Saturday, September 26, 2015

سہ ماہی ثالث۔ مونگر بہار انڈیا۔ تکمیل کا پہلا سال





اکیسویں صدی کی دوسری دہائی ہندوستان کے فکری افق پر نئے ، اجنبی اور پیچیدا سوالات لے کر ابھری۔ ملکی اور علاقائی 
سیاست اور کثافتوں نے ہمیں خوابوں اور نعروں کی دنیا سے نکال کر ایک سنگین دنیا میں لاکھڑا کر دیا۔ جس میں ماضی کا حیرت کُن کوئی بھی خواب اور نظریہ سکون کا باعث نہ بن سکا۔ اسی اثنا میں بیسویں صدی کے وسط میں یورپی اقوام کی نظر عالمی منظر پر دو عظیم جنگوں کے دوران کروڑوں انسانوں کا خون بہا کر ایشیاٗ کی جانب مبذول ہو چکی تھی۔ نتیجتاً کالونیئلزم کا اختتام دوابھرتی ہوئی نئی طاقتوں کے اختلاف کی بنیاد پرعالمِ وجود میں ظہور پذیر ہو ا جسے بعد ازاں سرد جنگ کا نام دیا گیا۔ اسی پسِ منظر میں سامراجیت نے ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کا قیام اور دوسری طرف ہندوستان کے عظیم سیاسی سپوتوں کو آپس میں مذہب کی بنیاد پر ایک نئی کروٹ لیتی فکری سطح پر پہنچا دیا جہاں ایک طرف گاندھی اور اقبال کا خواب اور دوسری طرف امپرئیلسٹ سامراجیت کی ٹھوکروں میں ہندوستان کا بٹوارہ ہو گیا ۔ 
 اس بٹوارے کے نتیجہ میں درماندہ مزدور اور سراسِیمہ کسان کی محنت ایسے مکروہ اجاراہ داروں کی بھینٹ چڑ گئی جنہوں نے موجِ کوثر کو بھی زہراب بنا دیا۔ اور سچ پوچھیئے تو تاریکی کا ایک اور نیا دور شروع ہو گیا۔ آزادیِ فکر و خیال صرف ذہنوں میں گونجتی رہی اور لبوں پر آئی بھی تو ہونٹ ہی کاٹ دئیے گئے۔ الہامی کتابوں سے مرتب کردہ نظام حکومت کے چولے میں جمہوری آمریت نے سڑکوں پر بچوں کے لہو سے آبیاری کی اور پھر وہی کاٹا گیا جو بویا گیا تھا۔
 برصغیر سے نکلتی مرجھاتی ہوئی عالمی سامراجیت نے ہندوستان کی سرحدوں اور وسائیل کی عدمِ انصاف کی بنیادوں پر کی گئی تقسیم نے فوری طور پر ایک ایسی فضا قائم کردی کہ سرحدوں کے ایک طرف سیاست کی باندی ایک مخصوص جمہوری قوت کے ہاتھ چڑھ گئی اور دوسری طرف مذہبی آلودگی نے بالآخر مملکت کے پہلے سالوں میں ہی اسے فوجی آمریت کے حوالے کر دیا۔ دوسرے لفظوں میں عظیم اجالا جو ہندوستان کی قسمت میں شفق کی لالی کے طور پر ابھر رہا تھا اسے ایک بار پھر آمریت کے تاریک بادلوں کی اوٹ میں ڈھک دیا گیا۔
 ایسی صورت حال میں اقبال دنیا سے پہلے ہی رخصت ہو چکے تھے۔ مہاتما گاندھی کو ان کے آدرش اور عدمِ تشدد کی بنیادوں پر موت کی آغوش میں ڈال دیا گیا۔ جناح اپنی طویل بیماری کے ہاتھوں چل بسے ۔ ان بڑے سیاسی قدآور شخصیتوں کی عدم موجودگی میں ادبی ماحول بھی کسی طور پر سیاست میں ملوث ہو چکا تھا۔پریم چند اور رابندر ناتھ ٹیگور تقسیم ہندوستان سے پہلے ہی چل بسے تھے۔ منٹو ، فیض، قراۃ العین پاکستان چلے آئے اور پھر قراۃ العین جلدی واپس چلی گئیں۔عصمت چغتائی اور بیدی نے ہندوستان میں رہنے کو ترجیح دی۔ اور پھر کئی ایک دھائیاں اردو ادب پر گہرے بادل چھائے رہے اور ادبی سرگرمیاں ترقی پسندوں اور غیر ترقی پسندوں کے اپنے اپنے دائروں میں تقسیم در تقسیم ہوتی گئیں۔ اردو ادب کا عروج اور اسکا مقام جسے ہم تقسیم سے پہلے کہیں آکاش کی بلندیوں پر دیکھتے تھے رجعت پسندی کا شکار ہوگیا۔ فیض پر مقدمے بنا دیئے گئے۔ جوش شجرِ ممنوعہ قرار دے دیئے گئے۔ ایسے میں علامت کا اظہار ادب کی نیرنگئی خیال کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ 
 اردو زبان اپنے مزاج میں جہاں فارسی ، عربی اور ہندی کے حسین امتزاج کا مُرقّع تھی وہیں اسکی نشونما میں ترقی پسندی اور جدیدیت نے ایک ڈھال کا کام کیا اور رجعت پسندی کی ان اداؤں سے مرعوب نہ ہوئی اور دیگر عالمی زبانوں کی آمد اسکی ارتقائی جسامت کا جزولاینفک بنی۔ ایسے میں بیسویں اور اکسیوں صدی میں اردو ادبی جرائد اپنے حصے کی شمع جلاتے رہے۔ ’فنون ‘ و ’اوراق‘ اپنی قنادیل کی روشنی دور دور تک پھیلا رہے تھے۔’نقوش ‘ اور ’ادبِ لطیف ‘ اپنی صداقتوں پر قائم تھے۔ ’سیپ ‘ ، ’ اجمال ‘ اور ’ اجر اٗ ‘ اردو ادب کی خدمت میں درپیش مسائل کا ادراک رکھتے تھے اسی طرح ہندوستان میں بھی ادبی جرائد کی کہکشاں میں بیسیوں رسالے علیگڑھ ، بہار ، دہلی اور دیگر علاقوں سے اپنے اپنے طور پر اردو ادب کی خدمت پر مامور تو تھے لیکن فضا کچھ ایسی بن چکی تھی جہاں ابھرتے ہوئے عالمی ادبی و ثقافتی رحجانات اپنی نئی دنیا بسانے کے خیال کو ایک خواب کی مانند اپنی آنکھوں میں سجائے اپنی تعبیر کی تلاش میں تھے۔ 
 اسی پسِ منظر میں ڈاکٹر اقبال حسن آزاد سامنے آتے ہیں۔ اپنی فکری و علمی تفہیم کی خالص ادبی فضا میں جدید عہد کی متلون اور وحشی سوچ اور فکرِ جدید کے لاینحل مسائل کو لطافت اور جمالیات کی قبا سے مزیں کرتے ہوئے’ ثالث ‘ کو جنم دیتے ہیں جہاں انہوں نے اپنی شعری حسیات کی بدولت ایسے ادیبوں اور شاعروں کی تحریروں کو ثالث کے اندر سمو کر ایک نئی دنیا آباد کرلی۔ ثالث کا جمالیاتی شعور اور ادب سے رومانوی رشتہ اسکے قارئین کو اردو ادب کی کائنات میں پھیلی ہوئی مسحور کن لطافت سے روشناس کرتا ہے جسے انسانی خمیر میں گندھے ہوئے ادب کو قاری اپنے اندر مقید کر لیتا ہے۔ 
 میں ثالث کا روز اول سے قاری ہوں جہاں ثالث اکتوبر ۲۰۱۳ سے اپنی اشاعت کا اہتمام کر رہا ہے وہیں اس نے اپنے معیار کو لمحہ بھر کے لیئے اپنے دیگر انتظامی اور مالی مسائل کا شکار نہ ہونے دیا بلکہ اس ڈیجیٹل دور میں ادبی جرائد پر چھائی اس تیز تر ترقیِ معکوس کے اثرات کو منعکس کر دیا۔ 
