بولتے مجسمے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیچ میں صرف ہارڈ بورڈ کی دیوار تھی اسی لئے ساتھ والے کمرے سے مسہری کی ردھم میں ہلنے کی چرچراہٹ ، اکھڑے سانس، حلق سے بلند ہوتی جنسی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں۔
ان آوازوں سے بچنے کے لئے اُنہوں نے میوزک بھی لگا رکھا تھا لیکن اُن کے فحش جملے مجھے اور نینی کو پوری طرح سمجھ آ رہے تھے۔
میں نے نینی سے کہا ’’ تم جانتی ہو وہاں کیا کام ہو رہا ہے ۔۔۔ ہم پیار کر رہے ہیں اور وہ لوگ وحشی جنسی لذت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔‘‘
’’ لطف اندوز ہو رہے ہیں یا بار خاطِراور کارِگراں سمجھ رہے ہیں ؟ ‘‘ نینی بول اٹھی ’’ لذتِ وحشت میں ہنگامہ امرت ہے،لیکن ہمارے ہنی مون کے پروسنا میں اتنا شور تو نہ ہونا چاہیئے۔ ‘‘
’’ہم بھی تو آخر اس وقت یہی کام کر رہے ہیں لیکن ہماری سرگوشیاں تو ہمارے فرشتے بھی نہیں سن سکتے۔‘‘ میں نے لقمہ دیا۔
اگلے دن صبح ہمارے میزبانوں کے چہرے سُتے ہوئے تھے آج انہیں بینک کی قسط جمع کرانی تھی اور کپڑے لانڈری کرنا تھے۔ بلڈنگ میں ہر فلیٹ کو ایک دن لانڈری کا میسر تھا۔انہوں نے ہماری پارٹیشن والے حصے میں ایک چٹ دروازے سے اندر بھجوا دی تھی جس پر یہ تفصیل لکھی تھی۔
جب ہم ناشتہ کرنے بلڈنگ کے رستوران میں گئے تو راستے میں لانڈری روم دیکھا۔ ہمارے میزبان ہاتھوں میں کپڑے اٹھائے صابن نہ ہونے کی وجہ سے کسی دوست کا انتظار کر رہے تھے جن کے پاس صابن ہوتا۔
دونوں کسی گہری فکر میں ڈوبے سر جھکائے بولتے مجسموں کے انتظار میں خاموش کھڑے تھے۔
(خیال ماخوذ ’مائی تھری ویز از چارلس ریفرٹی ‘ مائیکروفکشن منڈے میگزین شمارہ دسمبر ۲۰۱۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ
لاہور پاکستان
جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ
16th Feb, 2016
No comments:
Post a Comment