۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کی تاریکی چھا چکی تھی۔ کیمپ کے کچے گھر کے ایک کونے میں بیٹھے بچے کبھی کھسر پھسر کرتے ، کبھی آپس میں لڑ پڑتے اور پھر ہنسنے کی آوازیں آتیں ۔بچوں کے مسلسل ہنسنے اور رونے کی ملی جلی آوازوں نے ماں کو زچ کر دیا تھا لیکن وہ کیا کرتی۔ آج بچوں کا باپ ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔
تب جنگی سائرن کی اوپر نیچے ہوتی گونج نے بچوں کو سہما دیا۔ماں انہیں کئی دنوں سے بتا رہی تھی کہ جب سائرن اس طرح بجتا ہے تو دشمن کے جہاز اوپر سے بم برساتے ہیں۔
بچے خاموش ہو چکے تھے لیکن چھ سالہ مرجان اندھیرے میں ناجانے کب باہر نکل گیا ،کسی کو معلوم نہ ہو سکا۔
قریب میں جب بم گرنے کی آواز آئی تو بچے ماں سے لپٹ گئے۔ماں نے دیکھا مرجان غائب تھا۔وہ تڑپ کر گھر سے باہر نکلی اور دیوانہ وار مرجان کو ڈھونڈنے لگی ۔
بم مسلسل گر رہے تھے اور آسمان زمین پر جلتے ہوئے انسانوں کے شعلوں سے روشن ہو چکا تھا کہ ماں نے دیکھا مرجان کوڑے کے ڈھیر کے قریب بیٹھا کچھ کھا رہا تھا اور اسکی نظریں روشن آسمان کی طرف تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ
لاہور پاکستان
جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ
16th Feb, 2016
No comments:
Post a Comment