ماسٹر گل محمد
.......................
مجھے اتنا یاد ہے کہ ملک میں اوزان، کرنسی کا اشاریہ نظام کے رائج ہونے سے پہلے کا یہ واقع ہے شاید ۱۹۵۹ یا ۱۹۶۰ کے اوائل کا ہے، جب میں ابا کی انگلی پکڑے اسکول کی عمارت میں داخل ہوا تو لمحہ بھر کو ششدر رہ گیا۔ یہ کوئٹہ کے یٹ روڈ پرایستادہ گورنمنٹ پرائمری اسکول کی پرشکوہ عمارت تھی جو میرے ذہن میں آج بھی اسی طرح نقش ہے۔ آس پاس کے مکانات’ سیون ٹائپ‘ (۱) ہونے کی وجہ سے اسکول کی پیلی اینٹوں سے بنی پختہ عمارت اس وقت مجھے عالیشان محل کی طرح لگی ۔ مجھے یہاں جماعت دوئم میں داخل کرنے کے لئے لایا گیا تھا ۔ ابا کی حال ہی میں یہاں ٹرانسفر ہوئی تھی تو گھر سے قریب ترین یہی اسکول تھا۔
ضروری کاغذی کاروائی کے بعد ہیڈ ماسٹر صاحب نے جماعت دوئم کے انچارج ٹیچر کو بلایا اور مجھے انکے حوالے کرتے ہوئے ابا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں میرزا صاحب کا بیٹا ہوں میرا خاص خیال رکھا جائے۔ یہ ماسٹر گل محمد تھے ۔ سرمئی شلوار قمیض میں ملبوس دبلے پتلے سے درمیانے قد کے ساتھ انکی شخصیت مجھے بالکل عام سی لگی ۔ انہوں نے میری طرف دیکھا اور میرے کندھے پر ٹہوکہ دیتے ہوئے چلنے کا اشارہ کیا۔ مجھے کچھ عجیب سا لگا لیکن خاموش رہا۔
ہم دونوں ایک ساتھ ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرے سے نکل کر کوریڈور سے ہوتے ہوئے جماعت دوئم کی طرف چل پڑے ۔ کوریڈور میں کئی ایک کلاسیں جاری تھیں اور ننھے ننھے بچے جھولتے ہوئے دوسرا یا تیسراپہاڑا رٹ رہے تھے۔ بعد میں معلوم ہو ا کہ یہ بچے کچی، پکی اور جماعت اول کے طالب علم تھے جنہیں زمین پر بٹھایا جاتا ہے، ڈیسک کی سہولت جماعت دوئم سے شروع ہوتی ہے۔ ہم اپنے کمرے میں پہنچے تو میں نے دیکھا کہ کوئی تیس پینتیس لڑکے اپنے اپنے بنچ پر چڑھے مرغِ چمن وخوش الحان بنے پہاڑے رٹ رہے تھے ۔ صرف ایک فرق تھا کہ اس بار پہاڑا سات یا نو کا تھا۔ اور ایک تنومند لڑکا ہاتھ میں بید لئے کسی کو پیچھے سے نیچے نہیں ہونے دیتا ہوا انہیں ہینڈل کر رہا تھا۔ جس کا نام مجھے بعد میں آصف خان معلوم ہو ا ، یہ کلاس مانیٹر تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی ماسٹر گل محمد نے دوسری قطار میں ایک لڑکے کی پشت پر زور سے ہاتھ مارتے ہوتے اسے نیچے اترنے کو کہا جب وہ سیدھا کھڑا ہوا تو انہوں نے اسے بستے سمیت سب سے آخری نشست پر جانے کا حکم دیا اور مجھے کہا کہ یہ تماری سیٹ ہے۔ میں سیٹ پر ابھی بیٹھ ہی رہا تھا کہ انہوں نے کہا چلو بنچ پر چڑھو اور مرغا بن جاؤ۔ میں حیرت سے انہیں دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ میرا کیا قصور ہے؟ لیکن معلوم ہوا کہ یہ اس کلاس کا اصول ہے کہ جب سزا ملے گی تو اجتماعی ہی ملے گی۔ چاروناچار میں اسکول داخل ہونے کہ چند ہی لمحوں بعد مرغ بنا اس اسکول کے سنہری اصولوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔
کہتے ہیں کہ آپکی زندگی میں جہاں انسان اپناکردار ادا کر رہے ہوتے ہیں وہیں قدرت اپنا فطری نظام بھی ساتھ ساتھ چلا رہی ہوتی ہے ، یہی وہ وقت تھا کہ جس بنچ پر مجھے مرغا بنے کو کہا گیا وہیں میرے ساتھ بلوچستان یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر فاروق احمد مرغِ باد نما بنے اپنے بائیں بازو کی آڑ لیتے ہوئے کن انکھیوں سے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھ رہے تھے ۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔
کافی دیر تک مرغا بنے رہنے سے جب میری ٹانگیں کپکپانے لگیں تو پیچھے والے لڑکوں نے ہنسنا شروع کر دیا ۔ میں نے دل میں سوچا کہ یہ سب تو عادی مجرم لگتے ہیں ، میں کہاں پھنس گیا ہوں ۔ یہ صورتِ حال ناجانے کب تک رہتی کہ اچانک ریسس ( آدھی چھٹی) کا گھنٹہ بج گیا اور ساری جماعت نے اپنے اپنے بنچوں سے اتر کر سکون کا سانس لیا لیکن میرے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ میں لاہور سے انگریزی ماحول میں پڑھا ہوا طالب علم تھا جہاں سزا کا تصور بالکل الگ تھا ۔ بہرکیف، ماسٹر گل محمد نے گھنٹی کی آواز سنتے ہی اپنا حاضری رجسٹر اٹھایا اور جماعت سے باہر جاتے ہوئے فاروق کی طرف معنیٰ خیز نظروں سے دیکھا ۔ فاروق نے بھی انہیں دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ اچھا یہ ان وقتوں کی بات ہے جب اسکول میں بچوں کو کسی تعارف یا دوستی کے لئے کسی رسماً علیک سلیک کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ جب ہم ساتھ ساتھ بیٹھ گئے تو یہ طے ہو رہا کہ ہم دوست ہیں۔
فاروق نے مجھ سے پوچھا ، چلو گے؟ میں نے کہا۔ کہاں ؟ تو اس نے کہا، چلو بتاتا ہوں ۔ اور یہ کہہ کر اس نے کلاس روم کے ایک کونے میں پڑی ہوئی مٹی کی صراحی اٹھائی اور مجھے ساتھ لئے باہر نکل آیا۔
ریسس کوئی آدھ گھنٹے کے لئے ہوتی تھی ۔ فاروق نے صراحی اٹھاتے ہوئے مجھے سے میرا تعارف پوچھا، یہ اتفاق ہی تھا کہ ہمارے گھر قریب قریب ہی تھے۔ اس نے مجھے بتایا ، یہ صراحی ماسٹر گل محمد کی ہے جو وہ گھر سے لاتے ہیں۔ دوپہر کو ہم قریبی سرکاری ٹیوب ویل سے اس میں شفاف پانی بھر کر لا دیتے ہیں جسے وہ چھٹی ہونے پر اپنے ساتھ سائیکل کے کیریئر پر باندھ کر گھر لے جاتے ہیں۔ اور اس کام پر انہوں نے دو لڑکوں کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے کہ واپسی پر دونوں لڑکے باری باری اس صراحی کو اٹھاتے ہیں انکا خیال تھا کہ کہیں کوئی لڑکا راستے میں صراحی کے بوجھ سے تھک کر اسے توڑ نہ دے۔ اس زمانے میں کوئٹہ میں شفاف پینے والے پانی کی از حد قلت ہوا کرتی تھی ( یہ بات مجھے بعد میں معلوم ہوئی )۔
میں نے کہا کہ یہ تو بہت سخت گیر ماسٹر ہیں انکا کام کیوں کرتے ہو؟ فاروق کہنے لگا ۔۔۔ ہاں یہ تو ہے لیکن دوسرے استاد ماسٹر گل محمد سے زیادہ سنگدل ہیں۔ میری ریڑھ کی ہڈی میں سر د لہر دوڑ گئی ۔ اسکول کے سخت ماحول کو دیکھ کر میرے اندر یہ خواہش جاگنے لگی کہ یا اللہ تو میرے حال پر رحم فرماٗ۔ یہ بات جب میں نے اماں کو بتائی تو اماں نے کہا اچھا اللہ پر بھروسہ رکھو کوئی سبب بنے گا۔
