نعیم بیگ کے متوقع ناول سے ایک اقتباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحب وضع دارشخص تھے لیکن ایمپرئیل ذہنیت اور ارسٹوکریٹک طبیعت رکھتے تھے ۔۔۔ جی ہاں ان کا رہن سہن بالکل ابھی تک نوابوں کی طرح ہی تھا ۔ کلینک جاتے تو ہمیشہ سوٹ میں ملبوس ہوتے ، ٹائی اور سولا ہیٹ ۔ تقریبات میں شیروانی اور سفید پاجامہ ، گھر میں وہ ہمیشہ کُرتا، پاجامہ پہنتے۔ میں کبھی کبھار خالہ کو تنہائی میں کہہ دیتا کہ انہیں یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی وہیں نواب آف رامپور کے پاس ہی چھوڑ آتیں یہاں تو گھر بھر میں سب پر رعب جھاڑتے پھرتے ہیں تو وہ مسکرا اٹھتی اور کہتی ، تماری اماں سے پوچھتی ہوں انہوں نے ایسا کیوں کیا؟
اس کی شاید ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہمارے گھر میں اماں کی حیثیت نمایاں تھی اور انہی کا حکم چلتا تھا اور نرم مزاج ہونے کے ناتے ہمیں ممکنہ حد تک تحریر و تقریر کی آزادی تھی ، کسی حد تک بچوں کے ناز نخرے بھی اٹھائے جاتے تھے لیکن خالہ کے ہاں صورتِ حال یکسر مختلف تھی ۔ ایک تو خالو ڈاکٹر تھے یہی بڑی وجہ تھی کہ اس زمانے میں دور دور تک کسی ڈاکٹر کا موجود ہونا قابل فخر ہوتا تھا ، پھر نوابی صحبت نے انہیں بھی آدھا پونا نواب تو بنا ہی دیا تھا۔ سو گھر میں جب موجود ہوتے تو یوں لگتا جیسے کوئی دیو پھر گیا ہے۔ جنگل کی سی خاموشی میں صرف دو معصوم خواتین ایک خالہ اور دوسری انکی بیٹی نگہت ایک دوسرے سے سرگوشیوں میں باتیں کرتیں۔
مجھے تو خیر سے چند روزہ مہمان اور گھر میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے بالکل بولنے کا حکم نہیں تھا۔ مجھ پر صرف حکم چلایا جا سکتا تھا اور سچ پوچھئے، وہ سبھی چلاتے تھے۔ میں خاموش طبع قسم کا لڑکا تھا ، بڑوں کو جواب دینا سرشت میں ہی نہ تھا، کچھ جواب بھی دینا ہوتا تو تصورِ میں جواب دیتا، حکم ملتے ہی بھاگ کر کبھی دہی لینے جاتا اور بالائی راستے میں ہی کھا آتا ، کبھی نگہت کوئی چیز لینے نزدیکی دوکان پر بھجواتیں تو بقیہ پیسوں میں سے میں اپنے لئے خود ہی کوئی چیز بطور عوضانہ تکمیلِ حکم خرید لاتا، وہ مسکراتی اور میرے گال پر چٹکی بھر لیتی۔ چونکہ اسکا کوئی چھوٹا بھائی نہ تھا لہذا میری نگہت کے ساتھ چاندنی تھی اور اسکی میرے ساتھ ، کیونکہ اسکے وہ تمام ذاتی اور خفیہ راز جو بھُٹہ صاحب ( نگہت اپنے منگیتر کو بُھٹہ صاحب ہی کہتی تھی) کے حوالے سے تھے، صرف میں ہی جانتا تھا ، عشقیہ خطوط سے لیکر تحائف تک کے تبادلے میرے ذریعے ہی ہوا کرتے تھے۔
ہاں البتہ ڈاکٹر صاحب کی بات اور تھی وہ بڑے تھے بلکہ عمر میں تو ابا سے بھی بڑے تھے سو میرے لئے قابلِ احترام۔ ان کا حکم تھا کہ اتوار والے دن صبح شکار کے لئے جانا ہے ۔ میں تڑکے تیار ہو کر بیٹھ جاتا اور جب انکی کڑک دار آواز پڑتی ہم دونوں گھر سے پیدل نکل پڑتے۔ ڈاکٹر صاحب کے کندھے پر دو نالی شاٹ گن ہوتی اور کارتوسوں کا ایک پٹّا انہوں نے کمر کے گرد لپیٹا ہوتا ۔ گھر سے باہر ہمیشہ تیار ہو کر نکلتے۔ پینٹ تو ہمیشہ پہنتے ہی تھے نیجے جوگرز ٹائپ کے بڑے کالے جوتے ہوتے اور سر پر برطانوی طرز کا سولا ہیٹ ہوتا۔
