لڑکیوں نے کھنکتے
قہقہوں کے درمیان اسے بالآخر کمرے میں دھکیل دیا گیا۔ موسم کی خنکی اور مہکتی مسکراتی
فضا کے باوجود اس کے جسم سے پسینہ پھوٹ رہا تھا۔ گھبراہٹ اسکے چہرے سے عیاں تھی۔ یوں
لگ رہا تھا کہ اسکی کپکپاتی ٹانگیں جلد ہی اسکے اوپر کے دھڑ کو سہارا دینے سے انکار
کر دیں گی۔ اس نے اندر گھستے ہی جلدی سے دروازہ بند کر دیا اور اسکی چٹخنی کھینچ د
ی اور چند لمحوں تک اپنی سانس کو متوازن کیا ۔ اسکے قدم من من بھاری ہو رہے تھے۔ دل
کی دھڑکن تیز تر ہونے سے سینہ پھٹنے لگا تھا۔ خوف کی شدید لہر نے اسکے ذہن کو اپنی
مٹیالی دھند میں لپیٹ لیا تھا اور منظر غائب ہو رہے تھے۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا آہستہ آہستہ
چلتاپھولوں کی لڑیوں سے آراستہ مسہری کے قریب جا کھڑا ہوا۔
امبر کمرے کے بیچ
رکھے پھولوں کی لڑیوں سے آراستہ نئے پلنگ کے بے شکن بستر پر شادی کا جوڑا پہنے سکڑی
ہوئی بیٹھی تھی۔ پھولوں کی لڑیوں کو ایک طرف کرتے ہوئے وہ مسہری کی پائنتی پر بیٹھ
گیا۔ امبر نے ہلکے سے اپنی نظروں کو اٹھایا تو اسکی جان نکل گئی۔ وہ اسے یوں زردی مائل
پسینے میں شرابور دیکھ کر گھبرا سی گئی۔ وہ اپنےشوہر کو نہیں جانتی تھی ملک سے باہر
رہنے کی وجہ سے اس نے صرف فوزی کی تصویر دیکھ
رکھی تھی ۔ امبرنے ہمت کر کے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اسکے گھٹنوں پر رکھے شدید کپکپاتے
گرم ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور پھر مدت کے بعد فوزی گہری نیند میں اتر گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غربت اور معذوری
نے منظور کو ذہنی طور پر ابتری کا شکار کر دیا تھا ۔ گو سارا دن رکشا چلانا اب اس کے بس میں نہیں تھا
لیکن کسی دوسرے کام کے وہ قابل بھی تو نہ تھا۔ لکڑی کی ایک ٹانگ اس کی مجبوری تھی۔جب
وہ دن بھر کا تھکا ماندہ گھر پہنچتا تو شیداں ایک عدالت سجا دیتی۔ روز بچوں میں سےکسی
ایک کو ملزم کے طور پر پیش کر کے ناجانے وہ اس سے کس بات کا بدلہ لیتی تھی۔ اور اب
یہ معمول اسکے لئے ناقابل برداشت ہو چکا تھا۔ اب وہ پہلے گھر پہنچتے ہی کسی ایک بچے کی خوب پٹائی کرتا اور پھر رات کے درمیانی
پہر تک اپنے غصے کو چھپائے رکھتا۔ اسے شیداں
سے اب نفرت ہو چکی تھی۔ رات کھانے کے بعد وہ
اکثر سب بچوں کو کمرے سے نکال دیتا تاہم اسکا پانچ سالہ نحیف و نزار فوزی اسکا چہیتا
تھا جس کے سونے کا وہ اکثر انتظار کرتا۔
یہ تو اللہ بھلا
کرے خواجہ صاحب کا جنہوں نے اپنی خالی حویلی کا کونے والا کمرہ اس خاندان کو دے رکھا
تھا۔ دونوں بیٹیاں ملک سے باہر رہتی تھیں اور
بیوی کے مرنے پر انکی ملازمہ شیداں نے کہہ سن کر خواجہ صاحب کو راضی کر لیا تھا کہ
وہ انہیں ایک کمرے دیدیں۔ انہیں بھی فرصت میں
پانچ بچوں کا ایک ہنگامہ میسر ہو گیا تھا اور شیداں ویسے انکا بہت خیال رکھتی تھی۔
