Tuesday, August 30, 2016

نعیم بیگ کی افسانوی دنیا از دیپک بدکی(اردو ادب کے معروف محقق و نقاد ، افسانہ نگار غازی آباد انڈیا )


نعیم بیگ کی افسانوی دنیا

چند روز پہلے پاکستان کے معروف افسانہ نگار نعیم بیگ نے اپنے دو افسانوں کے مجموعے، ’یو ڈیم سالا‘ اور ’پیچھا کرتی آوازیں ‘ اپنی تمامتر محبتوں کے ساتھ بھیج دیں ۔ کتابوں پر سرسری نظر جو ڈالی تو پھر چھوڑنے کو جی نہیں چاہا اور اس طرح دونوں کتابوں کو پڑھ کر ہی دم لیا۔ ان کے علاوہ انھوں نے اپنی مرتبہ کتاب ’نئی صدی کے افسانے ‘ (حصہ اول ) اور انگریزی میں دہشت گردی کے تناظر میں لکھا ہوا ناول ’کوگن پلان ‘ (Kogon Plan)بھی عنایت کی ہیں مگر ان کے بارے میں یہاں پر اپنے تاثرات درج کرنے کا محل نہیں ہے ۔ کوگن پلان سے پہلے ان کا ایک اور انگریزی ناول ’ٹرپنگ سول ‘ ۲۰۱۰ء میں شائع ہوچکا ہے ۔ ۲۰۰۸ء تا ۲۰۱۱ء تک وہ انگریزی رسالے ’ٹیکنو بز‘ (Techno biz) سے منسلک رہے ۔ تصانیف کے بارے میں بات کرنے سے پہلے کچھ نعیم بیگ کے بارے میں بتاتا چلوں ۔ موصوف اقبال کی دھرتی لاہور میں ،جو نہ صرف علم و ثقافت کی آماج گاہ ہے بلکہ تاریخی و سیاسی اہمیت بھی رکھتی ہے،مارچ ۱۹۵۲ء میں پیدا ہوئے ، گوجرانوالہ اورلاہور میں تعلیم پانے کے بعد بلوچستان یونیورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ ۱۹۷۵ء میں بنک میں ملازم ہوگئے اور وہیں پر وائس پریذیڈنٹ و ڈپٹی جنرل منیجر کے عہدے سے ریٹائر منٹ لے لی اور پھر منیجمنٹ اور فائنانس کنسلٹنسی کرنے لگے ۔علاوہ ازیں ان کا تخلیقی شعور ان کو ادب کی طرف راغب کرتا رہا جس کا ثمران کی یہ گراں بہا تخلیقات ہیں ۔ تاریخ ، ثقافت ، علم فنون اور فلسفہ میں ان کی دلچسپی ان کے تخلیقی شعور کو مہمیز کرتی رہی ہے ۔نعیم بیگ بچپن ہی سے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے رہے، پہلے والد اور پھر اپنی ملازمت کے باعث پاکستان کے طول و عرض کو ناپ لیا ، افریقہ کے پسماندہ علاقوں کو دیکھا ، یورپ کے انٹلکچول ماحول سے آشنا ہوئے اور پھر خلیجی ممالک میں پیٹرو ڈالروں کی بارش کا نظارہ کر تے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مشاہدہ بہت وسیع ہے ۔
نعیم بیگ کی تخلیقی زندگی کا آغاز ۲۰۰۹ء میں اخبار جنگ لاہور میں چھپے افسانہ ’ آخری لمحہ ‘ سے ہوا۔اپنی افسانوی زندگی کے آغاز کے بارے میں خود ہی فرماتے ہیں کہ ’’ اپنے پہلے افسانے کا انجام اور آخری چند لائنیں اگر میں یہ کہوں کہ میں نے نہیں لکھیں بلکہ میرے لاشعور نے اسے قلم کی نوک سے اُگل دیا تو سچ مانیے کہ یہ سچ ہے اور یوں میرے افسانوں کی دنیا آباد ہوئی۔‘‘مشہور جاسوسی ناول نگار ابن صفی کو بچپن میں خوب پڑھتے رہے جس کا اثر ان کی کئی کہانیوں میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔
نعیم بیگ پر جدیدیت کا اثر کہیں کہیں پر نظر آتا ہے جیسے افسانہ ’آگہی‘ تاہم ترقی پسندی ان کی رگ رگ میں سمائی ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں مقصدیت صاف جھلکتی ہے ۔ بعض اوقات یہ عینیت پسندی کی حد وں کو چھو جاتی ہے ۔ ان کا سماجی و سیاسی شعور پختہ اور دقیقہ رس ہے ۔ وہ اپنے ارد گرد زندگی کو دیکھتے ہیں اور پھر کسوٹی پر اسے پرکھتے ہیں۔ ان کے یہاں ’عالمی معیشت کا جبر‘ اور ’ہجرت کا دکھ‘ صاف طور پر نمایاں ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ انسانی ہجرت کی وجہ کبھی تقسیم ملک بنی اور کبھی مسلسل بھوک اور بے روزگاری جس کے سبب غریب ممالک سے لوگ نئے سبزہ زاروں کی جانب جوق در جوق نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔ بقول افسانہ نگار:
’’ انسان کا المیہ ایک ہی جیسا رہا ۔ صرف ظلم اپنی شکلیں بدل بدل کر لاکھوں انسانوں کو مسلسل ہجرت پر مجبور کر رہا تھا۔
کبھی وطنیت اور کبھی دھرم و مذہب کا نام لیا گیا اور اپنی جھوٹی انا ، لیکن اندر کی بورژوائی غلیظ نظام اپنی جڑیں مضبوط کرتا
رہا ۔ ‘‘
افسانوں کا مجموعہ ’ یو ڈیم سالا‘ اکتوبر ۲۰۱۳ء میں شائع ہواجس میں ۱۸ ؍ افسانے شامل ہیں ۔مجموعے کا پہلا افسانہ ’یو ڈیم سالا‘ مالی تنگدستی سے مجبور تارکین وطن اجیروں کا خلیجی آجروں کے پاس روزگار تلاشنا، فاقہ کشی کرنا اور تحت الانسانی حالات میں زندگی بسر کرنا منعکس کیا گیا ہے ۔’ آخری لمحہ ‘ میں ایک طوائف موت کو گلے لگاتی ہے جب اس کا عاشق دولت کی لالچ میں اسے دھوکا دیتا ہے مگر عاشق کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیتی ہے جبکہ بالے دلال کو، جو اس کو دل سے چاہتا ہے ، اپنے نزعی بیان میں سریحاً بچاتی ہے ۔’آگہی ‘ میں جدید اسلوب اپنایا گیا ہے جس میں ایک استادجب حقیقت سے روبرو ہوتا ہے تو اس کو اپنے خون پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور اس کے خواب ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں ۔افسانہ ’ستار بھائی ‘ دہشت گردی پر لکھا گیا فکر انگیز افسانہ ہے جس میں لالچ میں آکر اخبار کا ہاکر ستار بھائی پہلے تو بچوں کے سکول میں بم رکھنے کے لیے راضی ہوتا ہے مگر ضمیر کے کچوکنے پر واپس آکر اسی گیراج کو اڑا دیتا ہے جس کے مالک نے یہ کام سونپا ہوتا ہے۔ ’فطرت‘ کہانی ہے ایک ہوس پرست ریٹائرڈ بزرگ کی جو نفسیاتی معالجۂ قدر شناسی (apreciation therapy) کے طلسم میں آکر اپنی نوکرانی کو زیر کرنے کا موقع کھو دیتا ہے ۔ افسانہ ’اپنی مٹی ‘ میں امبرین نکلتی تو ہے اپنے خاوندکے قاتل کو مارنے کے لیے لیکن جب قتالہ کی روداد خاص کر پولیس کی زیادتیوں کے بارے میں سنتی ہے تو غصے کو تھوک کر اسے گلے لگاتی ہے ، اس کو اپنا بیٹا سونپتی ہے اور اس کی بیٹی کو ڈاکٹری کی تعلیم دینے کا وعدہ کرتی ہے ۔افسانہ ’پیلا اسکول ‘ میں افسانہ نگار نے نہ صرف جدید تکنالوجی کو تعلیم کا جزو بنانے کی حمایت کی ہے بلکہ یہ باور کرایا ہے کہ اگر اسکول احاطے میں آندھی کے وقت کسی کے پاس موبائیل ہوتا تو اتنا جان و مال کا نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔مزید انھوں نے اسکولوں میں معلمی تشدد کے خلاف بھی اشارہ کیا ہے ۔’