Wednesday, February 10, 2016

انتظار حسین ۔۔۔۔صاحب طرز ادیب اوروضع دار انسان


کالم ’’روزنِ تاباں‘‘ از نعیم بیگ 
انتظار حسین ۔۔۔۔صاحب طرز ادیب اوروضع دار انسان
........................................................................
انتظار حسین اب ہم میں نہیں رہے لیکن ان کے سینکڑوں کالم ، تصانیف ناول ، افسانے خود نوشت اردو ادب کے شیدائیوں کو صدیوں تک انہیں یاد رکھنے کا سامان مہیا کر گئے ہیں ۔ اردو ادب میں انکا طرزِ نگارش اپنے اسلوبیاتی رنگوں سے مزیں کہیں داستانوں میں کھو جاتا ہے اور کہیں بدلتے لہجے کے ساتھ عصری تقاضوں کی علامت میں غوطہ زن ہے۔ یہی اسلوبیاتی تنوع ان کی پہچان بنا۔ ان کی تحاریر میں حیرت کا سامان ہے تو کہیں سنجیدہ قاری کے پاؤں اکھیڑ دیتا ہے۔ فینٹیسی سے ربط ، پرانی اقدار کے بکھرنے کا دکھ اور نوسٹیلجک کلاسیک کا ایک ریلا ہے جو انکے ناولوں اور افسانوں میں بہتا چلا جاتا ہے ۔ علامتیں اور استعاراتی اسلوب کے نِت نئے ڈھنگ انکی شان ہیں۔ اردو افسانے کی صنف انہیں دیر تک یاد رکھے گی کہ انہوں نے افسانہ لکھتے ہوئے قدیم نثری اسالیب سے استفادہ کیا اور جدید انداز میں عصری موضوعات پر اعلیٰ ادب تخلیق کیا۔ اِن مختصر سے لمحوں میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک صاحبِ طرز ادیب تھے جو بلا عنوان و نام ، اپنی تحاریر سے پہچانے جا تے تھے۔ 
انتظار حسین ایک خوبصورت انسان تھے۔ انکی پوری زندگی انہی صحافیانہ اور ادیبانہ قیامت خیزیوں میں گزری جن سے پچاس سے نوے کی دھائی تک میں رہنے میں تمام دانشوروں اور ادیبوں نے سامنا کیا۔ ۔۔۔ ان کی خودنوشت بائیو گرافی ’’ چراغوں کا دھواں ‘‘ انکے پچاس برسوں کی زندگی کا نچوڑ ہیں اور خوبصورت بات یہ ہے کہ انہوں نے اس سوانح عمری کو بھی افسانوی اسلوب دیا۔ 
انڈیا سے پاکستان کے سفر سے کافی ہاوس، ٹی ہاوس تک اور پھر مارشل لاٗ سے حلقہ اربابِ ذوق تک داستانیں اسی سوانح میں رقم ہیں۔ ان کی اس کہانی میں انتظار حسین ایک خوبصورت دل رکھنے والے انسان نظر آتے ہیں ۔ اپنی یادوں میں انیس سو سنتالیس کو رقم کرتے ہوئے لنڈے بازار سے کمبلوں کی خریداری ، حسن عسکری کی دوستی و رفاقت ، مہاجروں کی آمد اور لاہور میں اپنے پہلے مہمان کی آمد کے ذکر سے قاری جان جاتا ہے کہ وہ کس قدر انمول دل اپنے اندر رکھتے تھے۔ 
میرا ان سے تعارف ستر کی دھائی کی ابتدا میں کالج یونیورسٹی کے زمانے میں انکی کتب اور اخباری کالموں سے ہو ا ، ملک سے باہر رہنے کی وجہ سے انکی تحاریر آن لائن پڑھتا تھا۔زندگی کی پہلی ملاقات دو سال پہلے ان سے یہیں ہوئی۔ اسی اکیڈمی کے دفتر میں جب ستیہ پال آنند کی آمد پر ان سے بالمشافہ ملاقات ہوئی تو انکی نرم روئی و خلوص، استقامت اور عزم دیکھ کر میرے دل میں انکی عزت و محبت کئی ایک گنا بڑھ گئی۔ 
وہ اردو ادب کا عالمی سرمایہ تو ہیں ہی لیکن لاہور کی ادبی محفلیں اور گلیاں انہیں برسوں نہ بھُلا سکیں گی۔ خدا انہیں غریقِ رحمت کرے ۔ 
شکریہ
اکیڈمی آف لیٹرز لاہور کے تعزیتی ریفرنس میں۹ فروری۲۰۱۶ کو پڑھا گیا ۔

No comments:

Post a Comment