Sunday, April 10, 2016

حِبالہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



حِبالہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(سال دوہزارانچاس عیسوی ، صحارا لیبارٹری بمقام گلوبل دارلخلافہ واشنگٹن۔۲ ، واقع ’جی۔جے ۱۸۵ ڈی سپر ارتھ (۱) ‘ فاصلہ از زمین بیس لائٹ سال۔) 
ایک زور دار دھماکے کی آواز کے ساتھ ہی سبز رنگ کا لیس دار سیال مادہ کمرے کے فرش پر چاروں طرف پھیل گیا ، مادے میں ایک منحنی سا بے جان لوتھڑا دیکھ کر شیشے کی دیوار کے پار سفید رنگ کے لباس میں پانچ نقاب پوش خواتین و مرد سائنسدانوں نے اچھل اچھل کر خوشی سے نعرے لگائے اور معانقے کئے ۔ انکی برسوں کی کوشش بارآور ہو گئی تھی، ان کے سر تفاخر سے بلند گئے۔ وہ انسانی تخلیق کے فطری نظام کو شکست دیکر ایک نئی مخلوق پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں ۔۔۔
’’کیا ہم کمرے میں داخل ہو سکتے ہیں ؟‘‘ ایک نسوانی آواز نے چیف سے پوچھا۔
’’ نہیں ابھی نہیں۔۔۔ ابھی ہم نے نومولد کی ساخت اور وقتِ نمو کی پیمائش کرنی ہے، لیزر بیم اون کر دی جائے اور زمین سے سیٹلائٹ رابطہ کر دیا جائے تاکہ ساری دنیا یہ کاروائی براہِ راست دیکھ سکیں ۔ ‘‘ چیف بولا۔ 
 لیزر بیم اور کیمرے اون کر دیئے گئے اور انکا رخ لیب ہال کے وسط میں ایستادہ شیشے کے کمرے کی طرف کر دیا گیا۔ چند لمحوں میں لوتھڑے میں حرکت ہو ئی اور اس نے تیزی سے بڑھنا شروع کر دیا۔
 الاسکا سٹیٹ لیب امریکہ کے علاوہ دنیا کے تمام بڑے ملکوں کی سائنسی لیبز سے رابطہ ہوچکا تھا اور دنیا بھر کے سائنسدان اس نئی مخلوق کو دیکھنے کے لئے اپنے اپنے ملکوں کی لیبز میں جمع تھے۔ دنیا میں رات کا آخری پہر تھا۔ پیدائش کے پہلے حصے کی ویڈیو دنیا میں پہنچ چکی تھی اور زمانے بھر کے چینل، پرنٹ میڈیا پل پل کی خبر جاری کر رہے تھے۔ 
 نو مولد جسکا نام ’گلائیز ون‘ رکھا گیا تھا، اپنی عجیب الخلقت شکل، دس دس انگلیوں کے ہاتھ پاؤں اور تین سروں سمیت تیزی سے اپنی جسامت بڑھا رہا تھا۔ صحارا لیب سے سائنس دان کہہ رہے ہیں کہ ’گلائیز ون‘ کے تحقیقی و تولیدی پروسس میں نو سال صرف ہوئے ہیں، ولادت میں صرف نو منٹ لگے ہیں، اسے مکمل جوان ہونے میں نو گھنٹے چاہیں۔ یہ نو سو سال تک زندہ رہے گا اور نو سیاروں تک اسکی رسائی ہوگی۔ ’گلائیز ون‘ کی تولید کے لئے زمین کی سب سے صحت مند ۲ ملین انڈے رکھنے والی عورت کی اوری کو اِسکی رضا سے منتخب کیا گیا تھا اور ایولیشن میں انسان کے سپرمز کے علاوہ نو بڑے حیوانات، چرند و پرند کے سپرمز جس میں سور ، بھیڑیئے ، کتا اور الّو بھی شامل ہیں، ایک ساتھ مِلا کر تجربہ کیا گیا ہے ۔’ گلائیز ون‘ کا جسم ان تمام خصوصیات سے بہرہ مند ہوگا اور وہ بلا تفریق نو سیاروں میں کسی مافوق الفطرت مخلوق کی طرح سائنسی مدد کے بغیرسفر کرسکے گا۔
 صحارا سائنسی لیب میں ’ گلائیز ون‘ کی تولید سے تکمیل ہونے کا پروسس شروع ہوتے ہی زمین پر آفات کا سلسلہ شروع ہو گیا اور نسل انسانی مٹنے لگی، زلزلوں ، سمندری طوفانوں اور سیلابوں نے ہر طرف تباہی مچا دی۔ دنیا بھر کا میڈیا اور چینل اب بیک وقت دونوں خبریں ساتھ ساتھ دکھا رہے تھے۔
 ابھی ’ گلائیز ون ‘ کو مکمل ہونے میں تین گھنٹے باقی تھے لیکن زمین پر صبح کے آثار مفقود تھے۔ رات طویل ہو چکی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں اندھیرا چھانے لگا، سورج کے طلوع ہونے کے نظام میں خرابی پیدا ہو چکی تھی زمین اپنے محور پر حرکت سے معذور ہوتی نظر آ رہی تھی۔ پوری دنیا میں بسنے والوں نے جابجا گلیوں، سڑکوں ، بازاروں میں نامعلوم اور غیر مرئی آتشیں ہیولے کتوں، بھیڑیوں اور سورؤں پر سوا ر غول کے غول شہروں میں انسانوں پر حملے اور رقص کرتے دیکھے گئے ہیں جنہیں کیمرہ محفوظ کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔
 سائنسدان حیران تھے کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ جوابی سائنسی تحقیق ابھی کوئی حتمی جواب دینے سے قاصر تھی ۔کیا تخلیقی توازن بگڑ گیا ہے ؟ یا غیر مربوط سپرمز سے غیر مرئی مخلوق سامنے آ گئی ہے۔ انسانی سپرمز نے کیوں، کب اور کیسے انکار کیا؟ ۔۔۔ سب کچھ ابہام کا شکار ہے۔ہاں البتہ سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ ’گلائیزون‘ کی تکمیل ہوتے ہی دنیا مکمل طور پر تباہ و برباد ہو جائے گی اور کسی انسان کا نشان تک نہ ہوگا۔ صرف وہی پانچ سائنسدان بچیں گے جو خلاٗ میں صحارا سائنسی لیب میں کام کر رہے ہیں۔ ان پانچ کو ’’ گلائیز ون‘‘ خود ہینڈل کرے گا۔ 
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 تشریحات:
 (۱) انڈیپنڈنٹ نیوز ( سائنس) کے عالمی مجلے ۷ مارچ ۲۰۱۵ کی تحقیق سے اٹھائے گئے کچھ نکات۔
نعیم بیگ لاہور پاکستان
۱۰ اپریل ۲۰۱۶ 
جملہ حقوق محفوظ بحق مصنف

No comments:

Post a Comment