ریزہ چین ‘ کہانی ہے ایک فقیر صفت رابن ہڈ کی جو ایک امیر کو بنک سے نکلتے وقت اللہ کے نام پر پچاس ہزار روپئے غریبوں میں بانٹنے کے لیے چھین لیتا ہے ۔افسانہ’محبت آشنا‘ میں ایک سٹرگلر (struggler) معاشی تنگدستی کے سبب اپنی محبوبہ کو نہیں پاسکتا ہے مگر مرتے دم اس کے نام کروڑوں کی جائیداد چھوڑ جاتا ہے ۔افسانہ’ راج دوت‘ میں اکرام الدین قید سے تو چھوٹ جاتا ہے مگر اپنی کھوئی ہوئی ماں کی ممتا اور بھوک سے پھر بھی نڈھال رہتا ہے ۔ ’خوشی ‘ میں موجودہ معاشرے کی بے اعتنائیوں کا حوالہ دیا گیا ہے کہ کبھی کبھی جرائم پیشہ، وہ چاہے عورت ہی کیوں نہ ہو، بھیس بدل کر ہمدردی کے خواستگار بن جاتے ہیں اور پھر آپ کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ایسی ہی ایک مشہور ہندی کہانی ’ہار کی جیت ‘ بچپن میں پڑھی تھی جس نے ذہن پر مستقل چھاپ چھوڑ رکھی ہے ۔ ’مارشل لاء‘ جذباتیت سے بھر پور ایک لکچرر کے دل کی بھڑاس ہے جو مارشل لاء کے خلاف آواز تو اٹھاتا ہے مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتاہے ؟’جلتے فرشتے ‘ جذباتی افسانہ ہے جس میں ایک استانی معصوم بچوں کو جلتا دیکھ کر اپنی جان پر کھیل کر ان کو بچانے کی کوشش کرتی ہے ۔مذکورہ افسانوں کے علاوہ ’کوئل کا خط‘ ، ’بجلی اور شاہ جی‘،’ بم،بم‘ اور’ الٹی گنگا ‘کے عنوان سے چار دلچسپ انشائیے بھی شامل ہیں ۔
افسانہ نگار کا دوسرا مجموعہ ’ پیچھا کرتی آوازیں ‘ ۲۰۱۶ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں بھی ۱۸؍ افسانے شامل ہیں ۔ پہلے مجموعے میں جہاں افسانہ نگار کی جہاں گردی اپنے نقش مرتسم کر تی ہے وہیں دوسرے مجموعے میں انسانی بہیمیت ، درندگی اورسماجی و سیاسی عفریت ان کے ذہن میں چیخ و پکار بن کر ابھرتی ہے ۔چنانچہ فرماتے ہیں :
’’ انھی حقیقتوں کا ادراک کرتے ہوئے خاکسار نے نفرت ساز فیکٹریوں اور ان کے عقائد و نظریات کے آگے اپنے
قلم سے پل باندھنے کی کوشش کی ہے ۔ اپنے افسانوں سے منافرت کے مقابلے میں محبت و آشتی ، حقیقی جمہوری
قدروں سے آشنا ، اپنے زمینی تناظرے سے جڑے المیوں اور مسائل کو زبان دی ہے ۔‘‘
پہلا افسانہ ’لکڑی کی دیوار ‘ بہت ہی اثر انگیز اور جذباتی افسانہ ہے جس میں ایک چرچ کے فادر کے سامنے ایک آدمی اعتراف کرتا ہے کہ اس کے کہنے پر اس کی محبوبہ نے شادی سے پہلے ہی اس کا بچہ پیدا کرکے خود کشی کی اور وہ اب سماجی جبر کے تحت اس بچے کو پالتا ہے مگر اسے بیٹا نہیں کہہ پاتا۔ پادری جب یہ اعتراف سنتا ہے، پشیماں ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے سامنے جو آدمی بول رہا ہوتا ہے ، خود اس کا بیٹا ہوتا ہے جو ایسے ہی حالات میں پیدا ہوا تھا مگر وہ اب تک اس حقیقت سے لاعلم ہے ۔ ’باونڈری لائن ‘ سعادت حسن منٹو کی کہانی ’ٹیٹوال کا کتا ‘ سے تحریک پاکر لکھا گیا افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ اس میں ایک کتیا انسان دشمنی اور تناؤ کا شکار ہوجاتی ہے جب کہ اس کے دو پِلّے بچ جاتے ہیں ۔ اس فضول کی خونریزی کو دیکھ کر دونوں طرف کے سپاہی آپس میں پلّوں کو بانٹ کر ان کو پالتے ہیں اور خود بھی امن بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ افسانہ جہاں تخیل کی اُپج ہے وہیں واقعیت سے بہت دور ہے۔افسانہ ’تسخیر ‘ بہت ہی استدلالی اور عقلیت پسند افسانہ ہے جس میں ایک ڈاکٹر کی مریض کو بچانے کی آخر دم تک کوشش ہے جو اس فقرے میں مضمر ہے:
’’ ہمارے پاس بات کرنے کے لیے دو کسوٹیاں ہر وقت حاضر ہیں ۔ ایک منطق اور عقلی دلائل ۔ دوسرے یقین کی آخری
حد تک ایمان ۔ دونوں کے حوالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کو اختیار کے ساتھ علم کی وسعت کی تہہ در تہہ تسخیر کی
اجازت ہے ، چاہے اس میں قدرت کے وہ اصول بھی آشکار ہوجائیں جن سے ہمارے موجودہ مذہبی تہذیب کے
ٹھیکیداروں نے اپنے تئیں منع فرما رکھا ہے ۔ کیا اس ممانعت کی کہیں ....کسی جگہ نشاندہی ہے کیا ؟..... مجھے معلوم ہے
کہ کہیں نہیں ہے ...آپ چاہے کسی بھی فہم و ادراک پہ مبنی فلسفہ یا مذہبی عقائد کی بنیاد پر کوئی کتاب سامنے لے آئیں یہ
لکھا نہیں ملے گا۔ جستجو اور تسخیر کی واضح علامتیں اور ہدایات ہیں ۔ ‘‘
’ڈیپار چر لاؤنج‘ ایک اور فکر انگیز افسانہ ہے جو ایک جانب انسانی خواہشوں اور آرزوؤں کی حدیں کھینچنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف مشرقی سسٹم پر طنز کرتا ہے جہاں وقت کی پابندی کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا۔ ’ہوُک ‘ایک پڑھی لکھی ڈاکٹر لڑکی کی فرمانبرداری کی داستان ہے جو اس کو بہت بھاری پڑتی ہے ۔’آہٹ‘ میں شادی کے لیے والدہ کی ناقابل قبول شرطیں بیان کی گئی ہیں ۔ ’چھتّا‘ ایک گھر کے افراد کی شہادت کی کہانی ہے کہ کمانڈر کو مجبوراً خانو کو اپنے ماں کی دیکھ بھال کے لیے فوج سے رخصت کرنا پڑتا ہے ۔’زرد پتّے ‘ ایک کال گرل کی کہانی ہے جس کی مجبوریوں کی داستاں سن کر راوی اس کی ہوٹل بل چکتا کرتا ہے ۔’حلف‘ ایک کیس میں پھنسی مجرمہ کی کہانی ہے جو اپنا جرم قبول تو کرتی ہے مگر اس کا بھولا بچھڑا عاشق سارا الزام اپنے سر پر لیتا ہے ۔ یہ افسانہ کم ہندوستانی فلموں کی مانند میلو ڈرامہ زیادہ لگتا ہے ۔ مجموعے کا حاصل افسانہ ’جہاز کب آئیں گے ‘ مسلسل دہشت گردی اور سرکاری جبر و استبداد کے باعث ہجرت پر مجبور ہوئے لوگوں کی کہانی ہے جس میں بھوک سے نڈھال ایک معصوم، یتیم اور ناقص نمو ذہن لڑکی کو جہاز کا انتظار رہتا ہے کیونکہ اس نے سنا ہے کہ جہاز آسمان سے کھانے کے لیے خوراک کے پیکٹ پھینکتے ہیں ۔’ خط استوا‘ مخلصی موت euthanasia) ( پر مبنی کہانی ہے ۔