 ثالث کے روز اول کے شمارے سے موجودہ شمارے تک جہاں انہوں نے دنیائے ادب کے عالمی ادیبوں کو جن میں مشرف عالم ذوقی سے شفیق احمد شفیق ، پیغام آفاقی سے فرخ ندیم جیسے جیئد ادیبوں اور نقاد وں سے مہمان اداریئے کو سجایا وہیں پروفیسر مظفر حنفی ، ڈاکٹر پیر نصیر احمد ، محمد علیم اللہ ، نسیم سید ، یونس خان اور راقم کے مضامین سے ایک نئی فضا پیدا کی۔ اردو ادب میں افسانہ ایک ایسی ادبی صنف میں شمار ہوتا ہے جہاں نثر پاروں کی دنیا کو معروف افسانہ نگاروں نے بیسویں صدی کے وسط میں بامِ عروج تک پہنچایا۔ یہی وجہ رہی کہ افسانہ آج بھی اردو ادب میں بلند ترین درجہ پر فائز ہے۔ بقول کرشن چندر ’’ افسانہ نگار ایک حسن کار کے طور پر بنیادی فلسفہ یا بنیادی تبدیلی کا خالق نہیں ہوتا لیکن اسکا شارع اور مرتب ضرور ہوتا ہے۔ وہ اپنے عمل کا مواد سماج سے، سائنس سے اور اپنے اردگرد کے ماحول سے ضرور لیتا ہے۔ پھر اسے اپنے ذہن کے کرگھے پر چڑھا کر اس میں ایک نئے حسن اور ایک نئے ڈیزائن کا رنگ بھرتا ہے۔ اس طرح سے حقیقت کے بہت سے گوشے جو اب تک قاری کی نظر سے اوجھل تھے اس کے سامنے آ جاتے ہیں۔ اگر وہ پہلے ان سے متاثر نہیں تھا تو اب متاثر ہو جاتا ہے۔ عمرانیات اور انسانیت کی دنیا میں آج کا افسانہ سب سے بڑا کنٹریبیوشن ہے ‘‘ ( اقتباس از انٹرویو امیر عارفی )
ثالث کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اُس نے اردو افسانوں اور شاعری کی اصناف میں عدیم الفرصت اساتذہ کرام ، ادیبوں اور شعرا کی نگارشات شامل کیں ۔ جب ہم ثالث اول کے شمارے کا بغور جائزہ لیتے ہیں تو یہاں اقبال حسن آزاد نے افسانوں کی ایسی سحر انگیز دنیا سجائی ہے کہ جس کی بھول بھلیوں سے قاری نکل ہی نہیں پاتا ہے۔ جیرے کی روانگی از علی اکبر ناطق سے پانچ روپیہ کا متروک نوٹ از محمدحامد سراج ،منزل از عامر ابراہیم ، پکڑ از وحید احمد قمر ، شبانہ کا شوہر از نورالعین ساحرہ اور راقم کے افسانے یو ڈیم سالا سے عبدل کی قسمت از فرخ ندیم تک کے افسانے آج کے دور کے اسلوب و بیانیہ کو لیئے ہوئے اپنے عہد سے انحراف کرتے نظر آتے ہیں۔ ان افسانوں کی متنوع موضوعات عہدِ حاضر کی علامت کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
 بین ہی ثالث دوئم میں ڈھکنے از اقبال حسن خان سے تین انچ کا سورما از قاضی طاہر حیدر ،افواہ از ابرار مجیب ، بے درماں سلمیٰ جیلانی ، بوڑھا اور سمندر از طلعت زہرا ، موت کا دوسرا رخ از زین سالک ، برزخ از ثنا غوری اور گڑ کی ڈلی از امین بھایانی ، کھیل از فرحین جمال سے انجام کار از نوشابہ خاتون تک کے افسانے اپنی انفرادیت اورآنے والے دنوں کی بشارتوں کو اپنے جلو میں لیئے دیومالائی کرداروں سے آراستہ اپنے جمالیاتی اور افادی علامتی اسلوب سے قاری کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں۔ 