اسی ناطے سارے بچے انہیں دادا کہتے تھے۔زبان دراز شیداں اچھی ملازمہ ضرورتھی پر بچوں کو مارنا اور شوہر سے جھگڑا اس کا وطیرہ تھا۔
خواجہ صاحب اکثر
دونوں میاں بیوی کوآپس میں لڑائی جھگڑے پر ڈانٹ پِلا چکے تھے۔ بلکہ ایک آدھ بار تو
انہوں نے نکال دینے کی دھمکی بھی دے دی تھی۔
جس کے بعد بظاہر دونوں خاموش رہتے لیکن جنگ جاری تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ دادا۔۔۔ دادا۔۔۔‘‘
پانچ سالہ فوزی نے دالان سے ملحق بڑے کمرے میں پلنگ پر سوئے دادا کے کندھے کو ہلاتے ہوئے اسے جگا دیا۔
’’ کیا ہے فوزی؟‘‘
دادا نے غنودگی میں پوچھا۔
’’ دادا ۔۔۔ مجھے
ڈر لگ رہا ہے۔ کوئی اندر اماں کو مار رہا ہے اور ا بّا بھی بستر پر نہیں ہیں۔‘‘ خوف
سے فوزی کے منہ سے بڑی مشکل سے الفاظ نکل رہے تھے۔
’’ ہائیں! کیا کہا
! مار رہا ہے؟ داد ایکدم سے جاگ گئے۔
’’دادا۔۔۔ اماں چیخ
رہی ہیں‘‘
’’ تم نے کوئی خواب
دیکھا ہوگا۔ ‘‘ خواجہ صاحب نے اسے تسلی دی۔
’’ دادا ۔۔۔ نہیں۔۔۔
جلدی کریں اماں مر جائیں گی؟‘‘ اس نے روتے
ہوئے کہا۔
’’ اچھا بابا ۔۔۔
اچھا ‘‘ ۔ دادا جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئے اور پھر تیزی سے دالان سے گزر کر آخری کمرے
کے باہر پہنچ گئے۔ دروازہ نِیم کھُلا تھا جسے فوزی نے شائید باہر نکلتے ہوئے کھُلا
چھوڑ دیا تھا۔ خواجہ صاحب نے اندر جھانکا۔ اندھیرا ہونے کے باوجود اسے پلنگ پر دو سائے
چادر کے اندر حرکت کرتے محسوس ہوئے اور دبی دبی سے نسوانی چیختی آوازیں بھرپور مردانہ
سانسوں سے ملاپ کرتی کچھ نمایاں تھیں۔ جسموں کے ملاپ میں روحیں چٹخ رہی تھیں ۔۔۔ اور
فِضا ہولناک تھی۔
’’ ہت تیرے کی!
‘‘ خواجہ صاحب نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو خوفزدہ فوزی بھی پیچھے ہی کھڑا تھا۔ انہوں نے
خاموشی سے اسکا ہاتھ پکڑا اور اپنے کمرے میں واپس آ گئے۔
’’ اؤئے فوزی پُتر۔۔۔
تو میرے پاس ہی سو جا ۔‘‘ خواجہ صاحب نے پرسکون ہوتے ہوئے فوزی کو اپنے ساتھ لپٹا لیا۔
’’ لیکن دادا۔۔۔۔
؟ ‘‘ فوزی نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔ وہ خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔
’’ اوئے ۔۔۔ تجھے
بولا ہے نا۔۔۔ کچھ نہیں ہوا۔ شاباش سو جا۔‘‘ ایسے ہی مخاصمت کا سفر جسموں کے ملاپ میں
طے کر رہے ہیں۔ وہ منہ میں بڑبڑائے ۔۔۔’’چل ادھر میرے ساتھ ہی میری چارپائی پر ہی سو
جا میری جان۔‘‘ خواجہ صاحب نے اسے ایک تکیہ دیتے ہوئے کہااور خودانہوں نے دوبارہ سکون
سے چادر اوڑھی اورفوزی کے کپکپاتے ہاتھ کو سہلاتے ہوئے گہری نیند میں چلے گئےلیکن وہ
منظر فوزی کے اندر پوری شدت سے جاگتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ All Rights Reserved with Author Naeem Baig Feb, 2015
No comments:
Post a Comment