دہشت گردی کے تناظر میں لکھا گیا افسانہ’ آخری معرکہ ‘ میں ایک ایریا کمانڈر اپنے ہی بھائی کو موت کے گھاٹ اتارنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ’پیچھا کرتی ہوئی آوازیں ‘ زخم خوردہ عورت کی نفسیات کو اجاگر کرتا ہے۔ افسانہ’نیا سماج‘ میں افسانہ نگار نے تبلیغی انداز اپنا کر ترقی کے تاریک پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے ۔’گھاؤ‘ میں ایک شہری لڑکی گاؤں کے معصوم وکیل کو اپنے جال میں پھنساتی ہے ۔ ’جنگل کی گرفت‘ پر اسرار کہانی ہے جبکہ ’سائے کے پیچھے‘ نفسیاتی اور اسراری کہانی ہے جس میں ایک عورت تنہائی کے سبب اپنی ذہنی توازن کھو بیٹھتی ہے ۔آخری افسانہ’اپنے’’ مہین‘‘ خان‘ ایک خود پسند شیخی باز شاعر کی روداد ہے ۔
مذکورہ بالا افسانوں کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ افسانہ نگار کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ عمیق ہے ۔ ان کے یہاں موضوعات کی بوقلمونی نظر آتی ہے اور وہ حقیقت پسندی کے بہت قریب ہیں ۔ نعیم بیگ نہ صرف ذات کی باتیں کرتے ہیں بلکہ سماج پر اکثر انگلیاں اٹھاتے ہیں ۔ انھوں نے موجودہ معاشرے کو کھنگالاہے اور اس کی بدعنوانیوں سے نبرد آزما ہیں ۔ افسانہ نگار جہاں ایک جانب عشق و محبت ، ہوس پرستی ، خود غرضی ، جرائم ، اور انسانی ہمدردی پر اپنا قلم اٹھاتے ہیں وہیں دوسری جانب دہشت گردی ، پولیس کی زیادتیوں، فوجی استبداد، معاشی تنگدستی ، ذہنی انخلا (Brian drain) ،سائنسی سوچ و فکر ، قدامت پرستی اور موڈرن سائنسی معلومات کے تصادم اور انسانیت کے تقاضوں کو اپنے افسانوں کا موضوع بناتے ہیں۔ دہشت گردی پر لکھا ہوا افسانہ ’ستار بھائی‘ موجودہ دور کا المیہ بن کر سامنے آتاہے ۔جیسا کہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں ان کے کئی افسانوں میں ابنِ صفی کی چھاپ ملتی ہے ۔
نعیم بیگ کے ہاں منظر نگاری کی بہت اچھی مثالیں ملتی ہیں وہ چاہے دبئی کے پام ڈیرہ بیچ پر ڈھلتے سورج کا سماں ہو یا چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن ’آبِ گم ‘ کا بیاں ہو یا پھر پیلے سکول کا خستگی کی روداد ہو۔ کئی افسانوں کی شروعات انھوں نے منظر نگاری ہی سے کی ہے جیسے باونڈری لائن، ہُوک ، چھتّا ، زرد پتّے،حلف،خطِ استوا، البتہ کہیں کہیں براہ راست مکالمے سے بھی افسانے کی ابتدا کی ہے جیسے تسخیر ، آہٹ۔ جہاں تک کردار نگاری کا سوال ہے ان نے چند کردار قاری کے ذہن پر نقش ہو جاتے ہیں جیسے مشتری بائی، بالے ، بلوچ خان ،ڈاکٹر امبر، بدرالدین وغیرہ۔ ان کی کردار نگاری کے بارے میں ڈاکٹر افشاں ملک دوسرے مجموعے میں مشمول مضمون ’ذات کی تلاش‘ میں فرماتی ہیں :
’’ ان کے افسانوں کے کرداروں میں آج کا وہ انسان نظر آتا ہے جو حقیقت کی سنگلاخ زمین پر کھڑا ہے ، جس کے مسائل
ختم نہیں ہوئے بلکہ بدل گئے ہیں ۔ ان کا کردار تلاش معاش میں ہجرت کے کرب جھیلتا ہے ، رشتوں کے درک جانے
کے دکھ اٹھاتا ہے ۔ کبھی ذات کی تلاش میں سرگرداں تو کبھی بھیڑ میں تنہا ہوجانے کا احساس ، کبھی تنہائی کے شور سے خوفزدہ