ان کی اس بات کے اندر چند روز میں ہی اسکول میں یہ اعلان ہوا کہ ’’ نارمن‘‘ (۲) والے آ رہے ہیں۔ مجھے حیرت تھی کہ یہ ’نارمن‘ والے کون ہیں؟ ۔ یہ خبر سن کر سارے اسکول کے بچے خوشی اور مسرت سے ناچنے لگے تھے۔ مجھے اب بھی نہیں معلوم کہ یہ ’’ نارمن‘‘ والے کون تھے ؟ لیکن شاید کوئی سینئر استاد اس کی مکمل تاریخ بتا سکیں۔
آخر کار وہ دن آگیا کہ جس دن ’نارمن‘ والوں نے اسکول کا چارج سنبھال لیا ۔ سارے اساتذہ چھٹی پر چلے گئے ماسوائے ہیڈ ماسٹر صاحب۔ ’نارمن‘ والوں جن میں گوری خواتین بھی شامل تھیں ، نے پہلے دو دن بچوں کی مدد سے سارا اسکول صاف ستھرا کیا۔ باتھ روم دھوئے گئے ۔ نئی کیاریاں بنائی گئیں۔ چند ایک خواتین نے جنہوں نے رِسس میں بچوں کو کھانے کے لئے پیکٹ بنانے کا انتظام سنبھال لیا تھا ۔ رسس میں ہمیں قطارمیں لگا کر زبردستی گرم گرم دودھ پلایا جاتا اور اسکے بعد کھانے کے پیکٹ دئیے جاتے اور مانیٹر کیا جاتا کہ ہم کھا رہے ہیں یا ضائع کر رہے ہیں۔ کلاس میں پڑھائی کا طریقِ کار بدل چکا تھا ، تصویروں سے پڑھایا جاتا۔ بنچ پر مرغ بننے کی بجائے ٹافیاں ملتیں۔ چٹھی کے وقت روزانہ کوئی نہ کوئی تھیلہ یا لفافہ تھمایا جاتا جس میں کسی وقت گھی کے بند ڈبے ہوتے جن پر دو ہاتھ ملتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، کسی وقت خشک دودھ کے سیل بند لفافے۔۔۔۔
یہ سارا ماحول کوئی دو ہفتے جاری رہا ۔ یقین کیجیئے کہ ان دنوں اسکول میں بچوں کی حاضری سو فیصد تھی۔ البتہ ایک بات دیکھی کہ دیگر اساتذہ میں واحد ماسٹر گل محمد تھے جو اِن دنوں بھی بڑی باقاعدگی سے اسکول آتے تھے اور’ نارمن‘ والوں کے ساتھ کام کرتے تھے، اور میرا خیال ہے کہ ماسٹر گل محمد ’ نارمن‘ والوں سے متاثر بھی تھے ، وضع دار اور ایماندار ہونے کے ناتے شاید وہ چھٹی کرنا پسند نہیں کرتے تھے ۔ یہ انکی شخصیت اور شرافت تھی کہ انہوں نے بعد میں بنچوں پر مرغا بنانے کی رسم ترک تو نہ کی لیکن بہت کم کر دی تھی، اور فاروق سے اسکی مودبانہ رویے کی وجہ سے انکی محبت بہت بڑھ چکی تھی ، یہ بات مجھے فاروق سے ہی معلوم ہوئی کہ انکی شادی نہ ہوئی تھی اور وہ بیچلر ہی اسکول سے ریٹائر ہو گئے تھے۔
مجھے تو چند ماہ بعد ہی واپس آنا پڑا کہ ابا دوبارہ پنجاب ٹرانسفر ہو گئے تھے لیکن کوئٹہ کے وہ چند ماہ میری زندگی کے یادگار لمحات میں بدل گئے تھے۔ اللہ غریق رحمت کرے ۔ ماسٹر گل محمد کے انتقال کی خبر بعد میں مجھے ڈاکٹر فاروق نے ہی دی تھی ۔۔۔۔ اور وہ خود ۲۰۱۰ عیسویں میں امریکہ میں قبل از ریٹائرمنٹ چل بسے تھے۔
نوٹ : یہ واقعہ کوئٹہ کے میرے پہلے قیام کی یادوں میں رچا بسا ہے ۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کے بعد مجھے کئی ایک بار کوئٹہ کی سرزمین نے پکارا اور میں حاضر ہوتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تشریحات
(۱) کوئٹہ میں زلزلہ سے بچنے کے لئے مخصوص طرز پر بنائے جانے والے مکانات کو ’ سیون ٹائپ‘ کہا جاتا ہے ۔
(۲) ’نارمن‘ والے کون تھے؟ میرا قیاس ہے کہ ان دنوں پاکستان کے امریکہ سے بڑے قریبی تعلقات تھے اور شاید یہ ’ نارمن‘ والے کسی امریکن این۔جی۔او کی نام ہی رہا ہوگا۔
نعیم بیگ
لاہور پاکستان
۴ اپریل ۲۰۱۶
جملہ حقوق محفوظ بحق مصنف

No comments:
Post a Comment