Monday, October 19, 2015

روزنِ تاباں ۔کالم از نعیم بیگ






آج حقیقی طورپر دنیا میں بسنے والے کسی بھی فری تھنکر اور انسان پرست معاشرے میں مذہبی روایات کو ایک حد تک


کسی شہری کا ذاتی اثاثہ سمجھتے ہوئے اس میں مداخلت نہیں کی جاتی ہے۔ مذاہب کی پریچنگ ایک حد تک انسانی معاشروں میں قانون کی پابندیوں میں جکڑ دی گئی ہے ۔ ہاں ان عقائد کی انجام دہی کے لئے مکمل آزادی ہے لیکن اُسی چاردیواری کے اندر جو کسی بھی چرچ ، مسجد ، گوردوارا یا اشرم کی تعریف پر اترتی ہے۔ 
لیکن اب ہندوستان میں پیدا ہونے والی نئی سماجی و سیاسی ہندو ذہنیت اپنے اساطیری مذہبی روایات کی آڑ میں ایک نئی جنگ کا سامان مہیا کر رہی ہے۔ ایک طرف آر ایس ایس اپنی سرگرمیاں بڑھا چکی ہے ۔ کسی مسلمان ہندوستانی کو ممبئی یا مہارشٹرا میں کہیں بھی جائیداد نہیں خریدنے دی جاتی۔ جب میرے گزشتہ ممبئی کے دورے میں یہ صورت سامنے آئی اور بعد ازاں معروف اداکارہ شبانہ آعظمی کا بیان میڈیا میں آیا تو یہی سمجھا گیا کہ شاید کسی ذاتی شاخسانہ کی پیداوار ہے۔۔۔ ان دنوں شاید کانگرس بر سرِ اقتدار تھی تو کسی حد تک انکے سیاسی مینوفسٹو میں (گو مبینہ طور پر ہی سہی ) سیکولر ازم کی بات کہی جاتی تھی ، کم از کم عالمی سطح پر تو انکی کامیابی تھی کہ وہ اس کے حقیقی نتائج کی پروا کئے بغیر سیکولرازم کے پرچار میں مخلص تھے۔ 
تاہم بدلتی صورت حال میں گذشتہ چند دنوں کے اندر اندر مسلمانوں اور کرسچئینز کی آبادیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ برسرِ اقتدار پارٹی اور مودی کے حقیقی جانشین اس حد تک اتر آئے ہیں کہ انہوں نے اسمبلیوں میں یہ قرار داد پیش کر دی ہے کہ گائے کے ذبیحہ پر پھانسی کی سزا دی جائے۔۔۔۔ بی جے پی کے ایک متنازع رکن اسمبلی سکشی مہاراج نے اپنے ایک انٹرویو میں اس قانون کو بنائے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دوسری طرف بی جے پی نے ان ارکان اسمبلیوں کو جس میں دس ارکان لوک سبھا اور تین ارکان راجیہ سبھا شامل ہیں کو نوٹس دے دیا ہے کہ انہوں نے یہ کیوں کہا کہ ہندوستانی مسلمان پاکستان چلے جائیں۔
دیکھنا ہے کہ کیا ان ارکان اسمبلیوں کو اشیر آباد بھی وہیں سے حاصل ہے جہاں سے انہیں نوٹس دیا گیا ہے۔ 
ہندوستان کے سیاسی و مذہبی نیتاؤں کی ذہنی پسماندگی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ دو روز پہلے تک ہندوستان کے کئی ایک معروف اردو ادیب و شعرا نے حکومتی سطح پر مذہبی جنیونیت کو ہوا دینے اور ہندو دھشت گردی میں ملوث سیاسی و مذہبی ورکرز کو کسی بھی قانونی سزا دینے کی بجائے انہیں الٹا سراھے جانے کی بنیاد پر حکومتی ساھتیہ ایوارڈ واپس کر رہے ہیں۔
معروف شاعر منور رانا نے چند روز پہلے یہ ایوارڈ دانستہ حکومتی خاموشی پر نہ صرف یہ ایوارڈ واپس کیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ملنے والی ایک لاکھ کی رقم بھی حکومت کو واپس کر دی ہے ۔ یاد رہے کہ انہوں نے اس ایوارڈ کو واپس کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ انہوں نے یہ ایوارڈ خود کو پاکستانی کہے جانے پر احتجاج کیا ہے ۔ انہہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ملک کی صورت حال سے پریشانی اور دکھ کا شکار ہیں ۔ منور رانا نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا میں ہندوستانی ہوں لیکن مجھے پاکستانی کہا جاتا ہے مسلمانوں کو داود ابراہیم سے جوڑا جاتا ہے۔ 
دیکھنا ہے کہ اب تک وہ کونسی وجہ ہے جس کی بنیاد پر اردو ادب و دیگر زبانوں کے جئید و معروف ادیب و شعرا جن کی تعداد چونتیس تک جا پہنچی ہے ساھتیہ ایوارڈ بطور احتجاج واپس کر چکے ہیں۔ 
میرا خیال ہے کہ ہندوستان کی سیاسی و مذہبی نیتاؤں کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ حالات قابو سے باہر نکل جائیں اور دھشت گردی کا جن اگر بوتل سے ایک بار باہر نکل آیا تو اسے سنبھالنے کے لئے کئی ایک جنموں کی ضرورت ہوگی۔۔۔ ہندوستان کو علاقہ میں ہونے والی دیگر دھشت گردی کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور اپنے ہمسایہ ملکوں کا ساتھ دینا چاہیئےایسا نہ ہوکہ       ہندوستان میں کئی ایک نئے بٹوارے جنم لے لیں۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ لاہور پاکستان
انیس اکتوبر ۲۰۱۵
جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ

No comments:

Post a Comment