 ابھی قاری ثالث اول و دوئم کے افسانوی سحر سے آزاد نہیں ہوا تھا کہ اقبال حسن آزاد ایک اور دھوم مچاتی ا فسانوی فہرست لئے سامنے چلے آتے ہیں ۔ یونین کونسل از محمد حامد سراج سے الہ دین کی چارپائی از علی اکبر تاطق ، ابوپاری از ڈاکٹر نگہت نسیم ، کہنی کی چوٹ از دلشاد نسیم ، مامتا از وحید احمد قمر ، نرتکی از شاہین کاظمی ، یاجوج ماجوج از ڈاکٹر افشاں ملک اور کینچوا از سبین علی سے طاہرہ سنو ! از سیمین کرن تک کے افسانے خواتین افسانہ نگاروں کے قلم کا نقارہ بجاتے قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اس ضمن میں مجھے ثالث کے مدیر ثالث آفاق صالح کو بھی یہ کریڈٹ دیناہے جن کی بدولت ہم سب ( یہاں ہم سب سے مراد اردو ادب کے وہ متوالے جو دنیا بھر میں بیک وقت انٹر نیٹ اور پرنٹ میڈیا کا ادراک رکھتے ہیں ) پوری دنیا میں اردو ادب کی ان اساتذہ کرام کے شعری و نثری ادب پاروں سے روشناس ہوتے ہیں جو عمومی طور پر عصر حاضر میں زمانے کی گوناں گوں مصروفیات سے پرے گوشہ عافیت میں اردو ادب کی خاموش خدمت کر رہے ہیں۔ 
 میں ابھی ثالث سوئم کی فسوں کار کتابی سلسلے سے نبردآزما تھا کہ ثالث چہارم اپنے خوبصورت سرورق کے ساتھ آن دھمکا۔ زندہ اور متحرک ادب کا ترجمان اس بار کچھ نئی طرز سے ادبی اصناف سے آراستہ تھا۔ جہاں ثالث ریپوتاژ ، تبصروں ، مکتوبات اور وفیات سے مزیں تھا وہیں خصوصی طور پر فرخ ندیم کے تحریر کردہ مہمان اداریہ نے ایک دھوم مچا دی۔ گو غزلیات اور نظم سے آراستہ تو گزشتہ شمارے بھی تھے لیکن اس بار سید انور جاوید ہاشمی کی حمد باری تعالیٰ اور نعتِ رسولِ مقبول نے روح کی گہرایوں تک چھو لیا۔ غزلیات بھی بہت عمدہ رہیں پٹنہ کے ظفر صدیقی، مونگر سے راشد طراز اور نوید رزاق بٹ دیگر شعرا میں نمایاں رہے۔ اسی طرح سمین درانی کی نظم اژدھے نے خوب سماں باندھا۔ 
 جب میری نظر افسانوں پر پڑتی ہے تو افسانہ نگاروں کے اسماٗ گرامی پڑھ کر روح تک سرشار ہو جاتی ہے۔ ابنِ آس سے سید گلزار حسین ، شاھد جمیل ، قمر سبزواری اور ارشد علی جیسے نابغہ روزگار لکھاریوں کے جب افسانے پڑھتا ہوں تو بلاشبہ عہدِ حاضر کا افسانہ مجھے توانا اور دلکش نظر آتا ہے ۔ یہی شائید وجہ رہی ہوگی کہ اس بار عالمی افسانہ میلہ میں ایک صد بیالیس افسانے قارئین کی خدمت میں پیش ہوئے جن میں بیشتر افسانے روحانی بالیدگی کے ساتھ ساتھ ادبی حظ کی بلند ترین سطح پر رہے۔ 
 مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ فی الوقت ثالث ہندوستان کے چند معروف ادبی جرائد میں سرِ فہرست ہے اور اقبال حسن آزاد کی مدبرانہ ادارت میں ثالث ہندوستان کے علاوہ یہاں پاکستان بھر میں اور عالمی طور پر اپنے نام اور ادبی کام کو ایک پہچان کے طور پر سامنے لے کے آیاہے۔ اب جبکے آ نے والا نیا شمارہ انکے ادبی سفر کے دوسرے سال میں داخل ہو رہا ہے میں اردو ادب کی ترقی و ترویج میں اسکے کردار کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 نعیم بیگ لاہور پاکستان ۔ جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ
  








No comments:

Post a Comment