Tuesday, April 5, 2016

پرولتاری ادیب : تاثرات : " پیچھا کرتی آوازیں "




پرولتاری ادیب :
تاثرات :
" پیچھا کرتی آوازیں "
ولیم ورڈزورتھ نے تحریر کے بارے میں کہا تھا کہ " Fill your paper with the breathings of your heart" عالمی ادب میں جنھوں نے اپنے دل سے تحریروں کو زندگی بخشی انکے نام رہتی دنیا تک لیئے جاتے رہینگے ۔ اعلی ادبی اظہار جہاں انسانی سوچ کو نئے زاوئیے فراہم کرتا ہے وہیں ایک نئی روشن صبح سے روشناس بھی کراتا ہے ایسا ادب جہاں کسی شخص کی زندگی کا ایک اہم اور دلچسپ پہلو پیش کیا جائے جس میں ابتدا، ارتقا اور خاتمہ ہو جو انسان کو زندگی کے نئے پہلوئوں سے قریب تر کردے اسے ادبی اصطلاح میں ایک سچی اور حقیقی کہانی کہا جاتا ہے۔
مکمل افسانوی انداز لیئے یہ تحریریں اور انکے رنگ حیات آفرینی سے بھرپور ہوتے ہیں ۔جس میں کسی ایک واقع کو بنیاد بنا کر کہانی کی تشکیل کی گئی ہو اور جس میں حقیقی زندگی کے کسی ایک جز کو لے کر کہانی بُنی گئی ہو۔ جس میں وحدت ِ تاثر ہو، کہ پڑھنے کے بعد ذہن میں صرف ایک تاثر رہ جائے. رواں صدی میں ہمارے ادب نے اس حوالے سے کچھ نئی کروٹیں بدلی ہیں ۔
معاشی انقلابات نے جہاں سماج پر گہرے اثرات مرتب کیئے ہیں وہیں ادب میں جمہوری شعور کی بیداری کے وہ عناصر بھی شامل ہوگئے جس نے دنیا کا نقشہ ہی بدل ڈالا اور صدیوں کی محرومیوں ، آرزوئوں اور خوابوں کو نئے معنی عطا کردیے۔ اس حوالے سے میں جب بھی نعیم بیگ کے افسانے پڑھتا ہوں تو وہ مجھے اس معیار پر پورے اترتے دکھائی دیتے ہیں ۔ جہاں زندگی کی حقیقتیں ادب میں بڑے آب و تاب سے جلوہ گر ہیں۔
نعیم بیگ کے افسانوں کا مجموعہ " پیچھا کرتی آوازیں " انکے فنی شعور کی وہ علامتیں ہیں جو قارئین ادب کو کثیرالجہتی عنوانات اور انکی تشکیلات سے گزار کر فہم و ادراک اور معنیاتی وسعتوں کے حیرت انگیز وسیلے عطا کرتی ہیں ۔
نعیم بیگ صاحب نے اردو افسانے کو داستانوی ماحول سے نکال کر اس کا رشتہ زندگی سے قائم کیا۔ جہاں زندگی انکی کہانیوں میں سانس لیتی نظرآتی ہے ۔ ان کے افسانوں کی فضا جہاں تہذیبی مظاہر کو عمدگی سے برتتی ہے وہیں مقامی فضا اور اردگرد کے ماحول کو نئی معنویت کے ساتھ استعمال کرتی دکھائی دیتی ہے ۔ جہاں وہ شخصی اور اجتماعی لاشعور، معاشرتی صورت حال، سیاسی منظرنامے اور زندگی کے دوسرے مسائل اور وارداتوں کے بیان کی متنوع صورتیں پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