ہوجانا تو کبھی نا آسودہ فطری خواہشوں کے جبر سہنا اس کا مقدر ہے ۔‘‘
نعیم بیگ نے بیانیہ کا خوب استعمال کیا ہے اور بوجھل علامتوں اور استعاروں سے گریز کیا ہے ۔ان کی زبان سلیس اور شگفتہ ہے البتہ انگریزی الفاظ کا کثرت سے استعمال ہوا ہے حالانکہ ان الفاظ کے متبادل اردو میں موجود ہیں جیسے کلائنٹ( گراہک )، ٹرانزیکشن ( لین دین)۔ عام قارئین کے لیے یہ مشکلیں پیدا کر تا ہے ۔ کتاب کی کمپوزنگ میں چند غلطیاں در آئی ہیں ۔کچھ الفاظ کا املا غلط ہے یا پھر لفظ ہی غلط استعمال ہوا ہے ، مثلاً انجیسڈ(؟)،بیب (بیپ) ،پسٹل (پستول) وغیرہ۔
دونوں مجموعوں میں سے قابل غور چند اقتباسات ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:
*’’تنہائی اگر اپنے ساتھ مواقع لائے تو انسان اندر سے بے چین ہوکر فطری تقاضے پورے کرنے کو ایک تئیں عین
عبادت سمجھ بیٹھتا ہے اور پھر نئے راستے پر چل نکلتا ہے ۔‘‘( فطرت)
*’’ دیکھو ہمارا کام اپنے علم کی طاقت پر انسان کو آخری لمحہ تک زندہ رکھنا ہوتا ہے ۔‘‘ (تسخیر )
*’’ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ اب اس علاقے کے کئی ایک حکومتی محکمے اپنی روایتی نالائقی اور لالچ کی وجہ
سے دہشت گردتحریک کی در پردہ حمایت کر رہے تھے۔ ‘‘(چھتّا)
*’’انسان موت کو سامنے دیکھ کر بھی زندگی کی دعا کرتا ہے ۔‘‘(خطِ استوا)
*’’ہم سب کی زندگی نئی تہذیب کے ساتھ بندھ کر مشینی اندازمیں ڈھل چکی ہے ۔ فطرت سے دوری نے ہمیں اپنے
آپ سے بھی دور کر دیا ہے ۔ مشینوں کے ساتھ زندگی گزارنے میں یہی ایک مسئلہ ہے کہ انسان خود بھی اسی ذہن کا
عادی ہوجاتا ہے اور روبوٹ کی طرح زندگی گزارنا شروع کر دیتا ہے ۔‘‘ (نیا سماج)
نعیم بیگ کی مرتبہ کتاب ’نئی صدی کے افسانے ‘ ان کی ادارتی صلاحیتوں کا پتہ دیتی ہے ۔ پروگریسیو اردو رائٹرس گلڈ کی جانب سے شائع شدہ یہ کتاب موجودہ دور کے افسانوی منظر نامے کا بولتا ہوا کارنامہ ہے ۔ مجھے اس کتاب کے تعارفی ابواب نعیم بیگ کا ’نئی صدی اور اس کے تقاضے ‘ اور فرخ ندیم کا ’ نئی صدی کی افسانوی ثقافت ‘ بہت ہی پسند آئے کیونکہ ان میں نہ صرف موجودہ دور کا افسانوی تناظر پیش کیا گیا ہے بلکہ چنندہ افسانوں کا مختصراً جائزہ بھی لیا گیاہے ۔ مجموعے کے اکثر و بیشتر افسانے بہت ہی فکر انگیز ہیں ۔ یہاں میں ترقی پسندی کے بارے میں چند تاثرات پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ بیسویں صدی کے اوائل سے ہم ترقی پسندی کی آڑ میں غربت اور بے روزگاری کا رونا روتے آئے ہیں ، سرمایہ دارانہ نظام کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے رہیں ہیں جب کہ بیشتر ترقی پسند قلم کار سرمائے کی دھوپ کو اوڑھ کر ترقیاں کرتے رہے اور اپنا مستقبل محفوظ کرتے رہے ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ غر بت کی اصل وجہ کو ہم بیان کرنے سے کتراتے ہیں ۔ ایک غریب کنبہ بچہ پیدا کرنے کی مشین بن چکا ہے ، کچھ جرائم کی نذر ہوجاتے ہیں اور کچھ دہشت گردی کی بھٹّی کا ایندھن بن جاتے ہیں ۔ اس بارے میں کوئی قلم نہیں اٹھاتا ہے کیونکہ اس میں سستی شہرت نہیں ملتی ۔ عوام کے لیے کنبہ کی حد بندی، سائنسی تعلیم ،صحت و تندرستی کا خیال اور اپنے ماحول کی حفاظت کرنا اشد ضروری ہے تب ہی اس زمین سے غربت اور جرائم کم ہو سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ اس پس منظر میں موجودہ ترقی پسندوں کو اپنے دروں کو کھنگالنا پڑے گا اور اپنے سوچ 
و فکر کو نئی راہ پر ڈالنا پڑے گا۔
*****
Deepak Budki, A-102, S G Impression, Sector 4-B, Vasundhra, Ghaziabad(India) 201012. Mob

 +919868271199 PIN-

Saturday, August 13, 2016

دیدبان ، ایک لمحہِ موج خیز


دیدبان ، ایک لمحہِ موج خیز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمیں کے ٹوٹے ہوئے آخری کنارے تک
میں اُس کے ساتھ چلوں گا نئے ستارے تک (بیرم غوری)

سوشل میڈیا ،فیس بک اور انٹرنیٹ کی دنیا بھی عجیب و غریب اور محیر العقول ہے ، معاشرتی شعور میں جہاں وقت کے نئے تقاضوں نے نِت نئے ابواب لکھے، وہیں انسانی نفسیات میں ایک نمایاں تبدیلی آئی۔ سوشل انیمل ہونے کے ناتے کراس بارڈر، ہر نسل و رنگ کے انسان پھولوں کی کلیاں اٹھائے امن و محبت کی نئی تہذیبی و تمدنی آشنائی کا سبب بنے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں سانجھے کا سودا ہوا۔ اطلاعات لمحہ بہ لمحہ ترسیل ہوئیں ۔ عالمگیری سطح پر نئے فکری افق دریافت ہوئے ، موضوعات پُر اثر اور متنوع ہوئے۔ سیٹلائٹ نے زمینی اور کائناتی مخفی گوشوں کو یک جا کر دیا۔ یہ ایک ایسا انقلاب تھا جس نے دنیا بھر میں امن و محبت کے پیغام کو جس تیزی کے ساتھ مہمیز دی وہ ناقابلِ تسخیر نئے عالمی معاشرے کی ابتداء ثابت ہوا۔
ایسے میں ادب ا ور نئے نظریات کی جو فلسفیانہ تشریحات بیسویں صدی میں یورپ سے اٹھیں وہ لمحوں میں تقسیم ہوتی تیسری دنیا کے مملکتوں کے باسیوں تک آن پہنچیں۔ اردو برصغیر کی ایک مکمل تہذیب ہونے کے سبب اپنے اندر اس قدر وسعت اور جہان آباد رکھتی ہے کہ اس نے جہاں عالمی ادبی اور فلسفیانہ نظریات کو اپنے اندر سمویا، وہیں فکری سطح پر اِن سرگوشیوں کو بھی جگہ دی جو ادب میں فنِ لطیف کا درجہ رکھتی تھیں۔ یوں اردو ادب میں نئی نسل نے ترقی پسندی کے رحجانات سے آگے بڑھ کر جدید رحجانات سے مزیں امکانات کا جائزہ لیا ، اور اپنی تخلیقات مین نئے تجربات سے قاری کو آشنا کیا ۔ایسے میں ایک مثبت کام یہ ہوا کہ انٹرنیٹ پر اردو ادب کے بلاگز اور ادبی فورمز نے ان نوجوانوں کو پرنٹ میڈیا سے ہٹ کر نئی دنیا آباد کرتے ہوئے نئی پہچان دی۔
