Friday, August 28, 2015

ایٹمی تجربات کے خلاف عالمی دن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۹ اگست ۲۰۱۵

ایٹمی تجربات کے خلاف عالمی دن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
29th August, 2015












آج پوری دنیا میں ایٹم بم ، انکے دھماکوں اور تجربات کے خلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس عالمی دن کی اہمیت عالمی 
سطح پر امن کے فروغ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں بدامنی اور جنگ و جدل اور ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے اقدامات اٹھانا بھی ہیں۔
بیسویں صدی کے وسط  میں سولہ جولائی انیس سو پینتالیس کو ایٹمی ہتھیار کا جب پہلا ٹسٹ کیا گیا وہیں پر انسانیت سوزی ایک ایسا عمل شروع ہوگیا جس نے چند دنوں کے بعد چھ اگست انیس سو پینتالیس کو ہیروشیما میں لاکھوں انسانوں کو نگل لیا۔  یوں انسانیت کی بدقسمتی کا دن ۲۹ اگست انیس سو پینتالیس ہی پایا گیا جب اس  شیطانی ہتھیار نے پوری دنیا پر قابو پا لیا۔

یہی وہ بدقسمت دن تھا جہاں سے عالمی طاقتوں نے اس ہتھیار کو اپنا کر پوری دنیا کا امن و سکون برباد کر دیا جبکہ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ ان ایٹمی ہتھیاروں سے امن قائم ہو گیا ہے اور اب یہ صورتِ حال ہے کہ عالمگیریت نہ صرف ان ہتھیاروں کو تلف کر دینے کا ارادہ نہیں رکھتی ہیں بلکہ وہ ایک دوسرے پر سبقت حاصل کر لینے کی جد و جہد میں مصروف ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت عالمی طور پر پوری دنیا کے نیوکلیئر ہتھیاروں کا نوے فیصد حصہ صرف دو عالمی طاقتیں اپنے پاس رکھتی ہیں۔ ان ہتھیاروں میں سات ہزار پانچ سو امریکہ اور سات ہزار دو سو  ہتھیار روس کے پاس ہیں۔ یوں امریکہ پہلی اور روس دوسری پوزیشن پر آتا ہے۔ ایسی صورت حال میں دنیا کے چند ان چھوٹے ملکوں کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کا وسیع ذخیرہ رکھتے ہیں۔  دو سوپچیس ہتھیاروں کے ساتھ ایٹمی ذخیرہ اندوزی کے لحاظ سے برطانیہ اس دنیا کا پانچواں ملک ہے ۔  جبکہ  ایک سو دس کے ساتھ پاکستان چھٹا ملک اور ایک سو ہتھیاروں کے ساتھ بھارت ساتواں ملک ہے۔ آٹھویں اور نویں نبمر پر اسرائیل اور جنوبی کوریا ہیں۔  

