ وہ سارا دن ناجانے کہاں غائب رہتا لیکن شام ہوتے ہی گلی کی نکڑ پر میرا انتظار کرتا۔ جونہی میں گلی کے اندر داخل ہوتا وہ بھوں بھوں کرتا میرے پیچھے چل پڑتا، اور جب تک میں گھر میں داخل ہوکر اسے کچھ نہ کچھ کھانے کو نہ دیتا یہ بھوں بھوں کرتا رہتا اور پھر کھا پی کر باہر گلی میں میری کھڑکی کے نیچے پڑا رہتا۔
جس دن مجھے یہ نظر نہ آتا تو میری نظریں بھی اسے ڈھونڈتی رہتیں ، مجھے یوں محسوس ہوا کہ ہم دھیرے دھرے ایک دوسرے کے عادی ہوتے جا رہے تھے۔
اب یہ پِلا چھوٹا سا بچہ نہ رہا تھا بلکہ اس نے چند ہی مہینوں میں اپنا قد کاٹھ نکال لیا تھا ۔ میں نے پکارنے کی خاطر اسکا نام اسکے رنگ کی وجہ سے بلیکی رکھ دیا تھا۔ میں جب بھی اسے بلیکی کہہ کر پکارتا ، یہ بھاگ کر آتا اور میرے قدموں میں لوٹ پوٹ ہو جاتا۔ اس کا چہرہ کچھ لمبوترا سا تھا لیکن سب سے اہم بات اس کی بڑی بڑی براؤن آنکھیں تھی جن کے گرد کالے رنگ کے دائرے تھے۔ یوں لگتاتھا کہ کسی حسین عورت کی آنکھیں اسکے چہرے پر لگا دی گئی ہیں ۔۔۔ اس کتے میں یہی ایک بات میری دلچسپی کا باعث تھی، میں جب بھی اسے دیکھتاتو یوں محسوس ہوتا کہ وہ برابر میری آنکھوں میں جھانک رہا ہے۔ لیکن اب اسکی ایک بات کچھ دنوں سے مجھے مسلسل پریشان اور میری رات کی نیند خراب کر رہی تھی کہ یہ رات بھر گلی کی نکڑسے پہلے پھولوں کی باڑھ کے پیچھے دُبکا بھونکتا رہتا ۔ کئی ایک بار میں نے باہر نکل کر اسے ڈانٹا تو یہ چپ کر گیا لیکن کچھ دیر بعد پھر وہی ۔۔۔ بھونکنا شروع کر دیتا۔
کل رات جب میں فراز کے ساتھ بازارِ حسن سے حسبِ معمول ناکام و نامراد واپس لوٹا تو گلی میں مڑتے ہو ئے دیکھا کہ چند ایک آوارہ کتے بلیکی کی طرف اچھل اچھل کر بھونک رہے ہیں اور بلیکی خوف زدہ سا ہو کر گلی میں اِسی باڑھ کی اوٹ میں چھپا ان پر بھونک رہا ہے ۔ میں نے آگے بڑھ کر ان کتوں کو ہاتھ سے ڈراتے ہوئے بھگا دیا۔
اسی اثنا میں کونے والے گھر سے پاجامے میں ملبوس ایک شخص نکلا اور اس نے کہا ۔۔ ’’ جناب ۔۔۔ آپ اس کتیا کو یہاں سے بھگا دیں ۔ یہ سارے کتے اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔ کئی ایک دنوں سے یہ سب یہاں جمع ہو جاتے ہیں اور رات بھر بھونکتے رہتے ہیں۔ ہماری تو راتوں کی نیند خراب کر رکھی ہے انہوں نے مل کر۔‘‘
’’ کیا کہا ۔۔۔ کتیا؟
کیا یہ کتیا ہے؟ ‘‘ میں نے حیرت سے مڑ کر بلیکی کی طرف دیکھا ۔ میرے لئے یہ ایک انکشاف ہی تھا کہ بلیکی ایک کتیا ہے۔ یکلخت اسکی چمکدار بیضوی براؤن آنکھیں میرے ذہن میں گھوم گئیں۔
اسکی آنکھوں میں وہ سارے خواب جو ایک کتیا دیکھ سکتی ہے ، مجھے نظر آنے لگے۔
میں اِن صاحب کو اچھا کہہ کر گھر کی جانب مڑ گیا ۔ جب میں دروازہ کھول رہا تھا تو بلیکی میرے قدموں میں لوٹنے لگی۔
آج میں نے اسکے چہرے پر اطمینان کی وہ گہری لہر دیکھی جو شاید میرے آ جانے سے اسکے جسم و جاں میں دوڑ گئی تھی۔ میں نے اسے رات کا کھانا دیا اور پھر خود بستر پر لیٹ گیا۔ خیالات کا جوار بھاٹا میرے ذہن میں ابھر رہا تھا ، مجھے حیرت تھی کہ مجھے پہلے یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ یہ کتیا ہو سکتی ہے۔ کیا میں نے بلیکی کی طرف غور سے دیکھا ہی نہیں تھا ؟
ابھی انہی خیالوں میں گم تھا کہ بلیکی نے باہر پھر بھونکنا شروع کر دیا ۔ مجھے ساری بات سمجھ آ چکی تھی۔ میں نے دروازہ کھولا اور بلیکی کی طرف دیکھا جو دروازے پر میری طرف پیٹھ کئے نکڑ پر جمع آوارہ کتوں پر بھونک رہی تھی ، میں نے نیچے جھک کر اس کے پاس سرگوشی کی ۔۔۔ ’’ بلیکی۔۔۔ سنو! اندر آ جاؤ ۔۔۔ ‘‘ بلیکی نے مڑ کر مجھے دیکھا اسکی بڑی بڑی براؤن آنکھوں کی
نمی میں ڈوبے دو ٹمٹماتے ستارے دکھائی دئیے۔
وہ گلی کی نکڑ پر جمع کتوں کی طرف منہ کر کے ایک بار پھر بھونکی اور پھر لپک کر اندر آگئی، میں نے جھک کر اسے گود میں اٹھالیا اور اپنی چارپائی پر لیٹا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ
لاہور . 26.1.2016