اردو زبان اپنے مزاج میں جہاں فارسی ، عربی اور ہندی کے حسین امتزاج کا مُرقّع ہے، وہیں اسکی نشونما میں ترقی پسندی اور جدیدیت نے نئے خون کو انجیکٹ کیا، نئے امکانات کا دریچہ وا کیا،رجعت پسندی کو بزورِ قلم پرے دھکیلتے ہوئے دیگر عالمی زبانوں کے ادب کی آمد کو اپنی ارتقائی جسامت کا جزولاینفک بنایا۔ ایسے میں اکسیویں صدی کے ابتداء ہی سے پرنٹ میڈیا میں اردو ادبی جرائد اپنے حصے کی شمع جلاتے رہے۔ تاہم انٹرنیٹ کی دنیا میں سوشل میڈیا ہی واحد سہارا بنا۔ اس سے پہلے آن لائن کئی ایک بلاگ وجود میں آئے جس میں’ ریختہ‘ سرِ فہرست ہے تاہم اب چند برسوں سے فیس بک پر کچھ ادبی فورمز کے سجے چمنستان میںیہ خود رُو بلاگز اردو ادب کی خدمت میں درپیش مسائل کا ادراک تو رکھتے تھے لیکن رفتہ رفتہ صرف نئے لکھنے والوں کی بے جاء حوصلہ افزائی میں یک طرفہ کردار ادا کرنے لگے۔جس سے نئے لکھنے والوں کی ایک بڑی اکثریت خودنمائی و نرگسیت کا شکار اور تنقید سے بالاتر ہوکر جمالیاتی اور ادبی لطافت سے قدرے دور ہو گئی۔ چنانچہ ان ادبی جرائد و فورمز اور بیسیوں آن لائن بلاگز کی کہکشاں میں ابھرتے ہوئے عالمی ادبی و ثقافتی رحجانات اپنی نئی دنیا بسانے کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے اپنی تعبیر کی تلاش میں رہے۔
ایسے میں انٹرنیٹ کی دنیا میں کسی ایسے آن لائن جریدے کی اشد ضرورت تھی جو صنفی طور پر نثر کو فوقیت دے اور تنقید کے میدان میں نئے امکانات اور رحجانات کی دنیا آباد کرے۔ تب ’’ دیدبان ‘‘ کے جنم لینے کی نوید آئی۔ سوشل اور پرنٹ میڈیا پر جانی پہچانی والی تین معروف ادیباؤں ڈاکٹر نسترن فتیحی ( علی گڑھ انڈیا)، سبین علی ( جدہ سعودی عریبیہ) اور سلمیٰ جیلانی ( نیوزی لینڈ ) راقم کی دلی مبارک باد کی مستحق ہیں جنہوں نے انٹرنیٹ کے ناگفتہ بہ ادبی حالات میں اردو ادب کی ترقی و ترویج کا بیڑا اٹھایا اور دیدبان کے راستے نہ صرف نئے ادباٗ و شعرا کو جگہ دی بلکہ اساتذہ کے ملفوظات اور تخلیقی محرکات کو قارئین تک پہچانے کی مشترکہ کوشش کو کامیاب بنایا۔ متذکرہ بالا تینوں خواتین کا عالمی ادب ، اردو ادب اور تنقید میں پہلے ہی کافی کام عالمی قارئین سامنے آ چکا ہے، لہذا یقین واثق ہے کہ انکی علمی و فکری جستجو ’ دیدبان‘ کے آنے والے شماروں میں نئی جہات کو منظر ائے گی۔ ۔ خاصے کی بات یہ ہے کہ تینوں خواتین اپنے الگ الگ فطری رحجانات میں یونیک حیثیت کی مالکہ ہیں، نسترن فتیحی کا میدان اگر تنقید ہے ( انکی حالیہ تنقیدی کتاب نے ’ ایکو فیمینزم ‘ نے عالمی شہرت پائی ہے) تو سبین علی تخلیق کے میدان میں ’ کتن والی ‘ جیسے معرکۃ الآراء افسانے کو جنم دے چکی ہیں۔ سلمیٰ جیلانی گو اپنے تخلیقی جوہر میں یکتا ہے لیکن راقم کے ذاتی خیال میں وہ ترجمہ جیسی مشکل اور ٹیکنیکل صنف میں نمایاں کامیابی کے حامل عالمی کام نہ صرف کر چکی ہیں بلکہ مزید کریں گی۔
گواب تک ’ دیدبان‘ کا پہلا شمارہ اپنے پورے ادبی حسن کے ساتھ جلوہ گر ہے تاہم راقم سمیت قارئین اس آن لائن بلاگ ( جریدے) کی عمودی اور افقی سطح کو آسمانِ اردو ادب پر کہیں بلند دیکھنے کے متمنی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ
لاہور پاکستان مورخہ ۱۲۔ اگست ۲۰۱۶ء