عالمگیر پیمانے پر فکرکے مضبوط دھارے موجودہ معاشی نظام پر اپنی تنقیدی گرفت کو مستحکم کرتےدکھائی دیتے ہیں ۔ کیپٹلزم کے منفی اثرات،جس کے نتیجے میں سماج کی دگرگوں حالت، ثقافتی اکھاڑپچھاڑ اور شہری صارفیت پسند نفسیات نے ادبی منظر نامے کو یکسر تبدیل کرکے رکھدیا ہے ۔ وہیں اس صورتحال میں حساس قلمکار استعماریت اور اسکی پروردہ قوتوں کو علامتی حصار میں لیکر کاونٹر کررہا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ادب میں استعماریت، جبرو استبداد، کے خلاف ایک سرد جنگ جاری ہے ۔ جسکے علامتی محاذوں پر نظریاتی دانشوروں کا پہرہ ہے۔ نعیم بیگ اس سرد جنگ میں اپنی فکری قوتوں اور شعوری امکانات کے ساتھ ڈٹے دکھائی دیتے ہیں ۔ ادب کا یہ نڈر سپاہی نا صرف میدان ادب میں جانفشانی سے لڑرہا ہے بلکہ ایک ایسی نظریاتی فورس کو بھی تربیت دے رہا ہے جو سماجی برائیوں کے خلاف سینہ سپر ہوکر لڑنے کا عزم رکھتی ہے ۔
مذکورہ کتاب نعیم بیگ کے ایسے ہی فکری رجحانات کا اظہار ہے جو ادبی خودمختاری اور جمہوری ادب کا حسن ہے ۔ "پیچھا کرتی آوازیں" نعیم بیگ صاحب کے علمی اور ادبی تجربوں سے حاصل کردہ نتائج کو اخذ اور انکے ماخذ کو سمجھنے میں ناصرف ذہنی وسعت کا باعث ہے بلکہ یہ ان تجربات کی روشنی میں ظہور پذیر کامیابیوں کودیگر سماجی اکائیوں میں بھی خوبصورتی سے منتقل کررہی ہیں۔
آج کی پوری معاشیات پراستعماری قوتوں کا قبضہ ہے۔ سرِ دست ان قوتوں کے زہرناک شکنجوں سے پوری انسانیت کو آزاد کرانا محال نظر آتا ہے اور دنیا میں کسی درجہ میں کوئی اجتماعی کوشش بھی نہیں دکھائی دیتی۔ مگر ایسے میں عالمگیر ادب جاگ رہا ہے جو اس نظام کی فراست کے آگے ایک بند باندھنے کی پوزیشن میں ہے ۔ نعیم بیگ صاحب کی بیشتر کہانیوں کے تانے بانے اسی نظام کی خرابیوں کو طشت ازبام کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ نعیم بیگ نے بہترین ادب کی ترجمانی کرتے ہوئے اس بات کے ثبوت فراہم کردیے ہیں کہ استعماریت کی گہری سیاہ رات میں بھی کاونٹر نیریٹیوسوچ اپنی پوری قوت کے ساتھ جاگ رہی ہے ۔
ایک سچا ادیب اپنے ماحول اور ملک کی حقیقی صورتحال کا آئینہ ہوتا ہے ۔ نعیم بیگ صاحب کی حب الوطنی ان کی کہانیوں میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔ انکی دوررس نگاہیں اپنے مخصوص ادب میں جن پیشنگوئیوں کا ذکر کررہی ہیں وہ قابل توجہ ہیں ۔ نعیم بیگ کے دلوں کو چھولینے والے موضوعات، انکی سیاسی فہم اور تدبر، اور ادبی فلسفیانہ روایات کے روشن پہلو میری اور تمام قارئین ادب کی سوچوں کو مہمیز کرتے رہیںگے ۔
امن، محبت، سلامتی، علاقائی اور بین الاقوامی دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور انکے کالمز کے محور ہیں ۔ وہ ادب میں اعلی قدروں کے ترجمان ہیں اسی لیئے عالمی افق پر انکی ادبی سماجی اور سیاسی خدمات کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ۔
" پیچھا کرتیں آوازیں " پسے ہوئے پرولتاری طبقے کی آہوں سسکیوں کی بازگشت ہے جسکی صدا پر نعیم بیگ کا قلم لبیک کہہ رہا ہے ۔۔۔

سید صداقت حسین ۔ کراچی
۴ اپریل، ۲۰۱۶

1 comment:

  1. شکریہ صداقت حسین ... تم جیسے صحافی ملک کی ان و شان ہیں ....

    ReplyDelete