میں انکے ساتھ اسسٹنٹ کے طور پر ہوتا۔ میرے گلے میں کارتوسوں کا ایک فاضل پٹّا ہار کی طرح لٹکا دیاجاتا وہ اس لئے کہ آخری بکّل پر باندھے جانے کے باوجود بھی وہ کمر پر ڈھیلا رہتا اور بار بار نیچے لڑکتا جس سے پیدل چلنے کی رفتا پر اچھا خاصا اثر پڑتا لہذا مجھے حکم تھا کہ اس پٹے کو گلے میں ہار کی طرح پہن لیا جائے۔ کئی ایک بار خالہ جان نے گھر سے نکلتے ہوئے خالو سے سرگوشی کی یہ کارتوسوں کا پٹّا بہت بھاری ہے اس بچے پر رحم کھائیے اور اسکے لئے کوئی نیا پٹا بنوا دیں تاکہ بچے کی گردن تو محفوظ رہے لیکن ڈاکٹر صاحب کی آنکھیں دیکھ کر وہ سٹپٹا جاتیں اور خاموشی سے مجھے رخصت کر دیتیں ۔ دائیں کندھے پر ایک کپڑے کا بڑا تھیلہ جس میں ایک اور کپڑے کا تھیلہ رکھا جاتا جس میں متوقع شکار پرندے جمع ہونے ہوتے۔ اسی تھیلے میں ایک عدد بڑی چھُری اور ایک کمانی دار چاقو جسے مجھے کھولنے کی اجازت نہیں تھی ،رکھا جاتا۔
دو تین گھنٹوں کی مسافت کے بعد ہم شہر سے کئی میل دور کھیتوں میں نکل آتے اور پھر انجان منزل کی تلاش شروع ہو جاتی ۔ کبھی ڈاکٹر صاحب دائیں مڑتے اور کئی فرلانگ کے بعد پھر مزید دائیں اور مزید دائیں مڑنے کے بعد تیس چالیس منٹ میں وہیں دائرے کی صورت میں سفر کر کے پہنچ جاتے جہاں سے سفر شروع ہوا تھا اور پھر کہتے ۔
’’سالا ایک جیسا ٹاور لگایا ہے تمارے ابا نے ۔ نان سنس ‘‘ ۔۔۔۔
رامپوری ہونے کے باوجود انہیں انگریزوں کے لہجے میں بولنا اچھا لگتا تھا۔
یہاں یہ وضاحت کردوں کہ ابّا محکمہ بجلی میں ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے والے انجئنیر تھے ۔۔۔ اور انکا آخری غصہ ہمیشہ انہی پر اترتا ۔ میرا خیال ہے کہ ہم زلف ہونے کے ناتے خاندانی رقابت نکالنے کا یہی بہترین موقع ہوتا۔
دور کہیں بجلی کے بڑے ٹاورز کے درمیان تاروں پر بیٹھے جب پرندے نظر آتے تو مجھے زور دار آواز میں ڈانٹ دیتے کہ خاموش ہو جاؤ ۔ جبکہ میں پچھلے کئی ایک گھنٹوں سے خاموش چل رہا ہوتا تھا۔ میں مزید خاموش ہو جاتا مطلب یہ کہ دل میں جو طلسماتی یا جادوئی خیالات ابھر کر منظر بنا رہے ہوتے وہ سارے اُڑن چھو ہو جاتے ۔ اسی اثنا میں اب شِست باندھی جاتی ، فوجیوں کی طرح گھنٹوں زمین پر ٹیک دئیے جاتے ، بندوق ناک کی سیدھ میں برابر کی جاتی ، پھر ایکدم کچھ خیال آنے سے ہٹا کر کلپ ہٹا کر دیکھا جاتا کہ کارتوس بھرے ہیں کہ نہیں ۔ یہ اطمینان ہونے کے بعد یہی عمل واپس ایک بار پھر دہرایا جاتا اور سیدھی ہوتی بندوق سے فائر ہوجاتا ۔۔۔۔ ویسے یہ اکثر ہوا کہ بندوق کے فائر سے پہلے ہی کئی بار پرندے اڑ جاتے ۔ ایسی صورت میں وہ ہمیشہ خوش ہوتے کہ چلو ایک کارتوس تو بچ گیا۔