دیکھنا یہ ہے کہ  گزشتہ ستر برسوں میں کیا ان ایٹمی ہتھیاروں کے وجود میں آجانے سے دنیا میں امن آ چکا ہے؟ کیا اس ہتھیار کے بن جانے سے قوموں کے درمیان پیار و محبت کے سوتے پھوٹ چکے ہیں ۔ کیا نیوکلئیر بم کی موجودگی سے اقوام عالم شائستہ و شفگتہ مزاج اور اخلاقی قدروں کی رکھوالی بن چکی ہیں ۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سرد جنگ سے لیکر نائن الیون اور مڈل ایسٹ جنگوں کا تک معاملہ بہرحال کسی حد تک مہذب اقوام ( گو مالی مفادات کی حد تک جنگی جنون سے پیوستہ و آراستہ)  کے ہاتھ میں تھا لیکن بیسویں صدی کے اختتام تک چند دیگر چھوٹے ملکوں کے ہاتھ ایٹمی ہتھاروں کے آجانے سے عالم انسانیت کا وجود مکمل طور پر خطرے میں آچکا ہے۔ ایران و اسرائیل کی دشمنی روزِ روشن کی طرح اقوامِ عالم کے سامنے ہے ۔۔۔ جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے مسائل بھی سبھی سمجھتے ہیں اور اب ہندوستان اور پاکستان کا معاملہ بھی سامنے ہے ۔ حالیہ سرحدی جھڑپوں سے معاملہ آگے بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ جنگی جنون میں مبتلا ہندوستانی نیتاٗ ، ملیٹری بیورکریٹ اور جرنلز جنگ کے شعلوں کو  مزید ہوا دیتے نظر آتے ہیں ۔ 
پاکستان کی سیاسی و فکری و ملیٹری لیڈرشپ ابھی تک پرامن اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے جس پر حالیہ  پسرور پرسرحدی جھڑپوں پر بیسیوں پاکستانیوں کی شہادت پر بھی کوئی ایسا بیان سامنے نظر نہیں آیا ہے جو اس جلتی آگ پر پٹرول کا کام کرے (یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی پریس بریفنگ میں اٹھائیس اگست ( جنگ لاہور انتیس اگست) کو واضع طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی ، بھارت قیاس آرایوں سے کام نہ لے ۔۔۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان کی کسی قومی لیڈرشپ نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی نہیں دی ہے ۔ جبکہ بھارت اس سلسلے میں  عالمی سطح پر مسلسل یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ پاکستان یہ دھمکی دے رہا ہے جو انتہائی معاندانہ رویہ کا غمازہے ۔۔۔۔
لیکن یہ بھی ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان کی غیر قومی لیڈر شپ اور کچھ ریٹائرڈ جنرلز ایسے بیانات دے رہے ہیں جن کا لب لباب نیوکلئیر طاقت کا استعمال کرنے کا اشارہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں ملکی سطح پر ایک قومی پالیسی کے تحت ایسے بیانات سے اجتناب برتنا چاہیئے اور کسی بھی غیر قومی شخصیت کو خارجہ پالیسی پر ڈپلومیٹک سطح سے نیچے جواب دینے کے قانون حرکت میں لاتے ہوئے منع کیا جائے۔ 
 ابھی حال ہی میں بھارت کو اپنی انتہائی اوپری سطح کی لیڈر شپ پر ماضی کے بارے میں بنگہ دیش میں دئیے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر پہلے ہی شرمندگی کا سامنہ کرنا پڑ رہا ہے جس کا ممکنہ طور پر وہ سرحدی جھڑپوں سے غصہ اتار رہا ہے۔۔۔ پاکستان کے اندرونی مسائل پر بھارتی اجینسیوں کے ردِ عمل پر پاکستانی رویہ تاحال امن کی سوچ اور صبر و تحمل کا مظاہرہ ہی کہا جا سکتا ہے لیکن اس عالمی دن کی مناسبت سے یہ کہنا از حد ضروری ہے کہ پاکستان اور ہندوستان اپنے اپنے ایٹمی اسلحہ میں  بتدریج تخفیف، تاوقتکہ مکمل طور پر ختم نہ ہو جائیں اور دونوں ملکوں کے فلیش پوائنٹ کشمیر پر فوری گفتگو کا اعادہ کریں ۔ بھارت کو اس وقت بڑے پن کا ثبوت دیتے ہوئے ناصرف مذاکرات کو کامیاب کرنا ہے بلکہ اس شیطانی اسلحہ سے برصغیر کو پاک بھی کرنا ہے ۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان کی موجودہ ملیٹری اور سول بیوروکریسی اور قومی سیاسی لیڈر شپ ان مذاکرات کو کامیاب دیکھنا چاہتی ہے اور  دونوں ملکوں میں امن و سکون کی فضا قائم کرنا چاہتی ہے۔  
میں ہر دو  ملکوں میں  ادبی و صحافتی سطح پر بیشتر دوستوں کو جانتا ہوں جو جنوب مغربی ایشیا کو ایٹمی اسلحہ سے پاک و صاف دیکھنا چاہتے ہیں۔ حال ہی میں کلدیپ نئیر کا دورہ کشمیر اور اس پر انکے خیالات میڈیا میں سامنے آئے تو اندازہ ہوا کہ بھارت کس قدر نفرت انگیزی کا زہر وہاں انجیکٹ کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود وہاں پاکستان دوستی نظر آتی ہے۔ 
یہی موقع ہے کہ ہم ان عالمی دنوں کے مناسبت سے سوشل میڈیا ہر دو ملکوں کے عوام ، لکھاری ، ادیب و شاعر و دانشور ایک اینٹی ایٹمی اسلحہ کی بنیاد رکھ سکتے ہیں اور کم از کم برصغیر پاک و ہند کو اس اسلحہ سے پاک قرار دینے کی سعی کر کے اپنی آنے والی نسلوں کو امن و شانتی کا وہ تحفہ دے سکتے ہیں جو دنیا بھر میں ابھی ترقی یافتہ قومیں نہیں کر سکی ہیں ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم بیگ
لاہور پاکستان
۲۹ اگست ۲۰۱۵  



No comments:

Post a Comment