تلاش
.....................
میں قلم ہاتھ میں لئے بیٹھا سوچ رہا ہوں
کہ کیا لکھوں ؟
وہ لکھوں جو وہ چاہتے ہیں،
یا وہ لکھوں،
جو میرے دیدہِ بینا کا منظر ہے
دل کے گپ اندھیر نہاں خانہ میں لہو کی ندیاں دیکھوں
اور لکھ ڈالوں
یا پھرڈَھلتے سروں میں تال میل کی نئی راگنی چھیڑوں؟
لیکن مجھے لگتا ہے کہ میرے اندر کا قلمکار
شاید مر چکا ہے
اسکا تیکھا پن ڈھل چکا ہے
دکھوں میں جِلا نشتر ،جو چلتا تھا کبھی
اب کہیں دور محوِ حیرت ہے
یہ سب کچھ کیسے ہوا؟
تم تو بہت اِتراتے تھے
مجھ پر مان کرتے تھے
یہ بے حسی کیونکر آئی؟
وحشت تم پہ یہ کیسی چھائی؟
کیوں لفظ تم سے ناراض ہوئے؟
کیوں حرف تم سے دور ہوئے؟
کیوں دیکھ دیکھ کر رویا دل؟
کیوں شب کی تاریکی بیدار ہوئی؟
گمان تو تھا بچھڑنے کا،
پر آس بھی تو ساتھ ہی تھی
تتلیوں کی چاہت کا وہ کچا رنگ
خوشبوؤں کا وہ پھیکا پن
غم شناسی اور اسیری آخرتمیں لے ڈوبی۔
دردِ ہجراں اور دیواروں کے خَم
چُن گئے تم کو دیوار میں
سوکہہ دو انہیں، اب میری خاک پہ
چراغ جلا دئیے جائیں گے
آس کے سائبان،
اور احساسِ تمنا سے لبریز یہ خُم
فضائے کوچہِ پیغمبراں سے نکلے ہوئے
یہ پھول، رنگ اور پرندے
اب صرف میری تربت پر ہی ملیں گے۔
اور وہیں سے کاروانِ حیات چلے گا
کہ کلیاں پھوٹ پڑی ہیں اب وہاں،
کہہ دو ،کہ قافلے اب رکیں گے نہیں
وہ شمعیں ہزاروں جو جل اٹھی ہیں
اب بجھیں گی نہیں
کہ فطرت بوجھل روحوں کومعبدوں میں تلاش نہیں کرتی ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ ۔ لاہور پاکستان
۳۱ اگست ۲۰۱۵

No comments:
Post a Comment