ہاں جب فائر ہو جاتا تو نتیجہ میں دو تین پرندے گھبرا کر نیچے گر جاتے اور بقیہ اڑ جاتے ۔ میرا کام دراصل اسی وقت شروع ہوتا تھا ۔ مجھے برطانوی شکاری کتے بیگل کی طرح ایک ہی جست میں ان گرے ہوئے پرندوں تک پہنچنا ہوتا تھا ۔ کھیتوں میں اگر کچھ اُگا ہوا ہے تو نیچے گرنے والے پرندوں کو تلاش کرنا اور پھُرتی سے ان کی گردنوں پر باآواز بلند تکبر کہتے ہوئے چھُری پھیرنا اور بعد ازاں معائنے کے لئے ہتھیلی پر رکھ کر ڈاکٹر صاحب کو میڈیکل ایگزامینیشن کے لئے باری باری پیش کرنا میرا اولین فرض تھا۔
لیکن یقین جانیئے اس میں میرا کوئی قصور نہ ہوتا جب یہ ہوتا کہ اِدھر فائر ہوا اور وہیں میں شکاری کتے بِیگل کی طرح گٹ سیٹ ، ریڈی گو کی طرح بھاگ نکلتا۔ تھیلا تو وہیں پٹک دیتا اور گلے کا کارتوسوں والا پٹ خودبخود کہیں راستے میں اتر جاتا۔ حکم یہ تھا کہ موقع واردات پر چونکہ ضروری اور فوری پہنچنا ہے تو میں حکم بجا لانے میں دیر نہ کرتا۔ اب جو تڑپتے، پھڑکتے ہوئے پرندوں کو قریب سے دیکھتا تو میری روح فنا ہو جاتی اور میں پہلے سے حلق میں آئے دھڑکتے دل کے ساتھ اکثر وہیں ڈھیر ہو جاتا۔
اب ڈاکٹر صاحب پر دوہری ذمہ داری آن پڑتی کہ وہ زخمی پرندوں کو اٹنیڈ کریں یا بے ہوش انسان کو ، بہرحال یہ کریڈٹ تو انہیں دینا پڑتا ہے کہ جب مجھے ہوش آتا تب تک کئی ایک پرندے تھیلے میں منتقل کرچکے ہوتے۔ ان کے خون آلود ہاتھوں کو دیکھ کر میں دہل سا جاتا لیکن کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔ مجھے ہوش میں آتے دیکھ کر انکا اکثر پہلا جملہ یہی ہوتا ۔
’’ سالا ۔۔۔ پورا کا پورا باپ پر گیا ہے ؟ بزدل کہیں کا ؟ ‘‘
میرا خیال ہے کہ ابّا کی بلانوشی اور آرٹ و کلچر سے محبت انہیں ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔
انکے رقیبانہ جملے مجھے اس وقت قطعی سمجھ نہیں آتے تھے اور میں شرمندہ شرمندہ سا اٹھ کر بیٹھ جاتا اور جانفشانی سے ایک بار پھر کارتوسوں کی پٹّا گلے میں لٹکاتا اور تھیلا دائیں کندھے پر ۔۔۔ یوں ہم شام گئے شکار شدہ پرندوں کے کئی ایک تھیلے اٹھائے واپس گھر لوٹتے، مجھ غریب کے دونوں کندھوں پر دو تھیلے ہوتے، کمر یا گلے میں کارتوسوں کی پیٹی ، دونوں ہاتھ لٹکے ہوئے تھیلوں کے نیچے ہوتے کہ کہیں تھیلے نیچے سے پھٹ نہ جائیں۔ اکثر شام کا دھندلکا پھیلتے ہی اپنا سولا ہیٹ بھی مجھے پہنا دیتے ۔ اگر کوئی اس وقت مجھے دور سے دیکھتا تو یقیناًمیں ایک ایسے ناکردہ گناہوں میں ملوث ایشیائی غلام لگتا جس کے والدین نے بچے کے پیسے کھرَے کر لئے ہوں اور گورا صاحب اس غلام کو اپنے ساتھ رکھتے ہوں ۔ گھر میں داخل ہوتے ہی صحن میں سامان رکھنے کے بعد ڈاکٹر صاحب مجھے فوراً غسل کرنے بھجوا دیتے اور خود وہیں کچن میں بیٹھ کر چائے کی چُسکیاں لگاتے ہوئے میری بدحواسیوں کو خالہ جان کے سامنے یوں پیش کرتے جیسے شکار کا سارا کارنامہ میری ان بد حواسیوں کی وجہ سے ناکام ہوا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
متوقع ناول سے ایک قتباس
مصنف نعیم بیگ
لاہور پاکستان
جملہ حقوق محفوظ بحق مصنف

No comments:
Post a Comment